مُکھی ہاؤس: ایک گھر جو بٹوارے کے بعد بھی حیدرآباد سے جدا نہ ہوا

حیدرآباد کی پرانی گلیوں میں کچھ عمارتیں صرف اینٹ، پتھر، لکڑی اور شیشے سے نہیں بنتیں، وہ اپنے اندر پورا ایک زمانہ آباد رکھتی ہیں۔ 

مُکھی ہاؤس بھی ایسی ہی ایک عمارت ہے۔پکا قلعہ روڈ اور شاہی بازار کے پرہجوم ماحول کے درمیان کھڑی یہ عمارت بظاہر ایک تاریخی حویلی لگتی ہے، مگر اس کے دروازے سے اندر داخل ہوں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک سا گیا ہو۔ 

لکڑی کی کاریگری، رنگین شیشے، ماربل کے فرش، محرابیں، برآمدے، سیڑھیاں اور بلند چھتیں ایک ایسے حیدرآباد کی تصویر سامنے لاتی ہیں جو آج کے شہر سے بہت مختلف تھا۔

یہ صرف ایک گھر نہیں، ایک خاندان کی خوشحالی، تقسیمِ ہند، ہجرت، فسادات، زوال اور پھر بحالی کی داستان ہے۔

مُکھی ہاؤس، جسے مُکھی محل بھی کہا جاتا ہے، بیسویں صدی کے آغاز میں مُکھی جیٹھانند نے تعمیر کرایا۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس کی تعمیر 1920 اور 1921کے درمیاں ہوئی۔ یہ تین منزلہ عمارت اپنے وقت میں صرف رہائش گاہ نہیں بلکہ مُکھی خاندان کے سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ کی علامت تھی۔

مُکھی خاندان حیدرآباد کے ان بااثر سندھی ہندو خاندانوں میں شمار ہوتا تھا جنہوں نے شہر کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔

عمارت کے طرزِ تعمیر میں یورپی اور مقامی اثرات کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ بیرونی حصے میں کلاسیکی اور رینی ساں طرز کے ستون اور محرابیں نظر آتی ہیں، جبکہ اندرونی حصوں میں رنگین شیشے، لکڑی کا نفیس کام، ماربل اور آرائشی نقش و نگار اس دور کے ذوقِ جمال کی عکاسی کرتے ہیں۔

جب حویلی میں نہرو آئے

مُکھی ہاؤس کی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے بھی جڑتا ہے۔تاریخی حوالوں کے مطابق جواہر لال نہرو بھی مُکھی خاندان کے مہمان رہے۔ 1931 کی ایک تصویر، جس میں نہرو اور ان کی اہلیہ کو مُکھی ہاؤس میں دیکھا جا سکتا ہے، آج بھی اس عمارت کی تاریخی اہمیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

یوں یہ حویلی محض ایک خاندان کی رہائش گاہ نہیں رہی بلکہ برصغیر کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے ایک دور کی خاموش گواہ بھی بن گئی۔

1947 میں انڈیا تقسیم ہوا تو لاکھوں خاندانوں کی طرح مُکھی خاندان کو بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ خاندان کے افراد بھارت منتقل ہوگئے اور وہ گھر جس میں کبھی زندگی کی رونقیں تھیں، آہستہ آہستہ خاموش ہوگیا۔لیکن مُکھی ہاؤس کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔

وقت کے ساتھ عمارت مختلف سرکاری اداروں کے استعمال میں رہی۔ اسے ایک عرصے تک اسکول کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ مختلف ادوار میں عمارت کو نظرانداز کیے جانے اور غلط استعمال کے باعث اس کی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔

فسادات کی آگ اور بچ جانے والی عمارت

1980 کی دہائی کے نسلی فسادات نے حیدرآباد کی کئی تاریخی عمارتوں کو متاثر کیا۔ مُکھی ہاؤس بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ تاریخی ورثے کے ریکارڈ کے مطابق عمارت کو آگ لگائی گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔ 

بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعمال میں رہنے کی وجہ سے یہ عمارت غیر قانونی قبضے سے کسی حد تک محفوظ رہی۔یہ بات آج حیران کن محسوس ہوتی ہے کہ جس عمارت میں کبھی سیاسی رہنما، تاجر، خاندان اور شہر کے بااثر لوگ جمع ہوتے تھے، ایک وقت میں وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔

حیدرآباد کی بہت سی پرانی حویلیاں اسی دوران یا تو منہدم ہوگئیں یا اپنی اصل شناخت کھو بیٹھیں۔ مُکھی ہاؤس کا باقی رہ جانا اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

مُکھی ہاؤس کی بحالی کی باقاعدہ کوششیں 2009 میں شروع ہوئیں۔ سندھ کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے عمارت کے اصل نقش و نگار اور تعمیراتی خصوصیات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ بحالی کے دوران پرانی تصاویر، عمارت کے باقی ماندہ حصوں اور مُکھی خاندان کی یادداشتوں سے بھی مدد لی گئی۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ کام آسان نہیں تھا؛ پرانی ٹائلوں سے مشابہ ٹائلیں تلاش کرنا، رنگین شیشوں کو دوبارہ تیار کرنا اور روایتی کاریگری کو بحال کرنا اس منصوبے کا حصہ تھا۔یہ محض دیواروں کی مرمت نہیں تھی۔یہ ماضی کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش تھی۔

2013: جب مُکھی خاندان اپنے گھر واپس آیا

بحالی کے سفر کا سب سے جذباتی لمحہ 29 جنوری 2013 کو آیا، جب مُکھی خاندان کے 11 افراد اپنے آبائی گھر میں دوبارہ جمع ہوئے۔ ان میں تین ایسے افراد بھی شامل تھے جو اسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔خاندان کے افراد نے عمارت کے مختلف حصوں سے جڑی اپنی یادیں بیان کیں۔ 

ایک گھر جو کئی دہائیوں سے ان سے دور تھا، چند گھنٹوں کے لیے پھر ان کی یادوں کا مرکز بن گیا۔ یہ منظر شاید مُکھی ہاؤس کی پوری کہانی کا سب سے خوبصورت استعارہ ہے: گھر وہی تھا، لوگ بدل گئے تھے، لیکن یادیں وہیں موجود تھیں۔

میوزیم بنانے کی شرط 

مُکھی ہاؤس کی کہانی کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ مُکھی خاندان نے اپنی آبائی عمارت کو ذاتی ملکیت یا نجی استعمال میں واپس لینے کے بجائے اسے عوامی ورثے کے طور پر محفوظ کرنے کی حمایت کی۔خاندان کی خواہش تھی کہ عمارت کو میوزیم بنایا جائے تاکہ یہ صرف مُکھی خاندان کی یادگار نہ رہے بلکہ حیدرآباد اور سندھ کے لوگوں کے لیے بھی تاریخ کا حصہ بن سکے۔

یہ فیصلہ اس عمارت کی کہانی کو ایک نیا معنی دیتا ہے۔جن لوگوں نے یہ گھر چھوڑا تھا، انہوں نے آخرکار اسے اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کروایا۔

آج مُکھی ہاؤس ایک میوزیم ہے جہاں عمارت خود سب سے بڑا تاریخی نمونہ ہے۔یہاں مُکھی خاندان کی تصاویر، فرنیچر اور دیگر اشیا کے ساتھ سندھ کے دستکاری کے نمونے اور حیدرآباد کی شہری تاریخ سے متعلق مواد بھی موجود ہے۔

لیکن اس میوزیم کو دیکھنے والے کے لیے شاید سب سے دلچسپ چیز کسی ایک شیشے کے صندوق میں رکھی ہوئی چیز نہیں۔

اصل نمائش خود مُکھی ہاؤس ہے۔

اس کے برآمدے، صحن، سیڑھیاں، لکڑی کے دروازے، رنگین شیشے، ماربل کے فرش اور چھتوں کی آرائش اس زمانے کے طرزِ زندگی کی ایسی تصویر بناتے ہیں جسے کتاب پڑھ کر مکمل طور پر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔

مُکھی ہاؤس کو صرف ایک ہندو خاندان کی حویلی سمجھنا اس کی تاریخ کو محدود کرنا ہوگا۔یہ تقسیم سے پہلے کے حیدرآباد کی کہانی ہے۔یہ سندھ کی مشترکہ شہری تہذیب کی کہانی ہے۔یہ ہجرت اور بچھڑنے کی کہانی ہے۔یہ ان خاندانوں کی کہانی ہے جو ایک دن اپنا گھر چھوڑ کر دوسری جانب چلے گئے۔یہ ان عمارتوں کی کہانی ہے جو فسادات، قبضوں، غفلت اور وقت کے ہاتھوں ختم ہوگئیں۔

اور یہ اس امید کی کہانی بھی ہے کہ اگر معاشرہ اپنے ماضی کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کرے تو ایک بوسیدہ عمارت دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔

مُکھی ہاؤس کی بحالی ایک کامیابی ضرور ہے، لیکن تاریخی ورثے کا تحفظ صرف دیواروں کو کھڑا رکھنے کا نام نہیں۔اس عمارت سے وابستہ کہانیاں، خاندان کی یادیں، پرانی تصاویر، دستاویزات، فرنیچر، فنِ تعمیر اور مقامی تاریخ بھی محفوظ رہنی چاہیے۔

حالیہ برسوں میں اس عمارت کے حوالے سے یہ ضرورت بھی سامنے آئی ہے کہ تاریخی اشیا اور تصاویر کے بارے میں سندھی، اردو اور انگریزی میں معلومات فراہم کی جائیں اور لکڑی کے اہم حصوں کی بروقت مرمت کی جائے۔کیونکہ اگر عمارت محفوظ ہو لیکن اس کی کہانی لوگوں تک نہ پہنچے تو ورثے کا ایک بڑا حصہ پھر بھی ضائع ہوجاتا ہے۔

حیدرآباد کے نام ایک خاموش پیغام

آج جب پکا قلعہ روڈ پر ٹریفک رواں دواں ہے، شاہی بازار اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں گم ہے اور شہر مسلسل تبدیل ہورہا ہے، مُکھی ہاؤس خاموشی سے کھڑا ہے۔وہ شاید اپنے دروازے سے گزرنے والے ہر شخص سے صرف ایک سوال کرتا ہے:کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے شہر نے کیا کچھ دیکھا ہے؟ اس کے ستونوں نے ایک خاندان کی خوشحالی دیکھی۔

اس کی دیواروں نے سیاسی ملاقاتیں دیکھیں۔اس نے تقسیم دیکھی۔اس نے ہجرت دیکھی۔اس نے فسادات اور تباہی دیکھی۔اور پھر اس نے بحالی بھی دیکھی۔

شاید اسی لیے مُکھی ہاؤس محض ایک میوزیم نہیں۔

یہ حیدرآباد کی اجتماعی یادداشت کا ایک زندہ باب ہے۔

اور جب تک اس کے دروازے کھلے رہیں گے، شہر کی نئی نسلیں ماضی کو صرف کتابوں میں نہیں پڑھیں گی، بلکہ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ بھی سکیں گی۔

اسی بارے میں: