حیدرآباد کے آٹو بھان روڈ پر واقع بریز فش پوائنٹ پر مچھلی پکانے کا 27 سالہ تجربہ رکھنے والے استاد گل کے مطابق دریائے سندھ کی میٹھے پانی کی مچھلی کو مخصوص مصالحوں اور تیل میں پکانے سے اس کا ذائقہ منفرد ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دور سے یہاں مچھلی کھانے آتے ہیں۔
ویسے تو دریائے سندھ کی پلہ مچھلی حیدرآباد کی خاص پہچان سمجھی جاتی ہے، تاہم یہ مخصوص موسم میں دستیاب ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رہو مچھلی بھی خاصی مقبول ہے اور حیدرآباد میں میٹھے پانی کی مختلف اقسام کی مچھلیاں مقامی کھانوں کا حصہ ہیں۔
استاد گل کے مطابق کراچی سمیت دیگر شہروں سے بھی لوگ حیدرآباد آکر دریائے سندھ کی مچھلی کھانا پسند کرتے ہیں۔ ان کے بقول بعض گاہک خاص طور پر میٹھے پانی کی مچھلی کے ذائقے کے لیے حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ سمندری اور دریائی مچھلی کے ذائقے میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ دریائے سندھ کی مچھلی میں کانٹے نسبتاً زیادہ ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کا مخصوص ذائقہ لوگوں کو پسند آتا ہے۔
’ہماری مچھلی کے ذائقے کا اصل راز ہمارے مخصوص مصالحے اور پکانے کا طریقہ ہے۔ ہم مچھلی کو مناسب طریقے سے تیار کرکے تیل میں پکاتے ہیں، جس سے اس کا ذائقہ مزید بہتر ہوجاتا ہے اور لوگ شوق سے کھاتے ہیں۔‘
استاد گل کے مطابق 27 سال کے تجربے کے دوران انہوں نے مچھلی پکانے کے طریقے میں کئی چیزیں اپنے تجربے سے سیکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مچھلی کا تازہ ہونا، اسے صاف کرنے کا درست طریقہ، مصالحوں کی مقدار اور پکانے کا وقت، سب اس کے حتمی ذائقے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
حیدرآباد میں دریائے سندھ کی مچھلی صرف ایک کھانے کی چیز نہیں بلکہ شہر کی خوراک اور دریائی ثقافت کا بھی حصہ ہے۔ پلہ اپنی موسمی دستیابی کے باعث خاص اہمیت رکھتی ہے، جبکہ رہو اور میٹھے پانی کی دوسری مچھلیاں سال کے مختلف اوقات میں اس ذائقے کی روایت کو زندہ رکھتی ہیں۔
اور آٹو بھان روڈ پر استاد گل جیسے ماہر باورچی اس روایت کو اپنے 27 سالہ تجربے کے ساتھ آج بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔
