دو سال بعد پہلی بار غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تقریباً دو سال بعد پہلی مرتبہ غیر ملکی سرمایہ کار خالص خریدار بن کر سامنے آئے ہیں۔

جولائی 2026 کے دوران انہوں نے پاکستانی کمپنیوں کے حصص میں مجموعی طور پر تین کروڑ 44 لاکھ امریکی ڈالرز کی خالص سرمایہ کاری کی، حالانکہ اسی عرصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

منیر خانانی سیکیورٹیز کے ایکویٹی ڈیلرنے نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جولائی 2026 میں غیر ملکی سرمایہ کار 23 ماہ بعد پہلی بار خالص خریدار بنے۔ ان کے مطابق گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران غیر ملکی سرمایہ کار مسلسل پاکستانی حصص فروخت کرتے رہے تھے، تاہم جولائی میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق بینکاری کا شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز رہا، جہاں ایک کروڑ 38 لاکھ امریکی ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی۔ اس کے بعد تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں 67 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے توانائی اور مالیاتی شعبوں پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔

جبران سرفراز کے مطابق جولائی میں کھاد کے شعبے میں بھی 17 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں 12 لاکھ ڈالر کے حصص خریدے گئے۔ اس کے علاوہ مختلف دیگر شعبوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 77 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی گئی، جو تمام شعبوں میں سب سے زیادہ رہی۔

دوسری جانب بعض شعبوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکال لیا۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے 36 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری واپس چلی گئی، جبکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں 27 لاکھ ڈالر کی خالص فروخت کی گئی۔ اسی طرح سیمنٹ اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بھی دو، دو لاکھ ڈالر مالیت کے حصص فروخت کیے گئے۔

این سی سی پی ایل کے مطابق جولائی 2026 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں، جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں، نے مجموعی طور پر 32 کروڑ 23 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے حصص خریدے، جبکہ 28 کروڑ 79 لاکھ ڈالر کے حصص فروخت کیے۔ اس طرح وہ مجموعی طور پر تین کروڑ 44 لاکھ ڈالر کے خالص خریدار رہے۔ یہ موجودہ مالی سال 2026-27 کے پہلے مہینے کی نمایاں پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے پہلے مسلسل 22 ماہ تک غیر ملکی سرمایہ کار ہر ماہ پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں خالص فروخت کنندہ رہے۔ اس عرصے میں ان کی ماہانہ خالص فروخت ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے لے کر 27 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک رہی، جس کے باعث مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہا۔

اگرچہ جولائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں بہتری آئی، تاہم پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مجموعی رجحان مندی کا شکار رہا۔ اے ایچ ایل ریسرچ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس جولائی کے دوران چار ہزار 208 پوائنٹس، یعنی 2.3 فیصد کمی کے بعد ایک لاکھ 76 ہزار 94 پوائنٹس پر بند ہوا۔

تحقیقی ادارے کے مطابق پورے مہینے کے دوران خطے میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے باعث مارکیٹ دباؤ میں رہی اور انڈیکس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

شعبہ وار کارکردگی کے جائزے کے مطابق بینکاری، ریفائنری، مصنوعی مصنوعات اور تمباکو کے شعبوں نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو مثبت سمت میں لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان شعبوں میں بہتر کارکردگی کے باعث مارکیٹ کو کچھ سہارا ملا۔

اس کے برعکس تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، سیمنٹ، کھاد اور ٹیکنالوجی کے شعبوں نے انڈیکس پر منفی اثرات مرتب کیے۔ ان شعبوں میں حصص کی قیمتوں میں کمی کے باعث مجموعی مارکیٹ کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آٹو اسمبلرز، ٹیکسٹائل اور آٹو پارٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کی کارکردگی بھی جولائی کے دوران خاصی محدود رہی اور ان شعبوں میں سرمایہ کاروں کی سرگرمی معمول کے مطابق رہی۔

تجارتی سرگرمیوں کے لحاظ سے جولائی 2026 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ اوسطاً 84 کروڑ 51 لاکھ حصص کا کاروبار ہوا، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہی اور حصص کی خرید و فروخت میں معمولی اضافہ ہوا۔

تاہم کاروباری مالیت کے اعتبار سے کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں روزانہ اوسط کاروباری مالیت 13 کروڑ 49 لاکھ امریکی ڈالر رہی، جو امریکی ڈالر کی بنیاد پر گزشتہ ماہ کے مقابلے میں پانچ فیصد کم تھی۔

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ 23 ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کا دوبارہ خالص خریدار بننا پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ ان کے مطابق اگر ملکی معاشی اشاریے بہتر ہوتے ہیں، سیاسی اور جغرافیائی صورتحال میں استحکام آتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے تو آئندہ مہینوں میں بھی غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