پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والا ملک ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہیں، جبکہ چالیس لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ اس بیماری کی سب سے بڑی خطرناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔ وائرس جگر کو خاموشی سے متاثر کرتا ہے، اور جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اکثر جگر پہلے ہی کینسر یا سروسس کی حالت میں ہوتا ہے۔
ابتدائی علامات میں غیر معمولی تھکاوٹ، بھوک میں کمی، متلی، پیٹ کے اوپری حصے میں ہلکا درد، اور جلد یا آنکھوں کا پیلا ہونا۔ آگے چل کر ٹانگوں میں سوجن، خون کی قے، اور پاخانے کا رنگ ہلکا ہونا بھی ممکن ہے۔ اگر یہ علامات نظر آئیں تو فوراً ڈاکٹر سے خون کی جانچ کروانا ضروری ہے۔
ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجوہات غیر محفوظ طبی طریقے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی سرنج کئی مریضوں پر استعمال کرنا، غیر معیاری بلڈ ٹرانسفیوژن، دانتوں کے کلینک میں جراثیم کشی نہ ہونا، اور حجام کی دکان پر غیر استری شدہ بلیڈ کا استعمال وائرس منتقل کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔
حکومت نے 2025 میں ہیپاٹائٹس کے لیے قومی پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت 2027 تک تقریباً پانچ کروڑ پچیس لاکھ افراد کی اسکریننگ کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد بیماری کی جلد شناخت اور علاج کو ممکن بنانا ہے تاکہ مزید اموات اور انفیکشن کو روکا جا سکے۔
اگر تشخیص ہو جائے تو گھبرانا نہیں۔ ہیپاٹائٹس سی مکمل طور پر قابل علاج بیماری ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ادویات کا پورا کورس مکمل کرنا، باقاعدہ چیک اپ کروانا، اور کسی غیر معیاری طبی مرکز میں انجکشن یا خون نہ لگوانا انتہائی ضروری ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پاکستان میں ساڑھے آٹھ لاکھ اموات اور گیارہ لاکھ نئے انفیکشن ہونے کا خدشہ ہے۔ اس بیماری کے حوالے سے آگاہی، حفاظتی اقدامات، اور جلد تشخیص ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل ایسی کہانیاں سامنے لاتا ہے جہاں پیچیدہ اور خاموش بیماریوں کو آسان، درست، اور عام فہم انداز میں سمجھایا جاتا ہے تاکہ ہر فرد اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کا بہتر خیال رکھ سکے۔

