انڈس ڈیلٹا، جہاں دریائے سندھ اپنے طویل سفر کے بعد بحیرۂ عرب میں جا کر گرتا ہے، ملک کے اہم ترین قدرتی ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیلٹا صدیوں سے سندھ کی ساحلی آبادیوں کے لیے زندگی، روزگار اور خوراک کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔
مینگرووز کے گھنے جنگلات، زرخیز زرعی زمینیں، مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش گاہیں اور بے شمار جنگلی حیات اس خطے کی شناخت رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران یہ علاقہ ایک سنگین ماحولیاتی بحران کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندان اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسی بڑے پیمانے پر ہونے والی ماحولیاتی ہجرت کو ‘انڈس ڈیلٹا ایکو ایگزوڈس’ یا ‘ڈوبتے ہوئے ساحلی خطے سے نقل مکانی’ کہا جاتا ہے۔
دریائے سندھ کا ڈیلٹا تاریخی طور پر دنیا کے بڑے اور زرخیز ڈیلٹاؤں میں شمار ہوتا تھا۔ ماضی میں ہر سال دریائے سندھ لاکھوں ٹن زرخیز مٹی یا تلچھٹ اور بڑی مقدار میں میٹھا پانی بحیرۂ عرب تک پہنچاتا تھا۔ یہی پانی نہ صرف ساحلی زمینوں کو زرخیز بناتا تھا بلکہ سمندر کے نمکین پانی کو بھی اندرونی علاقوں میں داخل ہونے سے روکتا تھا۔
اس مسلسل بہاؤ نے ہزاروں برسوں تک انڈس ڈیلٹا کو ایک متوازن ماحولیاتی نظام کے طور پر برقرار رکھا، جہاں زراعت، ماہی گیری اور جنگلات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

لیکن بیسویں صدی کے دوسرے نصف، خصوصاً 1970 کی دہائی کے بعد، دریائے سندھ پر متعدد بڑے ڈیم، بیراج اور نہری نظام تعمیر کیے گئے تاکہ ملک کی زرعی اور توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم، سکھر، گڈو اور کوٹری بیراج جیسے منصوبوں نے بالائی علاقوں میں پانی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں انڈس ڈیلٹا تک پہنچنے والے میٹھے پانی کی مقدار مسلسل کم ہوتی گئی۔
جب دریا کا قدرتی بہاؤ کم ہوا تو بحیرۂ عرب کا نمکین پانی آہستہ آہستہ اندرونی علاقوں میں داخل ہونے لگا، جسے سمندری کٹاؤ کہا جاتا ہے۔
سمندر کے نمکین پانی کی اس پیش قدمی نے انڈس ڈیلٹا کی زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ لاکھوں ایکڑ قابلِ کاشت زمین آہستہ آہستہ بنجر ہو گئی کیونکہ نمکیات نے مٹی کی زرخیزی ختم کر دی۔ بہت سے علاقوں کے کنوؤں اور زیرزمین پانی کے ذخائر بھی نمکین ہو گئے، جس سے پینے کے صاف پانی کی قلت پیدا ہوئی۔
جن کسانوں کی نسلیں انہی زمینوں پر کھیتی باڑی کرتی آئی تھیں، وہ اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ اب وہاں نہ فصلیں اگ سکتی تھیں اور نہ ہی مویشیوں کے لیے چارہ دستیاب تھا۔

ماہی گیری، جو انڈس ڈیلٹا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، وہ بھی شدید متاثر ہوئی۔ مینگرووز کے جنگلات مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر آبی حیات کی قدرتی افزائش گاہیں ہوتے ہیں، لیکن میٹھے پانی کی کمی اور سمندری آلودگی کے باعث ان جنگلات کو نقصان پہنچا۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں سندھ حکومت اور مختلف ماحولیاتی اداروں نے مینگرووز کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی ہے، تاہم کئی علاقوں میں قدرتی نظام اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مچھلیوں کی کم ہوتی تعداد نے ہزاروں ماہی گیروں کی آمدنی کو متاثر کیا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوتے گئے۔
موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ کے باعث سمندر کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بحیرۂ عرب میں آنے والے شدید سمندری طوفانوں اور غیر معمولی موسمی واقعات کی شدت بھی بڑھ رہی ہے۔ ساحلی کٹاؤ کی وجہ سے ہر سال ساحل کے کئی حصے سمندر میں شامل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات جزوی یا مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگوں کو اپنی بستیاں بار بار منتقل کرنا پڑی ہیں کیونکہ سمندر مسلسل ان کی زمین نگل رہا ہے۔

ان تمام ماحولیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا انسانی اثر بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی ہے، جسے ماہرین ایکو ایگزوڈس کہتے ہیں۔ جب لوگوں کے پاس نہ قابلِ کاشت زمین باقی رہی، نہ روزگار، نہ صاف پانی اور نہ محفوظ رہائش، تو انہوں نے اپنے آبائی گاؤں چھوڑ کر کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول اور دیگر شہری علاقوں کا رخ کیا۔ ان میں سے بہت سے افراد شہروں میں غیر رسمی بستیوں میں آباد ہوئے، جہاں انہیں روزگار، صحت، تعلیم اور رہائش جیسے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح ایک ماحولیاتی بحران آہستہ آہستہ سماجی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو گیا۔
ماہی گیروں کے حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 1970 سے 2025 کے درمیاں انڈس ڈیلٹا سے ایک الکھ سے زائد خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں۔
انڈس ڈیلٹا کی تباہی صرف مقامی آبادی تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معیشت اور غذائی تحفظ سے بھی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ ساحلی ماہی گیری میں کمی سے سمندری خوراک کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جبکہ زرعی زمینوں کی تباہی نے مقامی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ مینگرووز کے جنگلات، جو کاربن جذب کرنے اور ساحلی علاقوں کو طوفانوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کی کمزوری مستقبل میں قدرتی آفات کے خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر انڈس ڈیلٹا تک مناسب مقدار میں ماحولیاتی ضرورت کے مطابق میٹھا پانی نہ پہنچایا گیا، ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے جنگلات کا تحفظ نہ کیا گیا، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی، تو آنے والے برسوں میں مزید ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پانی کے منصفانہ انتظام، ساحلی تحفظ، ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں، مقامی آبادی کی بحالی اور موسمیاتی موافقت کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
انڈس ڈیلٹا ایکو ایگزوڈس دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی نظام کا توازن بگاڑ دیتی ہیں تو اس کے اثرات صرف زمین یا جنگلات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری انسانی آبادی کو متاثر کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا کا تحفظ صرف ایک ساحلی علاقے کو بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے قدرتی ورثے، حیاتیاتی تنوع، غذائی سلامتی اور لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔


