Tag: اسمبلی

  • 12 اگست 1947: پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے تیسرے روز کی کارروائی کے دوران کیا فیصلے ہوئے؟

    12 اگست 1947: پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے تیسرے روز کی کارروائی کے دوران کیا فیصلے ہوئے؟

    آئین ساز اسمبلی کے تیسرے دن کا اجلاس 12 اگست 1947 بروز منگل صبح 10 بجے اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں موجودہ سندھ اسمبلی چیمبر میں شروع ہوا۔

    آئین ساز اسمبلی کا جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو سب سے پہلے لیاقت علی خان نے ایک تجویز پیش کی کہ اس ایوان کے 16 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو عام شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تعین کرکے اس ایوان میں رپورٹ پیش کرے۔ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ان حقوق کو پاکستان کے آئین میں شامل کیا جائے۔

    ایوان نے یہ تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی۔ اس کمیٹی میں درج ذیل ارکان شامل کیے گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ محمد لیاقت علی خان، سردار عبدالرب خان نشتر، ڈاکٹر محمود حسین، بھیم سین سچار، مسٹر محمد ایوب کھوڑو، شیخ کرامت علی، پروفیسر راج کمار چکروَرتی، مسٹر غضنفر علی خان، مسٹر پریم ہری برما، مسٹر فضل الرحمن، بیگم شاہنواز جہاں آرا، برات چندر منڈل، اشتیاق حسین قریشی، عبدالقاسم خان اور جوگندر ناتھ منڈل۔

    اس کے بعد لیاقت علی خان نے ایک دوسری قرارداد پیش کی: ‘یہ اسمبلی یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ پاکستان آئین ساز اسمبلی کے صدر اور پاکستان کے گورنر جنرل مسٹر محمد علی جناح کو آئندہ 15 اگست 1947 سے تمام سرکاری خط و کتابت، دستاویزات، خطوط اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین میں ‘قائداعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل پاکستان’ لکھا اور پکارا جائے۔’

    مذکورہ قرارداد پیش کرنے کے بعد لیاقت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے سب سے بڑے عظیم رہنما ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بحیثیت اس عظیم قوم کے ایک عظیم رہنما کے آپ کو مخاطب کرنے کے لیے کوئی خطاب مختص ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں میری اس قرارداد کی کوئی بھی مخالفت نہیں کرے گا۔

    اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح نے جب مذکورہ قرارداد ایوان میں ووٹنگ کے لیے پیش کی تو اس موقع پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک رکن بھوپندر کمار دتا اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں۔ کیوں کہ یہ میرا جمہوری حق ہے۔ میں آپ کو یہ یاد دلاتا چلوں کہ ہم اس وقت 1947 میں موجود ہیں۔ کسی کو کس لقب سے پکارنا ہے، یہ ہر کسی کا ذاتی مسئلہ ہے۔ میں اس موقع پر کوئی بڑی تقریر نہیں کرنا چاہتا مگر میں قرارداد پیش کرنے والے، لیاقت علی خان، سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے لیں۔

    اس پر سردار عبدالرب خان نشتر نے لقمہ دیتے ہوئے پوچھا کہ آپ اس قرارداد کی مخالفت آخر کیوں کر رہے ہیں۔ اس موقع پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن سرس چندر چوپاڑیا نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اس قرارداد کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں تمام القابات اور اعزازات کے خلاف ہوں۔ میرا یہ موقف جناب محمد علی جناح کی قیادت کا انکار نہیں کرتا، مگر مجھے یقین ہے کہ وہ بھی یہ پسند نہیں کریں گے کہ انہیں کسی لقب سے پکارا جائے۔

    اس کے بعد مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن دھرینڈر ناتھ دتا نے خطاب کرتے ہوئے یہ بات دہرائی کہ میں بھی اس قرارداد کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کر رہا ہوں کہ کم از کم 1947 میں ان القاب و خطابات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ہم یہاں ایک سوشلسٹ حکومت بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور دنیا کی تمام سوشلسٹ حکومتوں میں ایسے القابات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس ایوان کے اکثر ارکان آپ کے ساتھ ہوں گے مگر میں اس قرارداد کی اصولی بنیادوں پر مخالفت کر رہا ہوں۔

    بنگال سے تعلق رکھنے والے تین ہندو ارکان کی مخالفت کے بعد سلہٹ سے تعلق رکھنے والے رکن عبدالحمید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کافی عرصے سے آپ کو قائداعظم کے نام سے مخاطب کرتے آئے ہیں۔ جیسے ہندوستان اور جہاں کہیں ‘گاندھی جی’ یا ‘مہاتما گاندھی’ کہا جاتا ہے تو پھر آپ کو قائداعظم کیوں نہ پکارا جائے۔ اسی طرح مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن نور احمد نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔

    عبدالحمید اور نور احمد کے بعد بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن سچندر نارائن سنوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں۔ مجھے ذاتی بات یہاں نہیں کرنی چاہیے، مگر ہمارے علاقے میں ہمیں راجا اور کچھ لوگ تو مہاراجا بھی کہتے ہیں۔ ہم نے یہ القابات ترک کردیئے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ آپ کو قائداعظم کا لقب مہاتما گاندھی نے دیا۔ میں یہاں اس بات پر بھی زور دیتا ہوں کہ ہم آپ کو اپنا لیڈر تسلیم کرچکے ہیں۔ اس لیے آپ کو کوئی لقب ملے یا نہ ملے، اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

    اس کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے بھی تقریر کرتے ہوئے قرارداد کی بھرپور حمایت کی اور محمد علی جناح کو قائداعظم کا لقب دینے کی حمایت کی۔ منڈل نے اپنی تقریر میں دلیل دیتے ہوئے کہا: ‘اس موقع پر میری تقریر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مگر میرے دوستوں کی تقریروں سے مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ کل ہی کانگریس پارٹی کے رہنما جناب کرن شنکر رائے نے آپ کو عظیم رہنما کہا اور آج پھر اس قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔

    ‘میں اپنی بات شروع کرنے سے پہلے آپ سے گزارش کروں گا کہ اس مسئلے پر آپ اپنی رائے کا اظہار نہ کریں۔ کیونکہ یہ اس ایوان کی خواہش ہے، آپ کی نہیں۔ یہاں جن لوگوں نے بھی گفتگو کی، انہوں نے دلیل دینے کے بجائے آپ سے ذاتی حیثیت میں اپیلیں کیں۔ آپ پہلے ہی قائداعظم کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔

    ‘اس قرارداد کا اصل مقصد یہ ہے کہ سرکاری کاغذات و دستاویزات میں یکسانیت لائی جائے۔ اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے۔ اسی طرح مجھے مسٹر گاندھی کو مہاتما گاندھی پکارتے ہوئے خوشی ہوگی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اگرچہ پنڈت نہیں ہیں۔ پھر بھی انہیں پنڈت کہا جاتا ہے۔ یہاں جن دوستوں نے تقریریں کیں، مجھے ان کی ذہنیت کا علم ہے۔

    ‘میں جب ایک جلسے میں مہاتما گاندھی کو مسٹر گاندھی کہا تو پورے جلسے میں آہ و بکا شروع ہوگئی۔ جب میں نے اپنے الفاظ واپس لے لیے تو پھر بھی اس پر بہت بات کی گئی اور اخبارات میں بھی اس معاملے کو بہت شائع کیا گیا۔ اگر انڈیا کی آئین ساز اسمبلی یہ ماننے کے لیے تیار ہے کہ آئندہ مسٹر گاندھی کو مہاتما گاندھی نہیں کہا جائے گا تو پھر میں بھی یہ ماننے کے لیے تیار ہوں کہ محمد علی جناح کو قائداعظم نہ پکارا جائے۔

    ‘آخر میں آپ سے ایک بار پھر گزارش کروں گا کہ آپ، قائداعظم محمد علی جناح، اس وقت خاموش رہیں۔ قائداعظم کوئی خطاب یا لقب نہیں بلکہ نذرانہ عقیدت ہے۔ میں اس ایوان کے تمام ارکان سے گزارش کروں گا کہ جناب لیاقت علی خان کی اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا جائے۔’

    اس قرارداد کی حمایت و مخالفت میں مسٹر عزیزالدین احمد (مشرقی بنگال، مسلم)، مسٹر محمد علی (مشرقی بنگال، مسلم)، ڈاکٹر اے۔ ایم۔ ملک (مشرقی بنگال، مسلم)، ملک فیروز خان نون (مغربی پنجاب، مسلم)، میاں محمد افتخارالدین (مغربی پنجاب)، عبدالمحمود (مشرقی بنگال) اور لیاقت علی خان نے خطاب کیا۔ بہت بحث و مباحثے کے بعد یہ قرارداد منظور ہوگئی۔ اس دن کے بعد آج دن تک پاکستان کے بانی کو قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے پکارا اور لکھا جاتا ہے۔

    آخر میں آئین ساز اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح نے چار افراد پر مشتمل چیئرمین آف پینل کا اعلان کیا جو بالترتیب اسمبلی کے صدر کی غیر موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلائیں گے۔ پہلے نمبر پر مولوی تمیزالدین خان، دوسرے نمبر پر عمر حیات ملک، تیسرے نمبر پر سردار بہادر خان اور چوتھے نمبر پر کرن شنکر رائے۔

    یاد رہے قائداعظم محمد علی جناح کی غیر موجودگی میں مولوی تمیزالدین خان آئین ساز اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے۔ جناح کی وفات کے بعد وہ آئین ساز اسمبلی کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ بعد میں جب 1954 میں غلام محمد نے آئین ساز اسمبلی کو توڑ دیا تو پھر مولوی تمیزالدین خان اسمبلی کی بحالی کے لیے سندھ چیف کورٹ (سندھ ہائی کورٹ) اور فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) گئے۔ یہ کیس بعد میں مولوی تمیزالدین کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کیس میں ہی جسٹس منیر نے آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کو ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت درست قرار دیا۔ یہیں سے نظریہ ضرورت کا آغاز ہوا۔

  • پاکستان کے قومی پرچم کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منطوری کیسے ہوئی؟ قائد اعظم نے 11 اگست والے خطاب میں کیا کہا؟

    پاکستان کے قومی پرچم کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منطوری کیسے ہوئی؟ قائد اعظم نے 11 اگست والے خطاب میں کیا کہا؟

    آئین ساز اسمبلی کے دوسرے دن کا اجلاس 11 اگست 1947 بروز سوموار صبح 10 بجے عارضی چیئرمین جوگندر ناتھ منڈل کی صدارت میں شروع ہوا۔ چار ارکان جو گزشتہ دن اپنی اسناد پیش نہیں کر سکے تھے۔ انہوں نے اپنی اسناد پیش کرکے حاضری کے رجسٹر پر دستخط کرکے آئین ساز اسمبلی کے ارکان بن گئے۔

    اسمبلی کی کارروائی کے ایجنڈے میں پہلا اسم آئین ساز اسمبلی کے صدر کا انتخاب تھا۔ اس انتخاب میں قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے کسی نے بھی فارم نہیں بھرا۔ اس لیے قائداعظم محمد علی جناح بلا مقابلہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے صدر منتخب ہوگئے۔

    صدر کے انتخاب میں سات ارکان غیاث الدین پٹھان، حمیدالحق چوہدری، عبدالقاسم خان، لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، محمد ایوب کھوڑو اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کے تجویز کنندہ کے طور پر سامنے آئے، جبکہ سات ارکان نے تائید میں دستخط کیے۔ جو اس طرح ہیں۔ ابو المحمود، محمد حبیب اللہ، نور محمد، سردار عبدالرب خان نشتر، خان افتخار حسین خان، سردار بہادر خان اور غضنفر علی خان۔

    عارضی چیئرمین نے اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے قائداعظم کے بلا مقابلہ صدر اسمبلی منتخب ہونے کا اعلان کیا، انہیں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھنے کی گزارش کرتے ہوئے خود ڈائس سے نیچے اتر آئے اور جناح نے صدر اسمبلی کی نشست سنبھالی، جس کے بعد لیاقت علی خان، کرن شنکر رائے، محمد ایوب کھوڑو، جوگندر ناتھ منڈل، عبدالقاسم خان اور بیگم جہاں آرا شاہنواز نے تقاریر کرتے ہوئے انہیں مبارکبادیں دیں۔

    اس کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی مشہور 11 اگست والی آئین ساز اسمبلی کی تقریر کی، جو اس وقت بھی سنسرشپ کا شکار ہوئی تھی۔ ان کی یہ تقریر اقلیتوں کے حقوق اور پاکستان کے مستقل کے بارے میں ان کی سیاسی بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔ جناح صاحب کی تقریر کا مکمل متن پیش کیا جاتا ہے۔

    جناب صدر (قائداعظم محمد علی جناح): اپنی پہلی صدر کے طور پر انتخاب پر میں آپ کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے، یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو کوئی خودمختار اسمبلی کسی کو دے سکتی ہے۔ میں ان رہنماؤں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے میری خدمات کو سراہا اور میرے حوالے سے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا۔

    مجھے پوری امید ہے کہ آپ کے ساتھ اور تعاون سے ہم اس آئین ساز اسمبلی کو دنیا کے لیے ایک مثال بنائیں گے۔ آئین ساز اسمبلی کو بنیادی طور پر دو اہم کام سرانجام دینے ہوں گے۔ پہلا انتہائی اہم اور مشکل کام، جو ہمارے ذمے ہے، وہ پاکستان کے مستقبل کے آئین کو ترتیب دینا اور دوسرا پاکستان کے مکمل خود مختار وفاقی قانون ساز ادارے کے طور پر کام کرنا ہے۔ ہمیں پاکستان کی وفاقی قانون ساز اسمبلی کے لیے عبوری آئین کو اپنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔

    آپ بھی جانتے ہیں کہ نہ صرف ہم خود بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا اس بے مثال اور بے نظیر انقلاب پر حیران ہے، جس میں اس برصغیر میں دو آزاد اور خود مختار حکومتیں وجود میں آئی ہیں۔

    اس بے مثال واقعے کی اس سے پہلے دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ عظیم الشان برصغیر، جہاں ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں، وہاں یہ منصوبہ لایا گیا جو ایک شاندار کارنامہ ہے۔ سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنے عظیم کردار کی وجہ سے ارتقا کے اصولوں کے تحت پرامن طریقے سے حاصل کیا ہے۔

    اس اسمبلی میں ہمارے ذمے لگائے گئے پہلے کام کے حوالے سے، میں اس وقت اپنی پہلی تقریر میں کسی سوچے سمجھے منصوبے کی بات نہیں کروں گا، لیکن میں کچھ باتیں آپ کے ساتھ ضرور شیئر کروں گا۔ پہلی اور سب سے اہم بات جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں، یہ یاد رکھیں کہ آپ اب ایک خود مختار قانون ساز ادارے کے ارکان ہیں اور آپ کے پاس بہت زیادہ اختیارات ہیں۔

    لہٰذا اب آپ پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ اپنے فیصلے کیسے کرتے ہیں۔ میں اپنی پہلی رائے آپ کے سامنے یہ پیش کرنا چاہتا ہوں، جس سے بلاشبہ آپ بھی متفق ہوں گے کہ حکومت کا پہلا فرض امن و امان قائم رکھنا ہے تاکہ اس کے عوام کی جان، مال اور مذہبی عقائد کا ریاست کی طرف سے مکمل تحفظ ہو۔

    دوسری بات جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، جس سے اس وقت پورا ہندوستان دوچار ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے ممالک اس مرض سے آزاد ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہماری حالت دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ خراب ہے۔ یہ لعنت ہے رشوت اور اقربا پروری کی۔ کرپشن ہمارے لیے زہر قاتل ہے، جس کا ہمیں انتہائی سختی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس اسمبلی میں جتنی جلد ہو سکے اس سلسلے میں (رشوت اور اقربا پروری کے خاتمے کے لیے) مناسب قدم اٹھائیں گے۔

    بلیک مارکیٹنگ ایک دوسری وبا ہے۔ خیر، مجھے معلوم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں، انہیں رائج عدالتی تصورات کے مطابق سزا بھی دی جاتی ہے اور ان پر کچھ جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ اب جب ہمیں مسلسل خوراک اور روزمرہ کی ضروری اشیا کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تب آپ کو اس دیوہیکل دیو کو سامنا کرنا ہوگا۔ جو شخص بلیک مارکیٹنگ کرتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سنگین جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔

    بلیک مارکیٹنگ کرنے والے افراد انتہائی ہوشیار اور چالاک ہوتے ہیں، جب وہ چور بازاری میں ملوث ہوں تو انہیں سخت ترین سزا دینی چاہیے۔ کیونکہ وہ کھانے پینے اور استعمال کی ضروری اشیا کی موثر نظام کے پورے ضابطے کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ ان کی حرص کی وجہ سے لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    ایک بات جس نے مجھے پریشان کیا ہے، وہ ہے اقربا پروری۔ بہت سی خوبیوں اور برائیوں کے ساتھ اقربا پروری اور بے ایمانی بھی ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ اس برائی کا ہمیں بے رحمی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

    میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کسی بھی قسم کی اپنوں نوازی، اقربا پروری یا کسی بھی قسم کا اثر براہ راست یا بالواسطہ برداشت نہیں کروں گا۔ جہاں بھی مجھے معلوم ہوا کہ ایسا رواج رائج ہے، کم ہو یا خواہ زیادہ، لیکن میں ہرگز قبول نہیں کروں گا۔

    مجھے معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو ہندوستان کی تقسیم کو قبول نہیں کر رہے، وہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم سے بالکل ہی متفق نہیں ہیں۔ اس متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے، لیکن اب جب یہ تقسیم ہو گئی ہے، تو اس کے بعد ہم سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم بھی اسے قبول کریں اور انتہائی ادب و احترام کے ساتھ اس معاہدے کی پاسداری کریں۔ یہ اب حتمی ہے اور ہم سب اس پر عمل کرنے کے لیے پابند ہیں۔

    یاد رکھیں، جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس شاندار انقلاب سے پہلے کوئی روایت نہیں ملتی۔ جب دو فریقوں میں ایک برادری اکثریت میں ہو اور دوسری اقلیت میں ہو تو اس وقت ان دونوں فریقوں میں موجود فرق اور احساسات کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے پاس اس عمل کے علاوہ کوئی دوسری راہ موجود تھی؟ تقسیم ناگزیر تھی۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں میں ایسے گروہ موجود ہیں، جو شاید اس سے متفق نہ ہوں، جنہیں شاید یہ پسند نہ ہو، مگر میری رائے میں اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا حل موجود نہیں تھا۔

     مجھے پختہ یقین ہے کہ مستقبل میں تاریخ بھی اس تقسیم کے حق میں فیصلہ صادر کرے گی۔ آگے چل کر وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے حقیقی تجربات سے بھی یہ ثابت ہو جائے گا کہ ہندوستان کے آئینی بحران کا اس سے بہتر کوئی دوسرا حل موجود نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستان کا نظریہ کبھی بھی نہیں چل سکتا تھا، میرے خیال میں اس سے ہم بڑی تباہی کی طرف دھکیل دیے جاتے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ نظریہ، ہندوستان کو متحد رکھنے کا، درست ہو، ہو سکتا ہے کہ درست نہ بھی ہو، اس کا پتا آنے والے وقت میں چلے گا۔ بہرحال یہ ممکن نہیں تھا کہ ایک یا دوسری ریاست میں اقلیتوں کا معاملہ اس طرح نہ اٹھایا جاتا۔ یہ ناگزیر تھا، اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل موجود نہیں ہے۔

    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا کیا جائے؟ اب اگر ہم پاکستان کی اس عظیم مملکت کو آسودہ اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پوری طرح عوام، خاص طور پر غریبوں کی بہتری اور بھلائی پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر آپ ماضی کو بھول کر، کدورتوں کو دفن کرکے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے تو آپ یقینی طور پر کامیاب ہوں گے۔

    اگر آپ اپنا ماضی بھول کر، سب ایک ہو کر متحدہ جذبے کے ساتھ کام کریں، پھر خواہ آپ میں سے ہر ایک فرد کا تعلق کسی بھی برادری سے ہو، خواہ ماضی میں آپ کے تعلقات کیسے بھی رہے ہوں، خواہ کسی بھی رنگ اور نسل کا ہو، کسی بھی ذات یا مذہب سے ہو، وہ اس ریاست کا برابر کے حقوق کا حقدار، عزت نفس اور ذمہ داریوں والا شہری ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو پھر کوئی بھی آپ کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔

    میں اس بات پر زیادہ زور نہیں دے سکتا۔ ہمیں اس جذبے کے ساتھ کام شروع کرنا چاہیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثریت اور اقلیت، ہندو اور مسلمان ہونے والی ہر طرح کی کشیدگی ختم ہو جائے گی، کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان میں پٹھان، پنجابی، شیعہ اور سنی موجود ہیں، اسی طرح ہندوؤں میں برہمن، ویش، کھتری، بنگالی اور مدراسی موجود ہیں، جو فرق ختم ہو جائے گا۔

    حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے تو ہندوستان کی آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ تھی، ورنہ ہم بہت پہلے آزاد ہو چکے ہوتے۔ دنیا کی کوئی طاقت، خاص طور پر چالیس کروڑ افراد پر مشتمل قوم پر فتح حاصل نہیں کر سکتی۔ اگر ہمارے درمیان یہ تفرقات نہ ہوتے تو کوئی بھی ہمیں اتنے عرصے تک غلام نہ بنا سکتا تھا۔ (تالیاں)۔

    لہٰذا ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اس ریاست پاکستان کی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ پھر خواہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے انگلینڈ کے حالات بھی آج کے ہندوستان کے حالات کے مقابلے میں اس سے بھی زیادہ خراب تھے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقے ایک دوسرے کا قتل عام کر رہے تھے۔ اتنی حد تک کہ اس وقت بھی کچھ ریاستیں موجود ہیں، جہاں بعض خاص طبقات کے خلاف تعصب اور پابندیاں موجود ہیں۔

    خدا کا شکر ہے کہ ہمیں ایسے دن نہیں دیکھنے پڑے۔ ہم اس سفر کی ابتدا ایسے وقت میں کرنے جا رہے ہیں جب ہمارے درمیان کوئی تفرقہ موجود نہیں، دو فریقوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مختلف ذاتوں اور عقائد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم اپنی شروعات اس بنیادی اصول کے تحت کر رہے ہیں کہ ہم سب اس ریاست کے شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں۔ (تالیاں)۔

    انگلینڈ کے لوگوں کو بھی وقت گزرنے کے ساتھ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ بھی اپنے اوپر ریاست کی طرف سے عائد کردہ بوجھ اور ذمہ داریاں پوری کرکے آگ کے اس مرحلے سے گزر گئے۔ اب آپ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت وہاں نہ پروٹسٹنٹ موجود ہیں اور نہ ہی کیتھولک۔ وہاں اب صرف ایک چیز موجود ہے کہ اب ہر شخص ایک شہری ہے، ہر ایک برطانیہ کا برابر کا شہری ہے اور تمام شہریوں کی مملکت میں برابر حیثیت ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں ایک نصب العین کا تعین کرتے ہوئے یہ سوچنا پڑے گا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار سے اس مملکت کے برابر کے شہری کی حیثیت سے ہندو، ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ یہ ذاتی عقیدے کا معاملہ ہے۔

    خیر، میں آپ کا مزید وقت نہیں لینا چاہتا۔ آپ سب نے مجھے اعزاز بخشا ہے، اس کے لیے ایک دفعہ پھر میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ میں ہمیشہ عدل اور انصاف کے سنہری اصولوں سے رہنمائی لیتا رہوں گا۔ جیسا کہ سیاسی زبان میں کہا جاتا ہے کہ تعصب، بدخواہی یا دوسرے لفظوں میں طرف داری یا اقربا پروری کو قریب آنے بھی نہیں دوں گا۔ آپ سب کا تعاون اور ساتھ میرے ساتھ رہا تو بہت جلد میں پاکستان کو دنیا کی عظیم ترین قوموں کی صف میں دیکھنے کے لیے منتظر ہوں۔

    مندرجہ بالا تقریر میں جناح صاحب نے اتحاد، برابری اور مذہبی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک وفاقی اور جمہوری ریاست کے طور پر ابھارنے کا تصور کیا، جہاں تمام شہریوں کے ساتھ ان کے مذہب، ذات اور نسل کا فرق رکھے بغیر برابری کا سلوک کیا جائے گا، مندرجہ بالا تقریر میں انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو ان کے مذہبی پس منظر سے قطع نظر، قومی معاملات میں حصہ لینے کے برابر حقوق اور مواقع حاصل ہوں گے۔

    قائداعظم محمد علی جناح نے اقتصادی ترقی کی اہمیت اور ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عوام اور سیاست دانوں پر زور دیا کہ وہ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں، جہاں ہر شہری عزت اور وقار کی زندگی گزار سکے۔ ان کی 11 اگست والی تقریر نے پاکستان کے آئین اور رہنما اصولوں کی بنیاد رکھی۔

    مندرجہ بالا تقریر کرنے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے امریکی اور آسٹریلوی حکومتوں کے غیر اسگالی کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔

    اس کے بعد ایجنڈا آئٹم نمبر دو کے تحت لیاقت علی خان نے وفاق پاکستان کے جھنڈے کے بارے میں قرارداد پیش کی کہ پاکستان کے جھنڈے کا رنگ گہرا سبز اور سفید ہوگا۔ اس کی شکل مستطیل ہوگی۔ سفید رنگ پورے جھنڈے کا 25 فیصد ہوگا، جو سرے کی طرف ہوگا۔ سبز رنگ کے مرکز میں ایک پہلے تاریخ والا ہلالی چاند ہوگا، جس کے اندر پانچ کونوں والا ستارہ ہوگا۔

    مندرجہ بالا قرارداد پیش کرنے کے بعد لیاقت علی خان نے پاکستان کے جھنڈے کو آئین ساز اسمبلی میں لہرایا اور تمام ارکان کو دکھایا۔ ان کی یہ تصویر بہت زیادہ مشہور ہوئی۔ جو آج دن تک استعمال ہوتی ہے۔ اس موقع پر لیاقت علی خان نے ایک تقریر بھی کی، جس میں انہوں نے تجویز کردہ پرچم اور پرچم کے کردار کے بارے میں بات کی۔

    اس موقع پر مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن بھیم سین سچر نے قرارداد میں ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ سات ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو چوبیس گھنٹوں کے اندر رپورٹ اس ایوان میں پیش کرے۔ جس پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن دھریندر ناتھ دتا نے بھی بھیم سین سچر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پرچم ایسا ہونا چاہیے جس میں ہم اقلیتوں کی بھی بھرپور نمائندگی ہونی چاہیے۔

    اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ارکان کا موقف تھا کہ پاکستان کا جھنڈا مذہبی بنیادوں پر ترتیب دیا جا رہا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کے جھنڈے ہی کو پاکستان کا جھنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے لیاقت علی خان نے کہا کہ چاند اور تارے ہر کسی کی مشترکہ ملکیت ہیں۔

    جس پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن کرن شنکر رائے نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر سورج بھی تمام انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے، پھر سورج کو جھنڈے میں کیوں شامل نہیں کیا جاتا۔ جواب الجواب دیتے ہوئے لیاقت علی خان نے کہا کہ سورج کی روشنی جلانے والی، جبکہ چاند کی روشنی فرحت بخشنے والی ہے، اور میں ایسا پرچم چاہتا ہوں جو ہمیں ہموار روشنی دے کر ہمیں فرحت بخشے۔ تھوڑی بحث و مباحثے کے بعد بھیم سین سچر کی ترمیم مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے موجودہ قومی پرچم کی منظوری پاکستان کی آئین ساز اسمبلی سے لے لی گئی۔

    مندرجہ بالا کارروائی کے بعد کچھ دوسری قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ جن میں اسمبلی کے قواعد و ضوابط بنانے کے لیے، اسمبلی کے صدر کے اختیارات کا تعین کرنے کے لیے، اور اسمبلی میں خالی ہونے والی نشستوں کے انتخاب کے لیے طریقہ کار طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ سردار عبدالرب خان نشتر نے ایک دوسری قرارداد پیش کرتے ہوئے ایک پارلیمانی کمیٹی کی تجویز پیش کی، جو شاہی ریاستوں اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں سے مذاکرات کرکے ان کی آئین ساز اسمبلی میں شمولیت یقینی بنائے۔ یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔ آخری قرارداد مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن غضنفر علی خان نے پیش کی، جس کے مطابق اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں طے کرنے کا اختیار اسمبلی کے صدر کو ہونا چاہیے۔ یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔

    آخر میں قائداعظم محمد علی جناح نے اسمبلی کا اجلاس 12 اگست 1947 کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا۔

  •  10 اگست 1947: پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی کارروائی

     10 اگست 1947: پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی کارروائی

    نوٹ: تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947 کو منعقد ہوا۔ پہلا اجلاس چار دن (10، 11، 12 اور 14 اگست) تک جاری رہا۔ پاکستان کی آزادی اور دستور ساز اسمبلی کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر ان چار دنوں کی دستور ساز اسمبلی کی روداد ڈیجیٹل ساگا کے قارئین کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

    1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اگرچہ برطانیہ اور اس کے اتحادی جنگ میں فاتح رہے، مگر جنگ میں ہونے والے نقصانات نے برطانیہ کی کمر توڑ دی تھی۔

    چنانچہ وہ ہندوستان سمیت اپنی دوسری نوآبادیات سے نکلنے کی تیاریاں کرنے لگا۔ اسی سلسلے میں 1946 میں کابینہ مشن بھی بھیجا گیا، جو ‘متحدہ ہندوستان’ کو برقرار رکھنے میں تقریباً کامیاب ہو گیا تھا، مگر جواہر لعل نہرو کے ایک بیان نے کابینہ مشن کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔

    نتیجتاً محمد علی جناح مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھے۔ دوسری جانب برطانیہ میں ونسٹن چرچل کی انتخابی شکست کے بعد لارڈ ایٹلی وزیر اعظم بن چکے تھے، جنہوں نے 20 فروری 1947 کی اپنی تقریر میں واضح کیا کہ 30 جون 1948 تک برطانوی ہند کو مکمل خودمختاری دے دی جائے گی۔

    کابینہ مشن کی ناکامی کے بعد اس وقت کے وائسرائے لارڈ ویول کی حیثیت کمزور ہو چکی تھی۔ چنانچہ برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم کے قریبی رشتہ دار لوئس فرانسس البرٹ وکٹر نکولس ماؤنٹ بیٹن، المعروف لارڈ ماؤنٹ بیٹن، کو ہندوستان کی آزادی کا مینڈیٹ دے کر آخری وائسرائے مقرر کیا گیا۔

    لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان پہنچتے ہی متحدہ ہندوستان کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوششیں کیں، مگر مسلم لیگ اور محمد علی جناح کے سخت مؤقف کے باعث 3 جون 1947 کو تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے تقسیم کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے برطانوی ہند کو دو خودمختار ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اس کے اگلے دن، یعنی 4 جون 1947 کو، پانچ سو سے زائد نوابی ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت، کسی ایک کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔ تقسیم کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ نے ‘انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947’ منظور کیا، جس کے تحت:

    • برطانوی ہند کی تقسیم کے لیے 15 اگست 1947 کی تاریخ مقرر کی گئی۔
    • پاکستان مشرقی بنگال، مغربی پنجاب، سندھ اور چیف کمشنر صوبہ بلوچستان پر مشتمل ہوگا۔
    • سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے کیا جائے گا۔
    • صوبہ آسام کے ضلع سلہٹ کی قسمت کا فیصلہ بھی ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔
    • ہر ریاست کے لیے ایک گورنر جنرل مقرر ہوگا اور اس ایکٹ میں اس کے اختیارات بھی متعین کیے گئے۔
    • ہر ریاست کے لیے الگ دستور ساز اسمبلی قائم کی جائے گی، جسے قانون سازی اور آئین سازی کا اختیار حاصل ہوگا۔

    متحدہ ہندوستان کی مرکزی دستور ساز اسمبلی کو دو حصوں، پاکستان کی دستور ساز اسمبلی اور بھارت کی دستور ساز اسمبلی، میں تقسیم کر دیا گیا۔ دونوں اسمبلیوں کو اپنی اپنی نئی ریاستوں کا آئین تیار کرنا تھا۔

    پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں صوبہ سندھ کی نمائندگی کے لیے چار ارکان، عبد الستار پیرزادہ، محمد ایوب کھوڑو، دولت رام جیئرام داس اور محمد ہاشم گزدر منتخب ہوئے۔

    یاد رہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے جبکہ نوابزادہ لیاقت علی خان بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے نئی دستور ساز اسمبلی میں شامل ہوئے۔

    اسی مقصد کے لیے اتوار، 10 اگست 1947 کو صبح 10 بجے دستور ساز اسمبلی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (موجودہ سندھ اسمبلی کی عمارت) میں منعقد ہوا۔

    پہلا دن (10 اگست 1947، بروز اتوار)

    تمام ارکان کے جمع ہونے کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان نے تجویز پیش کی کہ جوگندر ناتھ منڈل کو عارضی چیئرمین منتخب کیا جائے۔ اس تجویز کی خواجہ ناظم الدین نے تائید کی۔ اس کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے چیئرمین (اسپیکر) کی کرسی سنبھالی اور اجلاس کی کارروائی کا آغاز کیا۔

    عارضی چیئرمین کا منصب سنبھالنے کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے ہمیں آج یہاں جمع ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ اس کے بعد میں آپ سب کا بھی شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس پہلے افتتاحی اجلاس میں مجھے چیئرمین منتخب کر کے عزت بخشی۔ اگرچہ آپ پاکستان کے مختلف صوبوں اور ریاستوں سے یہاں جمع ہوئے ہیں، مگر ہم سب کا مقصد ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کا آئین بنانا ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ایک دن پاکستان دنیا کی نہایت طاقتور، خوشحال اور باوقار ریاستوں میں شمار ہوگا۔’

    اس موقع پر تمام ارکان نے تالیاں بجائیں۔

    جوگندر ناتھ منڈل نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کی قائدانہ صلاحیتوں اور مسلم لیگ کی جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے مزید کہا: ‘آپ نے آج ایک اقلیتی رکن کو چیئرمین کی کرسی پر بٹھا کر یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جائے گا، کیونکہ آخرکار برصغیر میں مسلمان بھی ایک اقلیت ہی تھے۔ اس موقع پر مجھے کوئی طویل تقریر نہیں کرنی چاہیے۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہمیں تعصب اور تنگ نظری سے بالاتر ہو کر ایک نئی شروعات کرنی ہوگی۔ آپ نے مجھے جو عزت بخشی ہے، اس کے لیے میں ایک مرتبہ پھر تہہ دل سے آپ سب کا شکر گزار ہوں۔’

    (تالیوں کی گونج)

    تقریر مکمل کرنے کے بعد چیئرمین نے اعلان کیا کہ اب تمام ارکان اسمبلی کے سیکریٹری کے پاس اپنی اپنی اسناد پیش کریں اور ایک ایک کر کے حاضری کے رجسٹر پر دستخط کریں۔

    اسی موقع پر مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسٹر بھیم سین سچر نے نکتۂ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا اگر ہم ‘آرڈر آف دی ڈے’ (ایجنڈا) کے مطابق کارروائی آگے بڑھاتے۔ آئندہ ہر اجلاس سے پہلے ایجنڈا جاری کیا جائے تاکہ ارکان کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ اجلاس کی کارروائی میں کون سے امور زیر بحث آئیں گے۔

    بھیم سین سچر کے اٹھائے گئے نکتے کا جواب دیتے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا:

    ‘اس وقت تو دستور ساز اسمبلی ابھی باضابطہ طور پر وجود میں ہی نہیں آئی۔ ابھی تو ہم نے اپنی اسناد بھی پیش نہیں کیں اور نہ ہی حاضری کے رجسٹر پر دستخط کیے ہیں۔’

    نکتۂ اعتراض کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے اپنی سند پیش کی اور حاضری کے رجسٹر پر دستخط کیے۔ اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، نورالامین، مولانا شبیر احمد عثمانی، اے کے فضل الحق، سردار عبدالرب نشتر، محمد ایوب کھوڑو، عبد الستار پیرزادہ، مولوی تمیز الدین خان سمیت 54 ارکان نے اپنی اپنی اسناد پیش کیں اور حاضری کے رجسٹر پر دستخط کیے۔

    یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد چیئرمین کی اجازت سے نوابزادہ لیاقت علی خان نے تجویز پیش کی کہ اسمبلی کا اجلاس صبح دس بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہونا چاہیے اور دوپہر کے بعد اجلاس نہ رکھا جائے۔
    اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک قرارداد بھی پیش کی: ‘چونکہ اس وقت ہماری اس اسمبلی کے قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں، اس لیے میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ جب تک ہم اپنے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کر لیتے، اس وقت تک دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط کو اختیار کیا جائے۔’
    اس موقع پر مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے رکن مسٹر دھرندر ناتھ دتہ نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے پہلے ہمیں ان قواعد و ضوابط کی کتاب کی نقل فراہم کی جائے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد کیا ہیں۔
    مسٹر دھرندر ناتھ دتہ کے اٹھائے گئے نکتے کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ قواعد و ضوابط کی کتاب کی صرف چند نقول لائبریری میں موجود ہیں۔

    ہر معزز رکن کو اس کی ایک ایک نقل فراہم کرنا ممکن نہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ ہر گروپ کے سربراہ کو مطالعے کے لیے ایک نقل دی جائے تاکہ تمام ارکان مشترکہ طور پر اس کا مطالعہ کر سکیں۔
    چیئرمین نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان نے دو نکات پیش کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ اسمبلی کا اجلاس صبح دس بجے شروع کیا جائے۔ میرا خیال نہیں کہ کوئی اس تجویز کی مخالفت کرے گا، لہٰذا میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ آئندہ اسمبلی کے اجلاس صبح دس بجے ہوا کریں گے۔
    چیئرمین کی رولنگ کے بعد مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے رکن پروفیسر راج کمار چکرورتی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں اجلاس شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے ایجنڈا فراہم کیا جاتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں معمولی ترمیم کرتے ہوئے یہ طے کیا جائے کہ اجلاس سے 48 گھنٹے پہلے ایجنڈے کی نقل ارکان کو فراہم کی جائے اور اجلاس سے 24 گھنٹے پہلے تک اس پر ترامیم جمع کرانے کی اجازت ہو۔
    پروفیسر چکرورتی کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت اور وقت کی کمی کے باعث ان ترامیم پر عمل کرنا مشکل ہے، تاہم میں یقین دلاتا ہوں کہ ارکان کو ایجنڈے کے مطالعے کے لیے مناسب وقت ضرور دیا جائے گا۔
    چیئرمین نے کہا: ‘میرا خیال ہے کہ 48 گھنٹے کا وقت دینا ممکن نہیں۔ محترم نوابزادہ لیاقت علی خان کی وضاحت کے بعد اس کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔’
    اس پر مسٹر دھرندر ناتھ دتہ نے کہا: ‘پھر کم از کم ترامیم کے سلسلے میں مختصر نوٹس دینے کی اجازت دی جائے۔’
    چیئرمین نے جواب دیا:’میرے خیال میں یہ مناسب رہے گا۔ اب میں نوابزادہ لیاقت علی خان کی وہ قرارداد ایوان کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط کو اختیار کیا جائے۔’
    اس کے بعد قرارداد منظور کر لی گئی۔
    نوابزادہ لیاقت علی خان نے ایک اور قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا: ‘میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ اسمبلی کے موجودہ دفتر اور انتظامی ڈھانچے کو دستور ساز اسمبلی کے سیکریٹریٹ کا درجہ دیا جائے، اور صدر کو ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں کرنے کا اختیار بھی دیا جائے۔’
    یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔
    نوٹ: اس قرارداد کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اسمبلی کی عمارت دراصل سندھ قانون ساز اسمبلی کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ کراچی میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے لیے کوئی علیحدہ عمارت موجود نہیں تھی۔ اس لیے اس قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی کی عمارت کو وفاقی دستور ساز اسمبلی کی عمارت قرار دیا گیا، جبکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس این جے وی اسکول کے آڈیٹوریم میں منعقد ہونے لگے۔
    اس کے بعد سردار عبدالرب نشتر نے دستور ساز اسمبلی کے صدر کے انتخاب کے طریقۂ کار سے متعلق قرارداد پیش کی۔
    یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔
    نوابزادہ لیاقت علی خان نے ایک اور تجویز پیش کرتے ہوئے کہا: ‘میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ دستور ساز اسمبلی کے صدر کی غیر موجودگی میں چار چیئرمین آف پینل مقرر کیے جائیں، جو صدر کی غیر موجودگی میں اجلاس کی کارروائی چلائیں۔’

    اس پر خان سردار بہادر خان نے سوال کیا: ‘میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ چیئرمین آف پینل صرف ایک اجلاس کے لیے ہوں گے یا اسمبلی کی پوری مدت کے لیے؟’

    چیئرمین نے جواب دیا: ‘محترم نوابزادہ لیاقت علی خان کی قرارداد پیش کیے جانے سے پہلے تمام ارکان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ دستور ساز اسمبلی کے صدر کے انتخاب کے لیے نامزدگی فارم آج شام چار بجے تک اسمبلی کے سیکریٹری سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔’
    اس کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان کی یہ قرارداد کہ دستور ساز اسمبلی کے صدر کی غیر موجودگی میں چار چیئرمین آف پینل مقرر کیے جائیں، منظور کر لی گئی۔
    آخر میں دستور ساز اسمبلی کے چیئرمین نے اجلاس پیر، 11 اگست 1947 کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا۔