برطانیہ کی عدالت نے 70 سال سے زائد عمر کی ایک انتہائی کمزور اور بستر تک محدود خاتون سے جنسی زیادتی کے جرم میں ایک پاکستانی شہری فضلی قدیر کو 12 سال قید کی سزا سنا دی۔
25 سالہ فضلی قدیر کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ برطانیہ میں طالب علم ویزے پر موجود تھا۔ وہ گزشتہ سال یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنے بھائی کے پاس برسٹل گیا تھا۔ بعد میں تعلیمی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے اس نے نگہداشت کرنے والے کارکن کے طور پر کام شروع کیا۔
برسٹل کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ فضلی قدیر نے اس وقت خاتون کو نشانہ بنایا جب اسے معلوم ہوا کہ ان کے اہل خانہ گھر سے باہر ہوں گے۔ وہ خاتون کے بستر پر چڑھ گیا اور اسے کہا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
عدالت کے مطابق فضلی قدیر نے خاتون کو ہونٹوں پر بوسہ دیا، ان کے جسم کو نامناسب طور پر چھوا اور انہیں طویل جنسی حملے کا نشانہ بنایا۔ واقعے میں زبانی جنسی زیادتی بھی شامل تھی۔
گرفتاری کے بعد فضلی قدیر نے خاتون سے زیادتی کرنے سے انکار کیا۔ بعد میں عدالت میں اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بستر پر موجود معمر خاتون نے خود اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اسے مجرم قرار دیا اور 12 سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے فضلی قدیر کو متاثرہ خاتون سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ سزا مکمل ہونے کے بعد برطانوی محکمہ داخلہ اس کی امیگریشن حیثیت کا جائزہ لے گا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے مطابق فضلی قدیر نے ان کی آزادی چھین لی۔
خاتون نے بتایا کہ واقعے کے بعد سے وہ شدید خوف اور ڈراؤنے خوابوں کا شکار ہیں۔ انہیں نیند نہیں آتی اور معمولی آوازیں بھی انہیں خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ انہیں مسلسل یہ خدشہ رہتا ہے کہ حملہ آور دوبارہ واپس آ کر انہیں قتل کر دے گا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ فضلی قدیر نے اس سے پہلے کسی اور شخص کو بھی نشانہ بنایا یا نہیں، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ اسے سزا ملنے سے وہ دوبارہ ایسا جرم کرنے سے روکا جا سکے گا۔
دفاعی وکیل جمیما لوویٹ نے عدالت کو بتایا کہ فضلی قدیر نے مقدمے کے بعد اپنے معذرتی خط میں لکھا تھا کہ وہ مشکل حالات میں پلا بڑھا جہاں تشدد اور خوف کا ماحول موجود تھا۔
وکیل کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد فضلی قدیر نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ بچپن میں وہ خود بھی جنسی زیادتی کا شکار ہوا تھا۔ تاہم عدالت نے موجودہ مقدمے میں اسے معمر اور انتہائی کمزور خاتون کے خلاف جنسی جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 12 سال قید کی سزا سنائی۔

