[rank_math_breadcrumb]

کراچی کا سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبہ: سمندر کو آلودگی سے بچانے اور پانی کے دوبارہ استعمال کی کوشش

کراچی میں سمندر کو سیوریج کی آلودگی سے بچانے اور صنعتی و شہری گندے پانی کو ٹریٹ کرکے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے ایک اہم منصوبے پر کام جاری ہے۔ ضلع کیماڑی کے ہارون آباد میں قائم ٹی پی ون، یعنی ٹریٹمنٹ پلانٹ ون، تقریباً 180 ایکڑ رقبے پر محیط سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولت ہے۔

سندھ حکومت نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اشتراک سے اس منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں روزانہ 35 ملین گیلن سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے کی صلاحیت رکھی گئی ہے، جبکہ مزید 65 ملین گیلن یومیہ کی صلاحیت شامل ہونے کے بعد مجموعی طور پر روزانہ 100 ملین گیلن پانی ٹریٹ کرنے کی گنجائش حاصل ہو جائے گی۔

منصوبے کا ایک اہم پہلو صنعتی شعبے سے بھی متعلق ہے۔ سیوریج ٹریٹمنٹ کے بعد برآمد کنندگان اپنے بین الاقوامی خریداروں کو ماحولیاتی معیارات اور پائیدار ترقی کے اہداف کی تعمیل سے متعلق بہتر معلومات فراہم کر سکیں گے۔

منصوبے کے تحت ٹریٹ کیے گئے پانی کو مستقبل میں ری سائیکل کرکے صنعتی استعمال کے لیے فراہم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد صنعتوں کے لیے دریائے سندھ اور کینجھر جھیل سے حاصل ہونے والے میٹھے پانی پر انحصار کم کرنا ہے، تاکہ میٹھے پانی کے دستیاب ذخائر کو شہریوں کے گھریلو استعمال کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔

ٹی پی ون کی موجودہ اور توسیع شدہ صلاحیت کے بعد کراچی میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ کراچی کی انتظامیہ کے مطابق طویل مدت میں ہدف یہ ہے کہ شہر کے زیادہ سے زیادہ سیوریج پانی کو ٹریٹمنٹ کے نظام میں لایا جائے، اسے ماحولیاتی معیار کے مطابق ٹریٹ کیا جائے اور پھر سمندر میں خارج کیا جائے یا جہاں ممکن ہو اسے صنعتی استعمال کے لیے دوبارہ استعمال کیا جائے۔

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد بغیر ٹریٹمنٹ کے سیوریج کو سمندر میں جانے سے روکنا اور سمندری ماحول، سمندری حیات اور بندرگاہ سے متعلق سرگرمیوں کا تحفظ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے بطور میئر ذمہ داریاں سنبھالیں تو اس وقت ایک گیلن سیوریج بھی ٹریٹ نہیں ہو رہا تھا، جبکہ اب روزانہ 28 ملین گیلن پانی ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔

یہ منصوبہ کراچی کے بڑھتے ہوئے سیوریج کے مسئلے سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ سمندری آلودگی میں کمی، صنعتی شعبے کے لیے متبادل پانی کی فراہمی اور شہر کے میٹھے پانی کے وسائل پر دباؤ کم کرنے کی کوشش بھی ہے۔