Tag: آئین

  • خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کی بازگشت؛ آئین میں گورنر راج کا طریقہ کار ، پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ

    خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کی بازگشت؛ آئین میں گورنر راج کا طریقہ کار ، پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ

    گذشتہ چند دنوں سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کی خبریں گردش کررہی ہیں۔ کچھ حلقوں کا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کے درمیاں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ یا امن و امان کی خرابی کی صورت میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔

    خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بحث زور پکڑ رہی ہے اور وفاقی حکومت یہ مؤقف اپنا رہی ہے کہ اگر صوبے میں شدت پسند حملوں میں اضافہ، پولیس اور سول انتظامیہ کی ناکامی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا رک جانا، یا حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان کھلا ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی قانونی گنجائش موجود ہے۔

    دوسری جانب صوبائی حکومت، جو سابق وزیراعلیٰ کے استعفے کے بعد ابھی حال ہی میں بنی ہے، ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈالتی ہے اور کہتی ہے کہ صوبے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش دراصل وفاق ہی کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    اس طرح دونوں سطحوں پر بیانیہ ایک دوسرے کے خلاف کھڑا ہے، جبکہ عوام بے یقینی کے بوجھ تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہے اور سیاسی منظرنامہ مزید دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔

    ساگا تحقیق میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کا جائزہ لیں گے کہ ایک حساس اور سخت آئینی نگرانی والا عمل گورنر راج وفاقی حکومت کیا لگا بھی سکتی ہے اور گورنر راج لگانے کے لیے وفاقی حکومت کو ائینی طور پر کیا کرنا ہوگا اور ماضی میں کن صوبوں میں گورنر راج لگا۔

    پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں صوبوں کی اپنی حکومتیں ہوتی ہیں، جن کی سربراہی وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کرتی ہے۔ یہی صوبائی خودمختاری ہمارے وفاقی نظام کا بنیادی ستون ہے۔ لیکن آئین ایسے غیر معمولی حالات کی بھی وضاحت کرتا ہے جب صوبائی حکومت کو معطل کرکے پورے صوبے کا انتظام براہِ راست گورنر کے ہاتھ میں سونپا جا سکتا ہے۔

    عوامی زبان میں اسی عمل کو گورنر راج کہا جاتا ہے، جبکہ آئینی حوالوں میں اسے صوبائی ایمرجنسی یا آئین کے آرٹیکل دو سو بتیس کے تحت صوبے میں ایمرجنسی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہوتا ہے اور اسے معمولی سیاسی تنازعات یا انتظامی اختلافات کی بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا۔

    پاکستان کے آئین میں گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ کوئی بھی گورنر یا صدر اپنی مرضی سے صوبے میں ایمرجنسی نافذ نہیں کر سکتے۔

    گورنر راج کا آئینی دائرہ اور نفاذ کا طریقہ کیا ہے؟

    پاکستان میں گورنر راج دراصل آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبائی ایمرجنسی کا نفاذ ہے، جو صرف غیر معمولی حالات میں لگایا جا سکتا ہے۔
    اس کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہوتا ہے، اور صدر یہ حکم وفاقی کابینہ کی ایڈوائس پر جاری کرتے ہیں۔

    صوبے میں امن و امان کی شدید خرابی، آئینی مشینری کا ٹوٹ جانا یا حکومتی نظم کا فیل ہو جانا وہ وجوہات ہیں جن پر ایمرجنسی نافذ ہو سکتی ہے۔ اگر صوبائی حکومت خود درخواست کرے تو عمل آسان ہو جاتا ہے، تاہم درخواست نہ ہونے کی صورت میں بھی وفاق یہ قدم اٹھا سکتا ہے۔

    ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پارلیمنٹ کو دس دن کے اندر اس کی منظوری دینا لازمی ہے، ورنہ فیصلہ ازخود ختم ہو جاتا ہے۔

    ایمرجنسی لگنے پر وزیراعلیٰ اور کابینہ غیر مؤثر ہو جاتے ہیں اور صوبائی انتظام براہِ راست گورنر کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ پولیس، سول انتظامیہ اور دیگر ادارے گورنر کو جواب دہ ہو جاتے ہیں، جبکہ صوبائی خودمختاری محدود ہو جاتی ہے۔

    تاریخی پس منظر اور مختلف صوبوں میں گورنر راج کی مثالیں

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گورنر راج ہمیشہ غیر معمولی حالات میں نافذ کیا گیا۔ پنجاب میں 25 فروری 2009 کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گورنر راج لگا، جس میں گورنر سلمان تاثیر نے صوبے کا انتظام سنبھالا۔

    ملک گیر احتجاج کے دباؤ پر یہ حکم ایک ماہ بعد 30 مارچ 2009 کو ختم کر دیا گیا۔ بلوچستان میں 2013 میں شدید بدامنی کے بعد گورنر راج نافذ ہوا اور وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کی حکومت غیر فعال ہو گئی۔

    اس سے پہلے سندھ میں 1954، پنجاب میں 1958، بلوچستان میں 1973، اور خیبر پختونخوا میں 1975 میں بھی مختلف سیاسی و انتظامی بحرانوں کے باعث صوبائی ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ ان واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ قدم کبھی بھی معمولی سیاسی تنازع کے حل کے طور پر استعمال نہیں ہوا۔

    خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج لگانے کے لیے وفاقی حکومت کو صوبے میں غیر معمولی حالات کے ٹھوس شواهد، وفاقی حکومت کی منظوری اور پارلیمنٹ کی توثیق ضروری ہے۔

    آئین نے واضح حفاظتی رکاوٹیں رکھی ہیں تاکہ اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر راج کا مقصد ریاستی نظم کو بچانا ہے، نہ کہ سیاسی خواہشات کی تکمیل کرنا ہے۔