حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے سندھ کے ان اہم سڑک رابطوں میں شامل ہے جو حیدرآباد کو میرپورخاص سے ملانے کے ساتھ ساتھ ٹنڈو جام، ٹنڈو اللہیار اور آس پاس کے زرعی علاقوں کو بھی بڑے شہری مراکز سے جوڑتا ہے۔
تقریباً 59 کلومیٹر طویل یہ شاہراہ شہری اور دیہی سندھ کے درمیان آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس شاہراہ کی خاص بات صرف اس کا چار لین کا ڈھانچہ نہیں بلکہ اس کے اطراف کا بدلتا ہوا منظرنامہ بھی ہے۔ حیدرآباد سے میرپورخاص کی طرف سفر کیا جائے تو شہری آبادی کے بعد سڑک کے دونوں جانب کھیت، نہریں، دیہات، درخت اور باغات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ یہی امتزاج اس راستے کو سندھ کے نمایاں زرعی مناظر میں شامل کرتا ہے۔
اس شاہراہ کی تعمیر سے پہلے حیدرآباد اور میرپورخاص کے درمیان موجود سڑک رابطہ دو لین پر مشتمل تھا۔ بڑھتی ہوئی ٹریفک اور دونوں شہروں کے درمیان معاشی و سماجی رابطوں کے باعث بہتر اور وسیع سڑک کی ضرورت محسوس کی گئی۔ چنانچہ پرانے راستے کو جدید ڈوئل کیرج وے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔
یہ منصوبہ سندھ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا گیا۔ نومبر 2009 میں اس منصوبے کا کنسیشن معاہدہ طے پایا اور تقریباً دو سال کی تعمیر کے بعد اگست 2012 میں شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
منصوبے پر تقریباً چھہ ارب 70 کروڑ روپے لاگت آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ نئی شاہراہ نے حیدرآباد اور میرپورخاص کے درمیان آمدورفت کو بہتر بنانے کے ساتھ اس پورے خطے کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں کے درمیان رابطے کو بھی مضبوط کیا۔
اس راستے کی معاشی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ حیدرآباد، ٹنڈو اللہیار اور میرپورخاص سندھ کے اہم زرعی علاقوں میں شامل ہیں۔ یہاں مختلف فصلوں کے ساتھ پھلوں کی پیداوار بھی ہوتی ہے اور میرپورخاص کا نام خصوصاً آم کی پیداوار کے حوالے سے نمایاں ہے۔
میرپورخاص اور اس کے گردونواح کے آم کے باغات اس شاہراہ کے سفر کو ایک الگ شناخت دیتے ہیں۔ آم کے موسم میں سڑک کے دونوں اطراف موجود باغات، گھنے درخت اور زرعی زمینیں مسافروں کو سندھ کے دیہی اور زرعی منظرنامے کے قریب لے آتی ہیں۔
سندھڑی آم نے بھی میرپورخاص کو ایک نمایاں شناخت دی ہے۔ آم کے باغات صرف مقامی معیشت کا حصہ نہیں بلکہ کسانوں، باغبانوں، مزدوروں، تاجروں اور پھلوں کی ترسیل سے وابستہ افراد کے لیے روزگار اور کاروبار کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے بہتر سڑک رابطہ زرعی پیداوار کی نقل و حرکت کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
حیدرآباد اس خطے کا ایک بڑا تجارتی اور شہری مرکز ہے، جبکہ میرپورخاص اور ٹنڈو اللہیار کے اطراف وسیع زرعی علاقے موجود ہیں۔ ڈوئل کیرج وے ان علاقوں کے درمیان مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ایک اہم رابطہ فراہم کرتی ہے۔
شاہراہ کی تعمیر نے سفر کے دوران ٹریفک کے بہاؤ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم بنانے میں بھی مدد دی۔ دو طرفہ ٹریفک کے لیے علیحدہ کیرج ویز ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی نقل و حرکت پرانے دو لین راستے کے مقابلے میں مختلف انداز میں ہوتی ہے۔
اس سڑک کی اہمیت صرف روزمرہ سفر تک محدود نہیں۔ زرعی پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے، کاروباری سرگرمیوں، روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات کے لیے حیدرآباد، میرپورخاص اور درمیان میں آنے والے علاقوں کے رہائشی اسی رابطے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
آج اس شاہراہ کو فضائی منظر سے دیکھا جائے تو اس کی ایک اور تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک طرف چار لین پر مشتمل سڑک پر رواں ٹریفک ہے اور دوسری طرف دور تک پھیلے کھیت، نہریں، دیہات اور آم کے باغات۔ جدید انفرااسٹرکچر اور سندھ کے روایتی زرعی منظرنامے کا یہ امتزاج حیدرآباد سے میرپورخاص کے سفر کو محض ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کا راستہ نہیں رہنے دیتا۔
یہ شاہراہ دراصل سندھ کے ایک ایسے خطے کی تصویر بھی پیش کرتی ہے جہاں سڑک کے ایک طرف شہری اور تجارتی سرگرمیاں ہیں اور دوسری طرف کھیتوں اور باغات سے جڑی دیہی زندگی۔ اسی لیے حیدرآباد میرپورخاص ڈوئل کیرج وے کو صرف ایک سڑک نہیں بلکہ اس پورے زرعی خطے کے معاشی اور سماجی رابطے کے اہم راستے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
