جب کراچی کے میدانوں میں بمبئی اور ایم سی سی کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا: تقسیم سے قبل سندھ کی کرکٹ کا سنہری دور

کرکٹ

ریتلے ساحلوں سے پچ کی گھاس تک، آج جب ہم کراچی جِم خانہ یا سندھ کے تاریخی میدانوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں جدید کرکٹ کی گہما گہمی دکھائی دیتی ہے۔

لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس شہر کی مرطوب ہواؤں اور پیلے پتھروں کی اوٹ میں کرکٹ کا ایک شاندار اور کثیرالثقافتی ماضی پوشیدہ ہے، جس نے برصغیر کی کرکٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1947 کی تقسیم سے بہت پہلے کراچی ایک ایسے متحرک کرکٹ مرکز کے طور پر پہچانا جاتا تھا، جہاں پارسی، ہندو، مسلمان اور برطانوی کھلاڑی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے تھے۔

یہ اس دور کی کہانی ہے جب بمبئی کی مضبوط ٹیم کراچی آتی تھی اور انگلستان کے نامور بولرز کو سندھ کے کھلاڑیوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

رائل آرٹلری اور اورینٹل کلب: برطانوی فوج سے مقامی کھلاڑیوں تک

کراچی میں کرکٹ کے ابتدائی فروغ میں برطانوی فوج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہلکاروں نے کردار ادا کیا۔ 1864 کی ایک تاریخی تصویر، جو رائل آرٹلری کے لیفٹیننٹ جنرل برابازون ہنری پوٹینجر کے البم سے منسوب ہے، اس دور میں کراچی کی چھاؤنی میں برطانوی فوجی افسران کی کرکٹ سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

برطانوی فوجی اور یورپی برادریوں میں مقبول اس کھیل کو کراچی کی متمول پارسی برادری نے بھی اپنایا۔ 1848 میں کراچی میں اورینٹل کرکٹ کلب کے قیام کا ذکر ملتا ہے، جسے برصغیر کے ابتدائی مقامی کرکٹ کلبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1893 میں قائم ہونے والے کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ نے شہر میں کرکٹ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں کردار ادا کیا۔

پارسی کھلاڑیوں کی مہارت اور تکنیک نے مقامی سطح پر اس کھیل کی مقبولیت بڑھانے میں مدد دی۔

ایم سی سی کا دورہ اور کراچی کی کرکٹ

اکتوبر 1926 میں آرتھر گلیگن کی قیادت میں میریلیبون کرکٹ کلب کی ٹیم برصغیر کے دورے پر پہنچی۔ اس دورے کے دوران کراچی میں مقامی ٹیموں کو انگلستان کے تجربہ کار کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔

کراچی کے پارسیوں اور مسلمانوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم کے مقابلے کے علاوہ، ہندو کھلاڑیوں اور دیگر مقامی کرکٹرز پر مشتمل ٹیموں نے بھی مہمانوں کا سامنا کیا۔ مقامی کھلاڑیوں کی بیٹنگ اور مزاحمت نے شہر میں کرکٹ کے شائقین کی توجہ حاصل کی۔

اگرچہ دورے کے بعض مقابلے ڈرا ہوئے اور بعض میں مہمان ٹیم کامیاب رہی، لیکن ان مقابلوں نے کراچی میں کرکٹ کی مقبولیت کو مزید بڑھایا۔

پینٹنگولر ٹورنامنٹ: کراچی کی کرکٹ کا بڑا مقابلہ

بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برصغیر کی مقامی کرکٹ میں پینٹنگولر ٹورنامنٹ کو نمایاں مقام حاصل ہوا۔ اس میں پانچ ٹیمیں حصہ لیتی تھیں: مسلمز، ہندوز، پارسیز، یورپینز اور دی ریسٹ۔

ہندو جِم خانہ اور مسلم جِم خانہ سمیت مختلف میدانوں میں ہونے والے مقابلوں کو شائقین کی بڑی تعداد دیکھنے آتی تھی۔ ان میچوں میں کھلاڑیوں کی صلاحیت، ٹیموں کے درمیان مسابقت اور اپنی برادری کی نمائندگی اہم سمجھی جاتی تھی۔ یہ ٹورنامنٹ برصغیر کی کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہا، اگرچہ اس کی ٹیموں کی تشکیل اس دور کی سماجی تقسیم کی عکاسی بھی کرتی تھی۔

ڈگلس جارڈین کی قیادت میں ایم سی سی کا دورہ

1933 میں ایم سی سی کی ٹیم ڈگلس جارڈین کی قیادت میں برصغیر کے دورے پر آئی۔ جارڈین آسٹریلیا کے خلاف 1932 کی ایشز سیریز میں استعمال ہونے والی متنازع باڈی لائن حکمت عملی کے باعث شہرت رکھتے تھے۔ اس طریقے میں بلے باز کے جسم کی جانب تیز گیندیں کی جاتی تھیں، جبکہ فیلڈنگ بھی اسی حکمت عملی کے مطابق ترتیب دی جاتی تھی۔

سندھ کی ٹیم کو بھی اس دور میں انگلستان کے تجربہ کار کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔ ایسے مقابلوں نے مقامی کرکٹرز کو اعلیٰ درجے کی کرکٹ کے تجربے سے روشناس کرایا اور سندھ میں کھیل کی ترقی میں کردار ادا کیا۔

رانجی ٹرافی اور بمبئی کے خلاف سندھ کی کارکردگی

1934 میں رانجی ٹرافی کے آغاز کے بعد سندھ کی ٹیم نے بھی اس اہم فرسٹ کلاس مقابلے میں حصہ لیا۔ اس دور میں بمبئی کی ٹیم بھارتی کرکٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہوتی تھی۔ سندھ اور بمبئی کے درمیان مقابلوں نے مقامی شائقین کو اعلیٰ درجے کی کرکٹ دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔

نومبر 1938 میں کراچی جِم خانہ پر سندھ اور بمبئی کے درمیان رانجی ٹرافی کا مقابلہ ہوا۔ سندھ نے اپنی پہلی اننگز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بمبئی کے اسکور کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس دور کے مقابلے سندھ کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

نومبر 1944 میں بمبئی کی ٹیم ایک بار پھر سندھ کے مقابل آئی۔ بمبئی کی پہلی اننگز کے 432 رنز کے جواب میں سندھ کی ٹیم پہلی اننگز میں 264 رنز بنا سکی اور اسے فالو آن کرنا پڑا۔ سندھ نے دوسری اننگز میں 244 رنز بنائے اور مقابلہ ڈرا ہوا۔ یہ میچ سندھ کے کھلاڑیوں کی مزاحمت کی ایک مثال تھا۔

سندھ کے نمایاں کھلاڑی: ناؤمل جیومل اور عبدالعزیز درانی

ناؤمل جیومل

کراچی میں پیدا ہونے والے ناؤمل جیومل سندھ کے نمایاں کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 1932 میں لارڈز کے میدان پر انگلستان کے خلاف آل انڈیا کی پہلی ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اوپننگ کی۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں آل راؤنڈر کے طور پر بھی معروف تھے۔ ان کی کارکردگی نے سندھ کے کھلاڑیوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانے میں مدد دی۔ تقسیم کے بعد بھی وہ پاکستان میں رہے اور ملک میں کرکٹ کی تربیت و ترقی سے وابستہ رہے۔

عبدالعزیز درانی

کابل میں پیدا ہونے والے عبدالعزیز درانی نے سندھ کو اپنا مسکن بنایا اور کرکٹ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ اسپن بولنگ اور مڈل آرڈر بیٹنگ کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے نوانگر کی ٹیم کی نمائندگی کی اور رانجی ٹرافی میں اس کی کامیابیوں میں کردار ادا کیا۔ وہ معروف کرکٹر سلیم درانی کے والد بھی تھے۔

سندھ کے مسلم کھلاڑی: داؤد خان اور انور حسین کھوکھر

داؤد خان

1905 میں کراچی میں پیدا ہونے والے داؤد خان سندھ کے اہم بلے بازوں میں شمار ہوتے تھے۔ بمبئی کے خلاف مقابلوں میں ان کی کارکردگی نے انہیں مقامی کرکٹ میں نمایاں مقام دلایا۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان میں امپائرنگ سے وابستہ ہوئے اور ملک کے ابتدائی ٹیسٹ امپائرز میں شامل رہے۔

انور حسین کھوکھر

1920 میں پیدا ہونے والے انور حسین کھوکھر ایک جارحانہ بلے باز اور تیز میڈیم بولر تھے۔ انہوں نے 1940 میں بمبئی پینٹنگولر میں مسلمز کی نمائندگی کرتے ہوئے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں کھیلے گئے ابتدائی فرسٹ کلاس مقابلوں میں بھی وہ شریک رہے۔ بعد ازاں وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ابتدائی دور میں بھی کھیلتے رہے۔

ایک عظیم ورثے کی یادگار

نومبر 1935 میں آسٹریلین الیون کے خلاف کراچی جِم خانہ پر کھیلا گیا مقابلہ شہر کی کرکٹ تاریخ کے اہم واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس دور میں کرکٹ کے اسکور جاننے کے لیے شائقین اخبارات کے دفاتر کے باہر لگے بلیک بورڈز پر نظریں جمائے رکھتے تھے، جہاں چاک سے تازہ ترین اسکور درج کیا جاتا تھا۔ اخبارات کے خصوصی ایڈیشن بھی شائقین میں مقبول تھے۔

وہ دور صرف رنز اور وکٹوں کا نہیں تھا، بلکہ کراچی کی کثیرالثقافتی زندگی اور کھیل سے وابستگی کی بھی عکاسی کرتا تھا۔ مختلف برادریوں کے کھلاڑی میدان میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے پہچانے جاتے تھے۔ تقسیم ہند نے برصغیر کے جغرافیے اور کرکٹ کے ڈھانچے کو تبدیل کر دیا، لیکن 1947 سے پہلے کراچی اور سندھ میں پروان چڑھنے والی کرکٹ کی روایت آج بھی پاکستان کی کرکٹ تاریخ کا اہم حصہ ہے۔