Tag: اجلاس

  • 12 اگست 1947: پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے تیسرے روز کی کارروائی کے دوران کیا فیصلے ہوئے؟

    12 اگست 1947: پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے تیسرے روز کی کارروائی کے دوران کیا فیصلے ہوئے؟

    آئین ساز اسمبلی کے تیسرے دن کا اجلاس 12 اگست 1947 بروز منگل صبح 10 بجے اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں موجودہ سندھ اسمبلی چیمبر میں شروع ہوا۔

    آئین ساز اسمبلی کا جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو سب سے پہلے لیاقت علی خان نے ایک تجویز پیش کی کہ اس ایوان کے 16 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو عام شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تعین کرکے اس ایوان میں رپورٹ پیش کرے۔ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ان حقوق کو پاکستان کے آئین میں شامل کیا جائے۔

    ایوان نے یہ تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی۔ اس کمیٹی میں درج ذیل ارکان شامل کیے گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ محمد لیاقت علی خان، سردار عبدالرب خان نشتر، ڈاکٹر محمود حسین، بھیم سین سچار، مسٹر محمد ایوب کھوڑو، شیخ کرامت علی، پروفیسر راج کمار چکروَرتی، مسٹر غضنفر علی خان، مسٹر پریم ہری برما، مسٹر فضل الرحمن، بیگم شاہنواز جہاں آرا، برات چندر منڈل، اشتیاق حسین قریشی، عبدالقاسم خان اور جوگندر ناتھ منڈل۔

    اس کے بعد لیاقت علی خان نے ایک دوسری قرارداد پیش کی: ‘یہ اسمبلی یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ پاکستان آئین ساز اسمبلی کے صدر اور پاکستان کے گورنر جنرل مسٹر محمد علی جناح کو آئندہ 15 اگست 1947 سے تمام سرکاری خط و کتابت، دستاویزات، خطوط اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین میں ‘قائداعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل پاکستان’ لکھا اور پکارا جائے۔’

    مذکورہ قرارداد پیش کرنے کے بعد لیاقت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے سب سے بڑے عظیم رہنما ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بحیثیت اس عظیم قوم کے ایک عظیم رہنما کے آپ کو مخاطب کرنے کے لیے کوئی خطاب مختص ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں میری اس قرارداد کی کوئی بھی مخالفت نہیں کرے گا۔

    اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح نے جب مذکورہ قرارداد ایوان میں ووٹنگ کے لیے پیش کی تو اس موقع پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک رکن بھوپندر کمار دتا اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں۔ کیوں کہ یہ میرا جمہوری حق ہے۔ میں آپ کو یہ یاد دلاتا چلوں کہ ہم اس وقت 1947 میں موجود ہیں۔ کسی کو کس لقب سے پکارنا ہے، یہ ہر کسی کا ذاتی مسئلہ ہے۔ میں اس موقع پر کوئی بڑی تقریر نہیں کرنا چاہتا مگر میں قرارداد پیش کرنے والے، لیاقت علی خان، سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے لیں۔

    اس پر سردار عبدالرب خان نشتر نے لقمہ دیتے ہوئے پوچھا کہ آپ اس قرارداد کی مخالفت آخر کیوں کر رہے ہیں۔ اس موقع پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن سرس چندر چوپاڑیا نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اس قرارداد کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں تمام القابات اور اعزازات کے خلاف ہوں۔ میرا یہ موقف جناب محمد علی جناح کی قیادت کا انکار نہیں کرتا، مگر مجھے یقین ہے کہ وہ بھی یہ پسند نہیں کریں گے کہ انہیں کسی لقب سے پکارا جائے۔

    اس کے بعد مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن دھرینڈر ناتھ دتا نے خطاب کرتے ہوئے یہ بات دہرائی کہ میں بھی اس قرارداد کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کر رہا ہوں کہ کم از کم 1947 میں ان القاب و خطابات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ہم یہاں ایک سوشلسٹ حکومت بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور دنیا کی تمام سوشلسٹ حکومتوں میں ایسے القابات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس ایوان کے اکثر ارکان آپ کے ساتھ ہوں گے مگر میں اس قرارداد کی اصولی بنیادوں پر مخالفت کر رہا ہوں۔

    بنگال سے تعلق رکھنے والے تین ہندو ارکان کی مخالفت کے بعد سلہٹ سے تعلق رکھنے والے رکن عبدالحمید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کافی عرصے سے آپ کو قائداعظم کے نام سے مخاطب کرتے آئے ہیں۔ جیسے ہندوستان اور جہاں کہیں ‘گاندھی جی’ یا ‘مہاتما گاندھی’ کہا جاتا ہے تو پھر آپ کو قائداعظم کیوں نہ پکارا جائے۔ اسی طرح مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن نور احمد نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔

    عبدالحمید اور نور احمد کے بعد بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن سچندر نارائن سنوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں۔ مجھے ذاتی بات یہاں نہیں کرنی چاہیے، مگر ہمارے علاقے میں ہمیں راجا اور کچھ لوگ تو مہاراجا بھی کہتے ہیں۔ ہم نے یہ القابات ترک کردیئے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ آپ کو قائداعظم کا لقب مہاتما گاندھی نے دیا۔ میں یہاں اس بات پر بھی زور دیتا ہوں کہ ہم آپ کو اپنا لیڈر تسلیم کرچکے ہیں۔ اس لیے آپ کو کوئی لقب ملے یا نہ ملے، اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

    اس کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے بھی تقریر کرتے ہوئے قرارداد کی بھرپور حمایت کی اور محمد علی جناح کو قائداعظم کا لقب دینے کی حمایت کی۔ منڈل نے اپنی تقریر میں دلیل دیتے ہوئے کہا: ‘اس موقع پر میری تقریر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مگر میرے دوستوں کی تقریروں سے مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ کل ہی کانگریس پارٹی کے رہنما جناب کرن شنکر رائے نے آپ کو عظیم رہنما کہا اور آج پھر اس قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔

    ‘میں اپنی بات شروع کرنے سے پہلے آپ سے گزارش کروں گا کہ اس مسئلے پر آپ اپنی رائے کا اظہار نہ کریں۔ کیونکہ یہ اس ایوان کی خواہش ہے، آپ کی نہیں۔ یہاں جن لوگوں نے بھی گفتگو کی، انہوں نے دلیل دینے کے بجائے آپ سے ذاتی حیثیت میں اپیلیں کیں۔ آپ پہلے ہی قائداعظم کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔

    ‘اس قرارداد کا اصل مقصد یہ ہے کہ سرکاری کاغذات و دستاویزات میں یکسانیت لائی جائے۔ اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے۔ اسی طرح مجھے مسٹر گاندھی کو مہاتما گاندھی پکارتے ہوئے خوشی ہوگی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اگرچہ پنڈت نہیں ہیں۔ پھر بھی انہیں پنڈت کہا جاتا ہے۔ یہاں جن دوستوں نے تقریریں کیں، مجھے ان کی ذہنیت کا علم ہے۔

    ‘میں جب ایک جلسے میں مہاتما گاندھی کو مسٹر گاندھی کہا تو پورے جلسے میں آہ و بکا شروع ہوگئی۔ جب میں نے اپنے الفاظ واپس لے لیے تو پھر بھی اس پر بہت بات کی گئی اور اخبارات میں بھی اس معاملے کو بہت شائع کیا گیا۔ اگر انڈیا کی آئین ساز اسمبلی یہ ماننے کے لیے تیار ہے کہ آئندہ مسٹر گاندھی کو مہاتما گاندھی نہیں کہا جائے گا تو پھر میں بھی یہ ماننے کے لیے تیار ہوں کہ محمد علی جناح کو قائداعظم نہ پکارا جائے۔

    ‘آخر میں آپ سے ایک بار پھر گزارش کروں گا کہ آپ، قائداعظم محمد علی جناح، اس وقت خاموش رہیں۔ قائداعظم کوئی خطاب یا لقب نہیں بلکہ نذرانہ عقیدت ہے۔ میں اس ایوان کے تمام ارکان سے گزارش کروں گا کہ جناب لیاقت علی خان کی اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا جائے۔’

    اس قرارداد کی حمایت و مخالفت میں مسٹر عزیزالدین احمد (مشرقی بنگال، مسلم)، مسٹر محمد علی (مشرقی بنگال، مسلم)، ڈاکٹر اے۔ ایم۔ ملک (مشرقی بنگال، مسلم)، ملک فیروز خان نون (مغربی پنجاب، مسلم)، میاں محمد افتخارالدین (مغربی پنجاب)، عبدالمحمود (مشرقی بنگال) اور لیاقت علی خان نے خطاب کیا۔ بہت بحث و مباحثے کے بعد یہ قرارداد منظور ہوگئی۔ اس دن کے بعد آج دن تک پاکستان کے بانی کو قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے پکارا اور لکھا جاتا ہے۔

    آخر میں آئین ساز اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح نے چار افراد پر مشتمل چیئرمین آف پینل کا اعلان کیا جو بالترتیب اسمبلی کے صدر کی غیر موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلائیں گے۔ پہلے نمبر پر مولوی تمیزالدین خان، دوسرے نمبر پر عمر حیات ملک، تیسرے نمبر پر سردار بہادر خان اور چوتھے نمبر پر کرن شنکر رائے۔

    یاد رہے قائداعظم محمد علی جناح کی غیر موجودگی میں مولوی تمیزالدین خان آئین ساز اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے۔ جناح کی وفات کے بعد وہ آئین ساز اسمبلی کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ بعد میں جب 1954 میں غلام محمد نے آئین ساز اسمبلی کو توڑ دیا تو پھر مولوی تمیزالدین خان اسمبلی کی بحالی کے لیے سندھ چیف کورٹ (سندھ ہائی کورٹ) اور فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) گئے۔ یہ کیس بعد میں مولوی تمیزالدین کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کیس میں ہی جسٹس منیر نے آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کو ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت درست قرار دیا۔ یہیں سے نظریہ ضرورت کا آغاز ہوا۔

  •  10 اگست 1947: پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی کارروائی

     10 اگست 1947: پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی کارروائی

    نوٹ: تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947 کو منعقد ہوا۔ پہلا اجلاس چار دن (10، 11، 12 اور 14 اگست) تک جاری رہا۔ پاکستان کی آزادی اور دستور ساز اسمبلی کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر ان چار دنوں کی دستور ساز اسمبلی کی روداد ڈیجیٹل ساگا کے قارئین کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

    1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اگرچہ برطانیہ اور اس کے اتحادی جنگ میں فاتح رہے، مگر جنگ میں ہونے والے نقصانات نے برطانیہ کی کمر توڑ دی تھی۔

    چنانچہ وہ ہندوستان سمیت اپنی دوسری نوآبادیات سے نکلنے کی تیاریاں کرنے لگا۔ اسی سلسلے میں 1946 میں کابینہ مشن بھی بھیجا گیا، جو ‘متحدہ ہندوستان’ کو برقرار رکھنے میں تقریباً کامیاب ہو گیا تھا، مگر جواہر لعل نہرو کے ایک بیان نے کابینہ مشن کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔

    نتیجتاً محمد علی جناح مسلمانوں کے لیے ایک آزاد ریاست کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھے۔ دوسری جانب برطانیہ میں ونسٹن چرچل کی انتخابی شکست کے بعد لارڈ ایٹلی وزیر اعظم بن چکے تھے، جنہوں نے 20 فروری 1947 کی اپنی تقریر میں واضح کیا کہ 30 جون 1948 تک برطانوی ہند کو مکمل خودمختاری دے دی جائے گی۔

    کابینہ مشن کی ناکامی کے بعد اس وقت کے وائسرائے لارڈ ویول کی حیثیت کمزور ہو چکی تھی۔ چنانچہ برطانیہ کے بادشاہ جارج ششم کے قریبی رشتہ دار لوئس فرانسس البرٹ وکٹر نکولس ماؤنٹ بیٹن، المعروف لارڈ ماؤنٹ بیٹن، کو ہندوستان کی آزادی کا مینڈیٹ دے کر آخری وائسرائے مقرر کیا گیا۔

    لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان پہنچتے ہی متحدہ ہندوستان کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوششیں کیں، مگر مسلم لیگ اور محمد علی جناح کے سخت مؤقف کے باعث 3 جون 1947 کو تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے تقسیم کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے برطانوی ہند کو دو خودمختار ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اس کے اگلے دن، یعنی 4 جون 1947 کو، پانچ سو سے زائد نوابی ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت، کسی ایک کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔ تقسیم کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ نے ‘انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947’ منظور کیا، جس کے تحت:

    • برطانوی ہند کی تقسیم کے لیے 15 اگست 1947 کی تاریخ مقرر کی گئی۔
    • پاکستان مشرقی بنگال، مغربی پنجاب، سندھ اور چیف کمشنر صوبہ بلوچستان پر مشتمل ہوگا۔
    • سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے کیا جائے گا۔
    • صوبہ آسام کے ضلع سلہٹ کی قسمت کا فیصلہ بھی ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔
    • ہر ریاست کے لیے ایک گورنر جنرل مقرر ہوگا اور اس ایکٹ میں اس کے اختیارات بھی متعین کیے گئے۔
    • ہر ریاست کے لیے الگ دستور ساز اسمبلی قائم کی جائے گی، جسے قانون سازی اور آئین سازی کا اختیار حاصل ہوگا۔

    متحدہ ہندوستان کی مرکزی دستور ساز اسمبلی کو دو حصوں، پاکستان کی دستور ساز اسمبلی اور بھارت کی دستور ساز اسمبلی، میں تقسیم کر دیا گیا۔ دونوں اسمبلیوں کو اپنی اپنی نئی ریاستوں کا آئین تیار کرنا تھا۔

    پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں صوبہ سندھ کی نمائندگی کے لیے چار ارکان، عبد الستار پیرزادہ، محمد ایوب کھوڑو، دولت رام جیئرام داس اور محمد ہاشم گزدر منتخب ہوئے۔

    یاد رہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے جبکہ نوابزادہ لیاقت علی خان بنگال کی نمائندگی کرتے ہوئے نئی دستور ساز اسمبلی میں شامل ہوئے۔

    اسی مقصد کے لیے اتوار، 10 اگست 1947 کو صبح 10 بجے دستور ساز اسمبلی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (موجودہ سندھ اسمبلی کی عمارت) میں منعقد ہوا۔

    پہلا دن (10 اگست 1947، بروز اتوار)

    تمام ارکان کے جمع ہونے کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان نے تجویز پیش کی کہ جوگندر ناتھ منڈل کو عارضی چیئرمین منتخب کیا جائے۔ اس تجویز کی خواجہ ناظم الدین نے تائید کی۔ اس کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے چیئرمین (اسپیکر) کی کرسی سنبھالی اور اجلاس کی کارروائی کا آغاز کیا۔

    عارضی چیئرمین کا منصب سنبھالنے کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے ہمیں آج یہاں جمع ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ اس کے بعد میں آپ سب کا بھی شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس پہلے افتتاحی اجلاس میں مجھے چیئرمین منتخب کر کے عزت بخشی۔ اگرچہ آپ پاکستان کے مختلف صوبوں اور ریاستوں سے یہاں جمع ہوئے ہیں، مگر ہم سب کا مقصد ایک آزاد اور خودمختار پاکستان کا آئین بنانا ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ ایک دن پاکستان دنیا کی نہایت طاقتور، خوشحال اور باوقار ریاستوں میں شمار ہوگا۔’

    اس موقع پر تمام ارکان نے تالیاں بجائیں۔

    جوگندر ناتھ منڈل نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کی قائدانہ صلاحیتوں اور مسلم لیگ کی جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے مزید کہا: ‘آپ نے آج ایک اقلیتی رکن کو چیئرمین کی کرسی پر بٹھا کر یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جائے گا، کیونکہ آخرکار برصغیر میں مسلمان بھی ایک اقلیت ہی تھے۔ اس موقع پر مجھے کوئی طویل تقریر نہیں کرنی چاہیے۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہمیں تعصب اور تنگ نظری سے بالاتر ہو کر ایک نئی شروعات کرنی ہوگی۔ آپ نے مجھے جو عزت بخشی ہے، اس کے لیے میں ایک مرتبہ پھر تہہ دل سے آپ سب کا شکر گزار ہوں۔’

    (تالیوں کی گونج)

    تقریر مکمل کرنے کے بعد چیئرمین نے اعلان کیا کہ اب تمام ارکان اسمبلی کے سیکریٹری کے پاس اپنی اپنی اسناد پیش کریں اور ایک ایک کر کے حاضری کے رجسٹر پر دستخط کریں۔

    اسی موقع پر مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسٹر بھیم سین سچر نے نکتۂ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا اگر ہم ‘آرڈر آف دی ڈے’ (ایجنڈا) کے مطابق کارروائی آگے بڑھاتے۔ آئندہ ہر اجلاس سے پہلے ایجنڈا جاری کیا جائے تاکہ ارکان کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ اجلاس کی کارروائی میں کون سے امور زیر بحث آئیں گے۔

    بھیم سین سچر کے اٹھائے گئے نکتے کا جواب دیتے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا:

    ‘اس وقت تو دستور ساز اسمبلی ابھی باضابطہ طور پر وجود میں ہی نہیں آئی۔ ابھی تو ہم نے اپنی اسناد بھی پیش نہیں کیں اور نہ ہی حاضری کے رجسٹر پر دستخط کیے ہیں۔’

    نکتۂ اعتراض کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے اپنی سند پیش کی اور حاضری کے رجسٹر پر دستخط کیے۔ اس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، نورالامین، مولانا شبیر احمد عثمانی، اے کے فضل الحق، سردار عبدالرب نشتر، محمد ایوب کھوڑو، عبد الستار پیرزادہ، مولوی تمیز الدین خان سمیت 54 ارکان نے اپنی اپنی اسناد پیش کیں اور حاضری کے رجسٹر پر دستخط کیے۔

    یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد چیئرمین کی اجازت سے نوابزادہ لیاقت علی خان نے تجویز پیش کی کہ اسمبلی کا اجلاس صبح دس بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہونا چاہیے اور دوپہر کے بعد اجلاس نہ رکھا جائے۔
    اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک قرارداد بھی پیش کی: ‘چونکہ اس وقت ہماری اس اسمبلی کے قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں، اس لیے میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ جب تک ہم اپنے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کر لیتے، اس وقت تک دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط کو اختیار کیا جائے۔’
    اس موقع پر مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے رکن مسٹر دھرندر ناتھ دتہ نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے پہلے ہمیں ان قواعد و ضوابط کی کتاب کی نقل فراہم کی جائے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد کیا ہیں۔
    مسٹر دھرندر ناتھ دتہ کے اٹھائے گئے نکتے کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ قواعد و ضوابط کی کتاب کی صرف چند نقول لائبریری میں موجود ہیں۔

    ہر معزز رکن کو اس کی ایک ایک نقل فراہم کرنا ممکن نہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ ہر گروپ کے سربراہ کو مطالعے کے لیے ایک نقل دی جائے تاکہ تمام ارکان مشترکہ طور پر اس کا مطالعہ کر سکیں۔
    چیئرمین نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان نے دو نکات پیش کیے ہیں۔ پہلا یہ کہ اسمبلی کا اجلاس صبح دس بجے شروع کیا جائے۔ میرا خیال نہیں کہ کوئی اس تجویز کی مخالفت کرے گا، لہٰذا میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ آئندہ اسمبلی کے اجلاس صبح دس بجے ہوا کریں گے۔
    چیئرمین کی رولنگ کے بعد مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے رکن پروفیسر راج کمار چکرورتی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی میں اجلاس شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے ایجنڈا فراہم کیا جاتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں معمولی ترمیم کرتے ہوئے یہ طے کیا جائے کہ اجلاس سے 48 گھنٹے پہلے ایجنڈے کی نقل ارکان کو فراہم کی جائے اور اجلاس سے 24 گھنٹے پہلے تک اس پر ترامیم جمع کرانے کی اجازت ہو۔
    پروفیسر چکرورتی کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے نوابزادہ لیاقت علی خان نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت اور وقت کی کمی کے باعث ان ترامیم پر عمل کرنا مشکل ہے، تاہم میں یقین دلاتا ہوں کہ ارکان کو ایجنڈے کے مطالعے کے لیے مناسب وقت ضرور دیا جائے گا۔
    چیئرمین نے کہا: ‘میرا خیال ہے کہ 48 گھنٹے کا وقت دینا ممکن نہیں۔ محترم نوابزادہ لیاقت علی خان کی وضاحت کے بعد اس کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔’
    اس پر مسٹر دھرندر ناتھ دتہ نے کہا: ‘پھر کم از کم ترامیم کے سلسلے میں مختصر نوٹس دینے کی اجازت دی جائے۔’
    چیئرمین نے جواب دیا:’میرے خیال میں یہ مناسب رہے گا۔ اب میں نوابزادہ لیاقت علی خان کی وہ قرارداد ایوان کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط کو اختیار کیا جائے۔’
    اس کے بعد قرارداد منظور کر لی گئی۔
    نوابزادہ لیاقت علی خان نے ایک اور قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا: ‘میں یہ قرارداد پیش کرتا ہوں کہ اسمبلی کے موجودہ دفتر اور انتظامی ڈھانچے کو دستور ساز اسمبلی کے سیکریٹریٹ کا درجہ دیا جائے، اور صدر کو ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں کرنے کا اختیار بھی دیا جائے۔’
    یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔
    نوٹ: اس قرارداد کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اسمبلی کی عمارت دراصل سندھ قانون ساز اسمبلی کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ کراچی میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے لیے کوئی علیحدہ عمارت موجود نہیں تھی۔ اس لیے اس قرارداد کے ذریعے سندھ اسمبلی کی عمارت کو وفاقی دستور ساز اسمبلی کی عمارت قرار دیا گیا، جبکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس این جے وی اسکول کے آڈیٹوریم میں منعقد ہونے لگے۔
    اس کے بعد سردار عبدالرب نشتر نے دستور ساز اسمبلی کے صدر کے انتخاب کے طریقۂ کار سے متعلق قرارداد پیش کی۔
    یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔
    نوابزادہ لیاقت علی خان نے ایک اور تجویز پیش کرتے ہوئے کہا: ‘میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ دستور ساز اسمبلی کے صدر کی غیر موجودگی میں چار چیئرمین آف پینل مقرر کیے جائیں، جو صدر کی غیر موجودگی میں اجلاس کی کارروائی چلائیں۔’

    اس پر خان سردار بہادر خان نے سوال کیا: ‘میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ چیئرمین آف پینل صرف ایک اجلاس کے لیے ہوں گے یا اسمبلی کی پوری مدت کے لیے؟’

    چیئرمین نے جواب دیا: ‘محترم نوابزادہ لیاقت علی خان کی قرارداد پیش کیے جانے سے پہلے تمام ارکان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ دستور ساز اسمبلی کے صدر کے انتخاب کے لیے نامزدگی فارم آج شام چار بجے تک اسمبلی کے سیکریٹری سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔’
    اس کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان کی یہ قرارداد کہ دستور ساز اسمبلی کے صدر کی غیر موجودگی میں چار چیئرمین آف پینل مقرر کیے جائیں، منظور کر لی گئی۔
    آخر میں دستور ساز اسمبلی کے چیئرمین نے اجلاس پیر، 11 اگست 1947 کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا۔