Tag: ہسپتال

  • کراچی: ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخم، خاموش خطرہ اور مفت علاج کی سہولت

    کراچی: ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخم، خاموش خطرہ اور مفت علاج کی سہولت

    کراچی کے رتھ فاؤ سول ہسپتال میں قائم فٹ اینڈ وونڈ سینٹر میں ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے پیچیدہ زخموں کا علاج سرکاری سطح پر مکمل طور پر مفت کیا جا رہا ہے۔ یہ مرکز ایسے مریضوں کے لیے امید بن چکا ہے جو بروقت علاج نہ ملنے کے باعث سنگین پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    فٹ اینڈ وونڈ سینٹر کی انچارج ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے پیچیدہ زخم ایک سنگین مگر کم توجہ پانے والا مسئلہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کے ساتھ پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرحانہ رشید نے بتایا کہ اس مرکز میں زیادہ تر ایسے مریض آتے ہیں جن کے زخم انتہائی خراب حالت اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔ عام طور پر مریض اس وقت رجوع کرتے ہیں جب زخم ٹھیک ہونے کے بجائے بگڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ علاج کا آغاز سب سے پہلے شوگر کی سطح کو قابو میں لانے سے کیا جاتا ہے، جس کے بعد زخم کا باقاعدہ اور مخصوص طریقے سے علاج شروع ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخم معمولی چوٹ سے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر شوگر کنٹرول میں نہ ہو تو یہی زخم آہستہ آہستہ پیچیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض کیسز میں جلد کا رنگ سیاہ پڑنے لگتا ہے، جو خون کی ترسیل متاثر ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر تاخیر پورے پاؤں یا ہاتھ کے ضائع ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ فٹ اینڈ وونڈ سینٹر میں تمام سہولیات اور علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس مرکز کا مقصد صرف زخم کا علاج نہیں بلکہ مریض کو آئندہ ایسی پیچیدگیوں سے بچانے کے قابل بنانا بھی ہے۔ اسی لیے علاج کے ساتھ مریضوں کو رہنمائی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔

    ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق اگر ذیابیطس کے مریض کو پاؤں میں چوٹ لگے اور زخم چند دن میں ٹھیک نہ ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت معائنہ اور فوری علاج سے نہ صرف عضو کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ مریض کا معیار زندگی بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ سکریننگ، روزانہ چہل قدمی، خوراک میں احتیاط، پروسیسڈ فوڈ سے پرہیز اور گھر کے سادہ کھانے کو معمول بنا کر ذیابیطس کے مریض پیچیدگیوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات صحت مند زندگی کی طرف ایک مؤثر قدم ہیں۔