لہروں پر لکھی تاریخ: کراچی کے قدیم ترین جزائر اور کچھی واگھیر و بڈالہ برادریاں

تاریخ

کراچی کو اگر صرف انگریز راج کی تیار کردہ بندرگاہ یا قیام پاکستان کے بعد آباد ہونے والا ایک جدید صنعتی شہر سمجھا جائے تو یہ اس خطے کی ہزاروں سالہ ساحلی تاریخ کے ساتھ شدید ناانصافی ہوگی۔

 کراچی کا جدید بندرگاہی شہر بننے کا سفر اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب کلاچی کے بھنوروں اور بحیرہ عرب کے دریائے سندھ کے ڈیلٹائی ساحلوں پر بادبانی جہازوں کا راج تھا۔ اس کٹھن اور بے رحم سمندری دنیا میں جنہوں نے سندھ کے ساحلوں کو خلیج، عرب اور افریقہ کے ساحلوں سے جوڑے رکھا، وہ سندھ اور کچھ کی دو قدیم ترین ملاحی و بحری برادریاں، کچھی واگھیر اور کچھی بڈالہ جماعتیں تھیں۔

یہ دونوں برادریاں محض مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیر یا عام کشتی بان نہیں بلکہ بحیرہ عرب کی شاہراہ پر سفر کرنے والی ایک غیر رسمی ‘بحری قوت’ اور سندھ و گجرات کے ساحلی خطے کا زندہ و جاوید استعارہ ہیں۔

نسبی ذاتیں نہیں، فن و حرفت کی انجمن

سندھ کی بشریاتی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سماٹ قبیلوں کی متعدد ذاتیں، مثلاً ہنگورا، سومرو، مندھرا، بھٹی، جونیجا اور تھیبا، اپنی شجرہ نسبی بنیادوں پر الگ شناخت رکھتی ہیں، لیکن کچھی واگھیر اور بڈالہ برادریاں اس سے مختلف ایک بالکل جداگانہ تاریخ پیش کرتی ہیں۔

یہ محض ایک واحد نسبی قبیلہ نہیں بلکہ مختلف نسبی گروہوں، مثلاً جاڑیجا، راجپوت، بلوچ اور ڈیلٹائی سندھ کے ساحلی ملاحوں، پر مشتمل ایک تاریخی پیشہ ورانہ اور بحری اتحاد ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے مخصوص فن، جرات اور سمندری مہارت کی بنیاد پر ان کی شناخت قائم ہوئی۔

واگھیر اپنی بے باکی، لکڑی کے کام، تیز رفتار بادبانی سفر اور سمندری مہارت کے باعث ‘واگھیر’ کہلائے۔

بڈالہ اپنے ناخدانہ علوم، قطب نما کے بغیر سمت شناسی اور لکڑی کے جہاز بنانے کے کمال کی وجہ سے ‘بڈالہ’ کی شناخت اختیار کر گئے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہی فن اور حرفت ان کا سب سے بڑا قبیلہ اور شناختی لقب بن گئی۔

کراچی کے قدیم ترین جزائر اور ملاحی مسکن

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جب رن کچھ اور گجرات کی اوکھا، دوارکا اور ماندوی بندرگاہوں سے تجارتی نقل و حمل کے مراکز بدل رہے تھے تو کچھی واگھیر اور بڈالہ ملاحوں کی بڑی تعداد نے کراچی کے قدرتی جزائر، بابا جزیرہ، بھٹ جزیرہ، منوڑا، کیماڑی اور صالح آباد کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔

یہ جزائر صرف ان کی رہائش گاہیں نہیں تھے بلکہ بحیرہ عرب پر کنٹرول کے لیے ان کے فطری مراکز تھے۔ بابا جزیرہ اور بھٹ کے پرانے محلے، جنہیں ‘پاڑے’ کہا جاتا ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والے بحری علوم، سمندری محاوروں اور لکڑی کے بحری جہازوں کی مرمت کے اہم مراکز بن کر ابھرے۔

افریقہ سے ممبئی تک بحری راجدھانی اور دبئی کی تعمیر

بادبانی کشتیوں کے زمانے میں جب سمندر کی خطرناک لہروں پر صرف تجربہ اور جرات ہی نجات کا ذریعہ ہوتی تھی، واگھیر اور بڈالہ ملاحوں کی بادبانی کشتیاں ممبئی سے لے کر مسقط، عدن، ممباسا، زنجبار اور مڈغاسکر کے ساحلوں تک بلا خوف و خطر سفر کرتی تھیں۔

اس زمانے میں دبئی اور خلیجی ریاستوں کی ابتدائی آباد کاری اور معیشت میں ان ملاحوں کا کردار سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

موتیوں کی غواصی

خلیج میں تیل کی دریافت سے قبل موتیوں کی تجارت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی، جس میں یہ کچھی ملاح گہرے سمندر میں غواصی کے ماہر کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے۔

خوراک اور ضروری سامان کی ترسیل

بیسویں صدی کے اوائل میں جب دبئی ایک چھوٹی بندرگاہی خور تک محدود قصبہ تھا تو کراچی اور کچھ کی بندرگاہوں سے غلہ، کپڑا، لکڑی اور روزمرہ کی ضروریات یہی ملاح اپنی کشتیوں میں لاد کر دبئی اور شارجہ پہنچایا کرتے تھے۔ البتہ یہ سلسلہ وادی سندھ کے زمانے سے یہاں کے باشندے جاری رکھے ہوئے تھے۔

شیخ راشد کے دور میں بابا اور بھٹ کے کئی کچھی واگھیر برادری کے افراد، جو اسمگلنگ سے وابستہ تھے، دبئی منتقل ہوگئے اور انہوں نے دبئی کو اپنا مرکز بنا لیا۔ اس دور میں دبئی کے بڑے شیوخ ان کی بھرپور پذیرائی کرتے تھے۔ دبئی کو کاروباری مرکز بنانے میں بھی ان کے کردار کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہی لوگ پاکستان سے تعمیراتی مزدور اپنی لانچوں کے ذریعے دبئی لے جاتے تھے۔

انسانی ہمدردی اور ریاست جونا گڑھ کا تاریخی ریسکیو

تاریخ کے وہ گوشے جو عام نصابی کتب میں نظر نہیں آتے، ان ملاحوں کی انسانیت اور غیر معمولی جرات کی گواہی دیتے ہیں۔

حاجی سر عبداللہ ہارون کی مدد

تحریک پاکستان کے رہنما حاجی سر عبداللہ ہارون کی ابتدائی یتیمی کے زمانے میں، جب ان کی والدہ حنیفہ بائی شدید غربت اور عسرت کا شکار تھیں، تو ساحلی ملاحوں نے انہیں ان کے شیر خوار بچے سمیت بلا کرایہ اپنی بادبانی کشتی کے ذریعے کچھ کے بھوج سے کراچی کے چاکیواڑہ پہنچایا، جس کے بعد انہوں نے اسی شہر میں ترقی کی منازل طے کیں۔

جونا گڑھ کے نواب کی محفوظ منتقلی

قیام پاکستان کے وقت جب ریاست جونا گڑھ کے نواب، نواب مہابت خانجی سوم، نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو بھارتی افواج نے ریاست کی ناکہ بندی کر دی۔ اس نازک موقع پر واگھیر اور بڈالہ ناخداؤں نے بھارتی بحریہ کو چکمہ دیتے ہوئے اپنی بادبانی کشتیوں پر نواب کے شاہی خاندان، قیمتی اثاثوں، سرکاری دستاویزات اور شاہی خزانے کو سمندر کی تاریک راتوں میں محفوظ طریقے سے کراچی بندرگاہ پہنچایا۔

سمگلنگ، سونے کی ترسیل اور غیر رسمی معیشت

بیسویں صدی کے وسط، خصوصاً 1950 سے 1980 کی دہائی تک، جب برصغیر میں سخت کسٹمز قوانین اور کنٹرولڈ معیشت نافذ تھی، یہ ملاح سمندری راہداری کے غیر رسمی بادشاہ سمجھے جاتے تھے۔

دبئی اور مسقط سے سونا اور دیگر نایاب اشیا لانے میں واگھیر ملاحوں کی تیز رفتار بادبانی اور انجن والی کشتیوں کا نیٹ ورک سب سے مضبوط تھا۔ وہ سمندری گشت کرنے والے بحری جہازوں اور ریڈار کی نگرانی سے بچتے ہوئے سامان کراچی کے جزائر میں اتارتے اور پھر وہاں سے متوازی منڈیوں تک پہنچاتے تھے۔ دبئی سے آنے والا یہی اسمگل شدہ سامان کھارادر اور بولٹن مارکیٹ میں فروخت ہوتا تھا، جس سے کئی میمن خاندان ارب پتی اور کھرب پتی بن گئے۔

اس عمل نے بھی کراچی کو اس دور میں ایک بڑے تجارتی مرکز کی حیثیت دلانے میں غیر رسمی کردار ادا کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں قاسم بھٹی اور جنرل ضیا کے دور میں عبداللہ یعقوب بھٹی نے اسمگلنگ کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ عبداللہ یعقوب بھٹی کی جزیرہ بھٹ کے علاوہ کراچی، دبئی اور یورپ کے کئی ممالک میں بھی وسیع جائیدادیں بتائی جاتی ہیں۔

دفاع پاکستان اور ایٹمی پروگرام کے خاموش سپاہی

پاک بحریہ اور ملک کے ایٹمی پروگرام کی تاریخ ان کچھی ملاحوں کے ذکر کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔

1965 اور 1971 کی جنگیں

1965 کے تاریخی ‘آپریشن دوارکا’ میں پاک بحریہ کو بھارتی ساحل دوارکا اور اوکھا کے اتھلے پانیوں اور راستوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنے والے یہی مقامی واگھیر ناخدا تھے، کیونکہ دوارکا ان کی ایک قدیم گزرگاہ تھی۔ 1971 کی جنگ میں بھی ان ملاحوں نے اپنی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر میں گشت کیا، پاک بحریہ کو معلومات فراہم کیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

ایٹمی ٹیکنالوجی کی خفیہ ترسیل

1970 اور 1980 کی دہائیوں میں جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر مغربی ممالک کی جانب سے سخت پابندیاں عائد تھیں، تو بیرون ملک سے لائی جانے والی حساس ٹیکنالوجی، ری ایکٹروں کے آلات اور خام مال کو کھلے سمندر میں بڑے بحری جہازوں سے ان ملاحوں کی لکڑی کی کشتیوں پر منتقل کیا جاتا تھا۔

واگھیر اور بڈالہ ناخدا ان آلات کو عالمی نگرانی سے بچا کر کراچی کے جزائر، بابا، بھٹ اور منوڑا، پر اپنی خفیہ پناہ گاہوں تک لاتے، جہاں سے انتہائی رازداری کے ساتھ انہیں ایٹمی تنصیبات تک پہنچایا جاتا تھا۔

سمت شناسی کا علم اور بغیر نقشے کے کشتی سازی

ان برادریوں کا سب سے حیران کن سائنسی اور فنی کارنامہ ان کا روایتی بحری علم اور کشتی سازی ہے۔

غیر نقشہ جاتی کشتی سازی

بڈالہ برادری کے استاد، جنہیں ‘واڈھا’ کہا جاتا تھا، کسی کاغذ، نقشے یا جدید آلے کے بغیر صرف اپنے ذہنی حساب اور روایتی پیمانوں کی مدد سے 200 سے 500 ٹن تک کے لکڑی کے بحری جہاز، یعنی لانچیں، تیار کر لیتے تھے، جن کا توازن اور ساخت انتہائی معیاری ہوتی تھی۔

سمندری لغت

وہ ہواؤں کے رخ اور سمتوں کو اپنے کچھی ناموں سے پکارتے تھے، جیسے شمال کو ‘اوتر’، جنوب کو ‘دکھن’، مشرق کو ‘اوگم’ اور مغرب کو ‘آتھم’۔ ستاروں کو دیکھ کر سمت متعین کرنے والے استاد کو ‘معلم’ اور کشتی کے کپتان کو ‘ناخدا’ کہا جاتا تھا۔

کانجی مالم، جس نے واسکو ڈے گاما کو برصغیر کا بحری راستہ دکھایا، ناخدا قاسم واگھیر اور ناخدا ابراہیم کچھی جیسی شخصیات اسی بحری روایت کی پیداوار تھیں۔

غرض یہ کہ کراچی کے ان قدیم ترین جزائر پر آباد کچھی واگھیر اور کچھی بڈالہ برادریاں محض ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ کراچی کی بحری روح ہیں۔ چاہے یتیم عبداللہ ہارون کی دست گیری ہو، نواب جونا گڑھ کی سمندری نجات، جنگوں میں پاک بحریہ کی معاونت یا ایٹمی پروگرام کا کٹھن سفر، ان ملاحوں نے بغیر کسی تمغے اور سرکاری اعتراف کے سمندر کے سینے پر اپنی جرات کی تاریخ رقم کی۔

آج جب فائبر گلاس کی کشتیاں اور جدید ٹیکنالوجی ان کے روایتی ہنر کو ختم کر رہی ہیں اور کراچی کے جزائر بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کی اس اصل بحری شناخت اور ان گمنام ہیروز کی تاریخی خدمات کو محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ کلاچی کی بستی کو شہر قائد بنانے میں کن ملاحوں کا لہو اور پسینہ شامل تھا۔

اسی بارے میں: