حیدرآباد میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آپتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز، سی او وی ایس، میں آنکھوں کی موروثی بیماریوں کی تشخیص اور تحقیق کے لیے مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس کا باقاعدہ شعبہ کام کر رہا ہے۔
سی او وی ایس کو 2013 میں سندھ اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے سابق لیاقت یونیورسٹی آئی ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے قائم کیا گیا تھا۔
سی او وی ایس کے مطابق مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبے کا مقصد مالیکیولر بایولوجی اور جینیات کے میدان میں تعلیمی اور تحقیقی ماحول فراہم کرنا ہے۔ شعبہ گلوکوما اور دیگر آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کے مریضوں کے لیے اے آر ایم ایس ٹیکنالوجی پر مبنی پی سی آر ٹیسٹ بھی فراہم کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ تشخیصی خدمات مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
اوکیولر جینیٹکس لیبارٹری میں مالیکیولر تشخیص اور تحقیق کے لیے بائیو ریڈ ٹی 100 پی سی آر اور بائیو ریڈ ریئل ٹائم پی سی آر سمیت مختلف آلات موجود ہیں۔ دستیاب آلات میں جیل ڈاکیومنٹیشن سسٹم، سیفٹی ہڈز، پی ایچ میٹر، ڈیجیٹل ویئنگ بیلنس، میگا فیوج 16 اور پیکو 17 سینٹری فیوجز، ہیٹ پلیٹر اور واٹر باتھ بھی شامل ہیں۔
اوکیولر جینیٹکس لیبارٹری صرف تشخیصی خدمات تک محدود نہیں۔ سی او وی ایس کے مطابق شعبہ مختلف طبی اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، محققین کو لیبارٹری معاونت فراہم کرتا ہے اور جدید مالیکیولر بایولوجی تکنیکوں پر مبنی تحقیقی منصوبوں کی تیاری میں فیکلٹی کی معاونت بھی کرتا ہے۔
سی او وی ایس کے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر یار محمد وریاہ مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبے کے انچارج اور اسسٹنٹ پروفیسر ریسرچ ہیں۔ وہ ادارے کی اکیڈمک کونسل کے کوآپٹڈ ممبر بھی ہیں۔
اس شعبے سے وابستہ تحقیقی کام میں پاکستانی مریضوں میں آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کا مطالعہ بھی شامل ہے۔ شائع شدہ تحقیقی مطالعات میں پرائمری اوپن اینگل گلوکوما، پرائمری پیدائشی گلوکوما اور موروثی ریٹینل بیماریوں میں جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبہ کے ریسرچ ونگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر یار محمد وریاہ کے مطابق مالیکیولر بایولوجی اینڈ جینیٹکس شعبہ آنکھوں کی جینیاتی بیماریوں کی تشخیص کے ساتھ ساتھ تحقیق، تربیت اور مالیکیولر تشخیصی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔
