سندھ حکومت کے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے پنک اسکوٹی پروگرام کے تحت میرپورخاص میں خواتین میں مفت الیکٹرک اسکوٹیز تقسیم کی گئی ہیں۔ پروگرام کا مقصد طالبات، ملازمت پیشہ خواتین اور دیگر خواتین کے لیے تعلیم، روزگار اور روزمرہ ضروریات کے سلسلے میں آمدورفت کو آسان بنانا ہے۔
اس پروگرام کے تحت منتخب خواتین کو اسکوٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سواری چلانے کی تربیت اور لرنر لائسنس کے حصول میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق بیواؤں، اکیلی ماؤں، کام کرنے والی خواتین اور طالبات کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ حتمی انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
میرپورخاص میں اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والی خواتین میں کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کی طالبہ حوریہ شیخ بھی شامل ہیں۔ میرپورخاص کی رہائشی حوریہ شیخ کا کہنا ہے کہ پنک اسکوٹی ان کے لیے محض سواری نہیں بلکہ خواتین کی خود مختاری کا پیغام ہے، جس سے وہ اپنی آمدورفت زیادہ آسانی سے کر سکیں گی۔
پنک اسکوٹی حاصل کرنے والی خواتین میں میرپورخاص کی رہائشی اور حیدرآباد میں وکالت کرنے والی پارس اعجاز بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اسکوٹی ملنے کے بعد انہیں سفر کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا اور وہ نجی ٹرانسپورٹ کے بھاری کرایوں سے بھی بچ سکیں گی۔
حکومت سندھ کے مطابق پنک اسکوٹی پروگرام کے لیے پورے سندھ سے 50 ہزار سے زیادہ خواتین درخواست دے چکی ہیں۔ میرپورخاص میں اسکوٹیز کی تقسیم اس پروگرام کو سندھ کے دیگر شہروں تک وسعت دینے کا حصہ ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات سندھ میرپورخاص شبانہ چنا کے مطابق میرپورخاص میں پنک اسکوٹی کی تقسیم کی تقریب باوقار انداز میں منعقد ہوئی اور خواتین میں اسکوٹیز کی تقسیم شفاف طریقے سے کی گئی۔
