جگدیش ملانی نے تھر میں پارٹی سیاست کو فروغ دیتے ہوئے مٹھی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا پرچم لہرایا تھا۔ جگدیش ملانی ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں شہید بے نظیر بھٹو ہر ‘راکھی پونم’ (راکھی کے تہوار) پر راکھی باندھا کرتی تھیں۔
جگدیش پر نظر پڑتے ہی مادرِ جمہوریت نصرت بھٹو کے دل میں ممتا کی لہر جاگ اٹھتی تھی۔ جگدیش نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر جام صادق کے جبر کے تحت جیلیں کاٹیں۔ انہوں نے مٹھی میں رواداری کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے عید اور دیوالی کے موقع پر محبتوں کے میلے سجائے۔ وہ ہولی کے تہوار پر بازار کے مرکزی چوک میں رنگوں کا ڈرم بھر کر رکھا کرتے تھے۔ وہ افسران کے مقابلے میں عام آدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دیتے تھے۔

وہ، جو جدید سندھی صحافت کے دلیر نام فقیر محمد لاشاری اور اسماعیل اڈھیجو کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو کی کال پر بحالیِ جمہوریت کی خاطر لانگ مارچ میں ‘جیئے بھٹو’ کے نعرے لگاتے ہوئے نکلے تھے اور راہِ وفا میں 31 جولائی 1993 کو اپنا خون بہا کر ابدیت (امرتا) کا مقام پا گئے۔
جگدیش کمار ملانی 1988 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اقلیتوں کے جداگانہ طرزِ انتخاب کے تحت ایم پی اے (رکن صوبائی اسمبلی) منتخب ہو گئے۔ بعد ازاں، 1990 کے انتخابات میں جگدیش کمار ملانی ایم این اے (رکن قومی اسمبلی) کی نشست پر امیدوار بنے، تاہم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
جگدیش ملانی کے پاس پارٹی سیاست کی بڑی طاقت ہوا کرتی تھی۔ وہ تھر کے ٹیلوں میں سیاسی سرگرمیوں سے زلزلہ برپا کر کے کہا کرتے تھے کہ ‘محنت کشوں اور مسکینوں کے خوابوں کو آزاد کرو۔’
جگدیش سیاسی جدوجہد کے لیے شب بیداریوں کے عادی بہادروں کو اپنے دل کا ہار بنا کر رکھتے تھے۔ ان کی محبت کے شیریں رازوں اور سانس کی ترنم میں سیاسی کارکنوں کے لیے سراپا خلوص ہوتا تھا۔ جگدیش سچے اور مضبوط انسان تو تھے مگر سخت دل نہیں تھے۔ غریب و مارو لوگوں کے لیے ان کا دل اتنا نرم و ملائم تھا جتنا تھر میں سنئی (ایک نرم پودا) کا پھول ہوتا ہے۔
جگدیش کمار ملانی کو کبھی کسی پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ہر شخص سے خلوص اور محبت سے ملنا ان کا نصب العین تھا۔ امر جگدیش ملانی کی عوامی سیاست کا تھر کی سیاسی تاریخ پر ایک گہرا نقش ہے۔ عوامی سیاست کا یہ انوکھا اور منفرد کردار سندھ کی فکری و شعوری تحریک سے جڑا رہتا تھا، چاہے تھر کے دیہاتی ہوں یا پورا سندھ، جگدیش کا تذکرہ دل کی زبان سے کرتے ہیں۔

امر جگدیش کمار ملانی کے بعد ان کے بھائی موتی رام ملانی نے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اقلیتوں کے جداگانہ طرزِ انتخاب کے تحت وہ ایم این اے بنے، لیکن زندگی نے موتی رام سے وفا نہ کی۔ موتی رام ملانی کی ناگہانی وفات کے بعد یہ سنگین ذمہ داری ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کے کندھوں پر آ پڑی۔ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے اپنی سیاسی بصیرت اور تدبر کے ساتھ امر جگدیش کی جلائی ہوئی شمع کو روشن رکھنے کے لیے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔
نہایت کٹھن سفر میں بھی ڈاکٹر مہیش کمار آزمائش کی گھڑیوں سے گزر کر پارٹی اور عوامی سیاست کے ساتھ مخلص رہے۔ وزیراعظم کے امیدوار شوکت عزیز جب تھر کے حلقے سے الیکشن میں کھڑے ہوئے، تب ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار کے طور پر ان کا مقابلہ کیا۔
ڈاکٹر مہیش کمار اقلیت کی مخصوص نشست پر رکن بننے سے لے کر مشترکہ ووٹوں پر الیکشن لڑ کر صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ مختلف اوقات میں پارٹی کی ضلعی صدارت سنبھالنے والے ڈاکٹر مہیش اس وقت میرپورخاص ڈویژن کے ڈویژنل صدر ہیں۔
ملانی خاندان کے اس سیاسی سفر میں امر جگدیش کے بڑے بھائی، استاد رانے مل ملانی نے پس منظر میں رہ کر ایک رہنما کا کردار ادا کیا۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر منوج ملانی دوسری بار میونسپل کمیٹی مٹھی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

جگدیش ملانی کے بیٹے ونود ملانی اور سشیل ملانی بھی وراثت میں ملی سیاست کے اس کٹھن سفر کے مسافر ہیں۔ سیاست کے صحرا میں کوئی چاہے جتنے بھی اختلافات تراش لے، لیکن سماجی زندگی میں سشیل ملانی پیار، اپنائیت، عمدہ اوصاف، شیریں دوستی اور انوکھی روایت والا ایسا نوجوان ہے جس کے ساتھ احساسات، جذبات، تصورات اور تخلیق کے سمندر میں آنسوؤں کی لہریں اور دل پر نقش چاہت کی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔
باہم جھگڑوں، محفلوں، تنقیدوں اور اختلافات کے باوجود سشیل کا مسکرا کر ملنا اور پیار و اپنائیت کے ساتھ پیش آنا اس کی عالی ظرفی کا ثبوت ہے۔
سیاست کی کتنی ہی مصروفیات ہوں، لیکن ‘دل وراکو دوست سين’ (دل کا دلاسہ، سکون دوست کے ساتھ) برقرار رکھنے کی سشیل ملانی پوری کوشش کرتا ہے۔ جگدیش ملانی کی طرح تعلق داروں اور دوستوں کے پاس چلا آتا ہے۔
سشیل ملانی اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی ضلع تھرپارکر کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ اس عہدے پر امر جگدیش کمار ملانی بھی فائز رہ چکے ہیں۔ تاریخ کو دہراتے ہوئے وقت نے انہیں ایک بار پھر موقع دیا ہے، اب عوام کے دلوں میں اپنی جگہ انہیں خود بنانی ہے۔
نوٹ: اس تحریر میں شامل آرا، تجزیے اور تاثرات مصنف کے ذاتی ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

