Tag: معیشت

  • اکنامک سروے 2025-26 رپورٹ: پاکستان کی معیشت کی شرح نمو ٹارگیٹ4.2 فیصد سے کم، 3.7 فیصد رہی

    اکنامک سروے 2025-26 رپورٹ: پاکستان کی معیشت کی شرح نمو ٹارگیٹ4.2 فیصد سے کم، 3.7 فیصد رہی

    مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملک کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہدف 4.2 فیصد تھا۔

    اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معیشت کی کارکردگی کچھ بہتر رہی کہ۔ گزشتہ سال شرحِ نمو 3.18 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق معاشی بہتری کی بڑی وجوہات بہتر معاشی پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط، بڑے صنعتی شعبے کی ترقی، 2025 کے سیلاب کے باوجود زرعی شعبے کی مضبوطی، روپے کی قدر میں استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات ہیں۔

    دریں اثنا، بدھ کے روز قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی شرحِ نمو 4 فیصد ہونے کا ٹارگیٹ مقرر کیا ہے جو کہ گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    مالی سال 2023 میں شرحِ نمو منفی 0.2 فیصد، 2024 میں 2.6 فیصد اور 2025 میں 3.2 فیصد رہی تھی۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ابتدا میں امید تھی کہ رواں سال میں شرحِ نمو 4 فیصد سے زیادہ ہوگی، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود پاکستان کی معیشت کا حجم تاریخی سطح پر پہنچ کر 126.9 کھرب روپے ہو گیا ہے، جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے جو پہلے 1,751 ڈالر تھی۔

    مہنگائی

    اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی سے اپریل تک صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 4.7 فیصد تھی۔

    سروے میں کہا گیا ہے کہ حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.8 فیصد تھی۔

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی۔ تاہم تیسرے سہ ماہی کے اختتام پر عالمی سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بیرونی اثرات نے قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اسی لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور بروقت حکومتی اقدامات ضروری ہیں۔

    اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    انہوں نے کہا، "ہم نے 28 فیصد مہنگائی سے آغاز کیا تھا اور آج صورتحال یہ ہے کہ مرکزی بینک کی پالیسی شرح سود 11.5 فیصد تک آ چکی ہے۔”

    زراعت

    وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 1.53 فیصد تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بہتری 2025 کے سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق فصلوں کے شعبے نے بھی مثبت کارکردگی دکھائی اور پہلے کمی کا شکار رہنے کے بعد اب اس میں 1.44 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مویشی پالنے کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے اور اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو رہی ہے۔

    بڑے پیمانے کی صنعتیں

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) میں 6.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ LSM کے 22 ذیلی شعبوں میں سے 16 شعبوں میں مثبت ترقی دیکھی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 6.1 فیصد ترقی کسی ایک صنعت کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف شعبوں کی مجموعی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے۔

    وزیر خزانہ کے مطابق اس شعبے میں نمایاں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد، کھاد میں 17 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 5 فیصد، گاڑیوں میں 31 فیصد اور موبائل فونز میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔

    خدمات کا شعبہ

    وزیر خزانہ نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی مجموعی معیشت (GDP) کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال میں اس شعبے کی شرحِ نمو 4.9 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

    انہوں نے خاص طور پر مواصلات اور انفارمیشن سروسز کے شعبے کا ذکر کیا، جس میں 7.52 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ یہ بھی گزشتہ چار سال کی بلند ترین شرحِ نمو ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    مالی خسارہ

    اقتصادی سروے کے مطابق مالی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

    مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد (2,970 ارب روپے) سے کم ہو کر 0.7 فیصد (856.4 ارب روپے) رہ گیا۔

    اسی طرح پرائمری سرپلس (بجٹ کا اضافی توازن) بھی 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد ہو گیا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس آمدن میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 23 فیصد کمی آئی، جس سے حکومت کو مالی معاملات میں مزید گنجائش حاصل ہوئی۔

  • ایران کی ممکنہ کمزوری: خطے کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے لیے ایک بڑا امتحان

    ایران کی ممکنہ کمزوری: خطے کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے لیے ایک بڑا امتحان

    پاکستان کا پڑوسی، مگر مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں واقع ایران صدیوں پر محیط تہذیب، قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ایسے ملک میں سیاسی یا معاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جو جغرافیائی اور توانائی کے اعتبار سے اہم ہو، تو اس کے اثرات صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی سیاست کو متاثر کرتے ہیں۔

    اگر ایران کسی اندرونی بحران، عالمی دباؤ یا بڑی طاقتوں کی سیاسی چالوں کے باعث کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات پاکستان، روس، چین اور افغانستان جیسے ممالک تک گہرائی سے پہنچ سکتے ہیں۔ ایران نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں ایک طاقتور ریاست سمجھا جاتا ہے بلکہ وہ خلیج فارس کے کنارے واقع ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے ایران کی کمزوری دراصل ایک ملک کا بحران نہیں بلکہ عالمی سیاسی و معاشی توازن میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

    ایران کو ہمیشہ ایک جغرافیائی پل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک ایسا مقام رکھتا ہے جہاں سے تجارت، توانائی اور سفارتی روابط کے اہم راستے گزرتے ہیں۔

    خلیج فارس کے اہم سمندری راستوں پر اس کا اثر و رسوخ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو یہ صرف ایک ریاست کے سیاسی نظام میں تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں توانائی کی منڈی، علاقائی اتحاد اور عالمی سفارتی حکمت عملیاں نئے رخ اختیار کر سکتی ہیں۔

     پاکستان پر ممکنہ اثرات

    پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً نو سو کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات جغرافیائی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر مضبوط رہے ہیں۔ ایران کی کمزوری پاکستان کے لیے کئی نئے چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔

    سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کے مسائل بڑھنے کا امکان ہے۔ جب کسی ملک میں سیاسی کمزوری پیدا ہوتی ہے تو سرحدی نظم و نسق متاثر ہو جاتا ہے اور انتہا پسند یا غیر ریاستی عناصر کو سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ بلوچستان کے حساس علاقے میں پہلے ہی مختلف نوعیت کے مسائل موجود ہیں، لہٰذا ایران کی کمزوری وہاں مزید عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔

    پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بھی ایک نیا توازن قائم کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک طرف اس کے تعلقات ایران کے ساتھ ہیں اور دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے روابط موجود ہیں۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو پاکستان پر یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کے زیادہ قریب ہو جائے۔

    توانائی کے شعبے میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔ ایران کی کمزوری اس منصوبے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے یا پھر اسے نئی شرائط کے ساتھ دوبارہ زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ سرحدی تجارت میں کمی اور غیر رسمی تجارت یا اسمگلنگ میں اضافہ بھی ممکن ہے، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔

     روس اور چین کے لیے اسٹریٹجک جھٹکا

    روس اور ایران گزشتہ برسوں میں شام سمیت کئی علاقائی معاملات میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو روس کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں روس کی سفارتی اور عسکری موجودگی کا ایک اہم ستون ایران بھی رہا ہے۔ اس کی کمزوری سے روس کو اپنی علاقائی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ مغربی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور یورپی ممالک، اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    توانائی کی منڈی کے حوالے سے بھی اس کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ مختصر مدت میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ روس کے لیے معاشی فائدہ بن سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اگر خطے میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو توانائی کے عالمی راستے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں، جس سے روس سمیت کئی ممالک متاثر ہوں گے۔

    چین کے لیے ایران صرف ایک تیل فراہم کرنے والا ملک نہیں بلکہ اس کی عالمی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے میں ایران کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے۔

    اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو چین کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں اور چین کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں۔

    چین روایتی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرتا ہے، لیکن ایران پر عالمی دباؤ بڑھنے کی صورت میں اسے عالمی فورمز پر ایران کی حمایت یا سفارتی توازن برقرار رکھنے جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ کچھ مبصرین کے مطابق چین اس صورتحال کو ایک سفارتی موقع کے طور پر بھی استعمال کر سکتا ہے اور ایران میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔۔

     افغانستان کی نازک صورتحال

    افغانستان پہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایران کی کمزوری افغانستان پر بھی براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

    ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت اور روزگار کے مواقع ہزاروں افغان شہریوں کے لیے اہم ہیں۔ اگر ایران معاشی طور پر کمزور ہوتا ہے تو یہ مواقع کم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں افغان معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ منشیات اور اسلحے کی غیر قانونی تجارت میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے وسائل کا مسئلہ پہلے ہی حساس ہے۔ ایک کمزور ایران ان معاملات میں یا تو سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے یا اندرونی مسائل کے باعث انہیں نظر انداز کر سکتا ہے، جس سے خطے میں نئے تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔

     علاقائی طاقت کا بدلتا توازن

    مشرقِ وسطیٰ میں ایران کو ایک بڑی شیعہ طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر یہ طاقت کمزور ہوتی ہے تو خطے کے سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

    سعودی عرب اور دیگر سنی اکثریتی ممالک کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک کے لیے بھی اس صورتحال میں اسٹریٹجک مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خطے میں نئے اتحاد تشکیل پا سکتے ہیں جن کے اثرات جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

     عالمی توانائی کی منڈی

    ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگر اس کی معیشت یا سیاسی نظام کمزور ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے اور کئی ممالک کی معیشتیں اس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی دوڑ بھی تیز ہو سکتی ہے۔

    سیاسی کمزوری یا بحران کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ اگر ایران میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے جو پڑوسی ممالک کا رخ کریں گے۔

    اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے مسائل، سماجی خدمات پر دباؤ اور ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ ایسے حالات پورے خطے کے لیے ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

    عالمی سیاست کا ایک اصول یہ ہے کہ کوئی خلا زیادہ دیر تک خالی نہیں رہتا۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو امریکہ اور یورپی یونین خطے میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کریں گے، جبکہ روس اور چین ایران کو سہارا دینے کے لیے مزید سرگرم ہو سکتے ہیں۔

    مستقبل کے کئی ممکنہ منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں۔ ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایران معاشی بحران کا شکار رہے مگر اس کا سیاسی نظام برقرار رہے۔ دوسری صورت میں حکومت میں بڑی سیاسی تبدیلی آ سکتی ہے۔ تیسری صورت کسی علاقائی فوجی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جبکہ ایک امکان یہ بھی ہے کہ عالمی پابندیاں مزید سخت ہو جائیں۔

    خطے کے لیے ایک آزمائش

    اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو یہ صرف ایک ملک کی داخلی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سیاسی زلزلہ ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل سکتا ہے اور نئے اتحاد جنم لے سکتے ہیں۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی بڑے تنازعات جنم لیتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے خطے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں۔

    بالآخر قوموں کی تقدیر صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت، توازن اور دانشمندی سے بنتی ہے۔ جنگ کے شعلے کبھی کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہتے اور تاریخ کے اوراق یہی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کے بڑے تنازعات ہمیشہ انسانی قربانیوں کی قیمت پر ہی ختم ہوئے ہیں۔

  • پاکستان میں کمانے والوں کی تعداد میں کمی، آمدنی میں اضافہ: ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے

    پاکستان میں کمانے والوں کی تعداد میں کمی، آمدنی میں اضافہ: ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے

    حال ہی میں جاری ہونے والے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں فی خاندان کمانے والوں کی اوسط تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
    اس کے برعکس فی کس اور گھریلو آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2018-19 میں فی خاندان کمانے والوں کی اوسط تعداد 1.86 تھی۔
    یہ تعداد 2025-26 میں کم ہو کر 1.72 رہ گئی، جو وقت کے ساتھ گھریلو افرادی شمولیت میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔

    یہ رجحان شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں دیکھا گیا۔ شہری علاقوں میں فی خاندان کمانے والوں کی اوسط تعداد 1.75 سے کم ہو کر 1.62 رہ گئی۔دیہی علاقوں میں یہ تعداد 1.92 سے کم ہو کر 1.78 ہو گئی۔

    صوبائی سطح پر اعداد و شمار میں فرق سامنے آیا ہے۔ پنجاب میں فی گھرانہ کمانے والوں کی اوسط تعداد 1.63 سے معمولی بڑھ کر 1.64 ریکارڈ کی گئی۔ سندھ میں یہ تعداد 1.80 سے کم ہو کر 1.74 ہو گئی۔ خیبر پختونخوا میں 2.08 سے کم ہو کر 1.88 جبکہ بلوچستان میں 2.14 سے کم ہو کر 1.79 ریکارڈ کی گئی۔

    سروے کے مطابق روزگار کی نوعیت میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ قومی سطح پر اجرت پر کام کرنے والوں کا تناسب 2018-19 میں 54.80 فیصد تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 60.1 فیصد ہو گیا۔

    شہری علاقوں میں یہ تناسب 66.63 فیصد سے بڑھ کر 69.13 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیہی علاقوں میں بھی اجرتی ملازمت میں اضافہ ہوا، تاہم شرح شہری علاقوں سے کم رہی۔

    اس کے برعکس خود روزگار افراد کا تناسب قومی سطح پر 24.7 فیصد سے کم ہو کر 21.75 فیصد رہ گیا۔خاندان کے بلا معاوضہ کام کرنے والوں کا تناسب بھی 17.39 فیصد سے کم ہو کر 13.53 فیصد ہو گیا، جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں نمایاں ہے۔
    آجرین کا تناسب معمولی طور پر بڑھا، تاہم یہ اب بھی مجموعی روزگار کا محدود حصہ ہے۔

    آمدنی کے حوالے سے سروے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہری گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 2018-19 میں 53 ہزار 10 روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 96 ہزار 763 روپے ہو گئی۔

    دیہی علاقوں میں اوسط آمدنی 34 ہزار 520 روپے سے بڑھ کر 72 ہزار 157 روپے تک پہنچ گئی۔
    قومی سطح پر اوسط گھریلو آمدنی 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ریکارڈ کی گئی۔

    تاہم آمدنی میں اضافے کے باوجود عدم مساوات برقرار ہے۔ 2024-25 میں غریب ترین طبقے کی اوسط آمدنی 41 ہزار 851 روپے رہی، جبکہ امیر ترین طبقے کی آمدنی ایک لاکھ 39 ہزار 317 روپے تک پہنچ گئی۔

    شہری علاقوں میں یہ فرق مزید نمایاں ہے، جہاں امیر ترین گھرانوں کی آمدنی ایک لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے زیادہ جبکہ غریب ترین گھرانوں کی آمدنی 42 ہزار 412 روپے سے کم ریکارڈ کی گئی۔

    سروے کے مطابق بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم کا گھریلو آمدنی میں حصہ بڑھ گیا ہے۔ یہ حصہ 2018-19 میں 4.96 فیصد تھا جو 2024-25 میں بڑھ کر 7.77 فیصد ہو گیا۔ تحائف اور امداد سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی 2.12 فیصد سے بڑھ کر 4.57 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے غیر رسمی معاونت پر بڑھتے انحصار کی نشاندہی ہوتی ہے۔

    شہری اور دیہی علاقوں میں آمدنی کے ذرائع میں واضح فرق دیکھا گیا۔ شہری علاقوں میں تنخواہیں اور اجرتیں بدستور سب سے بڑا ذریعہ ہیں، جن کا حصہ 50.27 فیصد ہے، جبکہ غیر زرعی سرگرمیاں 20.36 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
    دیہی علاقوں میں فصلوں سے آمدنی 11.73 فیصد اور مویشیوں سے آمدنی 11.94 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو بالترتیب دوسرے اور تیسرے اہم ذرائع ہیں۔