Tag: ہسپتال

  • کراچی: سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کا جانوروں کے علاج، سرجری اور تشخیص کا جدید ہسپتال

    کراچی: سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کا جانوروں کے علاج، سرجری اور تشخیص کا جدید ہسپتال

    کراچی کے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے پیٹ ہسپتال میں پالتو جانوروں کے علاوہ چھوٹے اور بڑے جانوروں کے علاج، تشخیص، سرجری اور ویکسینیشن کی متعدد سہولتیں ایک ہی جگہ فراہم کی جا رہی ہیں۔

    سندھ حکومت کے محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کے تحت کام کرنے والے اس ہسپتال میں ڈی وی ایم ڈاکٹرز جانوروں کا معائنہ کرتے ہیں اور بیماری کی تشخیص کے بعد علاج تجویز کرتے ہیں۔ ہسپتال میں بیرونی مریضوں کے شعبے کے علاوہ پیچیدہ طبی کیسز کے لیے آپریشن تھیٹر اور علاج کے دوران مسلسل نگرانی کے لیے آئی سی یو بھی موجود ہے۔

    تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ اور ایکسرے کی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔ پورٹیبل الٹراساؤنڈ کے ذریعے حمل کی جانچ اور مختلف بیماریوں کی تشخیص کی جاتی ہے، جبکہ ایکسرے سے ہڈیوں اور دیگر طبی مسائل کا معائنہ ممکن ہوتا ہے۔

    ہسپتال میں خون کے مکمل ٹیسٹ، جگر اور گردوں کے افعال کے ٹیسٹ سمیت دیگر طبی جانچ کی سہولت بھی موجود ہے۔ ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد جانور کے مالک کو رپورٹ فراہم کی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر ڈاکٹر علاج کا طریقہ طے کرتے ہیں۔

    علاج کے دوران ضرورت کے مطابق جانوروں کو ڈرپ، ملٹی وٹامن انجیکشن، اینٹی بایوٹکس، ویکسین اور دیگر طبی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ ریبیز اور پاروو وائرس سمیت مختلف بیماریوں کے خلاف ویکسینیشن اور علاج کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

    مرکز میں پالتو جانوروں کی گرومنگ کی سہولت بھی موجود ہے، جہاں جانوروں کو نہلانے، بالوں کی تراش خراش، ناخن کاٹنے اور دیگر ضروری دیکھ بھال کی خدمات دی جاتی ہیں۔ جانوروں کی نسبندی اور دیگر جراحی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔

    یہ مرکز صرف پالتو جانوروں تک محدود نہیں بلکہ بڑے جانوروں کے علاج اور تشخیص کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق ہاتھی، گھوڑے، اونٹ اور شترمرغ جیسے جانوروں کا پوسٹ مارٹم بھی یہاں کیا جا سکتا ہے، جبکہ چھوٹے جانوروں کے پوسٹ مارٹم اور بیماریوں کی تشخیص کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔

    ہسپتال میں روزانہ اوسطاً 10 سے 15 جانور علاج کے لیے لائے جاتے ہیں۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا، بھینس کالونی، ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن سمیت کراچی کے مختلف علاقوں کے علاوہ حیدرآباد سے بھی بعض جانور علاج کے لیے یہاں لائے جا رہے ہیں۔

    بڑے جانوروں کے لیے مختلف ضروری ویکسینز، جبکہ چھوٹے جانوروں کے لیے ای ٹی، پی پی آر اور دیگر ویکسینز بھی دستیاب ہیں۔ ہسپتال میں پانچ سے چھ ڈی وی ایم ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ مجموعی عملہ تقریباً 13 سے 14 افراد پر مشتمل ہے۔

    سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کورنگی کی انیمل کلینک کی ڈائریکٹر ریسرچ بے نظیر کنول کے مطابق، ہسپتال جانوروں کے علاج، تشخیص، ویکسینیشن، سرجری، گرومنگ اور پوسٹ مارٹم سمیت متعدد خدمات ایک ہی جگہ فراہم کر رہا ہے۔ پیٹ کنسلٹنٹ ڈاکٹر میر زیبر کے مطابق جانوروں کے علاج کے لیے ہسپتال میں مختلف شعبے قائم کیے گئے ہیں۔

  • سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی میں بڑی توسیع، جدید سہولیات کا اضافہ

    سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی میں بڑی توسیع، جدید سہولیات کا اضافہ

    کراچی کے ڈاکٹر رتھ پفاؤ سول ہسپتال کی ایمرجنسی اور کیژولٹی شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرنو تعمیر اور توسیع دے دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ محض عمارت کی مرمت یا تزئین تک محدود نہیں، بلکہ ایمرجنسی میں مریضوں کی گنجائش بڑھانے، ان کی فوری درجہ بندی، بروقت علاج، انتہائی نگہداشت اور تشخیصی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مکمل کیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے تحت سول ہسپتال کراچی کے کیژولٹی اور ایمرجنسی یونٹ کی تعمیر نو کا منصوبہ مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے کے لیے ابتدا میں 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم بعد میں اس کی لاگت بڑھا کر 30 کروڑ روپے کردی گئی۔

    منصوبے کے نتیجے میں ایمرجنسی شعبے میں بستروں کی گنجائش 45 سے بڑھا کر 85 کردی گئی ہے، یعنی اب یہاں پہلے کے مقابلے میں 40 اضافی بستروں کی گنجائش موجود ہے۔ یہ اضافہ ایسے ہسپتال میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض ایمرجنسی علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔

    نئے ایمرجنسی شعبے میں 20 بستروں پر مشتمل الگ آئسولیشن وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس وارڈ کا مقصد ایسے مریضوں کو دوسرے مریضوں سے الگ رکھنا ہے جنہیں متعدی یا ایسی بیماریوں کے باعث علیحدہ طبی نگہداشت کی ضرورت ہو۔

    ایمرجنسی کے اندر چار بستروں پر مشتمل انتہائی نگہداشت یونٹ بھی بنایا گیا ہے۔ یہاں ایسے شدید بیمار مریضوں کو فوری اور مسلسل طبی نگرانی فراہم کی جاسکتی ہے جن کی حالت نازک ہو اور جنہیں فوری طبی مداخلت کی ضرورت ہو۔

    نئے شعبے کی ایک اہم سہولت فاسٹ ٹریک زون ہے۔ اس حصے میں نسبتاً مستحکم حالت والے مریضوں کو تیزی سے طبی امداد فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایسے مریضوں کو، جنہیں فوری مگر پیچیدہ علاج یا داخلے کی ضرورت نہیں، انتہائی تشویش ناک حالت میں آنے والے مریضوں سے الگ رکھنا ہے تاکہ ایمرجنسی کا نظام زیادہ منظم انداز میں کام کرسکے۔

    اس کے ساتھ ٹرائی ایج ایریا بھی قائم کیا گیا ہے۔ ٹرائی ایج ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی فوری طبی جانچ اور ترجیح طے کرنے کا نظام ہے۔ اس کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس مریض کو فوری علاج درکار ہے، کون کچھ دیر انتظار کرسکتا ہے اور کس مریض کو کس نوعیت کی طبی سہولت کی ضرورت ہے۔

    ایمرجنسی میں مکمل ریسسی ٹیشن روم بھی بنایا گیا ہے۔ یہ وہ خصوصی جگہ ہوتی ہے جہاں انتہائی نازک حالت میں پہنچنے والے مریضوں کو فوری طور پر زندگی بچانے والی طبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ دل کا دورہ، سانس رکنے، شدید صدمے یا دیگر جان لیوا صورتحال میں یہ سہولت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

    نئے شعبے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے الگ کمرے اور معاون سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں۔ طبی تربیت، اجلاسوں اور عملے کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے سیمینار روم بھی بنایا گیا ہے۔

    اس اپ گریڈیشن کی ایک اہم خصوصیت ایمرجنسی کے اندر ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کی سہولت ہے۔ اس سے ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو بنیادی تشخیصی عمل کے لیے ہسپتال کے دوسرے حصوں میں منتقل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے اور ڈاکٹر زیادہ تیزی سے تشخیص اور علاج کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    نئے ایمرجنسی شعبے کو مختلف حصوں میں منظم کرنے کا مقصد مریض کے ہسپتال پہنچنے سے لے کر ابتدائی جانچ، ٹرائی ایج، تشخیص، فوری علاج اور ضرورت پڑنے پر انتہائی نگہداشت تک کے مراحل کو زیادہ مربوط بنانا ہے۔

