تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھیے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اقوام کی تقدیر وہ نابغۂ روزگار شخصیات بدلتی ہیں جو حالات کے تھپیڑوں، تنگ دستی اور سنگلاخ مشکلات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ک بجائے اپنی غیر متزلزل محنت، عزم صمیم اور اعلیٰ اخلاقی و فکری بصیرت سے عظمت کی معراج کو چھوتی ہیں۔
برصغیر پاک و ہند کی آزادی، مسلم قوم کی معاشی بیداری اور تحریک پاکستان کے معماروں میں قدیم کراچی کے حصے کا تذکرہ جب بھی کیا جائے گا تو ایک ایسا نام ہمیشہ انتہائی احترام سے لیا جائے گا جس نے کچھ (بھوج) کے ریگستانوں اور سمندر کی لہروں سے اٹھ کر کراچی کی معیشت، سیاست اور فلاحی دنیا پر انمٹ نقوش چھوڑے۔
یہ شخصیت سر حاجی سر عبداللہ ہارون کی تھی، جن کی پوری زندگی ایک یتیم بچے سے صف اول کے معمار اور ’شوگر کنگ‘ بننے کی داستان ہے۔
کچھ کے ساحل سے لیاری (چاکیواڑہ) تک: عسرت، یتیمی اور ملاحوں کی کشتی
سر عبداللہ ہارون کی زندگی کا آغاز انتہائی دردناک اور کٹھن حالات میں ہوا۔ آپ 1872 میں کچھ (بھوج) کے ایک غریب کچھی میمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کی عمر ابھی محض چار برس تھی کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور وہ ایک کم سن یتیم بچے کی حیثیت سے اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔ گھر میں فاقہ کشی کی نوبت تھی اور دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے تھے۔
ایسے کٹھن اور تاریک حالات میں ان کی والدہ حنیفہ بائی نے اپنے شیر خوار بچے کو سنبھالنے اور بہتر مستقبل کی تلاش میں کچھ کے ساحلی ملاحوں کا سہارا لیا۔ ان ملاحوں نے انسانی ہمدردی، اخوت اور کچھی برادری کی روایت کے تحت حنیفہ بائی اور ان کے یتیم بچے کو بلا کرایہ اپنی بادبانی کشتی کے ذریعے کچھ کے ساحل سے روانہ کیا اور بحری سفر طے کرتے ہوئے کراچی کے ساحل پر اتارا، جہاں سے انہیں محفوظ مقام چاکیواڑہ، لیاری میں ان کے ماموں کے پاس پہنچایا گیا۔
یہیں سے ایک یتیم بچے کی طویل، کٹھن اور صبر آزما جدوجہد کا آغاز ہوا۔ روزگار کی تلاش میں چھوٹے عبداللہ نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے کبھی سائیکل کے پنکچر لگانے کا کام کیا تو کبھی جونا مارکیٹ، پھول چوک اور لنڈا بازار کی چھوٹی موٹی دکانوں پر مزدوری کی۔ یہ محنت و مشقت کا وہ تپتا ہوا دور تھا جس نے ان کے پختہ ارادوں کو فولادی بنا دیا اور انہیں مستقبل کی بڑی کامیابیوں کے لیے تیار کیا۔

سندھ مدرسے کا مختصر باب اور تجارت میں ’شوگر کنگ‘ بننے کا سفر
کراچی منتقلی کے بعد انہیں ابتدائی طور پر ایک گجراتی مقامی اسکول میں داخل کرایا گیا۔ اس کے بعد 1887 میں انہوں نے برصغیر کے اس تاریخی ادارے میں داخلہ لیا جسے ایک اور یتیم فرزند، خان بہادر حسن علی آفندی نے قائم کیا تھا، یعنی سندھ مدرستہ الاسلام۔ تاہم، شدید معاشی مجبوریوں اور گھریلو حالات کے باعث وہ 1888 میں اپنی باقاعدہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونے کے باوجود ان کی تدبر اور تجارتی صلاحیتیں بیدار ہو چکی تھیں۔ 1887 ہی میں پندرہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنے بہنوئی کے دفتر میں کام کا آغاز کیا۔ اپنی ذہانت، امانت داری اور شبانہ روز محنت کے بل بوتے پر 1896 تک انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کر لیا۔
اناج، کپاس اور دیگر اشیا کی تجارت سے ہوتے ہوئے انہوں نے برصغیر کی تجارتی دنیا میں ایسا مقام حاصل کیا کہ 1932 تک وہ ہندوستان کے صف اول کے کاروباری افراد میں شمار ہونے لگے اور معروف ’شوگر کنگ‘ بن چکے تھے۔ ان کی تجارتی سرگرمیاں بہار میں شوگر مل کے قیام تک جا پہنچیں۔
ان کی شاندار تجارتی خدمات کے اعتراف میں 1932 ہی میں برطانوی حکومت نے انہیں ’سر‘ کا خطاب دیا اور اسی سال انہیں اوٹاوا میں ہونے والی امپیریل اکنامک کانفرنس کے لیے ہندوستان کا نمائندہ نامزد کیا گیا۔
ایک بوری چینی سے معاشی امارت تک: ’شوگر کنگ‘ کی کاروباری ندرت فکر
محض چار سال کی عمر میں والد کی شفقت سے محروم ہونے والے اس یتیم بچے کی فکری تربیت اور حوصلہ افزائی ان کی عظیم والدہ نے کی۔ باقاعدہ اسکول کی صرف چند سالہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے شدید معاشی تنگ دستی میں سائیکلوں کی مرمت کی دکان پر شاگرد کے طور پر کام کا آغاز کیا۔
لیکن ان کی اصل تجارتی بصیرت سولہ برس کی عمر میں اس وقت جاگی جب انہوں نے چینی کی تجارت کا آغاز محض ایک بوری چینی کی فروخت سے کیا۔
اپنی امانت داری اور شبانہ روز محنت کی بدولت پہلے انہوں نے جونا مارکیٹ کے مشہور پھول چوک پر لنڈا بازار کی دکان پر کام کیا اور بعد ازاں 1899 میں جوڑیا بازار، کراچی میں چینی کی ایک چھوٹی سی دکان کھولی، جو جلد ہی ان کے تجارتی عروج کا سنگ بنیاد ثابت ہوئی۔ محض ایک دہائی کے اندر چینی کی تجارت میں نمایاں مقام حاصل کرکے وہ سندھ کے مسلمہ ’شوگر کنگ‘ بن گئے۔
اس معاشی عروج کے نتیجے میں وہ وکٹوریہ روڈ پر ایک عظیم الشان رہائش گاہ اور رنچھوڑ لائنز میں قیمتی جائیدادوں کے مالک بنے۔ آگے چل کر ان کا شمار ہندوستان کے امیر ترین اور صاحب ثروت رہنماؤں میں ہونے لگا۔

سیاسی بیداری: میونسپل کارپوریشن سے تحریک خلافت اور بمبئی کونسل تک
سر عبداللہ ہارون صرف ایک کامیاب تاجر یا صنعت کار نہیں تھے بلکہ ان کا دل امت مسلمہ اور برصغیر کے مظلوم عوام کے درد سے دھڑکتا تھا۔
اصلاحی سرگرمیاں اور بلدیاتی سیاست
وہ 1901 سے ہی سیاسی و اصلاحی امور میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ انہوں نے 1910 میں سندھ محمدن ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور مئی 1913 میں کراچی میونسپل کمیٹی کے رکن منتخب ہو کر باقاعدہ عوامی زندگی میں قدم رکھا۔
کانگریس، مسلم لیگ اور تحریک خلافت
1917 میں وہ انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے، مگر جلد ہی آل انڈیا مسلم لیگ کی صفوں میں آ گئے اور سندھ پروونشل مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔ 1918 میں وہ تحریک خلافت کے قائدین میں شامل ہوئے۔
وہ 1919 سے 1924 تک سندھ پروونشل خلافت کمیٹی کے سربراہ رہے اور 1927 میں مرکزی خلافت کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ مسلمانوں کے فکری دھارے کو منظم کرنے کے لیے انہوں نے 1920 میں تاریخی اخبار ’الوحید‘ کا اجرا کیا۔
ایوانوں میں نمائندگی اور سندھ کی بمبئی سے علیحدگی
1923 میں وہ بمبئی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور سندھ کو بمبئی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبہ بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی، جو بالآخر بارآور ثابت ہوئی۔
تحریک پاکستان میں کلیدی کردار اور قرارداد لاہور کا پس منظر
سر عبداللہ ہارون کی سیاسی زندگی کا سب سے روشن باب اکتوبر 1938 میں سامنے آیا، جب انہوں نے کراچی میں سائیں جی ایم سید کے ساتھ مل کر خالق دینہ ہال میں سندھ مسلم لیگ کانفرنس کا انعقاد کیا اور اس کی صدارت کی۔ اس تاریخی کانفرنس میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سمیت آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت موجود تھی۔
اسی کانفرنس میں سر عبداللہ ہارون نے برصغیر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی جو تجویز پیش کی، اسے بعد میں قرارداد لاہور (1940) کے پس منظر میں اہمیت حاصل ہوئی۔
1935 میں وہ آل انڈیا مسلم کانفرنس کے صدر بنے اور 1939 میں سندھ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے صوبے بھر میں مسلم لیگ کی شاخیں اور کارکن منظم کیے۔ آزادی کے قریب ترین ایام میں جب پرتشدد خطرات بڑھ رہے تھے تو انہوں نے اپنے صاحبزادے یوسف ہارون کی سربراہی میں مسلم لیگ نیشنل گارڈ تشکیل دی، تاکہ کسی بھی انتہا پسند تنظیم کا مؤثر دفاعی مقابلہ کیا جا سکے۔

فلاحی خدمات: یتیم خانہ، اسکول اور جمخانے کا قیام
خود بچپن میں یتیمی اور کسمپرسی کا سامنا کرنے والے سر عبداللہ ہارون نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ فلاحی کاموں کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کے قائم کردہ فلاحی ادارے ان کی سماجی خدمات کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
جامعہ اسلامیہ و یتیم خانہ
کراچی کی قدیم بستی لیاری کے علاقے کھڈا میں انہوں نے حاجی عبداللہ ہارون ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے غریب، بے سہارا اور یتیم بچوں کے لیے اس فلاحی ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہاں مستحق بچوں کو مفت رہائش، خوراک، لباس اور طبی سہولیات کے ساتھ دینی و دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس ادارے کے حوالے سے ان سے منسوب یہ الفاظ ان کی فلاحی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں:
’یہ یتیم خانہ ان بچوں کے لیے ایک مشعل راہ ثابت ہوگا کہ کس طرح ایک یتیم بچہ محنت اور عزم کے بل بوتے پر بلند ترین مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔‘
کچھی میمن مدرسہ بنات اور ہاجیانہ حنیفہ بائی اسکول
سر عبداللہ ہارون اس بات کے حامی تھے کہ معاشرے کی پائیدار ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے اپنی والدہ حنیفہ بائی کے نام سے منسوب ادارے قائم کیے اور خواتین کی تعلیم کے لیے خصوصی مدارس کی سرپرستی کی۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بھی اعلیٰ انگریزی تعلیم دلوائی اور انہیں طبی شعبے سے وابستہ ہونے کے مواقع فراہم کیے۔
کھیلوں اور رفاہی سرگرمیوں کی سرپرستی
نوجوانوں کی صحت مند سرگرمیوں کے لیے انہوں نے لیاری میں اسکول کے ساتھ ساتھ ہندو جمخانہ کے قریب مسلم جمخانہ اور کھیل کا میدان بھی قائم کیا، تاکہ مسلم نوجوان کھیلوں کے میدان میں بھی آگے بڑھ سکیں۔
سی فیلڈ مینشن: برصغیر کی سیاست کا مرکز
کراچی کے کلفٹن اور ساحلی پٹی پر واقع سر عبداللہ ہارون کی تاریخی رہائش گاہ ’سی فیلڈ مینشن‘ برصغیر کی سیاست کا مرکز بن چکی تھی۔ جب بھی قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان یا آل انڈیا مسلم لیگ کے دیگر رہنما کراچی تشریف لاتے تو وہ ہوٹلوں کے بجائے سر عبداللہ ہارون کے اسی مہمان خانے میں قیام کرتے تھے۔
یہیں سندھ اور ملک بھر کی سیاسی حکمت عملی تیار کی جاتی تھی اور تحریک پاکستان سے متعلق فیصلوں پر غور کیا جاتا تھا۔
ستر برس کی عمر میں، قیام پاکستان سے پانچ سال قبل، 27 اپریل 1942 کو کچھی میمن برادری کا یہ عظیم مدبر، صنعت کار، یتیموں کا مربی اور حریت پسند رہنما اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ انہیں ان کے قائم کردہ یتیم خانے، کھڈا، لیاری، کراچی میں دفن کیا گیا۔ ان کی وفات پر قائداعظم اور دیگر رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
کچھ کے ساحلوں سے بادبانی کشتی کے ذریعے کراچی آنے والا وہ یتیم بچہ، جس نے سائیکل کے پنکچر لگانے اور ایک بوری چینی سے جوڑیا بازار کی دکان تک کا سفر شروع کیا تھا، اپنی غیر معمولی ذہانت، عزم اور محنت سے نہ صرف ’شوگر کنگ‘ کا اعزاز پایا بلکہ تحریک پاکستان اور سندھ کی سیاسی و سماجی تاریخ پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔

