ماضی میں پاکستان میں ایسے بچوں کے خاندانوں کو، جنہیں پیچیدہ پیدائشی دل کی بیماری لاحق ہوتی تھی، علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کا راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ لیکن آج کراچی میں بچوں کے دل کی پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص، سرجری اور جدید علاج کی متعدد سہولتیں مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، این آئی سی وی ڈی کراچی میں بچوں کے دل کے علاج کے لیے جدید پیڈیاٹرک کارڈیک نظام قائم ہے، جہاں پیدائشی دل کی بیماریوں سے لے کر پیچیدہ سرجری اور کیتھیٹر بیسڈ علاج تک مختلف سہولتیں دستیاب ہیں۔
اس مرکز میں بچوں کے دل میں سوراخ بند کرنے، انجیوگرافی، پیدائشی طور پر متاثرہ والوز کے علاج، دل کی سرجری اور کمزور دل والے بچوں کے علاج سمیت مختلف طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
این آئی سی وی ڈی پاکستان کے بڑے امراض قلب کے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس کے وسیع نیٹ ورک میں ہر سال 23 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور یہ سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
اس پورے نظام میں بچوں کے دل کا شعبہ ایک اہم حصہ ہے، جہاں انتہائی کم عمر بچوں کے پیچیدہ آپریشن بھی کیے جاتے ہیں۔ این آئی سی وی ڈی کے مطابق صرف پیڈیاٹرک کارڈیک آئی سی یو میں ہر ماہ تقریباً 100 سے 150 بچوں کے آپریشن کیے جاتے ہیں۔
یہاں بچوں کے دل کی بیماری کی تشخیص بعض صورتوں میں پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو سکتی ہے۔
اگر خاندان میں پیدائشی دل کی بیماری کی تاریخ موجود ہو یا ماں کے پیٹ میں موجود بچے میں دل کی بیماری کا خطرہ ہو تو فیٹل ایکو کے ذریعے بچے کے دل کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس سے پیدائش سے پہلے ممکنہ دل کی بیماری کی تشخیص میں مدد ملتی ہے اور بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ضروری علاج کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
این آئی سی وی ڈی کا پیڈیاٹرک کارڈیک نظام صرف سرجری تک محدود نہیں، بلکہ تشخیص، پیدائش سے پہلے اسکریننگ، کیتھیٹر بیسڈ علاج، آپریشن اور انتہائی نگہداشت سمیت بچوں کے دل کے علاج کے مختلف مراحل کو ایک ہی نظام میں مربوط کرتا ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے چلڈرن وارڈ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالستار شیخ کے مطابق اس نظام کا مقصد ایسے بچوں کو علاج فراہم کرنا ہے جن کے لیے ماضی میں پیچیدہ دل کی بیماری کا مطلب بیرون ملک علاج کے لیے سفر کرنا ہوتا تھا۔
آج کراچی میں موجود یہ سہولت ان خاندانوں کے لیے ایک مختلف راستہ پیش کر رہی ہے، جہاں بچوں کے پیچیدہ دل کے علاج کی کوشش ایک ہی طبی نظام کے اندر کی جا رہی ہے۔
