مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملک کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہدف 4.2 فیصد تھا۔
اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معیشت کی کارکردگی کچھ بہتر رہی کہ۔ گزشتہ سال شرحِ نمو 3.18 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق معاشی بہتری کی بڑی وجوہات بہتر معاشی پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط، بڑے صنعتی شعبے کی ترقی، 2025 کے سیلاب کے باوجود زرعی شعبے کی مضبوطی، روپے کی قدر میں استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات ہیں۔
دریں اثنا، بدھ کے روز قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی شرحِ نمو 4 فیصد ہونے کا ٹارگیٹ مقرر کیا ہے جو کہ گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
مالی سال 2023 میں شرحِ نمو منفی 0.2 فیصد، 2024 میں 2.6 فیصد اور 2025 میں 3.2 فیصد رہی تھی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ابتدا میں امید تھی کہ رواں سال میں شرحِ نمو 4 فیصد سے زیادہ ہوگی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کا حجم تاریخی سطح پر پہنچ کر 126.9 کھرب روپے ہو گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے جو پہلے 1,751 ڈالر تھی۔

مہنگائی
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی سے اپریل تک صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 4.7 فیصد تھی۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.8 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی۔ تاہم تیسرے سہ ماہی کے اختتام پر عالمی سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بیرونی اثرات نے قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اسی لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور بروقت حکومتی اقدامات ضروری ہیں۔
اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے 28 فیصد مہنگائی سے آغاز کیا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ مرکزی بینک کی پالیسی شرح سود 11.5 فیصد تک آ چکی ہے۔”
زراعت
وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.53 فیصد تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہتری 2025 کے سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق فصلوں کے شعبے نے بھی مثبت کارکردگی دکھائی اور پہلے کمی کا شکار رہنے کے بعد اب اس میں 1.44 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مویشی پالنے کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو رہی ہے۔
بڑے پیمانے کی صنعتیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ LSM کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 شعبوں میں مثبت ترقی دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ 6.1 فیصد ترقی کسی ایک صنعت کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف شعبوں کی مجموعی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس شعبے میں نمایاں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد میں 17 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 5 فیصد، گاڑیوں میں 31 فیصد اور موبائل فونز میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔
خدمات کا شعبہ
وزیر خزانہ نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی مجموعی معیشت (GDP) کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں اس شعبے کی شرحِ نمو 4.9 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے خاص طور پر مواصلات اور انفارمیشن سروسز کے شعبے کا ذکر کیا، جس میں 7.52 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ یہ بھی گزشتہ چار سال کی بلند ترین شرحِ نمو ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
مالی خسارہ
اقتصادی سروے کے مطابق مالی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد (2,970 ارب روپے) سے کم ہو کر 0.7 فیصد (856.4 ارب روپے) رہ گیا۔
اسی طرح پرائمری سرپلس (بجٹ کا اضافی توازن) بھی 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد ہو گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس آمدن میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 23 فیصد کمی آئی، جس سے حکومت کو مالی معاملات میں مزید گنجائش حاصل ہوئی۔



