2025 میں اینٹوں کے بھٹوں، زرعی شعبے میں جبری مشقت کرنے والے 1,311 مزدوروں کو بازیاب کروایا گیا: رپورٹ

رپورٹ

سندھ میں زرعی مزدوروں اور ہاریوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ ’سندھ میں ہاریوں کے حقوق کی صورتحال 2025‘ کے مطابق گزشتہ سال سندھ پولیس کی کارروائیوں، عدالتی احکامات اور سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں کی ہنگامی مداخلت کے نتیجے میں اینٹوں کے بھٹوں اور زرعی شعبے سے مجموعی طور پر 1,311 مزدوروں کو جبری مشقت سے بازیاب کرایا گیا۔

حیدرآباد پریس کلب میں ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ کانفرنس کے موقع پر جاری سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں جبری مشقت میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی اور زرعی شعبے میں کام کرنے والے ہاریوں کا استحصال بدستور جاری ہے۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2025 کے درمیان زرعی شعبے سے مجموعی طور پر 10,053 جبری مزدوروں کو عدالتی احکامات کے ذریعے نجی جیلوں سے بازیاب کرایا گیا۔ ان میں عمرکوٹ میں 4,068 کیسز، یعنی مجموعی تعداد کا 40.5 فیصد، رپورٹ ہوئے۔ میرپورخاص میں 1,764 اور سانگھڑ میں 1,576 کیسز سامنے آئے۔ ان تینوں اضلاع میں رپورٹ ہونے والے کیسز مجموعی تعداد کے تقریباً تین چوتھائی بنتے ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق، مزدور حقوق، سماجی تنظیموں اور ہاریوں و زرعی مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے سندھ میں ہاریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ہزاروں دیہی مزدور استحصال، بے زمین ہونے، غربت اور تشدد کا شکار ہیں۔

شرکاء نے کہا کہ سندھ ٹیننسی ایکٹ 1950، سندھ جبری مشقت کے خاتمے کا قانون 2015 اور سندھ خواتین زرعی مزدور قانون 2019 موجود ہونے کے باوجود ہاریوں اور زرعی مزدوروں کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اکرم خاصخیلی نے کہا کہ مارچ 2026 میں سندھ کابینہ نے سندھ خواتین زرعی مزدور قانون 2019 کے تحت قواعد منظور کیے تھے، تاہم ابھی تک اس قانون کے تحت کوئی یونین رجسٹر نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر خواتین زرعی مزدوروں میں قانون کے بارے میں آگاہی اور انہیں منظم کرنے کا عمل بھی نظر نہیں آتا، جس کے باعث خواتین بدستور کمزور صورتحال سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے 2019 کے ہاریوں کے حقوق کے حق میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست بھی واپس نہیں لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت خود کو ہاریوں اور مزدوروں کے حقوق کی حامی قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف ہاریوں کے حقوق سے متعلق مقدمہ سپریم کورٹ میں برقرار ہے۔

خواتین کارکن رابعہ رحمان، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق چیئرمین اقبال احمد ڈیتھو، زرعی ماہر پروفیسر ایم اسماعیل کنبھار، انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی کونسل رکن پشپا کماری، ایڈووکیٹ ستار سرکی، سابق رکن سندھ اسمبلی فرحین مغل، ویلٹ ہنگر ہلفے کے سروان بلوچ، ہاری رہنما شانتی اور منظور لغاری نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ سندھ کے ہاری اور دیہی مزدور انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے اور کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاریوں اور دیہی مزدوروں کی معاشی و سماجی حالت بہتر بنانے کے لیے بامعنی زرعی اصلاحات ناگزیر ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں پائیدار ترقی کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلعی نگرانی کمیٹیوں کو فعال اور مضبوط بنایا جائے تاکہ زرعی شعبے اور اینٹوں کے بھٹوں میں جبری مشقت کی نشاندہی کرکے اسے ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے کسانوں اور دیہی مزدوروں کو موسمیاتی آفات اور دیگر غیر متوقع نقصانات سے تحفظ دینے کے لیے فصلوں اور مویشیوں کی جامع بیمہ اسکیمیں متعارف کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں اینٹوں کے بھٹوں سے 743 افراد بازیاب ہوئے، جن میں 262 مرد، 220 خواتین اور 261 بچے شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مردوں اور بچوں کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھٹوں پر جبری مشقت کے نظام میں پورے خاندان قرض کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ عمرکوٹ، سانگھڑ، مٹیاری اور بدین ان اضلاع میں شامل رہے جہاں جبری مشقت اور غیر قانونی قید کے واقعات سامنے آئے۔

زرعی شعبے سے 568 مزدور بازیاب ہوئے، جن میں 206 مرد، 171 خواتین اور 191 بچے شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی بڑی تعداد زرعی شعبے میں جبری مشقت اور بچوں سے مزدوری کے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ عمرکوٹ، سانگھڑ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد میں بڑی کارروائیاں کی گئیں، جہاں نجی جیلوں اور زمینداروں کی جانب سے تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 کے بعد جبری مشقت سے بازیاب کرائے جانے والے افراد کی تعداد میں کمی ضرور آئی، تاہم ہر سال سیکڑوں مزدوروں کی بازیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ کی دیہی معیشت میں جبری مشقت اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کارروائیاں زیادہ تر پولیس چھاپوں، عدالتی احکامات یا ذرائع ابلاغ کی نشاندہی کے بعد کی گئیں، جبکہ متاثرین کی مستقل بحالی، معاوضے اور ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی کے شواہد محدود رہے۔

رپورٹ میں 2025 کے دوران قبائلی اور فرقہ وارانہ تشدد کے 337 متاثرین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں 201 افراد زخمی اور 136 قتل ہوئے۔ ضلع خیرپور میں ایسے واقعات کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ رپورٹ کے مطابق یہ تشدد دیہی زراعت، ہاریوں اور مزدوروں کی زندگی اور روزگار کے لیے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں سندھ میں خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کے 772 واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جن میں 218 قتل، 138 اغوا، 124 خودکشیاں، 104 زیادتی یا جنسی تشدد، 74 گھریلو تشدد، 72 غیرت کے نام پر قتل اور 35 جبری شادیوں کے واقعات شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل سے نومبر 2025 کے دوران سندھ میں ہاریوں اور دیہی مزدوروں کی جانب سے 120 سے زائد احتجاج کیے گئے، جن میں ہزاروں ہاریوں، مزدوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہاریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے۔

اسی بارے میں: