مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

اسٹاک

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے کےاختتام پر مندی کا رجحان غالب رہا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 5 ہزار 520 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے بعد 1 لاکھ 65 ہزار 596 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 


اسٹاک بروکرز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے نے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے۔
سید فراز اکیوٹیز کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پورے ہفتے سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے، جس کے باعث خریداری کا رجحان کمزور پڑ گیا۔ عالمی حالات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری سے گریز پر مجبور کیا۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کی کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار درآمدی ایندھن پر ہے۔


مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں یومیہ اوسط کاروباری حجم 954 ملین شیئرز سے کم ہو کر 826 ملین شیئرز تک آ گیا، جو کہ تقریباً 13 فیصد ہفتہ وار کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور زیادہ تر سرمایہ کار بڑے رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں۔


اگرچہ اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، تاہم معاشی محاذ پر کچھ مثبت پیش رفت بھی سامنے آئیں۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر موصول ہوئے، جسے معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رقم سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور حکومت کو مالی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسی دوران قطر سے ایل این جی کا ایک بڑا کارگو پورٹ قاسم پہنچا، جس سے توانائی کے شعبے میں وقتی ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ توانائی بحران اور گیس کی قلت کے تناظر میں اس پیش رفت کو اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ صنعتوں اور بجلی کے شعبے کو ایندھن کی مسلسل فراہمی معیشت کے لیے ضروری تصور کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پانڈا بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور یہ بانڈ پانچ گنا زائد سبسکرائب ہوا۔ معاشی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار پاکستانی معیشت میں بہتری کی امید دیکھ رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 8 مئی تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 17 ملین ڈالر اضافے کے بعد 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اگرچہ یہ اضافہ محدود ہے، لیکن ماہرین اسے مثبت علامت قرار دے رہے ہیں کیونکہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر میں شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جلد بازی کے بجائے محتاط انداز میں سرمایہ کاری کریں اور مارکیٹ میں آنے والی گراوٹ کو خریداری کے مواقع کے طور پر استعمال کریں۔ ان کے مطابق مستقبل میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں بہتری کے امکانات موجود ہیں، تاہم عالمی اور مقامی معاشی صورتحال پر گہری نظر رکھنا ضروری ہوگا۔