پاکستان کی معیشت کو بیرونی خطرات درپیش ہیں: عالمی بینک

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث توانائی اور دیگر اشیا کی بلند قیمتیں درآمدی اخراجات بڑھا سکتی ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور ال نینو کے اثرات زرعی پیداوار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

عالمی بینک گروپ کی اکتوبر 2026 کی تازہ ترین پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ، جس کا عنوان ‘Attaining Escape Velocity’ ہے، کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

گزشتہ برس پاکستان میں فی کس حقیقی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ فی کس حقیقی آمدنی میں اضافے کی شرح تقریباً 1.6 فیصد رہی ہے۔

عالمی بینک نے تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات پر فوری عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسیوں اور اداروں کو بالائی متوسط آمدنی والے ممالک کے اوسط معیار کے قریب لانے سے پاکستان کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں سالانہ اضافے کی شرح 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس راستے پر مسلسل عمل کیا جائے تو پاکستان 2050 تک ویتنام کی موجودہ فی کس آمدنی کی سطح حاصل کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں معیشت کو مستحکم کرنے میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن استحکام کو تیز رفتار اور پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ محض مالیاتی اور زرّی پالیسیوں کے ذریعے معیشت میں طلب بڑھانے سے دیرپا ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے، برآمدات کو فروغ دینے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر کرنے سمیت بنیادی اصلاحات درکار ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی شرح 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی 3.2 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔ تاہم، اس بہتری کا بڑا حصہ خدمات کے شعبے سے آیا، جبکہ زراعت اور صنعت کی کارکردگی نسبتاً کمزور رہی۔ 

رپورٹ کے بنیادی تخمینے کے مطابق مالی سال 2026-27 میں شرح نمو 3.8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ اصلاحات کے بغیر درمیانی مدت میں یہ شرح تقریباً 4.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، لیکن اس رفتار سے پاکستان 2050 تک بالائی متوسط آمدنی والے ملک کا درجہ حاصل نہیں کر سکے گا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو ہر سال روزگار کی عمر کو پہنچنے والے تقریباً 36 لاکھ افراد کے لیے مناسب ملازمتیں پیدا کرنا ہوں گی۔ موجودہ معاشی ترقی روزگار کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ 

2018  سے اب تک روزگار کی منڈی میں آنے والے افراد کی تعداد ملازمتوں میں اضافے سے زیادہ رہی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً ہر چھ میں سے ایک نئے فرد کو کام نہیں مل سکا۔ 2024 میں بے روزگاری کی شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ خواتین اور نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں خاص مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق مسئلہ صرف ملازمتوں کی کمی نہیں بلکہ ان کے معیار کا بھی ہے۔ 2014 سے 2024 کے دوران ملکی معیشت میں فی کارکن پیداوار میں سالانہ اوسط اضافہ صرف 0.4 فیصد رہا۔ 2018 کے بعد پیدا ہونے والی ایک کروڑ 77 لاکھ خالص نئی ملازمتوں میں سے زیادہ تر کم اجرت اور کم پیداوار والے شعبوں میں تھیں۔

مہنگائی کے باعث حقیقی آمدنی میں کمی اور پیداوار میں سست اضافے کے نتیجے میں غربت کی شرح مالی سال 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں 29 فیصد ہو گئی۔

رپورٹ میں تیز رفتار ترقی کے لیے توانائی کے شعبے میں بنیادی تبدیلیوں پر زور دیا گیا ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے، توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ تعلیم، صحت، فنی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارتوں پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے تاکہ افرادی قوت کی صلاحیت اور پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔

کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے عالمی بینک نے سرمایہ کاری سے متعلق جدید قانون متعارف کرانے، زرعی اور جائیداد کے شعبوں میں ٹیکس وصولی بہتر بنانے اور ملک بھر میں جنرل سیلز ٹیکس کے نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں قومی مالیاتی کمیشن کے نئے ایوارڈ کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے مالیاتی تعلقات میں اصلاحات، تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا، صحت اور تعلیم میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا، برآمدی صنعتوں کو مالی سہولتیں فراہم کرنا اور ملکی بانڈز و سرمایہ جاتی منڈیوں کو ترقی دینا بھی اہم اقدامات ہیں۔ عالمی بینک نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری اور قومی محصولات کی پالیسی کے تحت تجارتی اصلاحات کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بھارت اور ویتنام کی مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان دونوں ممالک نے 2011 کے بعد 2020 کے سوا سالانہ اوسطاً 6.3 سے 6.9 فیصد حقیقی معاشی ترقی حاصل کی، جبکہ پاکستان کی اوسط شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق اگر پاکستان پانچ سال میں بالائی متوسط آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں پالیسیوں اور اداروں کے معیار کا نصف فرق ختم کر لے تو اس کی سالانہ معاشی ترقی کی شرح 4.5 فیصد سے بڑھ کر 6.9 فیصد ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں فی کس حقیقی آمدنی میں سالانہ اضافہ 2.9 فیصد سے بڑھ کر 5.2 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ تخمینے اصلاحات کے ممکنہ اثرات ظاہر کرتے ہیں، ان کی ضمانت نہیں ہیں۔

عالمی بینک کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن صرف استحکام کافی نہیں۔ غربت کم کرنے، مناسب روزگار پیدا کرنے اور عوام کی آمدنی میں حقیقی اضافہ یقینی بنانے کے لیے ایسی اصلاحات کرنا ہوں گی جو سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور حکومتی کارکردگی میں مستقل بہتری لائیں۔ 

رپورٹ کے مطابق یہی راستہ پاکستان کو سست رفتار ترقی کے چکر سے نکال کر پائیدار معاشی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں: