Tag: مشرقِ وسطیٰ

  • مشرقِ وسطیٰ میں چوہے بلی کا کھیل، چینی جادو اور پاکستان کی تزویراتی خاموشی

    مشرقِ وسطیٰ میں چوہے بلی کا کھیل، چینی جادو اور پاکستان کی تزویراتی خاموشی

    اگست 2026 کا سورج مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں پر ایک نئی جغرافیائی سیاست کے سائے افگن کر رہا ہے۔ دنیا کی نظریں ایئر فورس ون سے آنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ٹکی ہیں، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ‘تاریخ کے سب سے بڑے فوجی حملے’ کو آخری لمحات میں مؤخر کر کے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔

    واشنگٹن کے پریس کور سے لے کر تہران کے چائے خانوں تک، اس وقت ایک ہی سوال گونج رہا ہے: کیا یہ واقعی امن کی کوئی سنجیدہ کوشش ہے یا پھر مڈ ٹرم الیکشن کی دہلیز پر کھڑے ایک شاطر سیاست دان کا بچھایا ہوا نیا جال؟

    اگر تہران کے تھنک ٹینک اور ایرانی قیادت کے ردعمل پر باریک بینی سے غور کیا جائے تو ان کا یہ موقف بالکل زمینی حقائق کے عین مطابق نظر آتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان محض ایک ‘نفسیاتی جنگ’ کا حصہ ہے۔ ایران پچھلی کئی دہائیوں سے سخت ترین پابندیوں کے لوہے کے چنے چبا چکا ہے، اس لیے وہ امریکی بیانات کے تضادات کو خوب سمجھتا ہے۔

    تہران بخوبی جانتا ہے کہ یہ حملہ کسی ‘رحم دلی’ یا خلیجی رہنماؤں کی منت سماجت پر نہیں روکا گیا، بلکہ یہ ایران کے اس جارحانہ دفاعی ردعمل کا خوف ہے، جس نے امریکی جنگی جنون کو بریک لگانے پر مجبور کیا۔ ایران نے واضح کر دیا تھا کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو چھوا گیا تو خطے کا کوئی بھی ملک اور کوئی بھی آئل فیلڈ محفوظ نہیں رہے گی۔

    لہٰذا تہران اس وقت تک کسی امریکی دباؤ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی میز پر جھکے گا، بلکہ وہ اوباما دور کے جوہری معاہدے کی طرز پر ایک محدود حد تک لچک کا پتا کھیلے گا، یعنی یورینیم کی افزودگی کو بم بنانے کی آخری حد سے پیچھے رکھ کر بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دے گا کہ وہ بلیک میل نہیں ہوگا، لیکن سفارت کاری کے لیے اس کے دروازے بند بھی نہیں ہیں۔

    دوسری طرف، اس پورے کھیل میں سب سے دلچسپ اور حقیقت پسندانہ پہلو خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور قطر کا بدلا ہوا تزویراتی جھکاؤ ہے۔ تہران بھلے ہی اسے واشنگٹن کا نفسیاتی کھیل کہے، لیکن خلیجی ممالک کے لیے یہ ایک حقیقی اور ہولناک وجودی مسئلہ بن چکا تھا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ‘ویژن 2030’ اور قطر و متحدہ عرب امارات کا معاشی ماڈل لامتناہی جنگوں کے ایندھن میں جلنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ ان ممالک کو معلوم ہے کہ اگر خطے میں ایک بھی چنگاری بھڑکی تو ان کے کھربوں ڈالر کے میگا پراجیکٹس اور عالمی سرمایہ کاری راتوں رات راکھ کا ڈھیر بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود یا زمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔

    وہ آرامکو پر ہونے والے حملوں کو بھولے نہیں ہیں، جب امریکہ نے ان کے دفاع کے لیے کوئی بڑی مہم جوئی نہیں کی تھی۔ اب وہ جان چکے ہیں کہ روایتی سیکیورٹی کے لیے صرف امریکہ پر تکیہ کرنا نادانی ہے۔

    یہیں سے اس پورے ڈرامے کا اصل ‘کنگ میکر’ منظر عام پر آتا ہے، اور وہ ہے چین

    بیجنگ اس پورے بحران میں کسی امریکی شور شرابے یا فوجی دھمکیوں کے بغیر، پس پردہ رہ کر اپنی خاموش اور مؤثر سفارت کاری کا جادو چلا رہا ہے۔ چین اس خطے کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے اور مارچ 2023 میں اس کی ثالثی میں ہونے والا سعودی، ایران امن معاہدہ کوئی عارضی بندوبست نہیں تھا۔ چین پس پردہ رہ کر ایران اور خلیجی ممالک دونوں کو مسلسل یہ باور کرا رہا ہے کہ امریکہ ایک بیرونی طاقت ہے، جو اپنے اندرونی سیاسی مفادات کے تحت خطے کو آگ میں دھکیل سکتا ہے، اس لیے علاقائی مسائل کا حل علاقائی سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔

    چین کا یہ بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی بالادستی کے خاتمے کا بگل بجا رہا ہے۔ امریکی صدر مڈ ٹرم الیکشن تک پٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور اپنے گھریلو ووٹروں کو مصروف رکھنے کے لیے چوہے بلی کا یہ کھیل جاری رکھیں گے، جبکہ چین خاموشی سے خطے کو اپنے معاشی دھارے میں پروتا چلا جائے گا۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بدلتے ہوئے کثیر القطبی نظام اور عالمی مہروں کی اس شطرنج میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    سچی بات تو یہ ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں کے اس چوہے بلی کے کھیل اور چین کی پس پردہ سفارت کاری کے نتیجے میں اگر خطے میں بڑی جنگ ٹلتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اور سانس لینے کا سنہری موقع ہے۔ پاکستان تاریخی طور پر ہمیشہ اس مشکل میں رہا ہے کہ اسے اپنے اسلامی پڑوسی ملک ایران اور اپنے دیرینہ معاشی محسن خلیجی ممالک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تھا، لیکن چین کے اس سفارتی چھتر تلے اب پاکستان کو ان دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کا نسبتاً محفوظ راستہ مل گیا ہے۔

    تاہم پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اس سفارتی لچک کا فائدہ اٹھا کر کسی بڑے بین الاقوامی منصوبے، جیسے کہ پاک، ایران گیس پائپ لائن، پر فوری قدم بڑھائے۔ پاکستان اس وقت اپنے بدترین داخلی اور معاشی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔

    ایک طرف آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، دوست ممالک کے قرضوں کی تجدید پر چلنے والی معیشت اور ملکی برآمدات کو سہارا دینے کی اندرونی کوششیں ہیں، تو دوسری طرف سوات کے تھانے پر حالیہ خودکش حملے جیسے سنگین امن و امان کے چیلنجز اور ملک بھر میں مون سون کی تباہ کاریاں ہیں، جن کے باعث این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 126 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

    ان حالات میں امریکی پابندیوں کے خطرے کو دعوت دینا ملکی بقا کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔

    لہٰذا پاکستان کی موجودہ قیادت نے جو ‘صبر بھری تزویراتی’ پالیسی اختیار کر رکھی ہے، وہی اس وقت کا سب سے صائب اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔ پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے اور خاموشی سے امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔

    ان انتخابات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ واشنگٹن کا اگلا رخ کیا ہوگا اور کیا امریکی کانگریس خطے میں اپنی گرفت کھونے کے بعد پاکستان جیسے ممالک کو کوئی سفارتی رعایت دینے پر مجبور ہوتی ہے یا نہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کا یہ خطہ اب واشنگٹن کے ڈکٹیشن کے دور سے نکل چکا ہے۔ جب تک امریکی صدر اپنے الیکشن کے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور ایران دباؤ کے خلاف ڈٹا ہوا ہے، چین کا پس پردہ سفارتی جادو خطے کو ایک نئے توازن کی طرف لے جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے عقلمندی کا واحد تقاضا یہی ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں کسی کا مہرہ بننے کے بجائے اپنے گھر کی صفائی کرے، معاشی پٹری کو درست کرے اور صحیح وقت کا انتظار کرے۔

    سیاست اور سفارت کی اس بساط پر بعض اوقات ‘کچھ نہ کرنا’ ہی سب سے بڑی اور بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

    مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے کےاختتام پر مندی کا رجحان غالب رہا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 5 ہزار 520 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے بعد 1 لاکھ 65 ہزار 596 پوائنٹس پر بند ہوا۔ 


    اسٹاک بروکرز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے نے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے۔
    سید فراز اکیوٹیز کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پورے ہفتے سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے، جس کے باعث خریداری کا رجحان کمزور پڑ گیا۔ عالمی حالات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری سے گریز پر مجبور کیا۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کی کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار درآمدی ایندھن پر ہے۔


    مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں یومیہ اوسط کاروباری حجم 954 ملین شیئرز سے کم ہو کر 826 ملین شیئرز تک آ گیا، جو کہ تقریباً 13 فیصد ہفتہ وار کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور زیادہ تر سرمایہ کار بڑے رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں۔


    اگرچہ اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، تاہم معاشی محاذ پر کچھ مثبت پیش رفت بھی سامنے آئیں۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر موصول ہوئے، جسے معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رقم سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا اور حکومت کو مالی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    اسی دوران قطر سے ایل این جی کا ایک بڑا کارگو پورٹ قاسم پہنچا، جس سے توانائی کے شعبے میں وقتی ریلیف ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ توانائی بحران اور گیس کی قلت کے تناظر میں اس پیش رفت کو اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ صنعتوں اور بجلی کے شعبے کو ایندھن کی مسلسل فراہمی معیشت کے لیے ضروری تصور کی جاتی ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پانڈا بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور یہ بانڈ پانچ گنا زائد سبسکرائب ہوا۔ معاشی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار پاکستانی معیشت میں بہتری کی امید دیکھ رہے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 8 مئی تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 17 ملین ڈالر اضافے کے بعد 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اگرچہ یہ اضافہ محدود ہے، لیکن ماہرین اسے مثبت علامت قرار دے رہے ہیں کیونکہ گزشتہ برسوں میں پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر میں شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

    ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جلد بازی کے بجائے محتاط انداز میں سرمایہ کاری کریں اور مارکیٹ میں آنے والی گراوٹ کو خریداری کے مواقع کے طور پر استعمال کریں۔ ان کے مطابق مستقبل میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں بہتری کے امکانات موجود ہیں، تاہم عالمی اور مقامی معاشی صورتحال پر گہری نظر رکھنا ضروری ہوگا۔