ٹینکر مافیا ایک علامت ہے۔ اصل کہانی اس پائپ لائن کی ہے جس کا وعدہ دو دہائیاں پہلے کیا گیا تھا۔
میں گلستان جوہر میں رہتی ہوں، جہاں ہماری تقریباً پوری سوسائٹی کا انحصار ٹینکروں پر ہے۔ جب کئی دنوں اور بعض اوقات ہفتوں کے بعد بالآخر پائپوں میں پانی آتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی جشن ہو رہا ہو۔ لوگ دل سے خوش ہوتے ہیں، جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔
حالاں کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ایک بنیادی ضرورت ہے، جو تاخیر سے اور انتہائی کم مقدار میں ملتی ہے۔
پھر پورا دن پانی کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ اس سے پہلے کہ پانی دوبارہ غائب ہو جائے، بالٹیوں، ڈرموں اور ٹینکوں کو بھرنا ہوتا ہے۔ یہ صرف تھکا دینے والا عمل ہی نہیں بلکہ شدید ذہنی اذیت کا باعث بھی ہے، جو آپ کا پورا دن کھا جاتا ہے۔
کراچی میں کسی سے بھی واٹر ٹینکر کی قیمت پوچھیں تو آپ کو اپنا فون نمبر یاد ہونے سے بھی زیادہ تیزی سے جواب مل جائے گا۔
اب یہ صرف نجی ٹینکروں تک محدود نہیں رہا۔ حکومت بھی پانی بیچ رہی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اپنی آن لائن ٹینکر سروس چلا رہی ہے، جس کے لیے ویب سائٹ اور موبائل ایپ بھی موجود ہیں۔
کراچی والے وقت پر پانی کے بل جمع کرواتے ہیں اور پھر بھی ان کے نلکے سوکھے رہتے ہیں، لیکن ریاست کا جواب یہ ہے کہ انہیں آن لائن ٹینکر بک کرنے کی سہولت دے دی جائے۔ پائپوں کے ذریعے پانی کی فراہمی تو پہلا حل ہونا چاہیے تھا۔
یہ طرز عمل ہمیں بہت کچھ بتاتا ہے۔ اتنے بڑے شہر میں نجی ٹرک سے پانی خریدنا اب معمول بن چکا ہے۔

پانی کی طلب اور رسد میں فرق
کراچی کو روزانہ تقریباً 1.2 ارب گیلن پانی کی ضرورت ہے، لیکن اسے صرف 650 ملین گیلن فراہم کیا جاتا ہے۔ پانی کی یہ کمی ہی وہ خلا ہے جہاں ٹینکروں کی معیشت پھل پھول رہی ہے۔
جب شہر میں پانی کی اتنی کمی ہے تو یہ ٹینکر اپنے ٹینک کہاں سے بھرتے ہیں؟ ایک اندازے کے مطابق شہر کا 40 سے 50 فیصد پانی گھروں تک پہنچنے سے پہلے ہی پائپوں میں رساؤ کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے، جب کہ ٹینکر مبینہ طور پر غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے روزانہ 150 سے 200 ملین گیلن پانی چوری کرتے ہیں۔
ان اعداد و شمار کو اندازہ سمجھنا چاہیے، باقاعدہ آڈٹ کے نتائج نہیں۔
قیمت کون چکاتا ہے؟
ہر کوئی برابر قیمت ادا نہیں کرتا۔ اورنگی ٹاؤن جیسے علاقوں میں کم آمدنی والے خاندان ٹینکر کے پانی پر ماہانہ 15,000 روپے تک خرچ کر دیتے ہیں۔ جن لوگوں کے پاس سب سے کم پیسہ ہے، وہی سب سے مہنگا پانی خریدتے ہیں۔
وہ پائپ لائن جو کبھی نہیں پہنچتی
پانی کے مسئلے کا مجوزہ حل کے فور منصوبہ ہے۔ ابتدا میں اس کی لاگت کا تخمینہ 25 ارب روپے لگایا گیا تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 224 ارب روپے ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے دسمبر 2026 تک اس کی تکمیل کا وعدہ کیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے حکام نجی گفتگو میں کہتے ہیں کہ جنوری 2029 سے پہلے اس منصوبے کی تکمیل ناممکن ہے۔
