تاریخ کے جھروکوں سے جب کراچی کے ساحلِ سمندر کی ریت اور شہرِ قائد کے پرانے گلی کوچوں کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اس شہر کی تعمیر، اس کی تہذیبی تشکیل اور اس کی سیاسی و سماجی تاریخ میں کچھ ایسے نازک مگر فولادی عزم رکھنے والے ہاتھ بھی کارفرما رہے ہیں، جنہوں نے نہ صرف اس خطے کی تقدیر بدلی بلکہ برصغیر اور پاکستان کی پوری سیاست کا رخ موڑ دیا۔
جب ہم سندھ، خصوصاً کراچی کے ایوانِ اقتدار، فلاحی اداروں اور تحریکِ آزادی کے معرکوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو دو ایسی عظیم خواتین کے نام جگمگاتے دکھائی دیتے ہیں، جن کا تعلق ایران کی نجیب النسل سرزمین سے تھا، لیکن جنہوں نے اپنی محبت، وفا، قربانی اور دانش سے کراچی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ یہ دو خواتین، جن کے نام نصرت سے شروع ہوتے ہیں، ’لیڈی نصرت ہارون‘ اور ’بیگم نصرت بھٹو‘ ہیں۔ ان کی زندگیوں کا سفر، ان کی سیاسی گرج چمک، سماجی فلاح کے کارنامے، ذاتی زندگی کے نشیب و فراز اور بعد ازاں دونوں خاندانوں کی سیاست کا یہ دلچسپ سفر کسی سحر انگیز ناول سے کم نہیں۔
کھارادر کی ایرانی گلی سے سی فیلڈ مینشن تک
کراچی کے قدیم ترین اور تاریخی علاقے کھارادر، جو بندرگاہ کے بالکل قریب واقع ہے، کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ایران سے براہِ راست یا خلیجی راستوں اور بمبئی کے تجارتی نیٹ ورک کے توسط سے آنے والے تجارت پیشہ خاندان سب سے پہلے یہیں آ کر آباد ہوئے۔ کھارادر کی ’ایرانی گلی‘ (Iranian Lane) اور اس کے اطراف میں درآمد کنندگان، صرافوں اور معزز ایرانی تاجروں کی بستیاں آباد تھیں۔ لیڈی نصرت ہارون کے والد کا تعلق بھی اسی ایرانی تاجر گھرانے سے تھا، جہاں انہوں نے کراچی کے اس پرانے اور سحر انگیز ماحول میں آنکھ کھولی۔

اسی طرح ایران کے تاریخی شہر اصفہان کے ایک نامور اور خوشحال تجارتی گھرانے، اصفہانی خاندان، میں آنکھ کھولنے والی نصرت اصفہانی (بیگم نصرت بھٹو) کا خاندان بھی اسی تہذیبی پس منظر سے جڑا تھا۔ جب نصرت اصفہانی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھیں تو ان کے والد نے انہیں بہتر تعلیمی ماحول اور رشتہ داروں کی صحبت میں رکھنے کے لیے بمبئی سے اپنی ایک قریبی عزیزہ کے ہمراہ کراچی روانہ کیا۔
اس دور میں کراچی کی اشرافیہ اور ایرانی نژاد خاندانوں میں ہارون خاندان کا اثر و رسوخ اپنی تمام تر آب و تاب کے ساتھ موجود تھا۔ نتیجتاً، نصرت اصفہانی کی کراچی آمد پر ان کی قیام گاہ اور شاندار آماج گاہ کلفٹن کے ساحل پر واقع سر عبداللہ ہارون اور لیڈی نصرت ہارون کا وہ تاریخی بنگلہ بنا، جو ’سی فیلڈ مینشن‘ (Sea Field Mansion) کے نام سے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
لیڈی نصرت ہارون: تحریکِ پاکستان کی آہنی خاتون
لیڈی نصرت ہارون (نصرت خانم/لیڈی ہارون) کی شادی کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے کچھی میمن برادری کے ممتاز تاجر، صنعت کار اور معروف رہنما حاجی سر عبداللہ ہارون سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد اگرچہ ان کی زندگی شاہانہ آسائشوں سے گھری ہوئی تھی، لیکن ان کا دل برصغیر کے مظلوم مسلمانوں، بالخصوص پس ماندہ خواتین کے لیے دھڑکتا تھا۔
سیاسی بیداری اور قائدِ اعظم کی میزبان
جب 1938ء میں کراچی میں تاریخی سندھ مسلم لیگ کانفرنس منعقد ہوئی اور قائدِ اعظم محمد علی جناح سمیت تمام اکابرین کراچی تشریف لائے تو سی فیلڈ مینشن ہی وہ مرکزی مقام تھا، جہاں تمام سیاسی حکمتِ عملی تیار کی گئی۔ لیڈی نصرت ہارون نے مسلم لیگ کی خواتین کی ذیلی کمیٹی کی سرپرستی کی اور سندھ بھر میں خواتین کو بیدار کرنے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
فلاحی خدمات اور یتیم خانے
سر عبداللہ ہارون کے ساتھ مل کر انہوں نے لیاری اور کراچی کے غریب علاقوں میں فلاحی اداروں، جامعہ اسلامیہ یتیم خانے اور کچھی میمن مدرسۂ بنات کی بنیاد رکھی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ جب تک معاشرے کی خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی، قوم ترقی نہیں کر سکتی۔

بیگم نصرت بھٹو: مادرِ جمہوریت اور شجاعت کی علامت
1951ء میں سر شاہنواز بھٹو کے فرزند ذوالفقار علی بھٹو سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد نصرت بھٹو نے لاڑکانہ اور کراچی کی روایتی جاگیردارانہ و سیاسی فضا میں قدم رکھا۔ انہوں نے بھٹو صاحب کے ساتھ مل کر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی بنیاد رکھی اور اندرونِ سندھ اور کراچی کی خواتین میں سیاسی شعور بیدار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
آمریت کے خلاف آہنی دیوار (1977ء)
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے دردناک باب وہ ہے، جب 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کرکے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا اور بھٹو صاحب کو گرفتار کر لیا۔ اس تاریک دور میں بیگم نصرت بھٹو نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے مطلق العنان آمریت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ انہوں نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں تاریخی احتجاج کی قیادت کی، جہاں پولیس کے وحشیانہ لاٹھی چارج سے ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور خون بہا، مگر انہوں نے جمہوریت کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔
تحریکِ بحالیِ جمہوریت (MRD)
بھٹو صاحب کی المناک پھانسی کے بعد انہوں نے جبر اور جلاوطنی کے سائے میں تحریکِ بحالیِ جمہوریت (MRD) کی بنیاد رکھی اور فوجی آمریت کے خلاف تمام جمہوری قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
سی فیلڈ مینشن، جہاں محبت، دوستی اور رشتوں کے پھول کھلے
کراچی کا یہ تاریخی بنگلہ، یعنی ’سی فیلڈ مینشن‘، صرف تحریکِ پاکستان، قراردادِ لاہور کے فکری پس منظر اور مسلم لیگ کے فیصلوں کا مرکز ہی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی چھت بھی تھی، جہاں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق پر ایک نیا باب رقم ہوا۔

جب نصرت اصفہانی کراچی میں مقیم تھیں تو اسی سی فیلڈ مینشن میں ان کا واسطہ ایک نوجوان، دلیر اور ذہین بیرسٹر سے پڑا، جو اکثر ہارون خاندان کے مہمان بن کر آتے تھے۔ وہ تھے ذوالفقار علی بھٹو۔ ہارون خاندان اور بھٹو خاندان کے درمیان دیرینہ مراسم کی وجہ سے یہیں ان دونوں کی شناسائی محبت اور پھر رشتے میں بدلی۔
تاریخ گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت اصفہانی کا رشتہ اور شادی طے کرنے میں سر عبداللہ ہارون کے چشم و چراغ محمود ہارون اور ان کے قریبی دوست الٰہی بخش سومرو، جو بعد میں قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے، نے بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی شادی کی تقریبات کے اہم ترین مراحل اسی تاریخی سی فیلڈ مینشن میں انجام پائے۔
دوستی سے تلخیوں اور جلاوطنی کا سفر
سیاست کی راہ گزر بھی کتنی بے رحم ہوتی ہے! ایک وقت تھا جب ہارون خاندان اور بھٹو خاندان ایک ہی چھت کے نیچے محبت اور خلوص کے رشتے میں بندھے ہوئے تھے، لیکن جیسے جیسے اقتدار اور نظریات کے راستے بدلے، یہ پرانی دوستیاں سیاسی رقابتوں میں بدل گئیں۔
ایوب خان کا دور اور یوسف ہارون کی جلاوطنی
ایوب خان کے دور میں جہاں ذوالفقار علی بھٹو نے وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دے کر ایوب آمریت کے خلاف بغاوت کی، وہیں ہارون خاندان، خصوصاً یوسف ہارون، ایوب خان کے ساتھ کھڑے رہے اور ایوب حکومت کے آخری ایام میں مغربی پاکستان کے گورنر کے منصب پر فائز ہوئے۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ بھٹو صاحب کے عروج اور اقتدار میں آنے کے امکانات کے پیشِ نظر یوسف ہارون کو بھٹو دور کے آغاز سے پہلے ہی پاکستان چھوڑ کر امریکہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ وہ طویل عرصے تک امریکہ میں مقیم رہے اور اس وقت تک واپس نہیں لوٹے، جب تک ضیاء الحق کے دور میں بھٹو کی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔
ضیاء الحق کا دور اور محمود ہارون کا کردار
5 جولائی 1977ء کو جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا اور بھٹو صاحب کو گرفتار کیا تو ہارون خاندان کو ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں میں کلیدی جگہ ملی۔ سر عبداللہ ہارون کے دوسرے فرزند محمود ہارون ضیاء الحق کی کابینہ میں وفاقی وزیرِ داخلہ مقرر ہوئے۔ یہ تاریخ کا عجیب تضاد تھا کہ جس نصرت بھٹو کی شادی سی فیلڈ مینشن میں طے کروانے میں ہارون خاندان کے محمود ہارون کا ہاتھ تھا، 1980ء کی دہائی میں وہی نصرت بھٹو آمریت کے خلاف سڑکوں پر تھیں اور محمود ہارون حکومت کے اندرونی انتظامی امور سنبھال رہے تھے۔
صلح، فکری پختگی اور باہمی احترام کا نیا دور

1988ء میں جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد جب ملکی سیاست کا رخ بدلا اور محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں تو دونوں خاندانوں نے پرانی تلخیاں ختم کرنے اور سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
محمود ہارون بطور گورنر سندھ (1990ء تا 1994ء)
1990ء کی دہائی میں محمود ہارون سندھ کے گورنر بنے۔ اس دور میں انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ انتہائی احترام اور شائستگی کا رشتہ بحال کیا۔
رواداری اور خاندانی رسوم کا پاس
دونوں خاندانوں نے پرانی سیاسی تلخیاں بھلا کر ایک دوسرے کی تاریخی و قومی خدمات، یعنی تحریکِ پاکستان میں ہارون خاندان اور آئین و جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان کی جدوجہد، کا باہمی اعتراف کیا۔ جب بھی دونوں خاندانوں میں خوشی یا غم کا موقع آیا تو پرانے خاندانی مراسم اور احترام کا ہمیشہ پاس رکھا گیا۔
آج کے دور میں اگرچہ دونوں خاندانوں کے بنیادی میدان مختلف ہو چکے ہیں۔ بھٹو خاندان ملکی سیاست کا بڑا محور ہے، جبکہ ہارون خاندان کی موجودہ نسل نے خود کو بنیادی طور پر صحافت (Herald Publications/Dawn Media Group)، بین الاقوامی تجارت اور سماجی فلاح تک محدود کر رکھا ہے۔ تاہم، دونوں کے مابین تعلقات میں اب ماضی جیسی رقابت یا تلخی باقی نہیں رہی۔
کراچی کی تاریخ کے یہ دونوں عظیم ستون اب ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، اور یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ اگر ایک جانب ہارون خاندان نے کراچی کو تعلیمی، تجارتی اور صحافتی بنیادیں فراہم کیں تو دوسری جانب بھٹو خاندان نے سندھ اور پاکستان کو عوامی سیاست، آئینی حقوق اور انقلابی سوچ دی۔

خلاصۂ کلام یہ کہ ایران کے گلستانوں سے چلنے والی یہ دو ہوائیں، جن میں سے ایک نے کراچی کے ساحل پر مسلم لیگ کے پرچم تلے آزادی کا چراغ جلایا، یعنی لیڈی نصرت ہارون، اور دوسری نے ضیاء کے تاریک دور میں قذافی اسٹیڈیم کی نعرہ زن سڑکوں پر جمہوریت کی لاٹھی تھامی، یعنی بیگم نصرت بھٹو، دراصل کراچی کی اس مٹی کی خوشبو ہیں، جو ہر آنے والے کو اپنا لیتی ہے۔
یہ دونوں خواتین اور ان سے جڑے دونوں خاندان اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ خاندانی پس منظر، سیاسی اتار چڑھاؤ، محبت کے بندھن، اقتدار کی تلخ رقابتیں اور بالآخر صلح و شائستگی کا سفر اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ سیاست میں دشمنیاں ابدی نہیں ہوتیں۔ آج جب ہم کراچی کی پرانی تاریخ کا ورق پلٹتے ہیں تو لیڈی نصرت ہارون اور بیگم نصرت بھٹو کے نام اس شہر کے ماتھے پر سجے ہوئے دو ایسے جھومر نظر آتے ہیں، جن کی روشنی سے تاریخ کے تمام زاویے منور ہیں۔

