اکتوبر2026 کی ایک سرد اور دھندلی شام، پیرس کی تاریخی گلیوں میں فضا عام دنوں جیسی نہیں ہے۔ چیمپس ایلیز پر جہاں کبھی دنیا بھر کے سیاح قہقہے لگاتے اور لگژری دکانوں کا رخ کرتے تھے، آج وہاں شیشے ٹوٹنے کی آوازیں، آنسو گیس کا دھواں اور نوجوانوں کے غصیلی نعرے گونج رہے ہیں۔
یہ مناظر کسی جنگ زدہ علاقے کا پتا دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ فرانس ہے، جو کبھی یورپ میں آزادی، مساوات اور بھائی چارے کا علم بردار تھا۔ آج اسی فرانس کے دارالحکومت پیرس اور مارسے اور لیون جیسے بڑے شہر مکمل افراتفری کی لپیٹ میں ہیں۔
لیکن اس جلتے ہوئے فرانس، بغاوت پر آمادہ نوجوان نسل اور تاریخ کے بدترین شہری بحران کی کہانی پیرس سے نہیں، بلکہ ہزاروں میل دور واشنگٹن کی سیاسی راہداریوں اور خلیج فارس کی لہروں سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ کہانی واشنگٹن کے اس دیرینہ جغرافیائی سیاسی خواب سے شروع ہوتی ہے، جس کا مقصد تہران میں قائم سخت گیر اسلامی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا، یعنی ایران میں تبدیلیِ اقتدار۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی سخت ترین اقتصادی پابندیوں، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایرانی تیل کی برآمدات صفر تک لانے کی جارحانہ پالیسی کا مقصد تہران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینا تھا، تاکہ وہاں اقتدار تبدیل ہو جائے۔
لیکن 2026 کے اواخر تک دنیا نے دیکھا کہ تہران میں اقتدار کا ڈھانچہ تو جوں کا توں برقرار رہا، مگر اس امریکی مہم جوئی کے بھیانک نتائج نے پورے یورپ، بالخصوص فرانس، کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور یورپ کا معاشی مقتل
جب واشنگٹن نے ایران کا معاشی گھیراؤ سخت کیا تو تہران نے اپنے دفاع میں وہ قدم اٹھایا، جس کا خدشہ پوری دنیا کو تھا۔ ایران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، کو مکمل طور پر بند کر دیا۔
یہ وہ تزویراتی آبی راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی مجموعی ضرورت کا 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس بحری جہازوں کے ذریعے گزرتی ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایرانی ناکہ بندی کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں زلزلہ آ گیا۔ رسدی سلسلے درہم برہم ہو گئے اور توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب منتقلی کے نازک دور سے گزرنے والا یورپ بدترین توانائی کے بحران میں مبتلا ہو گیا۔
فرانس میں اس کے اثرات بجلی کی کڑک کی طرح فوری اور ہولناک تھے۔ اکتوبر 2026 کے وسط تک فرانس میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح، یعنی 2.37 یورو فی لیٹر، تک پہنچ گئیں۔ قیمتوں میں اس ریکارڈ اضافے نے ملک بھر میں نقل و حمل کے نظام کو مفلوج کر دیا۔
مال برداری کی لاگت بڑھنے سے سپر مارکیٹوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئیں۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ فرانس کے 18 فیصد سے زائد پٹرول پمپس پر ایندھن کا ایک قطرہ بھی دستیاب نہیں رہا۔
مہنگائی اور زندگی گزارنے کی ناقابل برداشت لاگت نے فرانسیسی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا، اور بارود کے اس ڈھیر کو چنگاری دکھانے کا کام ملک کی یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے نوجوانوں نے کیا۔

جب باغی نوجوان نسل کو مستقبل تاریک نظر آئے
اس پورے بحران کا سب سے ہولناک اور سنسنی خیز پہلو فرانس کی نوجوان نسل کا طرزِ عمل ہے۔ یہ ہنگامے محض کسی سیاسی جماعت یا مزدور یونین کی ہڑتال نہیں، بلکہ نوجوانوں کی ایسی بغاوت ہیں جو پورے ریاستی نظام کو مسترد کر رہی ہے۔
اکتوبر کے آغاز میں یہ تحریک اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی قلت، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور گرتے ہوئے تعلیمی معیار کے خلاف شروع کی تھی۔ لیکن جیسے ہی ایندھن کا بحران اور مہنگائی عروج پر پہنچی، ان طلبہ کے احتجاج میں غریب اور متوسط طبقے کے وہ نوجوان بھی شامل ہو گئے، جنہیں اپنا مستقبل مکمل طور پر تاریک دکھائی دے رہا تھا۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کا یورپی اور فرانسیسی نوجوان خود کو ایسے نظام کا قیدی سمجھتا ہے، جہاں حکمران طبقہ عالمی سیاست کی بساط پر جنگی کھیل کھیل رہا ہے، جبکہ اس کی قیمت عام نوجوان کو چکانی پڑ رہی ہے۔ تعلیم مہنگی، روزگار کے مواقع محدود اور بنیادی ضروریات کی فراہمی مشکل ہو چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس وقت پیرس کی سڑکوں پر پچاسی فیصد سے زائد مظاہرین اسکولوں کے طلبہ یا بیس سال سے کم عمر نوجوان ہیں۔ ان کے اندر کا غصہ اور مایوسی اب جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور افراتفری کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔
وہ نقاب پوش ہو کر دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کی دکانوں کے شیشے توڑ رہے ہیں، لگژری گاڑیوں کو نذرِ آتش کر رہے ہیں اور پولیس کی بکتر بند گاڑیوں پر پٹرول بم پھینک رہے ہیں۔ یہ نسل اب اصلاحات نہیں، بلکہ پورے نظام کو الٹ دینا چاہتی ہے۔
کیا یہ ایک نیا انقلابِ فرانس ہے؟
آج کے پیرس کو دیکھ کر تاریخ کے طالب علموں کو اٹھارہویں صدی کا وہ دور یاد آ رہا ہے، جب فرانس دنیا کے عظیم انقلابات میں سے ایک کا گواہ بنا تھا۔ 1789 کے انقلابِ فرانس کے وقت بھی پس پردہ محرکات میں شاہی خاندان اور حکمران اشرافیہ کی بیرونی جنگوں اور پرتعیش طرزِ زندگی پر توجہ، جبکہ عوام کی غربت، روٹی کی قلت اور ملک کا شدید مالی بحران شامل تھے۔
اس وقت بھی بھوک اور ناانصافی نے پیرس کی سڑکوں پر بدامنی کو جنم دیا تھا اور مظاہرین نے شاہی اقتدار کو چیلنج کیا تھا۔
آج، 2026 میں، اگرچہ بادشاہت نہیں ہے اور ایلیسی پیلس میں صدر ایمانوئل میکرون براجمان ہیں، لیکن عوامی غیظ و غضب کی نوعیت میں مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ جب لیموج کا 140 سال پرانا تاریخی سٹی ہال نذرِ آتش کیا گیا اور اس کا کلاک ٹاور زمین بوس ہوا، یا جب مارسے کے سٹی ہال میں داخل ہو کر نوجوانوں نے دیواروں پر انارکی کے نعرے لکھے، تو یہ علامتی طور پر موجودہ سیاسی اشرافیہ کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔
عوام اور نوجوان نسل یہ سمجھتی ہے کہ فرانس کے حکمران ان کے ٹیکسوں کے پیسے اور ملکی معیشت کو امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں، جبکہ ان کے اپنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ یہ مناظر اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ تاریخ ایک نئے اور جدید ڈیجیٹل دور کے انقلابِ فرانس کی شکل میں خود کو دہرا سکتی ہے۔

پڑوسیوں کے گھروں میں اٹھتے شعلے اور یورو زون کا زوال
فرانس میں لگی یہ آگ اب صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ چونکہ فرانس یورپی یونین کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور اس کے اہم سیاسی مراکز میں سے ایک ہے، اس لیے پیرس کی سڑکوں پر جاری بدامنی کے اثرات پورے براعظم پر مرتب ہو رہے ہیں۔
بیلجیم کے دارالحکومت برسلز اور شہر لیج میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ اٹلی کے صنعتی مرکز میلان میں نوجوانوں نے پیازا ڈومو کو بند کر کے اطالوی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ پرتگال، یونان اور یہاں تک کہ البانیہ میں بھی تعلیمی بجٹ اور مہنگائی کے خلاف مظاہروں میں فرانسیسی تحریک کی پیروی کی جا رہی ہے۔
یورپی بانڈ مارکیٹ اس وقت دباؤ کا شکار ہے اور بین الاقوامی منڈی میں یورو کی قدر تیزی سے گر رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش اور فرانس میں جاری ہنگامے مزید چند ہفتوں تک برقرار رہے تو پورا یورو زون ایسے معاشی جمود کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے نکلنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
واشنگٹن کی غلطی اور یورپ کا مقدر
پیرس کا یہ بحران اس بات کی مثال ہے کہ اکیسویں صدی کی عالمگیر معیشت میں جغرافیائی سیاسی فیصلوں کے اثرات کتنے دور رس اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن نے جب ایران پر پابندیاں عائد کرکے وہاں تبدیلیِ اقتدار کا منصوبہ بنایا تو شاید اس کے تزویراتی ماہرین نے یہ نہیں سوچا تھا کہ تہران میں اقتدار تبدیل کرنے کی کوشش کے اثرات پیرس، برسلز اور روم کی سڑکوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران میں حکومت تو نہ بدلی، لیکن اس جغرافیائی سیاسی کشمکش نے فرانسیسی جمہوریت اور معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
آج فرانس ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ سڑکوں پر موجود لاکھوں باغی نوجوانوں کو طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کرے، جس سے بدامنی مزید بڑھ سکتی ہے، یا پھر وہ واشنگٹن کی غیر مشروط حمایت سے پیچھے ہٹ کر مشرق وسطیٰ میں امن اور آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے آزادانہ سفارتی راستہ اختیار کرے۔
اگر پیرس کی سیاسی اشرافیہ نے اب بھی وقت کی نبض نہ پہچانی تو پیرس کی گلیوں سے اٹھنے والا یہ دھواں پورے یورپ کے موجودہ سیاسی نظام کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتا ہے، اور دنیا ایک بار پھر فرانس سے جنم لینے والے ایسے انقلاب کی گواہ بن سکتی ہے، جس کی قیمت پورے یورپ کو چکانا پڑے گی۔

