دریائے سندھ (سندھو ندی) محض پانی کا ایک جاری و ساری بحری بہاؤ نہیں، بلکہ یہ ہمالیہ کے بلند و بالا کوہساروں سے نکل کر بحرِ ہند کے نیلگوں ساحلوں تک تہذیبوں، انسانی آبادیوں اور معاشی شاہراہوں کو یکجا کرنے والا ایک عظیم اور فطری دھاگا ہے۔
تاریخ کے ابتدائی شعور یعنی برونز ایج (کانسی کے دور) کی وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر قرونِ وسطیٰ کے صوفیانہ افق اور انیسویں و بیسویں صدی کے نوآبادیاتی و جدید دور تک، سندھ اور خطۂ پنجاب (بشمول سرائیکی وسیب) کے درمیانی تعلقات ایک یکجا، متحرک اور نامیاتی تہذیبی وجود کا نام رہے ہیں۔
میرا یہ مضمون قدیم وادیِ سندھ کی تجارتی شاہراہوں، مشترکہ زبان و ادب، صوفیانہ روایات، اور برطانوی و بعد از 1947 کے ادوار میں بالائی علاقوں سے کراچی کی طرف ہونے والی نقلِ مکانی اور معاشی آبادی کے ساتھ ساتھ سندھ و پنجاب کی تاریخی یگانگت پر جدید وفاقی و سیاسی تضادات کی پرچھائیوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔

وادی سندھ کا سندھو ندی کے ذریعے تجارتی نیٹ ورک
سندھ اور پنجاب کا جغرافیائی و معاشی رشتہ قبل از تاریخ کے دھندلکوں میں قائم ہو چکا تھا۔ وادیِ سندھ کی تہذیب کے دو بڑے اور عظیم الشان شہری مراکز ہڑپہ (پنجاب) اور موہن جو دڑو (سندھ) دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں (راوی، جہلم، چناب، ستلج) کے ذریعے ایک دوسرے سے گہرے تجارتی و ثقافتی تعلق میں بندھے ہوئے تھے۔
بالائی پنجاب کے جنگلات کی قیمتی لکڑی، اناج اور معدنیات کو سندھو ندی کے ذریعے لکڑی کے بڑے بیڑوں پر لاد کر زیریں سندھ لایا جاتا تھا۔
سندھ کے ڈیلٹائی ساحلی مراکز سے یہ تجارتی سامان مکران کے سرحدی قلعے سوتکاگن ڈور اور بین النہرین (میسوپوٹیمیا) تک پہنچتا تھا۔ وادی سندھ کی مہریں، عقیق کے منکے، چِرٹ سے بنے اوزار اور سوتی کپڑا پنجاب اور سندھ کا مشترکہ برآمدی اثاثہ تھے، جنہوں نے قدیم دنیا میں اس خطے کو ‘ملوہا’ کے نام سے معاشی شناخت فراہم کی۔
لسانی پیوند اور صوفیانہ و ادبی یگانگت
سندھ اور پنجاب صرف دریا سے نہیں جڑے، بلکہ ان کی زبانوں اور ادب کی روح بھی ایک ہی سرچشمے سے سیراب ہوتی ہے۔
لسانیات دانوں کے مطابق قدیم سندھی اور پنجابی (بالخصوص جنوبی پنجاب کی سرائیکی و ملتانی) ہند آریائی زبانوں کی ایک ہی لڑی سے تعلق رکھتی ہیں۔
سرائیکی زبان جغرافیائی طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیان توازن اور ربط کی زبان ہے۔ یہ ویسے ہی ہے جس طرح مکران اور لسبیلہ کے علاقوں میں بولی جانے والی جدگالی بولی سندھی اور بلوچی کے ساتھ ساتھ توازن رکھتی ہے۔
سندھی کی ‘سرائیکی بولی’ (جتکی) اور بالائی سندھ کے لہجے پنجابی اور سرائیکی سے اس قدر مماثلت رکھتے ہیں کہ دونوں خطوں کے باشندے ایک دوسرے کا مافی الضمیر بغیر کسی دشواری کے سمجھ لیتے ہیں۔

صوفیانہ روایات اور لوک داستانیں
سندھ اور پنجاب کی روحانی بنیاد صوفیائے کرام کے آستانوں پر رکھی گئی ہے۔ ملتان اور اوچ شریف کے صوفی سلسلے (سہروردیہ اور قادریہ) کا اثر سندھ کے طول و عرض میں پھیلا ہوا تھا۔ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی، حضرت لعل شہباز قلندر (سیہون) اور حضرت شاہ رکن عالم کے آستانے دونوں خطوں کے زائرین کے لیے مشترکہ مرکزِ عقیدت رہے ہیں۔
سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے ‘شاہ جو رسالو’ اور پنجاب کے سحرالبیان شاعر وارث شاہ کی ‘ہیر رانجھا’، سچل سرمست اور بلھے شاہ کا کلام ایک ہی صوفیانہ درد اور وحدت الوجود کے فلسفے کا عکاس ہے۔ ہیر رانجھا، سسی پنھوں اور سوہنی مہینوال کی لوک داستانیں پنجاب اور سندھ کی سرحدوں کو عبور کر کے دونوں دھرتیوں کے لوک گیتوں اور راگوں کا جزوِ اعظم بن چکی ہیں۔

نارتھ ویسٹرن ریلوے اور برطانوی دور کا آبادیاتی ڈیٹا
انگریزوں نے 1843 میں سندھ اور 1849 میں پنجاب پر قبضہ کیا۔ برطانوی نوآبادیاتی حکمتِ عملی کا مقصد سندھ کے ساتھ ساتھ لینڈ لاک صوبہ پنجاب کے وسیع زرعی میدانوں (گندم اور کپاس) کو کراچی کی قدرتی بندرگاہ کے ذریعے عالمی مارکیٹ سے جوڑنا تھا۔
1861 میں کراچی سے کوٹری ریلوے ٹریک اور 1878 میں کراچی کو ملتان اور لاہور سے نارتھ ویسٹرن ریلوے کے ذریعے منسلک کیے جانے کے بعد، بالائی خطوں سے محنت کشوں، ہنرمندوں اور تاجروں کا سیلاب کراچی کی طرف امڈ آیا۔
1881 تا 1941 مردم شماری کا عددی اور لسانی خاکہ
برطانوی ہند کی سرکاری مردم شماری (مثلاً Census of India 1941) کے مطابق کراچی کی مجموعی آبادی میں نوآبادیاتی دور میں درج ذیل رفتار سے سنسنی خیز اضافہ ہوا:
1881: 73,560
1901: 136,297
1921: 244,162
1941: 435,887
اگرچہ 1941 کی مردم شماری میں کراچی میں سندھی (بشمول کچھی، لاسی) بولنے والوں کی اکثریت 65 فیصد تھی، جبکہ پنجابی تقریباً سات فیصد، گجراتی 13 اعشاریہ آٹھ فیصد، بلوچی 12 اعشاریہ چار فیصد اور اردو چھ اعشاریہ آٹھ فیصد بولنے والے گروہ کراچی کے متنوع معاشی نیٹ ورک کی بنیاد بن چکے تھے۔
برطانوی دور میں پنجابی مسیحی اور سکھ برادری کی کراچی میں غیر معمولی خدمات
قدیم کراچی کو برطانوی ہند کا ایک جدید اور باقاعدہ بین الاقوامی شہر بنانے میں پنجاب کے غیر مسلم اور اقلیتی محنت کشوں کا پسینہ شامل رہا:

پنجابی مسیحی برادری اور ‘صاف ستھرے شہر’ کا اعزاز
1880 کی دہائی میں سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال اور پوٹھوہار سے پنجابی مسیحی خاندانوں کی کراچی آمد ہوئی۔
کراچی کو ‘ایشیا کے سب سے صاف ستھرے شہر’ کا مقام دلوانے میں اس برادری کا مرکزی کردار تھا۔ صدر، ایمپریس مارکیٹ اور بنڈر روڈ کی روزانہ دھلائی اور سیوریج لائنوں کی دیکھ بھال انہی کے سپرد تھی۔
دوسری جانب سول ہسپتال، لیڈی ڈفرن ہسپتال اور سوبھراج مروتی ہسپتال میں پنجابی مسیحی نرسوں اور عملے نے خدمات دیں۔ 1896-97 کے کراچی طاعون (Plague) میں انہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر شہریوں کو بچایا۔
مساکن: یہ برادری لیاری، لائنز ایریا (Lines Area)، فریئر ٹاؤن (کینٹ اسٹیشن) اور عیدگاہ کے قریب صدیقی گوٹھ میں آباد ہوئی۔

پنجابی خالصہ (سکھ برادری) کا تکنیکی و فوجی کردار
ریلوے اور ورکشاپس: نارتھ ویسٹرن ریلوے کی سٹی و کینٹ ورکشاپس اور پورٹ کی مکینیکل گودیوں میں سکھ انجینئرز، مستری اور لوکو ڈرائیورز چھائے ہوئے تھے۔
کینٹونمنٹ میں سکھ رجمنٹس اور کراچی پولیس میں ان کی خدمات کے علاوہ، قدیم کراچی میں وکٹوریہ بگیوں، بسوں کی باڈی بلڈنگ اور پرانے شہر کی ٹمبر مارکیٹ میں سکھ تاجروں کا بڑا کاروبار تھا۔
گوردوارے: پریڈی اسٹریٹ کا تاریخی گوردوارہ پیلی بپت (رتن تلاؤ) اور گوردوارہ شری گورو نانک دیو جی (آرام باغ) ان کے مذہبی مراکز تھے، جن کے لنگر خانے غریب پورٹ مزدوروں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔
چمڑے کی صنعت اور پنجابی برادری کا کردار
1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد جہاں کراچی کا آبادیاتی نقشہ تبدیل ہوا، وہاں شہر کی چمڑے کی صنعت (Tannery Industry) کو عالمی افق پر لانے میں پنجاب کے تجارتی خاندانوں نے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ چنیوٹ، کلکتہ اور کانپور سے آنے والے چنیوٹی شیخ تاجروں نے کراچی میں خام کھالوں کی پروسیسنگ اور برآمدات کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی۔
1970 اور 1980 کی دہائیوں میں جب ٹینریز کو لیاری سے منتقل کیا گیا، تو کورنگی انڈسٹریل ایریا (سیکٹر 7-A) کو پاکستان میں چمڑے کا سب سے بڑا مرکز بنانے کی قیادت چنیوٹی و پنجابی شیخ برادری کے ہاتھ میں رہی۔
مشرقی پنجاب (جالندھر، لدھیانہ) اور قصور و سیالکوٹ سے ہجرت کر کے آنے والی شیخ برادری نے کراچی کی ٹینریز کو ماہر کارگر، کیمیکل ڈائرز اور ٹیکنیشنز فراہم کیے، جن کی بدولت کراچی سے اعلیٰ معیار کا تیار شدہ چمڑا اور گارمنٹس یورپ و جاپان برآمد ہونے لگے۔

تجارتی و رہائشی مساکن
رنگیواڑہ (لیاری): لیاری کا علاقہ رنگیواڑہ چمڑا رنگنے کا قدیم ترین مرکز بنا، جہاں پنجابی تاجروں، ماہر کارگروں اور مقامی مکرانی و بلوچ محنت کشوں کے درمیان معاشی اشتراک قائم ہوا۔
نیو چالی میں لیدر ایکسپورٹرز کے دفاتر قائم ہوئے، جبکہ 1950 کی دہائی میں گولیمار کے قریب شفیق آباد چمڑے کی ٹریڈنگ کا ایک نیا ذیلی مرکز بنا۔ بعد ازاں یہ آبادی کاری کورنگی 2½ اور زمان ٹاؤن تک پھیل گئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد وفاقی تضادات، آبی تنازعات اور تاریخی تعلقات پر تلخی کے سائے
اگرچہ صدیوں سے جاری یہ باہمی اور نامیاتی رشتہ عوامی و ثقافتی سطح پر نہایت مضبوط رہا، لیکن 1947 کے بعد نومولود مملکت کے وفاقی فریم ورک اور مرکزی سیاست میں ابھرنے والی عدم مساوات نے ان تاریخی تعلقات پر گہرے اور تلخ سائے افگن کیے۔ 1955 میں سندھ کی تاریخی صوبائی خودمختاری کو سلب کر کے لاگو کیا جانے والا ‘ون یونٹ’ کا متنازع فیصلہ وہ پہلا بڑا بوجھ تھا جس نے سندھ کے عوام میں مرکز اور بالائی بیوروکریسی کے خلاف شدید بے اعتمادی کو جنم دیا۔
اگرچہ 1971 میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد 1973 کے آئین نے وفاقی ڈھانچے کی بحالی اور حقوق کی ضمانت کی ایک نئی موہوم امید پیدا کی، لیکن عملی طور پر قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈز میں آبادی کے یکطرفہ معیار پر حد سے زیادہ انحصار، اور فوج و بیوروکریسی کے اندر ایک ہی صوبے کی عددی و سیاسی بالادستی نے وفاق کی اکائیوں میں احساسِ محرومی کو مزید گہرا کیا۔
اس تلخی کا سب سے نازک اور حساس پہلو دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کا دیرینہ تنازع رہا ہے؛ کوٹری بیراج کے زیریں علاقوں میں ڈیلٹا کی بربادی، چشمہ جہلم اور تونسہ پنجند لنک کینالز کی یکطرفہ کشادگی اور حالیہ ادوار میں جدید چولستان و دیگر نہری منصوبوں پر سندھ کے شدید تحفظات نے اس احساس کو پختہ کیا ہے کہ بالائی خطہ زیریں سندھ کے تاریخی و معاشی آبی حقوق پر نادانستہ یا دانستہ طور پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
حالیہ سالوں میں پنجابی اشرافیہ اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے انتظامی بنیادوں کے نام پر سندھ کو تقسیم کر کے نئے صوبے بنانے یا کراچی کو صوبائی اختیار سے الگ کرنے کی چہ مگوئیوں نے اس تاریخی رشتۂ اخوت میں بے پناہ کھنچاؤ اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔
قدیم وادیِ سندھ کی ہڑپائی کشتیوں سے لے کر شاہ لطیف و وارث شاہ کے کلام تک، اور برطانوی دور کے نارتھ ویسٹرن ریلوے، بلدیاتی محنت کشوں سے لے کر جدید کراچی کی صنعتی و چمڑہ سازی کی منڈیوں تک سندھ اور پنجاب کا تعلق کسی وقتی سیاسی سودے بازی کا نام نہیں ہے۔
یہ ایک ایسا لازوال، ملٹی ڈائمینشنل اور کثیر الثقافتی رشتہ ہے جو دریائے سندھ کی لہروں کے ساتھ صدیوں سے رواں دواں ہے اور کراچی جیسے بین الاقوامی شہر کے وجود کو رنگا رنگی اور معاشی استحکام عطا کرتا ہے۔
تاریخ کا سچ یہی ہے کہ سندھ اور پنجاب کے عوام کا رشتہ صدیوں پر محیط نامیاتی اور صوفیانہ روایات سے جڑا ہے، لیکن وفاق کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مرکز اور بالائی صوبے کی سیاسی و عسکری اشرافیہ سندھ کی تاریخی جغرافیائی وحدت، آبی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے خلاف اٹھنے والے اقدامات کا تدارک کرے، تاکہ یہ تاریخی رشتہ تلخیوں کے بجائے مساوات اور احترامِ باہمی پر استوار رہ سکے۔

