تاریخ کبھی بھی یکطرفہ ترازو میں نہیں تولی جا سکتی۔ وہ یا تو ایک فاتح کے گیت گاتی ہے یا پھر شکست خوردہ لوگوں کا نوحہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب بات برطانوی سلطنت کے مایہ ناز اور متنازع جنرل سر چارلس جیمز نیپیئر (10 اگست 1782 – 29 اگست 1853) کی ہو تو کراچی سمیت سندھ کی تاریخ ایک عجیب دوراہے پر آ کھڑی ہوتی ہے۔
فروری 1843 میں معرکہ میانی اور دبو میں ٹالپر حکمرانوں کو شکست دے کر جب نیپیئر نے لندن ایک لفظی پیغام بھیجا تھا، ‘پیچاوئی’، یعنی ‘میں نے سندھ فتح کر لیا’ یا ‘میں نے گناہ کیا’، تو وہ خطے کی تقدیر بدل رہے تھے۔
تقسیم ہند کے بعد کراچی کے شہری منظرنامے سے نیپیئر اور ان کے دور کی نشانیوں کو مٹانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پسماندہ ساحلی قصبے کو ایک جدید صنعتی و تجارتی شہر بنانے کا خواب سب سے پہلے اسی شخص کی انتظامی بصیرت نے دیکھا تھا۔
سندھ کیمل کور سے انگریزی صحافت تک، نیپیئر کے معمارانہ کارنامے
سر چارلس نیپیئر محض ایک غاصب فاتح نہیں تھے بلکہ وہ ایک غیر معمولی منتظم بھی تھے جنہوں نے جدید کراچی کی بنیادیں رکھیں:
انتظامی اور عسکری اصلاحات: انہوں نے سندھ کو جدید عدالتی نظام دیا، پہلی بار ایک آزاد اور منظم سندھ پولیس کی بنیاد رکھی اور کراچی کو صوبے کا دارالحکومت بنایا۔
سندھ کیمل کور: سندھ، خاص طور پر ریگستانی، میدانی اور پہاڑی علاقوں کے قانون شکن قبائل کو قابو کرنے اور سرحدی امن کے لیے انہوں نے یکم دسمبر 1843 کو یہ اونٹ سوار فوج قائم کی، جو ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی 1904 میں 59ویں سندھ رائفلز، فرنٹیئر فورس، بنی۔
1922 کی اصلاحات کے بعد اسے ‘چھٹی رائل بٹالین، سندھ، 13ویں فرنٹیئر فورس رائفلز’ کا نام دیا گیا۔ 1947 میں تقسیم ہند کے وقت یہ بٹالین پاکستان کے حصے میں آئی اور 1956-57 میں مختلف فرنٹیئر فورس یونٹوں کے ادغام کے بعد اسے باقاعدہ طور پر فرسٹ بٹالین، دی فرنٹیئر فورس ریجمنٹ، یعنی ایک ایف ایف کا نام دیا گیا۔
کراچی کی اولین صحافت: کراچی میں انگریزی صحافت کا پودا بھی نیپیئر ہی نے لگایا۔ انہی کی ہدایت پر 1844 میں کراچی کا پہلا ہفتہ وار اخبار ‘کراچی ایڈورٹائزر’ شروع ہوا، جس نے شہر میں شعور کی نئی راہیں کھولیں۔
کراچی ایڈورٹائزر سندھ اور موجودہ پاکستان کی تاریخ میں شائع ہونے والے ابتدائی اخبارات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اخبار جنوری 1845 میں کراچی سے اس وقت جاری کیا گیا جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

بظاہر یہ ہفتے میں دو بار شائع ہونے والا لیتھوگرافک اخبار ایک پارسی تاجر اردشیر رستم جی کی ملکیت تھا اور وہی اسے چھاپتے تھے۔ تاہم تاریخی دستاویزات سے یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ یہ محض ایک دکھاوا تھا۔ اخبار کو خفیہ طور پر سندھ کے پہلے برطانوی گورنر سر چارلس نیپیئر اور ان کی انتظامیہ نے قائم کیا تھا اور وہی اس کے مالی اخراجات اٹھاتے تھے۔
چوں کہ یہ اخبار خطے کے دیگر مشہور اخبارات، جیسے لاہور کرونیکل، جو 1849 میں شروع ہوا، سے بھی پہلے کا ہے، اس لیے اسے پاکستانی سرزمین سے شروع ہونے والے اولین انگریزی اخبارات میں اہم مقام حاصل ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق مارچ یا اپریل 1850 کے آس پاس اس کی اشاعت مستقل طور پر بند ہو گئی۔
ثقافتی وراثت کا وژن: نیپیئر ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے سندھ کے نوادرات کو محفوظ کرنے کے لیے ایک عجائب گھر بنانے کی ہدایت دی، جو بعد میں وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم، 1892، کی شکل میں سامنے آیا اور آج جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کی رجسٹری قائم ہے۔
جغرافیائی کایا پلٹ نیپیئر روڈ سے کلفٹن کے معمے تک
نوآبادیاتی دور میں کراچی کی پہلی تجارتی اور عسکری لائف لائن نیپیئر کے نام سے منسوب تھی۔
نیپیئر روڈ، اب شاہراہ الطاف حسین، اور نیپیئر اسٹریٹ، اب میر کرم علی تالپور روڈ، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سندھ سمیت پاکستان کی اس پہلی کاروباری شاہراہ کو ریڈ لائٹ ایریا بنا کر رکھ دیا گیا۔ جبکہ شاہراہ فیصل پر واقع نیپیئر بیرکس کو اب لیاقت بیرکس کہا جاتا ہے۔
جہاں تک کراچی کے مشہور ساحلی علاقے کلفٹن کا تعلق ہے، جسے پہلے ‘منڈیو’ یا ‘ہوا بندر’ کہا جاتا تھا، برطانوی دور میں یہ افواہ عام تھی کہ یہ نیپیئر کی جائے پیدائش ہے۔
الیگزینڈر بیلی نے اپنی 1880 کی کتاب میں اس کی تردید کی کیونکہ نیپیئر لندن کے وائٹ ہال پیلس میں پیدا ہوئے تھے۔ دراصل یہ نام برطانوی خواتین نے وطن کی یاد میں برطانیہ کے ایک خوبصورت پتھریلے مقام کی یاد میں رکھا تھا۔

تاریخی یادگاروں سے ناروا سلوک گمشدہ اوبلسک اور مسمار شدہ قبرستان
تقسیم ہند کے بعد کراچی کی بیوروکریسی اور شہری انتظامیہ نے اس نوآبادیاتی تاریخ کے ساتھ جو ناروا سلوک برقرار رکھا، وہ افسوسناک ہے۔
گمشدہ اوبلسک کی پراسرار داستان: 1853 میں کراچی بندرگاہ کے آخری سرے، نیپیئر مول، پر نیپیئر کی یاد میں بلیک گرینائٹ کا ایک اوبلسک کھڑا کیا گیا تھا۔ 1947 کے بعد اسے اکھاڑ کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا گیا۔
1975 میں اسے وہاں سے نکال کر پولو گراؤنڈ، باغ قائد اعظم، میں دوبارہ نصب کیا گیا، مگر بغیر کسی تاریخی تختی کے گمنام کھڑا رکھا گیا۔ چند سال قبل پولو گراؤنڈ کی تزئین و آرائش کے دوران اسے وہاں سے بھی ہٹا کر کراچی میونسپل کارپوریشن کے ایک تاریک گودام میں پٹخ دیا گیا، جہاں یہ آج بھی غفلت کی دھول چاٹ رہا ہے۔
پلازوں کے نیچے دبی تاریخ: نیپیئر کے بھتیجے اور ملٹری سیکرٹری کیپٹن جان مور نیپیئر کا 1846 میں کراچی میں ہیضے سے انتقال ہوا تو انہیں بندر روڈ اور پریڈی ٹینک کے درمیان واقع سندھ کے قدیم ترین یورپی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ تقسیم کے بعد اس قبرستان کی زمین ایک تاجر کو لیز پر دے دی گئی، جس نے قبروں کو مسمار کرکے وہاں ایک تجارتی پلازہ کھڑا کر دیا۔
کیپٹن جان مور کی قبر تو کراچی کے کنکریٹ کے نیچے ہمیشہ کے لیے دفن ہوگئی، لیکن ان کی یادگار آج بھی انگلینڈ کے تاریخی چیسٹر کیتھیڈرل کی دیواروں پر محفوظ ہے۔

‘دی ڈیڈ اسٹیچوز سوسائٹی’: جب ملکہ کے ٹکڑے کیے گئے
کے ایم سی کے گوداموں کی کہانی اس سے بھی زیادہ المناک ہے۔ 1962 میں صدر ایوب کے دور میں سعودی شاہ فیصل کے دورے سے قبل، مذہبی اور سیاسی دباؤ کے تحت فریئر ہال کے باغات سے ملکہ وکٹوریہ اور شاہ ایڈورڈ ہفتم کے سفید اطالوی سنگ مرمر کے شاہکار مجسموں کو رات کی تاریکی میں انتہائی بے دردی سے اکھاڑا گیا۔
اس آپریشن میں ملکہ کے مجسمے کے ٹکڑے ہوگئے اور کے ایم سی نے بدنامی کے ڈر سے ان قیمتی مجسموں کو لارنس روڈ کے اسکریپ یارڈ میں زمین دوز خندق کھود کر دفن کردیا۔
دہائیوں بعد جب سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم زمان نے ان مجسموں کو کھدائی کرکے نکالا تو وہ خاکروبوں کے کوارٹرز کے باہر کچرے کے ڈھیروں پر پائے گئے۔ خوش قسمتی سے 2004 میں انہیں بحال کرکے مستقل طور پر موہٹا پیلس میوزیم کے باغات میں منتقل کردیا گیا، جہاں وہ آج بھی محفوظ ہیں۔
تاریخ کا سبق اور مستقبل کے لیے تجاویز
کراچی کی تاریخ کو مسخ کرنے، یادگاروں کو غائب کرنے یا سڑکوں کے نام بدلنے سے ماضی کے حقائق کو بدلا نہیں جا سکتا۔ سر چارلس نیپیئر نے اگرچہ بندوق کے زور پر سندھ پر قبضہ کیا، لیکن وہ اس شہر کے معمار بھی تھے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جو قومیں اپنے ماضی کو مٹانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ اپنا مستقبل بھی دھندلا لیتی ہیں۔
کراچی کے اس مٹتے ہوئے نوآبادیاتی ورثے کو بچانے کے لیے درج ذیل فوری اقدامات ناگزیر ہیں:
ایک، کھلی فضا کا ورثہ عجائب گھر، برنس گارڈن اسکیم: کے ایم سی کے گوداموں میں قید نیپیئر کے اوبلسک، لارڈ نیلسن اور کراچی کے پہلے میئر جمشید نسروانجی کے مجسموں کو رہا کرکے تاریخی برنس گارڈن میں ایک محفوظ کھلی فضا کا عجائب گھر قائم کرکے وہاں نصب کیا جائے۔

عوامی تاریخ کے محفوظات: ان عمارات اور یادگاروں کے ساتھ لگی تختیاں دوبارہ بحال کی جائیں تاکہ آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ غاصب کون تھا اور معمار کون۔
ورثہ اتھارٹی کا قیام: میئر کراچی کی زیر نگرانی ایک باقاعدہ ‘ورثہ بحالی سیل’ بنایا جائے جو پولو گراؤنڈ اور اولڈ ٹاؤن سے غائب ہونے والے تمام نوآبادیاتی اثاثوں کا دستاویزی ریکارڈ عوام کے سامنے لائے۔
کراچی کی مٹی کا تقاضا ہے کہ اس شہر کو بنانے والے ہر کردار کو، چاہے وہ حاکم ہو یا غاصب، اس کی معمارانہ حیثیت میں تاریخ کے صفحات میں اس کی اصل جگہ واپس دی جائے۔

