بھارت کی معروف مصنفہ ارون دھتی رائے ایک بار پھر اپنے سیاسی بیانات کے باعث خبروں میں ہیں۔ ارون دھتی رائے نے طنز و مزاح کے ذریعے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی سرگرمیوں کو حکمران جماعت کی سیاسی شبیہ کے لیے ایک چیلنج قرار دیا۔
چند روز قبل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت، نوجوانوں کے احتجاج اور ملک میں انتخابی عمل سے متعلق الزامات پر گفتگو کی۔
یہ تازہ انٹرویو اس مصنفہ کے طویل سفر کا ایک اور باب ہے جس نے اپنے پہلے ہی ناول سے عالمی ادبی شہرت حاصل کی، لیکن بعد میں اپنی تحریروں کا بڑا حصہ بھارت کی سیاست، سماجی ناانصافی، ریاستی طاقت، جنگ اور انسانی حقوق جیسے موضوعات کے لیے وقف کر دیا۔
ان کی کہانی صرف ایک کامیاب ناول نگار کی کہانی نہیں۔ اس میں فلمی دنیا سے وابستگی، سیاسی مضامین، متنازع بیانات، عالمی ادبی اعزازات اور اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ تعلق پر لکھی گئی ایک ذاتی یادداشت بھی شامل ہے۔
شیلانگ سے عالمی ادب تک کا سفر
ارون دھتی رائے 24 نومبر 1961 کو شیلانگ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ میری رائے کیرالا سے تعلق رکھتی تھیں اور ایک معلمہ تھیں، جب کہ ان کے والد چائے کے باغات سے وابستہ تھے۔ ان کی پرورش کا اہم حصہ کیرالا میں گزرا۔
رائے نے دہلی کے اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر میں فن تعمیر کی تعلیم حاصل کی۔ تاہم انہوں نے فن تعمیر کو اپنا مستقل پیشہ نہیں بنایا اور بعد میں تحریر، اسکرین پلے نویسی اور فلمی کام کی طرف آئیں۔
ان کی ابتدائی زندگی کے تجربات، خصوصاً خاندان کے اندر تعلقات اور والدہ کے ساتھ پیچیدہ رشتہ، بعد میں ان کی تحریروں میں اہم موضوعات بنے۔ ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کی حالیہ یادداشت Mother Mary Comes to Me خاص اہمیت رکھتی ہے، جس میں انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ تعلق اور اپنی زندگی کی تشکیل کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

وہ ناول جس نے بکر پرائز جتوایا
1997 میں ارون دھتی رائے کا پہلا ناول The God of Small Things شائع ہوا۔ اسی سال اس نے بکر پرائز جیتا اور رائے عالمی ادبی منظرنامے پر نمایاں ہو گئیں۔ وہ اس اعزاز کو جیتنے والی پہلی بھارتی مصنفہ تھیں۔
ناول کی کہانی کیرالا میں ایک شامی مسیحی خاندان کے پس منظر میں آگے بڑھتی ہے۔ اس کے مرکزی کردار جڑواں بچے راہیل اور ایسٹھا ہیں، جن کی زندگیوں کے ذریعے مصنفہ خاندانی تعلقات، محبت، ذات پات، طبقاتی تقسیم اور سماجی پابندیوں کے اثرات کو سامنے لاتی ہیں۔
ناول کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا اسلوب ہے۔ رائے بچوں کی یادداشت، زبان کے غیر روایتی استعمال اور وقت کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے میں سمو کر کہانی بیان کرتی ہیں۔ اس طرح ایک خاندان کا المیہ وسیع تر سماجی تضادات کی عکاسی بن جاتا ہے۔
کتاب نے عالمی سطح پر تجارتی اور ادبی کامیابی حاصل کی اور 40 سے زیادہ زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے۔ تاہم بھارت میں اس کے بعض جنسی مناظر پر اعتراضات بھی ہوئے اور کیرالا میں مصنفہ پر فحاشی سے متعلق قانونی کارروائی کا معاملہ سامنے آیا۔
بکر پرائز نے رائے کو بین الاقوامی شہرت دی، لیکن ان کی ادبی زندگی کا ایک غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ انہوں نے پہلے ناول کی کامیابی کے بعد تقریباً 20 سال تک دوسرا ناول شائع نہیں کیا۔ اس دوران ان کی توجہ کا بڑا حصہ سیاسی مضامین اور سماجی تنقید پر رہا۔
ناول نگاری سے پہلے فلمی دنیا
ارون دھتی رائے کی زندگی کا ایک نسبتاً کم معروف پہلو ان کا فلمی کام ہے۔ وہ ناول نگار کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل کرنے سے پہلے اسکرین پلے نویسی اور اداکاری سے وابستہ تھیں۔
1989 میں ان کی لکھی ہوئی کہانی اور اسکرین پلے پر مبنی فلم In Which Annie Gives It Those Ones ریلیز ہوئی۔ اس فلم کی ہدایت کاری پردیپ کرشن نے کی، جب کہ رائے نے اس میں اداکاری بھی کی۔ کہانی دہلی کے ایک آرکیٹیکچر کالج میں طلبہ کی زندگی اور ان کے تجربات کے گرد گھومتی ہے، جس میں رائے کی اپنی تعلیمی زندگی کی جھلک بھی شامل تھی۔
اس فلم کو بہترین اسکرین پلے کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ رائے نے بعد میں اس ایوارڈ کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کی وجہ ان کے سیاسی مؤقف اور بھارت میں مذہبی عدم برداشت کے بارے میں ان کی تشویش تھی۔
فروری 2026 میں اس فلم کی بحال شدہ کاپی برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش کیے جانے کے لیے منتخب ہوئی۔ تاہم رائے نے فیسٹیول میں شرکت سے دستبرداری اختیار کر لی۔ ان کا اعتراض جیوری کے سربراہ جرمن فلم ساز وِم وینڈرز کے ان بیانات پر تھا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ سنیما کو سیاست کے مقابلے میں ایک مختلف کردار ادا کرنا چاہیے۔
رائے نے اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جیسے انسانی بحران کے دوران فن کو سیاست سے الگ رکھنے کا مطالبہ قابل قبول نہیں۔ اس واقعے نے فن، سیاست اور فنکاروں کی عوامی ذمہ داری کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔

دو ناول، دو مختلف ادبی مرحلے
رائے کا دوسرا ناول The Ministry of Utmost Happiness سن 2017 میں شائع ہوا۔ اس کتاب کی اشاعت ان کے پہلے ناول کے تقریباً دو دہائیوں بعد ہوئی۔ اسے بکر پرائز کی طویل فہرست میں شامل کیا گیا۔
اس ناول میں بھارت کے مختلف سماجی اور سیاسی تجربات کو متعدد کرداروں کی زندگیوں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں شناخت، محرومی، جنس، تشدد، مذہبی تقسیم اور معاشرے کے حاشیے پر رہنے والے افراد کی زندگیوں کو جگہ دی گئی ہے۔
دونوں ناولوں میں بھارت کے سماجی ڈھانچے اور انفرادی زندگیوں کے درمیان تعلق نمایاں ہے، لیکن رائے نے اپنے دوسرے ناول میں سیاسی اور سماجی موضوعات کو زیادہ وسیع جغرافیائی اور انسانی تناظر میں پیش کیا۔
ان کی ادبی شناخت صرف ان دو ناولوں تک محدود نہیں۔ ان کی غیر افسانوی کتابوں میں The Algebra of Infinite Justice، Listening to Grasshoppers، Broken Republic، Azadi اور My Seditious Heart شامل ہیں۔
ان تحریروں میں جوہری تجربات، بڑے ترقیاتی منصوبوں، قبائلی برادریوں کے حقوق، معاشی عدم مساوات، کشمیر اور ریاستی طاقت جیسے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔
جوہری تجربات اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر تنقید
1998 میں بھارت کے جوہری تجربات کے بعد رائے نے The End of Imagination کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں اور ان کے گرد تشکیل پانے والے قوم پرستانہ بیانیے پر تنقید کی۔
انہوں نے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے انسانی اور ماحولیاتی اثرات پر بھی لکھا۔ ان کی تحریر The Greater Common Good میں دریائے نرمدا پر بڑے ڈیموں کی تعمیر اور ان منصوبوں سے متاثر ہونے والی آبادی کے مسائل کو موضوع بنایا گیا۔
ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ ترقی کے نام پر کیے جانے والے منصوبوں کے فوائد اور نقصانات کس طرح تقسیم ہوتے ہیں، اور ان منصوبوں کے باعث بے گھر ہونے والے لوگوں کے حقوق کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے۔
ان تحریروں نے انہیں سیاسی مضمون نگار کی حیثیت سے بھی شناخت دی۔ ان کے حامیوں کے نزدیک وہ ایسے طبقات کی آواز اٹھاتی ہیں جنہیں قومی ترقی کے مباحث میں اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان کے ناقدین ان کے بعض سیاسی نتائج اور ریاستی پالیسیوں کے بارے میں ان کی تشریحات سے اختلاف کرتے ہیں۔
ان کے کام کا جائزہ لیتے وقت ان کی تنقید، اس کے شواہد اور متعلقہ پالیسیوں کے بارے میں دوسرے مؤقف کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

کشمیر اور ریاستی پالیسی پر مؤقف
کشمیر رائے کی سیاسی تحریروں کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ انہوں نے کشمیر کی سیاسی حیثیت اور وہاں کے لوگوں کے حقوق کے بارے میں ایسے مؤقف اختیار کیے جو بھارتی حکومت کے سرکاری مؤقف سے مختلف ہیں۔
2019 میں بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کیے۔ اس فیصلے کے سیاسی، قانونی اور انسانی نتائج پر بھارت اور بیرون ملک مختلف حلقوں میں بحث ہوتی رہی ہے۔
رائے نے کشمیر سے متعلق بھارتی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کی۔ ان کے بیانات نے انہیں حامیوں اور مخالفین دونوں کی توجہ کا مرکز بنایا۔
ان کے سیاسی مؤقف کو ان کی ادبی شناخت سے الگ کرنا مشکل ہے، کیونکہ ان کے دونوں ناولوں اور غیر افسانوی تحریروں میں طاقت، شناخت، سماجی محرومی اور ریاست کے کردار جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔
تاہم ان کے سیاسی بیانات کی جانچ کرتے ہوئے ان کے مؤقف اور آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق میں فرق رکھنا ضروری ہے۔
میری رائے اور خواتین کے وراثتی حقوق کی جدوجہد
ارون دھتی رائے کی والدہ میری رائے بھارت میں خواتین کے وراثتی حقوق کے حوالے سے ایک اہم قانونی جدوجہد سے وابستہ تھیں۔
میری رائے نے سابق ریاست ٹراونکور کے علاقے میں مسیحی خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق قانونی مسئلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔ 24 فروری 1986 کو بھارتی سپریم کورٹ نے Mary Roy v. State of Kerala مقدمے میں فیصلہ سنایا، جس نے سابق ٹراونکور کے علاقے میں بھارتی مسیحیوں کی وراثت کے معاملات پر انڈین سکسیشن ایکٹ کے اطلاق کی قانونی حیثیت واضح کی۔
اس فیصلے کو خواتین کے وراثتی حقوق کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
میری رائے ایک معلمہ بھی تھیں اور انہوں نے کیرالا میں ایک اسکول قائم کیا۔ ان کی زندگی اور شخصیت نے ارون دھتی رائے کی ذاتی زندگی اور تخلیقی کام پر گہرا اثر ڈالا۔
تاہم ماں اور بیٹی کا رشتہ ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ رائے نے اپنی یادداشت میں اس تعلق کے مشکل پہلوؤں کو بھی بیان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نئی کتاب صرف ایک معروف مصنفہ کی سوانح عمری نہیں، بلکہ خاندان، یادداشت اور ذاتی شناخت کے بارے میں ایک ذاتی بیان بھی ہے۔
ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ
نومبر 2015 میں رائے نے 1989 میں ملنے والا نیشنل فلم ایوارڈ برائے بہترین اسکرین پلے واپس کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ بھارت میں قتل و تشدد کے واقعات اور مذہبی عدم برداشت کے بارے میں اپنی تشویش کے اظہار کے طور پر کیا۔
اس وقت متعدد ادیبوں، فنکاروں اور دانشوروں نے بھی مختلف اعزازات واپس کیے یا حکومت اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خلاف آواز اٹھائی۔
رائے نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کا فیصلہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کی مخالفت تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ اس ماحول پر اعتراض کر رہی تھیں جس میں مذہبی اقلیتوں اور دوسرے کمزور طبقات کے خلاف تشدد اور خوف کے واقعات پیش آ رہے تھے۔
یہ واقعہ ان کی زندگی میں اس لیے اہم ہے کہ اس نے ان کے سیاسی مؤقف کو ادبی حلقوں سے باہر بھی نمایاں کر دیا۔
نئی یادداشت: ماں اور بیٹی کے پیچیدہ تعلق کی کہانی
ارون دھتی رائے کی یادداشت Mother Mary Comes to Me ستمبر 2025 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی والدہ میری رائے کے ساتھ تعلق، اپنے بچپن، ذاتی زندگی اور مصنفہ بننے کے سفر کو بیان کیا ہے۔
کتاب کا مرکزی موضوع ایک ایسا رشتہ ہے جس میں محبت، اختلاف، تکلیف اور جذباتی وابستگی ایک ساتھ موجود ہیں۔ رائے اپنی والدہ کو ایک غیر معمولی اور مضبوط شخصیت کے طور پر بیان کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی اس تعلق کے مشکل پہلوؤں کو بھی چھپاتی نہیں ہیں۔
یہ یادداشت ان کے قارئین کو ان کی زندگی کا ایک ایسا رخ دکھاتی ہے جو ان کے سیاسی مضامین میں نسبتاً کم نمایاں تھا۔ یہاں وہ ایک سیاسی مضمون نگار کے بجائے اپنے خاندان اور ماضی کے تجربات کا جائزہ لینے والی بیٹی کے طور پر سامنے آتی ہیں۔
2026 میں اس کتاب نے نیشنل بک کریٹکس سرکل کا آٹو بایوگرافی ایوارڈ جیتا۔ اسے ویمنز پرائز فار نان فکشن 2026 کی مختصر فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔
یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ رائے کی ادبی شناخت صرف ناول نگاری یا سیاسی تنقید تک محدود نہیں، بلکہ ذاتی یادداشت بھی ان کے تخلیقی کام کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔
عالمی ادبی اعزازات
ارون دھتی رائے کو 1997 میں The God of Small Things پر بکر پرائز ملا۔ 2017 میں ان کا دوسرا ناول بکر پرائز کی طویل فہرست میں شامل ہوا۔
2023 میں انہیں یورپیئن ایسی پرائز برائے لائف ٹائم اچیومنٹ دیا گیا۔ 2024 میں انہیں پین پنٹر پرائز سے نوازا گیا۔ 2026 میں ان کی یادداشت Mother Mary Comes to Me نے نیشنل بک کریٹکس سرکل کا آٹو بایوگرافی ایوارڈ حاصل کیا۔
یہ اعزازات ان کے ادبی کام کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے ناولوں نے انہیں عالمی شہرت دی، جب کہ ان کے سیاسی مضامین اور ذاتی یادداشت نے ان کے قارئین کو ان کی فکری اور ذاتی زندگی کے مزید پہلوؤں سے متعارف کرایا۔
ایک مصنفہ، کئی شناختیں
ارون دھتی رائے کی زندگی کو صرف ایک سیاسی تنازع یا ایک ادبی ایوارڈ کے ذریعے سمجھنا مشکل ہے۔ وہ ایک ایسی مصنفہ ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ناول سے عالمی شہرت حاصل کی، فلمی دنیا میں کام کیا، تقریباً دو دہائیوں بعد دوسرا ناول شائع کیا اور اس دوران سیاسی و سماجی موضوعات پر مسلسل لکھتی رہیں۔
ان کی تحریروں میں طاقت، سماجی ناہمواری، شناخت، انسانی حقوق اور ریاستی پالیسیوں کے اثرات بار بار سامنے آتے ہیں۔ ان کے مؤقف نے انہیں عالمی سطح پر قارئین اور حامی دیے، لیکن بعض سیاسی بیانات پر اختلاف اور تنقید بھی ہوئی۔
ان کی نئی یادداشت نے ان کی زندگی کا ایک مختلف رخ سامنے رکھا ہے، جہاں سیاسی اور سماجی مباحث کے ساتھ خاندان، ماں اور بیٹی کے تعلق اور ذاتی یادداشت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
اکتوبر 2026 میں ان کا تازہ انٹرویو اس بات کی مثال ہے کہ وہ اب بھی بھارت کی سیاست اور عوامی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں۔ ان کے کام کا مکمل جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی ادبی کامیابیوں، سیاسی مؤقف، ذاتی تجربات اور ان کے بیانات پر ہونے والی تنقید کو الگ الگ مگر مربوط انداز میں دیکھا جائے۔
ارون دھتی رائے کی کہانی اسی لیے اہم ہے کہ ان کے ہاں ادب اور عوامی زندگی کے درمیان کوئی واضح دیوار نہیں۔ ان کے ناول ہوں، سیاسی مضامین یا ذاتی یادداشت، وہ ایسے سوالات اٹھاتی ہیں جن پر معاشرے میں اختلاف بھی ہوتا ہے اور بحث بھی۔ ان کی ادبی زندگی کا مطالعہ ان سوالات کو سمجھنے کا ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔

