ٹھٹہ کا سپوت، کراچی کا معمار: راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی کا بھولا ہوا افسانہ

آج کا کراچی، جو دو کروڑ سے زائد انسانوں کا مسکن اور پاکستان کا معاشی انجن ہے، اپنی شناخت کی تہوں میں ان گنت ایسی شخصیات کی تاریخ چھپائے ہوئے ہے جن کا پسینہ اور وژن اس شہر کی بنیادوں میں گارا بن کر لگا۔ 

نوآبادیاتی دور، یعنی برطانوی راج، کا کراچی محض چند ملاحوں اور مچھیروں کی بستی سے نکل کر ایک جدید، منظم اور خوب صورت پورٹ سٹی میں تبدیل ہو رہا تھا تو اس کے پیچھے کچھ ایسے مخلص عوامی خادموں کا دماغ کام کر رہا تھا جن کا کوئی ذاتی سیاسی ایجنڈا نہیں، بلکہ صرف شہری ترقی کا خواب تھا۔

ان چمکتے ہوئے ناموں میں سے ایک نام راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی کا ہے، ایک ایسی کثیرالجہت شخصیت جو بیک وقت ایک کامیاب تاجر، دوراندیش تعلیمی بانی، روادار سیاست دان اور کراچی و لوئر سندھ کی بلدیاتی ترقی کے روحِ رواں تھے۔

عام طور پر تاریخ کے صفحات میں نوآبادیاتی دور کے صرف چند بڑے ناموں، جیسے جمشید نسروانجی یا سر کاؤس جی کٹرک، کا تذکرہ ملتا ہے، لیکن راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وہ خاموش معمار تھے جن کا کام کراچی کی سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور یہاں تک کہ سجاول اور ٹھٹہ کے دریاؤں کے پانیوں پر بھی کندہ رہا۔

ٹھٹہ سے کراچی تک: ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

شیوارام دیوان مل وزیرانی 17 ستمبر 1883 کو سندھ کے تاریخی اور علمی شہر ٹھٹہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ایسے سندھی ہندو خاندان کے چشم و چراغ تھے جو خطے میں اپنی وسیع زمیندارانہ جائیدادوں اور بااثر تجارتی ساکھ کی وجہ سے مقتدر مانا جاتا تھا۔

برطانوی ہند کے اس دور میں ٹھٹہ اگرچہ اپنی قدیم شان و شوکت کھو چکا تھا، لیکن اس کی مٹی کی علمی زرخیزی برقرار تھی۔ شیوارام نے اسی ماحول میں پرورش پائی اور ان کی ابتدائی تربیت میں زمیندارانہ سخاوت اور کاروباری نظم و ضبط دونوں شامل ہو گئے۔

انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جب کراچی سندھ کا ابھرتا ہوا تجارتی مرکز بن رہا تھا تو شیوارام دیوان مل نے بھی ٹھٹہ کے بعد کراچی کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ تاریخی سوانحی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ وہ محض ایک نجی تاجر یا زمیندار بن کر مطمئن نہیں رہے، بلکہ انھوں نے اپنی خاندانی دولت اور اثر و رسوخ کو عوامی خدمت کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔

عوامی سفر کا آغاز: ایک نوجوان کونسلر کی آمد

بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی شیوارام کے عوامی کیریئر کا ایک ایسا سفر شروع ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کی عمر محض 23 برس تھی جب 1906 میں انھیں کراچی میونسپلٹی کا میونسپل کونسلر نامزد کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب بلدیہ میں شامل ہونا محض ایک اعزاز نہیں، بلکہ شہر کی تعمیر کی ایک کڑی ذمہ داری تھی۔

ان کی انتظامی صلاحیتوں کا اندازہ لگا کر برطانوی انتظامیہ نے 1909 میں انھیں کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کا رکن بنایا اور 1911 میں وہ اعزازی مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ بعد ازاں، ان کی دیانت اور انصاف پسندی کو دیکھتے ہوئے انھیں اسپیشل فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کا درجہ دیا گیا اور وہ کراچی ضلع کے لیے جسٹس آف دی پیس کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

یہ وہ عہدے تھے جہاں اس دور میں ایک مقامی باشندے کا پہنچنا اس کی غیر معمولی قابلیت اور غیر متنازع کردار کی دلیل ہوتا تھا۔

مسلم اکثریتی حلقے کا ہندو صدر: رواداری کی روشن مثال

راؤ بہادر شیوارام دیوان مل کی سیاسی اور سماجی زندگی کا سب سے درخشاں اور حیرت انگیز باب ان کا کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ کا صدر منتخب ہونا تھا۔ وہ اس بورڈ کے پہلے منتخب غیر سرکاری صدر بنے اور انھوں نے 1920 سے 1928 تک اس عہدے پر کام کیا۔

اس انتخاب کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ اس دور کے سرکاری اور سوانحی مواد کے مطابق، یہ انتخابی حلقہ بنیادی طور پر محمڈن، یعنی مسلم اکثریتی، تھا۔ ایک ایسے دور میں جب برطانوی ہند میں مذہبی بنیادوں پر سیاست جڑیں پکڑ رہی تھی، ایک سندھی ہندو رہنما کا مسلم اکثریتی حلقے سے بلا مقابلہ یا بھاری اکثریت سے بار بار منتخب ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ سندھ کی مٹی صوفیانہ رواداری اور مروت سے گندھی ہوئی تھی۔ 

شیوارام دیوان مل نے مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر دیہی اور شہری عوام کی خدمت کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم ووٹرز اور عمائدین نے ان پر اپنی قیادت کا پورا اعتماد برقرار رکھا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ یکم اپریل 1937 سے شروع ہونے والی اگلی تین سالہ مدت کے لیے بھی وہ دوبارہ اس بورڈ کے صدر منتخب ہوئے۔

تعلیمی انقلاب اور خواتین کی صحت کے لیے جدوجہد

شیوارام دیوان مل کا وژن محض سڑکیں اور عمارتیں بنانے تک محدود نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی تعلیم اور صحت کے بغیر ناممکن ہے۔

کراچی میونسپل اسکول بورڈ (1927 تا 1930)

جب وہ اس بورڈ کے چیئرمین بنے تو انھوں نے کراچی کے گلی کوچوں میں پرائمری تعلیم کے جال کو پھیلایا۔ انھوں نے اسکولوں کے نصاب، اساتذہ کی تربیت اور غریب بچوں کے لیے تعلیمی وظائف پر خصوصی توجہ دی۔ 

اس کے علاوہ وہ مشہور ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے بورڈ کے انتظام سے بھی گہرائی سے وابستہ رہے، جو اس وقت پورے سندھ میں اعلیٰ تعلیم کا ایک بڑا مرکز تھا۔

لوئیس لارنس انسٹی ٹیوٹ

نوآبادیاتی دور میں خواتین کی طبی تعلیم اور ان کے علاج معالجے کی سہولیات ناپید تھیں۔ شیوارام دیوان مل نے سندھ کے ایڈیشنل جوڈیشل کمشنر ایچ این کراؤچ کے ساتھ مل کر کراچی میں لوئیس لارنس انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ تاریخی آرکائیوز کی ایک اہم دستاویز، یعنی 1918 کی نیشنل ایسوسی ایشن فار سپلائینگ فیمیل میڈیکل ایڈ ٹو دی ویمن آف انڈیا کی سالانہ رپورٹ، اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ شیوارام نے اس انسٹی ٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ اور مالیاتی کھاتوں کی منظوری کی خود تائید کی تھی۔ 

یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ وہ خواتین کو طبی شعبے میں آگے لانے کے لیے کس قدر متحرک تھے۔

لیڈی فیلس لوئیس لارنس اس دور کے کلکٹر کراچی کی اہلیہ تھیں۔ انھوں نے سندھی خواتین کی تعلیم اور صحت کے لیے جدوجہد کی تھی۔ کراچی کے لیڈی ڈفرن ہسپتال میں کاوسجی اسکول آف مڈوائفری دراصل فیلس لوئیس لارنس انسٹی ٹیوٹ ہی کا تسلسل ہے، جو 1912 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا نام بھی انھی کے نام پر رکھا گیا تھا۔

ایک وسیع و عریض بلدیاتی نیٹ ورک

اگر ہم ان اداروں کی فہرست دیکھیں جن سے شیوارام دیوان مل وابستہ تھے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کراچی اور لوئر سندھ کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں تھا جہاں ان کی خدمات نہ ہوں۔ ان اداروں میں درج ذیل شامل تھے:

کراچی پورٹ ٹرسٹ: وہ کے پی ٹی کے بورڈ کے اہم رکن رہے، جہاں انھوں نے کراچی بندرگاہ کی توسیعی مہم میں حصہ لیا۔

شہری خوب صورتی: 1926 میں وہ میونسپل گارڈنز اور چڑیا گھر کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ کراچی کے گاندھی گارڈن، جو اب چڑیا گھر کہلاتا ہے، اور دیگر پارکوں کی ہریالی انھی کے دورِ صدارت کی مرہونِ منت تھی۔

صحت اور فلاحِ عامہ: وہ انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی سندھ پرووینشل برانچ کے اعزازی خزانچی رہے اور انھوں نے کراچی سول ہسپتال ایڈ اینڈ نرسنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر غریب مریضوں کے لیے مفت ادویات اور نرسنگ کی سہولیات فراہم کیں۔

سماجی اور تجارتی روابط: وہ کراچی کلب کے صدر، سندھ آبزرور اینڈ مرکنٹائل اسٹیم پریس لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور آر جی ایم ہندو جمخانہ کے اعزازی خزانچی بھی رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کراچی جیل کے غیر سرکاری معائنہ کار بھی تھے، جہاں وہ قیدیوں کے انسانی حقوق اور ان کی اصلاح کے لیے کام کرتے تھے۔

برطانوی تاج کے اعزازات: راؤ صاحب سے راؤ بہادر تک

ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں نوآبادیاتی حکومت نے انھیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑے اعزازات سے نوازا۔

1921 میں انھیں راؤ صاحب کا خطاب ملا۔

1927 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں راؤ بہادر کے اعلیٰ شہری خطاب سے سرفراز کیا گیا۔

1935 میں انھیں برطانوی بادشاہ کا کنگز سلور جوبلی میڈل دیا گیا۔

لیکن ان تمام سرکاری اعزازات سے بڑھ کر شیوارام کے لیے اصل اعزاز حکومت کے یہ تمغے نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں ان کی محبت تھی۔

دریا کا اسٹیمر اور شہر کی سڑک: جغرافیائی ورثہ

راؤ بہادر شیوارام کی خدمات کا ایک خوب صورت اعتراف دیہی سندھ میں بھی کیا گیا۔ ان کے دور میں ٹھٹہ اور سجاول کے درمیان دریائے سندھ کو عبور کرنا ایک مشکل ترین مرحلہ تھا۔ انھوں نے اس روٹ پر عوامی نقل و حمل کو منظم کیا۔ 

ان کی خدمات کے صلے میں کراچی ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ نے ٹھٹہ اور سجاول کے درمیان چلنے والے ایک مسافر فیری اسٹیمر کا نام شیوارام دیوان مل فیری رکھا۔ بعد کی دستاویزات میں ایک باقاعدہ فیری کمیٹی کا ذکر بھی ملتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا نام اس خطے میں سفری سہولت کی علامت بن چکا تھا۔

اسی طرح کراچی کے شہری جغرافیے میں بھی ان کی یاد کو محفوظ کر دیا گیا۔ نوآبادیاتی دور کی ڈائریکٹریز کے مطابق، کراچی کے اولڈ ٹاؤن اور صدر کے کاروباری علاقے کے قریب ایک اہم سڑک کا نام شیوارام دیوان مل روڈ رکھا گیا۔ 

یہ سڑک آج بھی بوہری پیر، کراچی کی تجارتی زندگی کا حصہ ہے، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ گزرتے ہیں، اگرچہ اب بہت کم لوگ اس نام کے پیچھے چھپی شخصیت سے واقف ہیں۔

تقسیمِ ہند اور آخری ایام: مٹی سے وفاداری

1947 میں جب تقسیمِ ہند کا تاریخی اور خونی سانحہ رونما ہوا تو سندھ کے لاکھوں ہندو خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر بھارت ہجرت کر گئے۔ لیکن راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی کا دل اسی مٹی کے لیے دھڑکتا تھا۔ انھوں نے ہجرت کی تلخی پر اپنے وطن کی محبت کو ترجیح دی اور کراچی ہی میں قیام کا فیصلہ کیا۔ وہ تقسیم کے بعد بھی اسی شہر میں رہے جسے انھوں نے اپنے ہاتھوں سے سنوارا تھا۔

28 اکتوبر 1958 کو کراچی ہی میں اس معمار نے اپنی آخری سانسیں لیں اور ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔

تاریخ کا قرض

راؤ بہادر شیوارام دیوان مل وزیرانی محض ایک تاجر یا جاگیردار نہیں تھے جنھیں مقتدر حلقوں نے ایک خطاب دے دیا ہو۔ وہ جدید سندھ اور خاص طور پر کراچی کی ادارہ جاتی اور شہری ترقی کے ایک متحرک ستون تھے۔ ٹھٹہ میں جنم لینے والے اس سندھی ہندو رہنما نے اپنی پوری زندگی ایک ایسی متنوع آبادی کی خدمت میں گزار دی جو مذہبی اور سماجی طور پر منقسم تھی، لیکن ان کے وژن میں سب کے لیے برابری تھی۔

آج جب ہم کراچی کی سڑکوں پر چلتے ہیں یا ٹھٹہ اور سجاول کے راستوں کو دیکھتے ہیں تو راؤ بہادر شیوارام جیسے معماروں کی یاد کو تازہ کرنا ہمارا اخلاقی اور تاریخی فرض بن جاتا ہے۔ وہ سندھ کے اس روادار، باشعور اور ترقی پسند ماضی کا چہرہ ہیں جسے آنے والی نسلوں کے سامنے لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