    ڈاکٹر رتھ پفاؤ سول ہسپتال کراچی سندھ کے بڑے سرکاری تدریسی اور ثالثی سطح کے ہسپتالوں میں شامل ہے، جہاں ایمرجنسی شعبے پر مسلسل مریضوں کا دباؤ رہتا ہے۔ یہ شعبہ چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایمرجنسی کی کارکردگی کا تعلق صرف بستروں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ مریض کو کتنی جلدی دیکھا جاتا ہے، اس کی حالت کی ترجیح کیسے طے ہوتی ہے، ضروری تشخیص کتنی تیزی سے ہوتی ہے اور علاج کب شروع کیا جاتا ہے۔

    فاسٹ ٹریک زون، ٹرائی ایج ایریا، ریسسی ٹیشن روم، انتہائی نگہداشت یونٹ، آئسولیشن وارڈ اور ایمرجنسی کے اندر ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسی سہولیات اسی عمل کو زیادہ منظم بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

    اس منصوبے کی اہمیت صرف روزمرہ کے مریضوں تک محدود نہیں۔ کراچی میں شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک کے مریضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ڈینگی اور ملیریا جیسی بیماریاں بھی ہسپتالوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ 20 بستروں پر مشتمل الگ آئسولیشن وارڈ ایسے حالات میں مریضوں کو علیحدہ رکھنے اور ایمرجنسی کے مجموعی انتظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

    سول ہسپتال کراچی کی ایمرجنسی کی یہ توسیع دراصل ایک ایسے شعبے کو جدید بنانے کی کوشش ہے جہاں چند منٹ بھی اہم ہوتے ہیں۔ 45 سے 85 بستروں تک توسیع، ٹرائی ایج سے ریسسی ٹیشن تک الگ سہولیات، انتہائی نگہداشت، آئسولیشن اور تشخیصی خدمات کا ایمرجنسی کے اندر موجود ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ توجہ صرف زیادہ مریض رکھنے پر نہیں بلکہ انہیں زیادہ منظم اور بروقت طبی نگہداشت فراہم کرنے پر بھی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل

    جہاں خبر صرف خبر نہیں، اس کے پیچھے چھپی کہانی بھی سامنے آتی ہے۔

  • کراچی کا سرکاری ہسپتال جہاں روبوٹ سرجری کر رہے ہیں

    کراچی کا سرکاری ہسپتال جہاں روبوٹ سرجری کر رہے ہیں

    جدید طبی ٹیکنالوجی اب صرف نجی ہسپتالوں تک محدود نہیں رہی۔ کراچی کے تاریخی ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول ہسپتال میں روبوٹک سرجری پروگرام پاکستان کے جدید ترین سرجیکل مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مریضوں کو عالمی معیار کی جراحی سہولیات سرکاری شعبے میں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پاکستان میں روبوٹک سرجری کا آغاز 2013 میں سول ہسپتال کراچی سے منسلک سرجیکل یونٹس میں مرحلہ وار ہوا۔ بعد ازاں جنوری 2019 میں اسی ہسپتال میں پہلی مرتبہ روبوٹ کی مدد سے خواتین کے رحم کی کامیاب سرجری کی گئی، جسے اس وقت ملک کی پہلی روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری قرار دیا گیا۔

    روبوٹک سرجری میں آپریشن خود روبوٹ نہیں کرتا بلکہ سرجن ایک جدید کنسول پر بیٹھ کر روبوٹک بازوؤں کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ نظام انسانی ہاتھ کی معمولی لرزش کو ختم کر دیتا ہے، جبکہ تھری ڈی ہائی ڈیفینیشن منظر اور کئی گنا بڑا نظارہ سرجن کو جسم کے انتہائی حساس حصوں میں زیادہ درستگی کے ساتھ کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے باعث مریض کو نسبتاً کم خون بہتا ہے، زخم چھوٹے ہوتے ہیں، درد کم محسوس ہوتا ہے اور صحت یابی کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔

    سول ہسپتال کراچی میں روبوٹک سرجری کے ذریعے یورولوجی، جنرل سرجری، گائناکولوجی اور دیگر پیچیدہ کم سے کم چیرا لگا کر کیے جانے والے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ گردے، مثانے، پروسٹیٹ، خواتین کے بعض امراض اور دیگر پیچیدہ کیسز میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، جہاں معمولی غلطی بھی علاج کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

    اس پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کو صرف علاج ہی نہیں بلکہ تدریسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ سول ہسپتال کراچی میں نوجوان سرجنوں کو روبوٹک سرجری کی عملی تربیت دی جاتی ہے تاکہ پاکستان میں مستقبل کے ماہرین تیار کیے جا سکیں۔

    اگرچہ پاکستان کے چند بڑے نجی ہسپتالوں میں بھی روبوٹک سرجری کی سہولت موجود ہے، تاہم سول ہسپتال کراچی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک سرکاری تدریسی ہسپتال ہے جہاں عوام کو جدید روبوٹک سرجری کی سہولت دستیاب ہے۔

    جہاں تک آپریشنز کی تعداد کا تعلق ہے، سول ہسپتال کراچی یا محکمہ صحت سندھ نے 2026 تک روبوٹک سرجریوں کے روزانہ، سالانہ یا مجموعی اعداد و شمار سرکاری طور پر جاری نہیں کیے۔ تاہم شائع شدہ سائنسی جائزوں کے مطابق اس پروگرام کے ابتدائی برسوں میں 500 سے زائد روبوٹک سرجریاں کی جا چکی تھیں، جبکہ بعد کے برسوں کے مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

    طبی دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، تھری ڈی امیجنگ اور روبوٹک ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور کراچی کا سول ہسپتال بھی اس تبدیلی کا حصہ بن چکا ہے۔ یہاں جدید مشینیں نہ صرف پیچیدہ آپریشن زیادہ محفوظ اور مؤثر بنا رہی ہیں بلکہ پاکستان میں جدید جراحی کے مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط کر رہی ہیں۔

  • کراچی: ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخم، خاموش خطرہ اور مفت علاج کی سہولت

    کراچی: ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخم، خاموش خطرہ اور مفت علاج کی سہولت

    کراچی کے رتھ فاؤ سول ہسپتال میں قائم فٹ اینڈ وونڈ سینٹر میں ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے پیچیدہ زخموں کا علاج سرکاری سطح پر مکمل طور پر مفت کیا جا رہا ہے۔ یہ مرکز ایسے مریضوں کے لیے امید بن چکا ہے جو بروقت علاج نہ ملنے کے باعث سنگین پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    فٹ اینڈ وونڈ سینٹر کی انچارج ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے پیچیدہ زخم ایک سنگین مگر کم توجہ پانے والا مسئلہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کے ساتھ پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرحانہ رشید نے بتایا کہ اس مرکز میں زیادہ تر ایسے مریض آتے ہیں جن کے زخم انتہائی خراب حالت اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔ عام طور پر مریض اس وقت رجوع کرتے ہیں جب زخم ٹھیک ہونے کے بجائے بگڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ علاج کا آغاز سب سے پہلے شوگر کی سطح کو قابو میں لانے سے کیا جاتا ہے، جس کے بعد زخم کا باقاعدہ اور مخصوص طریقے سے علاج شروع ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخم معمولی چوٹ سے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر شوگر کنٹرول میں نہ ہو تو یہی زخم آہستہ آہستہ پیچیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض کیسز میں جلد کا رنگ سیاہ پڑنے لگتا ہے، جو خون کی ترسیل متاثر ہونے کی علامت ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر تاخیر پورے پاؤں یا ہاتھ کے ضائع ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ فٹ اینڈ وونڈ سینٹر میں تمام سہولیات اور علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس مرکز کا مقصد صرف زخم کا علاج نہیں بلکہ مریض کو آئندہ ایسی پیچیدگیوں سے بچانے کے قابل بنانا بھی ہے۔ اسی لیے علاج کے ساتھ مریضوں کو رہنمائی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔

    ڈاکٹر فرحانہ رشید کے مطابق اگر ذیابیطس کے مریض کو پاؤں میں چوٹ لگے اور زخم چند دن میں ٹھیک نہ ہو تو اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت معائنہ اور فوری علاج سے نہ صرف عضو کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ مریض کا معیار زندگی بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ سکریننگ، روزانہ چہل قدمی، خوراک میں احتیاط، پروسیسڈ فوڈ سے پرہیز اور گھر کے سادہ کھانے کو معمول بنا کر ذیابیطس کے مریض پیچیدگیوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات صحت مند زندگی کی طرف ایک مؤثر قدم ہیں۔