Tag: دریائے سندھ

  • نریڑی جھیل: دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں سکڑتا ہوا ایک اہم آبی مسکن

    نریڑی جھیل: دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں سکڑتا ہوا ایک اہم آبی مسکن

    بدین میں پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب نریڑی جھیل کے وسیع و عریض پھیلے ہوئے خشک حصے پر کھڑے ہو کر یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ یہ علاقہ کبھی بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے آبی پرندوں کے لیے ایک اہم مسکن ہوا کرتا تھا۔

    نریڑی، جسے نریڑی لگون بھی کہا جاتا ہے، زیریں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کا حصہ ہے اور اسے عالمی سطح پر اہم آبی علاقے کی حیثیت سے رامسر کنونشن کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔ اسے 2001 میں رامسر سائٹ کا درجہ دیا گیا۔

    نریڑی بدین کے ساحلی علاقے میں واقع ہے اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ان وسیع آبی اور ساحلی نظاموں کا حصہ ہے جہاں جھیلوں، لگونز، کھاڑیاں، کیچڑ زدہ میدانوں اور دیگر دلدلی علاقوں کا ایک پیچیدہ سلسلہ پایا جاتا ہے۔ یہ پورا خطہ دریائے سندھ سے آنے والے میٹھے پانی، سمندری مدوجزر، موسمی بارشوں اور بحیرہ عرب کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے۔

    نریڑی کی اہمیت کا ایک بڑا سبب یہاں آنے والے نقل مکانی کرنے والے پرندے ہیں۔ سندھ انڈس فلائی وے سے منسلک ہے، جو پرندوں کی ہجرت کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ ہر سال شمالی یوریشیا کے مختلف علاقوں سے پرندے سردیوں کے موسم میں جنوب کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں اور سندھ کی جھیلوں، دلدلی علاقوں اور ساحلی آبی مساکن میں قیام کرتے ہیں۔

    سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے آبی پرندوں کے سالانہ سروے نریڑی کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2025-26 کے موسم سرما کے سروے کے دوران نریڑی جھیل میں ایک لاکھ 71 ہزار 171 نقل مکانی کرنے والے پرندے ریکارڈ کیے گئے، جو سروے میں شامل سندھ کے 30 مقامات میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔

    ان سرویز کے دوران مختلف اقسام کے پرندے ریکارڈ کیے جاتے رہے ہیں، جن میں شمالی شاولر، کامن پوچارڈ، ٹفٹڈ ڈک، یوریشین ویجن، کاٹن پگمی گوز، گارگنی، نادرن پن ٹیل، فیریجینس پوچارڈ، کامن کوٹ، ریڈ کرسٹڈ پوچارڈ، گیڈوال، ماربلڈ ٹیل، گری لیگ گوز اور بار ہیڈڈ گوز شامل ہیں۔

    تاہم نریڑی میں پرندوں کی تعداد اور آبی رقبہ ہر سال یکساں نہیں رہا۔ 2022-23 کے موسم سرما کے سروے میں یہاں 100,766 پرندے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ مختلف ادوار میں نریڑی اور سندھ کے دیگر آبی علاقوں میں پانی کی کمی اور ماحولیاتی بگاڑ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

    سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی ایک حالیہ تحقیق نے بھی نریڑی میں ہونے والی طویل مدتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیق کے مطابق 2000 میں نریڑی کا نقشہ شدہ آبی رقبہ تقریباً 88.12 مربع کلومیٹر تھا، جو 2023 تک کم ہو کر تقریباً 19.12 مربع کلومیٹر رہ گیا۔ اس تحقیق میں جھیل کے پانی سے متعلق دیگر اشاریوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو آبی مسکن میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

    نریڑی کی موجودہ صورتحال کو کسی ایک وجہ سے منسلک کرنا درست نہیں ہوگا۔ تحقیق اور مختلف ماحولیاتی جائزوں کے مطابق زیریں دریائے سندھ اور ڈیلٹا کے آبی علاقوں کو میٹھے پانی کی کمی، دریائی بہاؤ میں تبدیلی، خشک سالی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نمکیات میں اضافے، سمندری پانی کے اندر آنے، آلودگی اور نکاسی آب کے نظام میں تبدیلی جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

    اس پورے بحران کا ایک بنیادی پہلو دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں طویل مدتی تبدیلی ہے۔ زیریں سندھ کا ڈیلٹا دریائے سندھ سے آنے والے میٹھے پانی پر انحصار کرتا ہے، خصوصاً کوٹری بیراج سے نیچے کے علاقے میں۔ سائنسی مطالعات کے مطابق کوٹری بیراج کے نیچے ماحولیاتی بہاؤ کی کمی اور اس میں بے قاعدگی نے ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے۔

    دریائے سندھ کے پانی کا بڑا حصہ آبپاشی کے لیے مختلف بیراجوں اور نہری نظاموں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تاریخی طور پر جتنا پانی دریائے سندھ کے نچلے حصے اور ڈیلٹا تک پہنچتا تھا، اس میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی کے باعث سمندری پانی کا اثر اندرونی علاقوں تک بڑھ سکتا ہے، جس سے زمین، میٹھے پانی کے ذخائر، نباتات اور آبی حیات متاثر ہوتی ہے۔

    سمندری پانی کی پیش قدمی اور نمکیات میں اضافے کا اثر صرف جھیلوں تک محدود نہیں رہتا۔ ان تبدیلیوں کا تعلق ڈیلٹا کے مینگرووز، مچھلیوں، زرعی زمینوں، میٹھے پانی کے ذرائع اور مقامی آبادی کے روزگار سے بھی ہے۔ دریائی بہاؤ میں کمی کے ساتھ دریائے سندھ کے ذریعے آنے والی تلچھٹ میں کمی بھی ڈیلٹا کے ساحلی نظام کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    نریڑی کو نکاسی آب اور آلودگی کے مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ مختلف سرکاری اور ماحولیاتی دستاویزات میں زرعی اور صنعتی فضلے کے نکاسی آب کے راستوں کے ذریعے آبی علاقوں تک پہنچنے کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض مطالعات میں ایسے ڈرینج سسٹمز کی نشاندہی کی گئی ہے جو آلودہ پانی نریڑی کے آبی نظام کی طرف لے جاتے ہیں۔

    نریڑی کی ماحولیاتی اہمیت کا تعلق مقامی آبادی کے روزگار سے بھی رہا ہے۔ ماضی میں اس علاقے کے آبی ذخائر میں ماہی گیری اور دیگر سرگرمیاں مقامی لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ تھیں۔ پانی کی سطح اور آبی مسکن میں تبدیلی کے اثرات نے ان سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

    اس کے باوجود نریڑی کو مکمل طور پر ختم شدہ یا مردہ جھیل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے آبی رقبے میں نمایاں کمی کے شواہد موجود ہیں، لیکن 2025-26 میں 171,171 نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ اب بھی پرندوں کے لیے اہم مسکن کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    تصویر میں دکھائی دینے والا وسیع کیچڑ زدہ اور خشک منظر اس تبدیلی کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ تاہم ساحلی جھیلوں میں پانی کی سطح موسم اور مدوجزر کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے کسی ایک وقت کی تصویر کو جھیل کی مکمل سالانہ صورتحال کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ دوسری طرف طویل مدتی سیٹلائٹ تحقیق میں نریڑی کے آبی رقبے میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جو موسمی اتار چڑھاؤ سے کہیں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    نریڑی کی کہانی بنیادی طور پر پانی کی کہانی ہے۔ اس جھیل کا مستقبل صرف مقامی بارشوں یا سمندری مدوجزر سے وابستہ نہیں بلکہ دریائے سندھ کے مجموعی بہاؤ اور زیریں ڈیلٹا تک پہنچنے والے میٹھے پانی کی مقدار اور وقت سے بھی جڑا ہوا ہے۔

    نریڑی کا مقام اسے مزید اہم بنا دیتا ہے۔ یہ زیریں دریائے سندھ کے ڈیلٹا، ساحلی آبی علاقوں اور پاکستان بھارت سرحدی خطے کے قریب واقع ایک ایسا مقام ہے جس کی اہمیت مقامی حدود سے کہیں آگے ہے۔ رامسر سائٹ کی حیثیت اس کی بین الاقوامی ماحولیاتی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، جبکہ یہاں ہر سال آنے والے ہزاروں نقل مکانی کرنے والے پرندے اس کے مسلسل حیاتیاتی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    نریڑی کا مستقبل اس بات سے گہرا تعلق رکھتا ہے کہ دریائے سندھ کا کتنا پانی ڈیلٹا تک پہنچتا ہے، آبی علاقوں کو کتنا میٹھا پانی دستیاب رہتا ہے اور ان علاقوں کو آلودگی، نمکیات اور انسانی دباؤ سے کس حد تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ نریڑی میں ماحولیاتی تبدیلی کے آثار واضح ہیں، لیکن اس کا موجودہ پرندوں کا مسکن یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ آبی علاقہ اب بھی زندہ ہے اور اس کے تحفظ کی اہمیت برقرار ہے۔

  • حیدرآباد کی پہچان دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مچھلی کو 27 سال کا تجربہ رکھنے والے استاد گل کیسے پکاتے ہیں؟

    حیدرآباد کی پہچان دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مچھلی کو 27 سال کا تجربہ رکھنے والے استاد گل کیسے پکاتے ہیں؟

    حیدرآباد کے آٹو بھان روڈ پر واقع بریز فش پوائنٹ پر مچھلی پکانے کا 27 سالہ تجربہ رکھنے والے استاد گل کے مطابق دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مچھلی کو مخصوص مصالحوں اور تیل میں پکانے سے اس کا ذائقہ منفرد ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دور سے یہاں مچھلی کھانے آتے ہیں۔

    ویسے تو دریائے سندھ کی پلہ مچھلی حیدرآباد کی خاص پہچان سمجھی جاتی ہے، تاہم یہ مخصوص موسم میں دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رہو مچھلی بھی خاصی مقبول ہے اور حیدرآباد میں میٹھے پانی کی مختلف اقسام کی مچھلیاں مقامی کھانوں کا حصہ ہیں۔

    استاد گل کے مطابق کراچی سمیت دیگر شہروں سے بھی لوگ حیدرآباد آکر دریائے سندھ کی مچھلی کھانا پسند کرتے ہیں۔ ان کے بقول بعض گاہک خاص طور پر میٹھے پانی کی مچھلی کے ذائقے کے لیے حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ سمندری اور دریائی مچھلی کے ذائقے میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ دریائے سندھ کی مچھلی میں کانٹے نسبتاً زیادہ ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کا مخصوص ذائقہ لوگوں کو پسند آتا ہے۔

    ’ہماری مچھلی کے ذائقے کا اصل راز ہمارے مخصوص مصالحے اور پکانے کا طریقہ ہے۔ ہم مچھلی کو مناسب طریقے سے تیار کرکے تیل میں پکاتے ہیں، جس سے اس کا ذائقہ مزید بہتر ہوجاتا ہے اور لوگ شوق سے کھاتے ہیں۔‘

    استاد گل کے مطابق 27 سال کے تجربے کے دوران انہوں نے مچھلی پکانے کے طریقے میں کئی چیزیں اپنے تجربے سے سیکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مچھلی کا تازہ ہونا، اسے صاف کرنے کا درست طریقہ، مصالحوں کی مقدار اور پکانے کا وقت، سب اس کے حتمی ذائقے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    حیدرآباد میں دریائے سندھ کی مچھلی صرف ایک کھانے کی چیز نہیں بلکہ شہر کی خوراک اور دریائی ثقافت کا بھی حصہ ہے۔ پلہ اپنی موسمی دستیابی کے باعث خاص اہمیت رکھتی ہے، جبکہ رہو اور میٹھے پانی کی دوسری مچھلیاں سال کے مختلف اوقات میں اس ذائقے کی روایت کو زندہ رکھتی ہیں۔

    اور آٹو بھان روڈ پر استاد گل جیسے ماہر باورچی اس روایت کو اپنے 27 سالہ تجربے کے ساتھ آج بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، ڈیمز، بیراجز کی تعمیر کے باعث انڈس ڈیلٹا سے ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی

    دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، ڈیمز، بیراجز کی تعمیر کے باعث انڈس ڈیلٹا سے ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی

    انڈس ڈیلٹا، جہاں دریائے سندھ اپنے طویل سفر کے بعد بحیرۂ عرب میں جا کر گرتا ہے، ملک کے اہم ترین قدرتی ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیلٹا صدیوں سے سندھ کی ساحلی آبادیوں کے لیے زندگی، روزگار اور خوراک کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔

    مینگرووز کے گھنے جنگلات، زرخیز زرعی زمینیں، مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش گاہیں اور بے شمار جنگلی حیات اس خطے کی شناخت رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران یہ علاقہ ایک سنگین ماحولیاتی بحران کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندان اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسی بڑے پیمانے پر ہونے والی ماحولیاتی ہجرت کو ‘انڈس ڈیلٹا ایکو ایگزوڈس’  یا ‘ڈوبتے ہوئے ساحلی خطے سے نقل مکانی’  کہا جاتا ہے۔

    دریائے سندھ کا ڈیلٹا تاریخی طور پر دنیا کے بڑے اور زرخیز ڈیلٹاؤں میں شمار ہوتا تھا۔ ماضی میں ہر سال دریائے سندھ لاکھوں ٹن زرخیز مٹی یا تلچھٹ اور بڑی مقدار میں میٹھا پانی بحیرۂ عرب تک پہنچاتا تھا۔ یہی پانی نہ صرف ساحلی زمینوں کو زرخیز بناتا تھا بلکہ سمندر کے نمکین پانی کو بھی اندرونی علاقوں میں داخل ہونے سے روکتا تھا۔

    اس مسلسل بہاؤ نے ہزاروں برسوں تک انڈس ڈیلٹا کو ایک متوازن ماحولیاتی نظام کے طور پر برقرار رکھا، جہاں زراعت، ماہی گیری اور جنگلات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

    لیکن بیسویں صدی کے دوسرے نصف، خصوصاً 1970 کی دہائی کے بعد، دریائے سندھ پر متعدد بڑے ڈیم، بیراج اور نہری نظام تعمیر کیے گئے تاکہ ملک کی زرعی اور توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم، سکھر، گڈو اور کوٹری بیراج جیسے منصوبوں نے بالائی علاقوں میں پانی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں انڈس ڈیلٹا تک پہنچنے والے میٹھے پانی کی مقدار مسلسل کم ہوتی گئی۔

    جب دریا کا قدرتی بہاؤ کم ہوا تو بحیرۂ عرب کا نمکین پانی آہستہ آہستہ اندرونی علاقوں میں داخل ہونے لگا، جسے سمندری کٹاؤ کہا جاتا ہے۔

    سمندر کے نمکین پانی کی اس پیش قدمی نے انڈس ڈیلٹا کی زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ لاکھوں ایکڑ قابلِ کاشت زمین آہستہ آہستہ بنجر ہو گئی کیونکہ نمکیات نے مٹی کی زرخیزی ختم کر دی۔ بہت سے علاقوں کے کنوؤں اور زیرزمین پانی کے ذخائر بھی نمکین ہو گئے، جس سے پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوئی۔

    جن کسانوں کی نسلیں انہی زمینوں پر کھیتی باڑی کرتی آئی تھیں، وہ اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ اب وہاں نہ فصلیں اگ سکتی تھیں اور نہ ہی مویشیوں کے لیے چارہ دستیاب تھا۔

    ماہی گیری، جو انڈس ڈیلٹا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، وہ بھی شدید متاثر ہوئی۔ مینگرووز کے جنگلات مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر آبی حیات کی قدرتی افزائش گاہیں ہوتے ہیں، لیکن میٹھے پانی کی کمی اور سمندری آلودگی کے باعث ان جنگلات کو نقصان پہنچا۔

    اگرچہ حالیہ برسوں میں سندھ حکومت اور مختلف ماحولیاتی اداروں نے مینگرووز کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی ہے، تاہم کئی علاقوں میں قدرتی نظام اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مچھلیوں کی کم ہوتی تعداد نے ہزاروں ماہی گیروں کی آمدنی کو متاثر کیا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوتے گئے۔

    موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کے باعث سمندر کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بحیرۂ عرب میں آنے والے شدید سمندری طوفانوں اور غیر معمولی موسمی واقعات کی شدت بھی بڑھ رہی ہے۔ ساحلی کٹاؤ کی وجہ سے ہر سال ساحل کے کئی حصے سمندر میں شامل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات جزوی یا مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگوں کو اپنی بستیاں بار بار منتقل کرنا پڑی ہیں کیونکہ سمندر مسلسل ان کی زمین نگل رہا ہے۔

    ان تمام ماحولیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا انسانی اثر بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی ہے، جسے ماہرین ایکو ایگزوڈس کہتے ہیں۔ جب لوگوں کے پاس نہ قابلِ کاشت زمین باقی رہی، نہ روزگار، نہ صاف پانی اور نہ محفوظ رہائش، تو انہوں نے اپنے آبائی گاؤں چھوڑ کر کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول اور دیگر شہری علاقوں کا رخ کیا۔ ان میں سے بہت سے افراد شہروں میں غیر رسمی بستیوں میں آباد ہوئے، جہاں انہیں روزگار، صحت، تعلیم اور رہائش جیسے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح ایک ماحولیاتی بحران آہستہ آہستہ سماجی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو گیا۔

    ماہی گیروں کے حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 1970 سے 2025 کے درمیاں انڈس ڈیلٹا سے ایک الکھ سے زائد خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں۔

    انڈس ڈیلٹا کی تباہی صرف مقامی آبادی تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معیشت اور غذائی تحفظ سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ ساحلی ماہی گیری میں کمی سے سمندری خوراک کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جبکہ زرعی زمینوں کی تباہی نے مقامی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ مینگرووز کے جنگلات، جو کاربن جذب کرنے اور ساحلی علاقوں کو طوفانوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کی کمزوری مستقبل میں قدرتی آفات کے خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر انڈس ڈیلٹا تک مناسب مقدار میں ماحولیاتی ضرورت کے مطابق میٹھا پانی نہ پہنچایا گیا، ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے جنگلات کا تحفظ نہ کیا گیا، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی، تو آنے والے برسوں میں مزید ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پانی کے منصفانہ انتظام، ساحلی تحفظ، ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں، مقامی آبادی کی بحالی اور موسمیاتی موافقت کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔

    انڈس ڈیلٹا ایکو ایگزوڈس دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی نظام کا توازن بگاڑ دیتی ہیں تو اس کے اثرات صرف زمین یا جنگلات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری انسانی آبادی کو متاثر کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا کا تحفظ صرف ایک ساحلی علاقے کو بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے قدرتی ورثے، حیاتیاتی تنوع، غذائی سلامتی اور لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • انڈس ڈیلٹا کیوں ختم ہو رہا ہے؟ سکھر بیراج کی کہانی

    انڈس ڈیلٹا کیوں ختم ہو رہا ہے؟ سکھر بیراج کی کہانی

    دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں۔ یہ وہ دریا ہے جس نے صرف زمین کو نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کو جنم دیا۔ صدیوں تک اس کے پانی نے سندھ کی سرزمین کو زندگی بخشی اور اس خطے کی معیشت، تجارت اور ثقافت کو پروان چڑھایا۔

    کبھی سندھ کی زمین پر دریا کے پانی کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا تھا۔ چھوٹی بڑی ندیاں، قدرتی شاخیں اور ندی نالے پورے خطے کو سیراب کرتے تھے۔ انہی پانیوں کی بدولت سندھ کی زمین زرخیز تھی، بستیاں آباد تھیں اور تجارت عروج پر تھی۔

    دریائے سندھ جب سمندر سے ملتا تھا تو اس کے دہانے پر ایک وسیع ڈیلٹا آباد تھا۔ دریائے سندھ کا یہ ڈیلٹا کبھی دنیا کا پانچواں بڑا ڈیلٹا سمجھا جاتا تھا۔ یہ محض مٹی اور پانی کا علاقہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی اور معاشی نظام تھا۔

    اس ڈیلٹا میں مینگرووز کے گھنے جنگلات تھے۔ مچھلیوں اور جھینگوں کی بے شمار اقسام یہاں پائی جاتی تھیں اور ہزاروں ماہی گیر خاندان اپنی روزی اسی سمندر اور دریا کے ملاپ سے کماتے تھے۔

    اسی ڈیلٹا کے کنارے دو اہم بندرگاہیں آباد تھیں، کیٹی بندر اور شاہ بندر۔ یہ بندرگاہیں صدیوں تک سندھ کی سمندری تجارت کا مرکز رہیں۔ یہاں سے کپاس، چاول، اناج اور دیگر سامان کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے خلیج، مشرقی افریقہ اور دیگر علاقوں تک پہنچایا جاتا تھا۔

    اس زمانے میں دریائے سندھ کا پانی بڑی مقدار میں سمندر تک پہنچتا تھا اور یہی پانی ڈیلٹا کو زندہ رکھتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ منظر بدلنا شروع ہو گیا۔

    انیسویں صدی میں جب برطانوی حکومت نے سندھ پر قبضہ کیا تو اس نے دریائے سندھ کو ایک نئی نظر سے دیکھا۔ انگریزوں کے لیے یہ دریا صرف قدرتی بہاؤ کا حصہ نہیں بلکہ ایک زرعی اور معاشی منصوبہ تھا۔

    برطانوی حکومت نے سندھ میں بڑے پیمانے پر آبپاشی کا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے دریائے سندھ کی قدرتی شاخوں اور تاریخی ندیوں کو تبدیل کیا گیا۔

    سندھ میں صدیوں سے کئی قدرتی ندیاں بہتی تھیں جو دریا سے نکل کر مختلف علاقوں کو سیراب کرتی تھیں۔ مگر برطانوی انجینئرنگ نے ان قدرتی راستوں کو منظم نہروں میں بدل دیا۔ان نہروں کے ذریعے وسیع زرعی زمینیں تیار کی گئیں۔ نئی آبادیاں بسائی گئیں اور زراعت کے ذریعے بڑی معاشی آمدنی حاصل کی گئی۔

    اسی وسیع آبپاشی نظام کا ایک اہم حصہ تھا سکھر بیراج۔

    سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ پر اس عظیم منصوبے کی تعمیر 1923 میں شروع ہوئی۔ تقریباً سات سال کی مسلسل محنت کے بعد 1932 میں یہ بیراج مکمل ہوا۔ ابتدا میں اس کا نام لوئیڈ بیراج رکھا گیا تھا جو اس وقت کے گورنر سر جارج لوئیڈ کے نام پر تھا۔ بعد میں اسے سکھر بیراج کے نام سے جانا جانے لگا۔ یہ بیراج تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر لمبا ہے اور اس میں 66 بڑے گیٹ نصب کیے گئے ہیں جو دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔

    اس بیراج سے سات بڑی نہریں نکالی گئیں جن میں نارا کینال، روہڑی کینال، دادو کینال، رائس کینال، خیرپور ایسٹ کینال، خیرپور ویسٹ کینال اور نارتھ ویسٹ کینال شامل ہیں۔ یہ نہریں سندھ کے وسیع علاقوں تک پانی پہنچاتی ہیں اور لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتی ہیں۔

    زراعت کے لحاظ سے سکھر بیراج نے سندھ کی معیشت کو بدل کر رکھ دیا۔ چاول، گندم، کپاس اور گنے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور کئی بنجر علاقے قابل کاشت بن گئے۔

    مگر اس ترقی کی ایک قیمت بھی تھی۔

    جب دریائے سندھ کے پانی کو نہروں میں موڑ دیا گیا تو دریا کا وہ پانی جو صدیوں سے سمندر تک پہنچتا تھا، کم ہونا شروع ہو گیا۔ اس تبدیلی کا سب سے بڑا اثر دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر پڑا۔

    ڈیلٹا کو زندہ رہنے کے لیے دریا کے میٹھے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہ پانی کم ہونے لگا تو سمندر کا کھارا پانی آہستہ آہستہ اندر کی طرف بڑھنے لگا۔ اس عمل کو سمندری پانی کی دراندازی کہا جاتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو گئی۔ مینگرووز کے جنگلات سکڑنے لگے اور مچھلیوں کی کئی اقسام متاثر ہوئیں۔ وہ بندرگاہیں جو کبھی تجارت کے لیے مشہور تھیں، آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھونے لگیں۔ کیٹی بندر اور شاہ بندر جیسے تاریخی تجارتی مراکز تقریباً ویران ہو گئے۔

    یوں ایک طرف سکھر بیراج نے سندھ کی زراعت کو طاقت دی، مگر دوسری طرف دریائے سندھ کے قدرتی نظام پر گہرا اثر بھی ڈالا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیراج خود بھی ایک تاریخی ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا۔ تقریباً ایک صدی تک مسلسل کام کرنے کے بعد اس کے کئی حصے پرانے اور کمزور ہو گئے۔

    اسی لیے حالیہ برسوں میں اس کی مرمت اور جدید کاری کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے تاکہ یہ نظام آئندہ دہائیوں تک کام کرتا رہے۔

    سکھر بیراج صرف ایک انجینئرنگ منصوبہ نہیں بلکہ سندھ کی تاریخ، معیشت اور ماحولیات سے جڑی ایک بڑی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں ترقی بھی ہے اور اس کے اثرات بھی۔

    دریائے سندھ آج بھی بہہ رہا ہے، مگر اس کے پانی کا سفر اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اور یہی تبدیلی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دریا صرف پانی نہیں ہوتے، وہ ایک پوری تہذیب کا حصہ ہوتے ہیں۔