یہ منصوبہ مکمل ہو بھی جائے تو روزانہ صرف 260 ملین گیلن پانی کا اضافہ کرے گا، جو اکیلے پانی کی اس بڑی کمی کو پورا نہیں کر سکتا۔ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس منصوبے کو شہر کے تقسیمی نیٹ ورک سے جوڑنے والی پائپ لائنوں کا کام مقررہ شیڈول سے پیچھے ہے۔ اس لیے مرکزی پائپ لائن کی تکمیل کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کے نلکے میں پانی بھی آ جائے گا۔
اس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ٹینکر مافیا کو فروخت کرنے کے لیے مزید پانی مل جائے۔ اور ہاں، شاید آپ کو ٹینکر کے لیے ہفتوں انتظار نہ کرنا پڑے۔

کیوں ’مافیا کو کچل دو‘ کہنا بہت آسان ہے؟
اگر آپ کی گلی نے برسوں سے پانی نہیں دیکھا تو ٹینکر والا ہی وہ واحد شخص ہے جو آپ کی کال کا جواب دیتا ہے۔ آپ کو اس کی قیمت سے نفرت ہے۔ آپ کو اس بات سے بھی نفرت ہے کہ شاید وہ اسی ہائیڈرنٹ سے پانی بھر رہا ہے جہاں سے آپ کے نلکے میں پانی آنا چاہیے تھا۔ لیکن اگر وہ کل سے آنا بند کر دے تو آپ کے خاندان کے پاس پینے کے لیے پانی نہیں ہوگا۔
مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے 460 گھرانوں اور 17 ٹینکر آپریٹرز کا سروے کیا تو انہیں بھی یہی مسئلہ نظر آیا۔ ان کے مطابق ٹینکر نیٹ ورک پائپوں سے پانی حاصل کرتا ہے، جس سے پانی کی قلت مزید بڑھ جاتی ہے اور سب سے زیادہ نقصان غریبوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
لیکن پائپوں کی مرمت سے پہلے اس نیٹ ورک کو بند کرنا ان خاندانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے جن کے پاس پانی حاصل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔
اس لیے ’مافیا کو کچل دو‘ کا نعرہ سننے میں تو انصاف پر مبنی لگتا ہے، لیکن زمینی حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔ لوگوں کے نلکوں تک پانی پہنچانے کا متبادل انتظام کیے بغیر ہائیڈرنٹس بند کرنا طاقتور لوگوں کو سزا نہیں دیتا۔ اس کا خمیازہ اورنگی کی اس خاتون کو بھگتنا پڑتا ہے جو اگلے ہفتے کے ٹینکر کے لیے ایک ایک روپیہ گن رہی ہوتی ہے۔
سیاست دان ٹینکر مافیا کو ولن کے طور پر پیش کرنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہوگا اگر وہ خود بھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہوں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو انہوں نے آج تک اسے روکا کیوں نہیں؟
یہ ایک آسان ولن ہے، کیونکہ اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سب کو پائپ لائنوں اور پانی کی فراہمی کے بنیادی نظام پر بات کرنے سے بچنے کا موقع دیتا ہے۔
کراچی کی آبی محرومی
ملکی مجموعی قومی پیداوار میں بڑا حصہ ڈالنے کے باوجود کراچی دہائیوں سے پیاسا ہے۔ یہ صورت حال نئی نہیں۔ کراچی کے لوگ تنگ آ چکے ہیں۔ وہ اپنے بل وقت پر ادا کرتے ہیں، مہنگا پانی خریدتے ہیں اور اس کے باوجود پانی کی قلت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔

