[rank_math_breadcrumb]

سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ: ہزاروں مستحق طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا راستہ

سندھ حکومت کے سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے طلبہ کو پاکستان کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ 

اس پروگرام کا مقصد خصوصاً ایسے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینا ہے جو میرٹ پر داخلہ حاصل کرنے کے باوجود مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت ہر سال تقریباً چھ سے سات ہزار مستحق طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جاتی ہیں۔ گزشتہ آٹھ سے دس برس کے دوران اس پروگرام سے چالیس ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت سندھ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو پاکستان کی سو بہترین جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس میں سندھ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی شامل ہیں، جو داخلہ حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں قائم اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

انڈومنٹ فنڈ کا مالی نظام بھی اس پروگرام کی اہم خصوصیت ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق فنڈ میں دس ارب روپے سے زائد رقم سرمایہ کاری کی صورت میں رکھی گئی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے طلبہ کو وظائف فراہم کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد اسکالرشپ پروگرام کے لیے ایک مستقل مالی بنیاد قائم کرنا ہے۔

اسکالرشپ کے تحت اہل طالب علم کو سالانہ دس لاکھ روپے تک مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ مالی معاونت کی اصل رقم طالب علم کے متعلقہ تعلیمی پروگرام اور مقررہ قواعد کے مطابق طے ہوتی ہے۔

اسکالرشپ حاصل کرنے کے لیے صرف مالی ضرورت کافی نہیں۔ طالب علم کے لیے متعلقہ جامعہ یا اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ حاصل کرنا بنیادی شرط ہے۔ داخلے کا فیصلہ متعلقہ جامعہ اپنے میرٹ، داخلہ ٹیسٹ اور دیگر مقررہ معیار کے مطابق کرتی ہے۔ انڈومنٹ فنڈ کا اسکالرشپ پروگرام جامعہ کے داخلہ عمل کی جگہ نہیں لیتا۔

اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد بھی طالب علم کو مقررہ تعلیمی معیار برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق طالب علم کے لیے کم از کم دو اعشاریہ پانچ جی پی اے برقرار رکھنا ضروری ہے۔ مقررہ تعلیمی معیار برقرار نہ رکھنے کی صورت میں اسکالرشپ کی مالی معاونت متاثر یا ختم کی جا سکتی ہے۔

اس پروگرام کے انتظام کے لیے باقاعدہ بورڈ بھی موجود ہے، جس میں متعلقہ حکام کے ساتھ نجی شعبے کے نمائندے اور جامعات کے وائس چانسلرز بھی شامل ہیں۔ اس انتظامی ڈھانچے کا مقصد اسکالرشپ پروگرام کے معاملات کی نگرانی اور طلبہ کے انتخاب سمیت دیگر امور کو مقررہ طریقہ کار کے تحت چلانا ہے۔

سندھ میں اعلیٰ تعلیم کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان اور سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں انڈومنٹ فنڈ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بھی سامنے آ رہی ہے۔ فنڈ میں اضافی سرمایہ کاری سے مستقبل میں اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بڑھانے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا دائرہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے صوبے کے نسبتاً دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اپنے علاقے سے باہر ملک کی اعلیٰ جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جانے والے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس پروگرام کے اہم اعداد و شمار میں سالانہ تقریباً چھ سے سات ہزار اسکالرشپس، گزشتہ آٹھ سے دس برس میں چالیس ہزار سے زائد مستفید طلبہ، دس ارب روپے سے زائد کا انڈومنٹ فنڈ، اور فی طالب علم سالانہ دس لاکھ روپے تک مالی معاونت شامل ہیں۔

یوں سندھ ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا بنیادی ڈھانچہ میرٹ پر اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ حاصل کرنے والے مستحق طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنے پر قائم ہے، جبکہ طالب علم کے لیے داخلہ حاصل کرنا اور مقررہ تعلیمی معیار برقرار رکھنا اسکالرشپ جاری رکھنے کی اہم شرائط میں شامل ہیں۔