[rank_math_breadcrumb]

سندھی زبان کے تحفظ سے مصنوعی ذہانت تک، 35 برس میں سندھی لینگویج اتھارٹی کا علمی سفر

حیدرآباد میں قائم سندھی لینگویج اتھارٹی گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے سندھی زبان کے تحفظ، فروغ، تدریس اور سرکاری سطح پر اس کے درست استعمال کے لیے کام کر رہی ہے۔

سندھی لینگویج اتھارٹی صرف کتابیں شائع کرنے تک محدود نہیں بلکہ سندھی زبان سے متعلق لغات، انسائیکلوپیڈیا، تدریسی منصوبوں اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے زبان کے مختلف پہلوؤں پر کام کر رہا ہے۔

سندھی زبان کو 1972 کے قانون کے تحت سندھ کی صوبائی زبان قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 1990 کی قانونی ترمیم کے ذریعے سندھی زبان کے لیے ایک بااختیار ادارے کے قیام کی راہ ہموار ہوئی، جس کے بعد 1991 میں سندھی لینگویج اتھارٹی کا پہلا بورڈ آف گورنرز تشکیل دیا گیا۔ معروف محقق اور ادیب ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ اس کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔

ادارے کے دائرہ کار میں سندھی زبان کی تدریس اور فروغ کے ساتھ ساتھ صوبائی اور بلدیاتی اداروں کے سرکاری ریکارڈ میں سندھی کے درست استعمال کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری دستاویزات، اخبارات، ریڈیو، ٹیلی وژن، نصابی کتابوں اور دیگر تحریری مواد میں سندھی زبان کے درست اور معیاری استعمال کے لیے بھی اتھارٹی کردار ادا کرتی ہے۔

علمی اور تحقیقی کام کے حوالے سے سندھی لینگویج اتھارٹی اب تک تین سو سے زائد کتابیں شائع کر چکی ہے۔ ان میں زبان، ادب، تاریخ، ثقافت اور مختلف حوالہ جاتی موضوعات سے متعلق کتابیں شامل ہیں۔ ادارہ متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں اور علمی پروگراموں کا بھی انعقاد کر چکا ہے۔

سندھی لینگویج اتھارٹی کے بڑے علمی منصوبوں میں ‘انسائیکلوپیڈیا سندھیانا’ بھی شامل ہے۔ اس منصوبے میں سندھ کی تاریخ، جغرافیہ، تہذیب، ثقافت، اہم شخصیات اور دیگر موضوعات سے متعلق معلومات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کی اب تک تیرہ جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔

ایک اور اہم منصوبہ ‘جامع سندھی لغت’ ہے، جس کا مقصد سندھی زبان کے الفاظ، ان کے معانی اور استعمال کو ایک جامع علمی صورت میں محفوظ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اتھارٹی نے ‘سندھی بولی’، جامع سندھی لغت، انگریزی سندھی اور سندھی انگریزی لغات، سرکاری اصطلاحات کی لغت اور بچوں کے لیے تصویری لغت سمیت مختلف کتابیں اور حوالہ جاتی مواد بھی شائع کیا ہے۔

سندھی زبان کو نئی نسل اور غیر سندھی بولنے والوں تک پہنچانے کے لیے اتھارٹی نے مختلف شہروں میں زبان سکھانے کی کلاسز بھی شروع کی ہیں۔ کراچی پریس کلب میں قائم مرکز میں صحافیوں کو بھی سندھی زبان سکھائی جا رہی ہے، جس کا مقصد صحافتی شعبے سے وابستہ افراد کو سندھی زبان سے روشناس کرانا ہے۔

اب سندھی زبان کے فروغ کے کام میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا پہلو بھی شامل ہو رہا ہے۔ سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر شیر مہرانی کے مطابق مصنوعی ذہانت نے سندھی زبان کے لیے صرف چیلنجز پیدا نہیں کیے بلکہ اس کے فروغ کے نئے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔

ان کے مطابق اتھارٹی مصنوعی ذہانت کو سندھی زبان کے فروغ کے لیے استعمال کرنے پر بھی کام کر رہی ہے، جس کے ذریعے سندھی زبان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے اور ڈیجیٹل دنیا میں اس کی موجودگی کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یوں حیدرآباد میں قائم یہ ادارہ ایک طرف سندھی زبان کے تاریخی اور ادبی سرمائے کو کتابوں، لغات اور انسائیکلوپیڈیا کی صورت میں محفوظ کر رہا ہے تو دوسری طرف زبان کی تدریس، سرکاری استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کے مستقبل کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں: