زاویہ: روشنیوں کا اصل خون پسینہ، کراچی کا پنجابی مسیحی ورثہ اور گمنام معمار

دریائے سندھ کے کنارے پھیلا عروس البلاد، روشنیوں کا بندرگاہی شہر کراچی اپنے جغرافیائی و تزویراتی مقام، بلند و بالا فلک بوس عمارات اور معاشی و مالیاتی مرکز کے طور پر تو دنیا بھر کی نظروں میں رہتا ہے۔

لیکن اس شہرِ بے مہر کے وجود کی تعمیر و تشکیل کا اصل تانا بانا ان گمنام، جفاکش اور محروم طبقات کے خون پسینے سے بنا ہے جنہوں نے تاریخ کے دھندلکے میں خاموشی سے اس شہر کی صفائی، عمومی صحت اور بنیادی تحفظ کے سنگ بنیاد رکھے۔

تقسیم ہند 1947 سے قبل کا کراچی ایک ایسا کثیر الثقافتی گلستان تھا جہاں پارسی، یہودی، ہندو، مسلمان، اینگلو انڈین اور گوانی کیتھولک مسیحی برادریاں شانہ بشانہ آباد تھیں۔ لیکن اس شہر کی عمرانی تاریخ کا سب سے اہم، متحرک اور نظرانداز کیا جانے والا باب وہ ‘پنجابی مسیحی برادری’ ہے، جس نے وسطی پنجاب کے پسماندہ دیہاتوں کی مظلومیت سے نکل کر اس ساحلی شہر کو اپنا مسکن بنایا اور اس کے بلدیاتی، تعلیمی اور طبی ڈھانچے کو سنبھالنے میں تاریخی اور ناگزیر کردار ادا کیا۔

پنجاب کی ‘ماس موومنٹ’ سے بندرگاہی شہر تک کی ہجرت

پنجابی مسیحی برادری کا پس منظر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز، یعنی 1870 سے 1930 کے درمیانی برسوں میں پنجاب کے اضلاع سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور گورداسپور میں جنم لینے والی ایک بڑی سماجی و مذہبی تحریک سے جڑا ہے۔

برطانوی راج اور معاصر جاگیردارانہ ڈھانچے کے زیر اثر، ہندو مت کے کڑے اور ظالمانہ ذات پات نظام نے اس دلت طبقے کو ‘اچھوت’ بنا کر رکھا تھا، جنہیں نہ زمین کی ملکیت کا حق حاصل تھا اور نہ ہی تعلیم کے ایوانوں میں قدم رکھنے کی اجازت۔

اس ساختیاتی اور نسلی ذلت سے نجات اور انسانی وقار کی تلاش میں، جب برطانوی اور امریکی مشنریوں نے پنجاب کی دیہی پٹی میں اسکول اور ہسپتال قائم کیے، تو اس مظلوم طبقے نے اجتماعی سطح پر مسیحیت قبول کرنا شروع کی، جسے تاریخی اصطلاح میں ‘تبدیلی مذہب کی ماس موومنٹ’ کہا جاتا ہے۔

مسیحیت کے دائرے میں آنے اور بنیادی تعلیم کے فروغ کے بعد، اس برادری نے نئی زندگی کی تلاش میں برطانوی حکومت کے زیر انتظام ابھرتے ہوئے صنعتی و تجارتی بندرگاہی شہر کراچی کا رخ کیا۔

پیشوں کی تقسیم اور لیاری کے بلدیاتی کوارٹرز

کراچی کی مٹی میں پاؤں جماتے ہی اس جفاکش برادری نے شہر قائد کی زندگی کو رواں دواں رکھنے کا کٹھن ذمہ اپنے سر لیا۔ مرد حضرات نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے تحت صفائی کے کارکنوں کے طور پر گلیوں، سڑکوں اور زیر زمین نکاسی آب کے نظام کو سنبھالا، تو دوسری طرف اس برادری کی خواتین نے تعلیم اور تربیت پر غیر معمولی توجہ مرکوز کی۔

ان کی بیٹیوں اور بہنوں نے بڑے پیمانے پر نرسنگ اور تدریس کا پیشہ چنا، جس کے نتیجے میں کراچی کے تاریخی مشنری اسکولوں اور بڑے سرکاری ہسپتالوں، سول ہسپتال اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں پنجابی مسیحی خواتین کا کردار صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن گیا۔

جغرافیائی تناظر میں، قیام پاکستان کے وقت اس برادری کا سب سے بڑا مرکز اور گڑھ لیاری کی ‘سلاٹر یارڈ روڈ’، ٹینری روڈ اور کمیلا سے ملحقہ علاقہ تھا۔ سنہ 1916 میں کراچی میونسپل کارپوریشن نے اپنے صفائی عملے کے لیے یہاں باقاعدہ پکے کوارٹرز قائم کیے تھے، جہاں نسل در نسل مقیم رہ کر اس برادری نے اپنے وجود سے اس شہر کو رونق اور صفائی بخشی۔

1971 کا موڑ اور مہاراشٹرین دلت برادری کا داخلہ

سنہ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے سانحے اور اس کے بعد کے برسوں میں کراچی کا آبادیاتی نقشہ تیزی سے بدلا۔ 1971 تک پنجابی مسیحی برادری کی چوتھی نسل پڑھ لکھ کر باقاعدہ متوسط طبقے کا حصہ بن چکی تھی اور وہ صفائی کے روایتی اور سخت کام کو چھوڑ کر دیگر سفید پوش پیشوں، دفتری محرر، بینکار اور اساتذہ کی طرف منتقل ہو رہی تھی۔

صفائی کے شعبے میں پیدا ہونے والے اس معاشی خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف ادوار میں بھارت کے خطوں مہاراشٹر، گجرات اور کاٹھیاواڑ سے آنے والی دلت ہندو برادریوں، والمیکی اور چوہڑا برادری کی بڑی تعداد کراچی منتقل ہوئی۔ یہ لوگ زیادہ تر لیاری کے مضافاتی کوارٹرز اور کچی آبادیوں میں مقیم ہوئے اور صفائی کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کے بلدیاتی اداروں میں مسیحی برادری کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ہندو صفائی کارکن بھی نظر آتے ہیں، جن کی تاریخ اسی معاشی ہجرت سے جڑی ہے۔

تاریخی شخصیات اور جدوجہد کے باب

پنجابی مقامی مسیحی برادری اور ان کے حقوق کی جدوجہد نے پاکستان کو ایسی نابغہ روزگار شخصیات دیں جنہوں نے قانون، مزدور تحریک، تعلیم اور انسانی حقوق میں انمٹ نقوش چھوڑے۔

جسٹس اے آر کارنیلیس

اگرچہ ان کا تعلق براہ راست کراچی کے مزدور طبقے سے نہیں تھا، لیکن پنجاب کے اس عظیم مسیحی نژاد ماہر قانون نے پاکستان کی عدالتی تاریخ کو وقار بخشا۔ وہ ملک کے چوتھے چیف جسٹس بنے اور اقلیتوں، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کے تحفظ کے لیے ایسے فیصلہ کن نظائر قائم کیے جو آج بھی قانون کا فخر ہیں۔ وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے معتمد ساتھیوں میں شامل تھے۔

کرامت علی، مزدور رہنما

کرامت علی بلاشبہ کراچی کی مزدور تاریخ میں صفائی کارکنوں اور اقلیتی مزدوروں کے حقوق کی سب سے توانا آواز بنے۔ اگرچہ وہ ملتان کے مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے اور مارکسی فکر سے وابستہ تھے، لیکن انہوں نے اپنی تمام تر جدوجہد عیسیٰ نگری اور لیاری کے مسیحی اور دلت ملازمین کے معاشی تحفظ کے لیے وقف کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے محنت کش طبقہ انہیں اپنا مسیحا مانتا تھا۔

پروفیسر مائیکل جاوید

کراچی کی مسیحی کچی آبادیوں اور بلدیاتی ملازمین کے حقوق کے عظیم علمبردار۔ انہوں نے عیسیٰ نگری اور لیاری کے کوارٹرز میں رہنے والے اقلیتی ملازمین کو پکی ملازمتیں اور کوارٹرز کے مالکانہ حقوق دلوانے کے لیے طویل قانونی اور سیاسی معرکے لڑے اور سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہے۔

جے چودھری

کراچی کی مزدور تحریک کے گمنام ہیرو، جنہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں کراچی میونسپل کارپوریشن کے صفائی کارکنوں کو باقاعدہ مزدور تنظیموں کی شکل میں منظم کر کے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی صف اول کی ٹیم اور سسٹر برنارڈائن

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی قیادت میں ‘ماریہ ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر’ کے تحت لیاری اور ماتیلا کے گندے نالوں کے پاس جذام کے مریضوں کی خدمت کرنے والی نیم طبی عملے اور نرسوں کی ٹیم میں بڑی تعداد پنجابی مسیحی خواتین اور نوجوانوں کی تھی، جنہوں نے اپنی جانیں جوکھم میں ڈال کر پاکستان سے جذام کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

ثقافتی رنگ اور ‘دیسی مسیحیت’ کا روپ

پنجاب سے جب یہ برادری ہجرت کر کے ساحل سمندر پر آئی، تو اپنے ساتھ پنجاب کی مٹی، زبان، لوک رنگ اور روایات بھی لے کر آئی۔ ان کی مذہبی تقریبات مغربی مسیحیت کی بجائے خالصتاً دیسی اور مقامی رنگ میں رنگی ہوتی ہیں۔

کرسمس اور ‘تارے دا پھیرا’

دسمبر کے آغاز سے ہی کراچی کی مسیحی بستیوں میں بانس اور چمکدار کاغذ سے ایک بہت بڑا ستارہ بنا کر گلیوں میں گھمایا جاتا ہے، جسے پنجابی میں ‘تارے دا پھیرا’ کہتے ہیں۔ نوجوان رات بھر ڈھولک کی تھاپ پر بائبل کی کتاب ‘زبور’ کے دیسی گیت گاتے ہیں۔

ایسٹر اور روزوں کا مہینہ

ایسٹر سے قبل چالیس روزوں کے دوران بستیوں میں سوگ اور پرہیز کا سماں ہوتا ہے۔ ‘گڈ فرائیڈے’ پر سیاہ لباس میں مرثیے نما گیت گائے جاتے ہیں، جبکہ ایسٹر کی صبح شمعیں روشن کر کے مسیح کی قیامت کا جشن منایا جاتا ہے۔

میلاد مسیح

مقامی مسلم آبادی کی روایات کی طرح یہ برادری بھی ‘میلاد مسیح’ کے پرشکوہ جلوس نکالتی ہے، جن میں اونٹ گاڑیاں، لاؤڈ اسپیکر اور بائبل کے مناظر سجائے جاتے ہیں۔

آبادیاتی صورتحال اور موجودہ چیلنجز

حالیہ مردم شماری کے مطابق کراچی میں مسیحی برادری کل آبادی کا تقریباً 2.14 سے 2.2 فیصد ہے، جو شہر کی سب سے بڑی اقلیت ہے۔ ان میں سے اکثریت افراد کا لسانی اور خاندانی تعلق پنجاب سے ہی ہے۔ لیاری کے پرانے کوارٹرز سے نکل کر یہ برادری اب گلشن اقبال کی ‘عیسیٰ نگری’، جو 1962 میں قائم ہوئی، اختر کالونی، محمود آباد اور کورنگی کی مسیح کالونی میں آباد ہے۔

اگرچہ موجودہ نسل میں اعلیٰ تعلیم کا تناسب بڑھا ہے اور نوجوان معلوماتی ٹیکنالوجی، بینکاری اور کاروباری شعبے میں نام بنا رہے ہیں، لیکن یہ برادری اب بھی شدید سماجی اور سیاسی محرومیوں کا شکار ہے۔ توہین مذہب کے مبینہ الزامات کے دائم خوف اور تحفظ کے خدشات کی وجہ سے ان کی بستیوں میں ایک خاموش سہم پایا جاتا ہے۔

مزید برآں، لیاری گینگ وار کے دور میں سلاٹر ہاؤس کے تاریخی کوارٹرز سے مسیحی خاندانوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل ہونا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس برادری کا پڑھا لکھا طبقہ اب تیزی سے کینیڈا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی طرف ہجرت کر رہا ہے۔

کراچی کی تاریخ اس جفاکش پنجابی مسیحی برادری، ان کے معماروں اور رہنماؤں کے ذکر کے بغیر ادھوری اور بے رنگ ہے۔ انہوں نے اچھوت پن کا تاریخی داغ مٹانے کے لیے ایک نیا مذہبی راستہ چنا اور کراچی کی گلیوں کو اپنے خون پسینے سے دھونے سے لے کر ہسپتالوں میں بیمار انسانیت کی خدمت تک اس شہر کو جو تنوع اور وقار بخشا، وہ شہر قائد کا انمول اثاثہ ہے۔

تاریخ صرف فاتحین اور بلند و بالا محل بنانے والوں کی نہیں ہوتی، بلکہ ان خاموش اور پسے ہوئے طبقوں کی بھی ہوتی ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے چھالوں سے تہذیبوں کی صفائی کی اور کراچی کو سچ مچ ‘روشنیوں کا شہر’ بنانے کے لیے اپنی نسلیں قربان کر دیں۔

اسی بارے میں: