24 اکتوبر 1954: جب دستور ساز اسمبلی کو آئین دینے سے پہلے ہی تحلیل کر دیا گیا

اسمبلی

24 اکتوبر 1954 پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک ایسا دن تھا جس نے حال ہی میں قائم ہونے والی ریاست میں جمہوری اداروں، پارلیمانی بالادستی اور انتظامی اختیارات کے باہمی تعلق کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

اس روز پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی اس وقت تحلیل کر دی گئی جب وہ ملک کو مستقل آئین دینے کے لیے اپنی منزل کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اسمبلی نے 15 اکتوبر 1954 کو آئین کا مسودہ مکمل کر لیا تھا، جسے 27 اکتوبر کو حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جانا تھا۔

منصوبہ تھا کہ 25 دسمبر 1954 کو قائداعظم محمد علی جناح کی سالگرہ کے موقع پر نیا آئین نافذ کر دیا جائے۔ یوں پاکستان آئینی جمہوریت کی دہلیز پر کھڑا تھا، مگر منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سفر روک دیا گیا۔

غلام محمد: بیوروکریٹ سے گورنر جنرل تک

اس بحران کے مرکزی کردار ملک غلام محمد 1895 میں لاہور کے موچی دروازے کے علاقے میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور انڈین آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں شامل ہوئے۔

1940 میں وہ کنٹرولر جنرل آف پرچیز مقرر ہوئے، جب کہ 1942 سے 1946 تک ریاست حیدرآباد دکن کی حکومت میں وزیر خزانہ کے فرائض انجام دیتے رہے۔ انہیں 1938 میں برطانوی حکومت کی جانب سے ’سر‘ کا خطاب دیا گیا تھا، جسے انہوں نے مسلم لیگ کی اپیل پر واپس کر دیا۔

قیام پاکستان کے بعد غلام محمد ملک کے پہلے وزیر خزانہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے 28 فروری 1948 کو پاکستان کا پہلا بجٹ پیش کیا۔ وہ مغربی پنجاب سے منتخب ہو کر اسی دستور ساز اسمبلی کے رکن بھی بنے جسے بالآخر انہوں نے تحلیل کر دیا۔

اکتوبر 1951 میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ ناظم الدین، جو اس وقت گورنر جنرل تھے، وزیراعظم بن گئے اور غلام محمد نے گورنر جنرل کا منصب سنبھال لیا۔ یوں اقتدار کی منتقلی کے اس مرحلے میں انتظامی اختیار ایک سابق بیوروکریٹ کے ہاتھ میں آ گیا، جب کہ حکومت کی سربراہی خواجہ ناظم الدین کے پاس تھی۔

یہ تبدیلی بعد میں پیدا ہونے والے آئینی بحران کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

آئینی بحران کی ابتدا: اختیارات کی کشمکش

1947 کے انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ کے تحت دستور ساز اسمبلی کو دوہری حیثیت حاصل تھی۔ وہ ملک کا آئین بنانے والی مجلس بھی تھی اور مرکزی قانون ساز ادارے کے طور پر بھی کام کرتی تھی۔ اس دوران پاکستان کا عبوری آئینی ڈھانچہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 پر قائم تھا، جس میں گورنر جنرل کو وسیع اختیارات حاصل تھے۔

مستقل آئین کی عدم موجودگی میں ان اختیارات کی حدود اور منتخب نمائندوں کی آئینی حیثیت کے درمیان تناؤ پیدا ہونا ناگزیر تھا۔

اپریل 1953 میں غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی حکومت برطرف کر دی، حالاں کہ وزیراعظم کو دستور ساز اسمبلی کی حمایت حاصل تھی اور ان کی حکومت کا بجٹ بھی منظور ہو چکا تھا۔ اس فیصلے نے پارلیمانی اصول کے بنیادی سوال کو جنم دیا کہ آیا حکومت کا قیام اور اس کا برقرار رہنا اسمبلی کے اعتماد سے مشروط ہونا چاہیے یا گورنر جنرل کے فیصلے سے۔

ناظم الدین کی برطرفی کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا کو وزیراعظم مقرر کیا گیا۔

اس واقعے نے دستور ساز اسمبلی اور گورنر جنرل کے درمیان اختلافات کو مزید گہرا کر دیا۔ اسمبلی نے ستمبر 1954 میں ایسی آئینی ترامیم منظور کیں جن کا مقصد گورنر جنرل کے اختیارات محدود کرنا اور وزارتی مشورے کی آئینی حیثیت مضبوط بنانا تھا۔ اسی عرصے میں سیاست دانوں کو نااہل قرار دینے کے لیے استعمال ہونے والے پروڈا جیسے قوانین کے خاتمے کی کارروائی بھی ہوئی۔

اسی دوران دستور ساز اسمبلی نے اپنے بنیادی کام کی تکمیل کی طرف پیش رفت جاری رکھی۔ 15 اکتوبر 1954 کو آئین کا مسودہ مکمل ہو گیا۔ حتمی منظوری اور نفاذ کا مرحلہ قریب تھا، مگر یہی وہ وقت تھا جب گورنر جنرل اور اسمبلی کے درمیان اختلاف فیصلہ کن صورت اختیار کر گیا۔

24 اکتوبر 1954: دستور ساز اسمبلی کی تحلیل

24 اکتوبر 1954 کو، جب وزیراعظم محمد علی بوگرا ملک سے باہر تھے، گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک کی سیاسی صورت حال پر غور کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا ہے کہ سیاسی مشینری ناکام ہو چکی ہے اور دستور ساز ادارہ عوام کا اعتماد کھو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی اور ملک بھر میں سخت سنسرشپ عائد کی گئی۔

اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی موجودہ کابینہ بھی توڑ دی گئی۔ محمد علی بوگرا کی وطن واپسی پر نئی کابینہ تشکیل دی گئی، جسے ’باصلاحیت افراد کی کابینہ‘ کہا گیا۔ اس کابینہ میں فوج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان کو وزیر دفاع اور اسکندر مرزا کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔

اس فیصلے کے بعد اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے تحلیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا۔ انہیں اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ روایت ہے کہ وہ برقعہ پہن کر سندھ چیف کورٹ پہنچے تاکہ عدالت میں اپنی درخواست دائر کر سکیں۔

مولوی تمیز الدین خان کا مقدمہ اور عدالتی معرکہ

مولوی تمیز الدین خان نے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا۔ ان کی جانب سے ڈی این پرٹ، ایس ایس پیرزادہ اور آئی آئی چندریگر سمیت معروف وکلا پیش ہوئے۔ عدالت نے اسمبلی کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے متفقہ طور پر ان کے حق میں فیصلہ دیا۔

اس فیصلے سے یہ توقع پیدا ہوئی کہ گورنر جنرل کے اختیارات کو آئینی حدود کے اندر رکھنے کا اصول تسلیم کر لیا جائے گا، مگر حکومت نے اس فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت میں اپیل دائر کر دی۔

مارچ 1955 میں وفاقی عدالت نے چیف جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے اپیل کی سماعت کی۔ 21 مارچ 1955 کو اکثریتی فیصلے میں حکومت کی اپیل منظور کر لی گئی اور اسمبلی کی تحلیل کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو قانونی تحفظ مل گیا۔

فیصلے کی ایک اہم بنیاد یہ تھی کہ دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ بعض ترامیم پر گورنر جنرل کی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس اے آر کارنیلیئس نے اس مؤقف سے اختلاف کیا اور ایک تفصیلی اختلافی نوٹ لکھا، جو پاکستان کی آئینی تاریخ میں اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

کارنیلیئس نے اپنے اختلافی مؤقف میں اس اصول پر زور دیا کہ گورنر جنرل ڈومینین کا سربراہ تھا، مگر اس کا منصب برطانوی بادشاہ یا حکومت کی براہ راست مرضی کے بجائے ڈومینین کے آئینی نظام سے متعلق تھا۔ انہوں نے جسٹس منیر کے ایک سابق فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں گورنر جنرل کے منصب اور اختیارات کی تشریح مختلف انداز میں کی گئی تھی۔

اس اختلاف نے واضح کیا کہ مقدمہ محض قانونی طریقۂ کار کا معاملہ نہیں تھا؛ اس کے مرکز میں یہ سوال تھا کہ ریاست میں حتمی آئینی اختیار کس ادارے کے پاس ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد: نظریہ ضرورت اور اختیارات کا ارتکاز

وفاقی عدالت کے فیصلے کے بعد بھی آئینی بحران مکمل طور پر ختم نہ ہوا۔ ایک ہفتے بعد گورنر جنرل نے ایمرجنسی پاورز آرڈیننس جاری کیا، جب کہ مغربی پاکستان کے صوبوں کو یکجا کرنے کے لیے ون یونٹ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اختیارات گورنر جنرل کے دفتر میں مزید مرتکز ہوئے۔

تاہم بنیادی قانونی سوال اپنی جگہ موجود تھا: اگر گورنر جنرل کے پاس دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے اور اس کی جگہ نئی اسمبلی قائم کرنے کا واضح آئینی اختیار نہیں تھا تو ان اقدامات کو قانونی حیثیت کیسے حاصل ہو سکتی تھی؟

اسی سوال کے تناظر میں حکومت نے وفاقی عدالت سے خصوصی ریفرنس نمبر ایک، 1955 کے ذریعے رائے طلب کی۔ چیف جسٹس محمد منیر نے اس معاملے میں انگریز قانونی مفکر برکٹن (Bracton) سے منسوب اس اصول پر انحصار کیا کہ ضرورت بعض حالات میں ایسے اقدام کو جائز قرار دے سکتی ہے جو معمول کے حالات میں غیر قانونی ہو۔

یہی تصور بعد میں ’نظریۂ ضرورت‘ کے نام سے پاکستان کی آئینی تاریخ میں معروف ہوا۔

اسی بارے میں: