جدید طبی ٹیکنالوجی اب صرف نجی ہسپتالوں تک محدود نہیں رہی۔ کراچی کے تاریخی ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول ہسپتال میں روبوٹک سرجری پروگرام پاکستان کے جدید ترین سرجیکل مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مریضوں کو عالمی معیار کی جراحی سہولیات سرکاری شعبے میں فراہم کی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں روبوٹک سرجری کا آغاز 2013 میں سول ہسپتال کراچی سے منسلک سرجیکل یونٹس میں مرحلہ وار ہوا۔ بعد ازاں جنوری 2019 میں اسی ہسپتال میں پہلی مرتبہ روبوٹ کی مدد سے خواتین کے رحم کی کامیاب سرجری کی گئی، جسے اس وقت ملک کی پہلی روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری قرار دیا گیا۔
روبوٹک سرجری میں آپریشن خود روبوٹ نہیں کرتا بلکہ سرجن ایک جدید کنسول پر بیٹھ کر روبوٹک بازوؤں کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ نظام انسانی ہاتھ کی معمولی لرزش کو ختم کر دیتا ہے، جبکہ تھری ڈی ہائی ڈیفینیشن منظر اور کئی گنا بڑا نظارہ سرجن کو جسم کے انتہائی حساس حصوں میں زیادہ درستگی کے ساتھ کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے باعث مریض کو نسبتاً کم خون بہتا ہے، زخم چھوٹے ہوتے ہیں، درد کم محسوس ہوتا ہے اور صحت یابی کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔
سول ہسپتال کراچی میں روبوٹک سرجری کے ذریعے یورولوجی، جنرل سرجری، گائناکولوجی اور دیگر پیچیدہ کم سے کم چیرا لگا کر کیے جانے والے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ گردے، مثانے، پروسٹیٹ، خواتین کے بعض امراض اور دیگر پیچیدہ کیسز میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، جہاں معمولی غلطی بھی علاج کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کو صرف علاج ہی نہیں بلکہ تدریسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ سول ہسپتال کراچی میں نوجوان سرجنوں کو روبوٹک سرجری کی عملی تربیت دی جاتی ہے تاکہ پاکستان میں مستقبل کے ماہرین تیار کیے جا سکیں۔
اگرچہ پاکستان کے چند بڑے نجی ہسپتالوں میں بھی روبوٹک سرجری کی سہولت موجود ہے، تاہم سول ہسپتال کراچی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک سرکاری تدریسی ہسپتال ہے جہاں عوام کو جدید روبوٹک سرجری کی سہولت دستیاب ہے۔
جہاں تک آپریشنز کی تعداد کا تعلق ہے، سول ہسپتال کراچی یا محکمہ صحت سندھ نے 2026 تک روبوٹک سرجریوں کے روزانہ، سالانہ یا مجموعی اعداد و شمار سرکاری طور پر جاری نہیں کیے۔ تاہم شائع شدہ سائنسی جائزوں کے مطابق اس پروگرام کے ابتدائی برسوں میں 500 سے زائد روبوٹک سرجریاں کی جا چکی تھیں، جبکہ بعد کے برسوں کے مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
طبی دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، تھری ڈی امیجنگ اور روبوٹک ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور کراچی کا سول ہسپتال بھی اس تبدیلی کا حصہ بن چکا ہے۔ یہاں جدید مشینیں نہ صرف پیچیدہ آپریشن زیادہ محفوظ اور مؤثر بنا رہی ہیں بلکہ پاکستان میں جدید جراحی کے مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط کر رہی ہیں۔
