سندھ اور کَچھ کی تاریخ، جغرافیہ، لوک و رزمیہ روایات اور برطانوی انتظامی پالیسیوں کا مختصر جائزہ

سندھ

برصغیر کی تاریخ میں وادی سندھ اور کَچھ کا خطہ محض دو ہمسایہ جغرافیائی خطے نہیں رہے، بلکہ تہذیبی، نسلی، معاشی اور ثقافتی اعتبار سے ایک ہی وجود کے دو حصے نظر آتے ہیں۔

رَن کَچھ، تھر کا صحرا اور زیریں سندھ، یعنی لاڑ کے ساحلی میدان، صدیوں سے انسانوں، قبائل، تاجروں اور روایات کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت کی شاہراہ رہے ہیں۔ قدیم موہن جو دڑو کے دور سے لے کر قرونِ وسطیٰ کی راجپوت و سمہ سلطنتوں تک، اور بعد ازاں برطانوی استعمار کے انتظامی تجربات سے لے کر 1947 کی تقسیمِ ہند تک، سندھ اور کَچھ کی تاریخ باہم اس طرح بُنی ہوئی ہے کہ ایک کا ذکر دوسرے کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔

قدیم ادوار میں سندھ اور کَچھ کے درمیان کوئی مستقل طبعی یا سیاسی حدِ فاصل موجود نہیں تھی۔ کانسی کے دور میں کَچھ، وادی سندھ کی بحری اور تجارتی سرگرمیوں کا ایک محوری مرکز تھا۔

کَچھ میں واقع وادی سندھ کی تہذیب کے عظیم الشان آثارِ قدیمہ

ڈھولا ویرا

جو موہن جو دڑو اور ہڑپہ کے ساتھ براہِ راست تجارتی نیٹ ورک سے جڑا ہوا تھا۔ اس دور میں رَن کَچھ ایک بنجر نمکین صحرا کے بجائے قابلِ جہاز رانی سمندری خلیج کی حیثیت رکھتا تھا، جس کے ذریعے سندھو دریا کا پانی اور تاجر بحیرہ عرب تک پہنچتے تھے۔

دریائی راستے اور 1819 کا جغرافیائی تغیر

تاریخی مآخذ کے مطابق دریائے سندھ کی مشرقی شاخیں، خصوصاً پران دریا، کَچھ کے شمال سے گزر کر سمندر میں گرتی تھیں، جس سے کَچھ کا شمالی علاقہ شاداب اور سندھ سے جڑا ہوا تھا۔ تاہم، 16 جون 1819 کو آنے والے زلزلے نے اس خطے کی جغرافیائی ہیئت کو بدل کر رکھ دیا۔

اس زلزلے کے نتیجے میں زمین کا ایک بڑا حصہ اوپر اٹھ گیا، جسے ‘اللہ بند’ کا نام دیا گیا، اور سندھ سے کَچھ کی طرف جانے والے پانی کے قدرتی راستے مسدود ہو گئے۔ اس واقعے نے رَن کَچھ کو ایک دلدلی و نمکین صحرا میں تبدیل کر کے دونوں خطوں کے مابین ایک قدرتی حائل قائم کر دیا۔

سومرا اور سمہ ادوار کی سیاسی و نسلی ہم آہنگی

قرونِ وسطیٰ میں سندھ اور کَچھ کے سیاسی و سماجی تعلقات اپنے عروج پر پہنچے۔

سومرا سلطنت، تقریباً 1050 تا 1351

سومرا خاندان کے حکمرانوں کی قلمرو لاڑ، یعنی زیریں سندھ، تھر اور کَچھ کے بڑے حصے پر محیط تھی۔ اس دور کی لوک داستانیں، جیسے ‘عمر مارئی’ اور ‘مومل رانو’، سندھ، تھر اور کَچھ کی مشترکہ ثقافتی فضا کی عکاسی کرتی ہیں۔

سمہ قبیلے کی نقل مکانی اور جاڑیجہ خاندان

سندھ میں سمہ خاندان کے عروج کے ساتھ ہی ان کی بعض شاخیں کَچھ کی طرف منتقل ہوئیں۔ کَچھ کا مشہور حکمران خاندان ‘جاڑیجہ راجپوت’ اصل میں سندھ کے سمہ قبیلے ہی کی ایک شاخ ہے۔ جام لاکھو، یعنی لاکھو پھلانی، اور ان کے جانشینوں نے کَچھ میں ایک طاقتور ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ کَچھی بولی کو ماہرینِ لسانیات سندھی زبان سے قریبی تعلق رکھنے والی زبان قرار دیتے ہیں، اور دونوں خطوں میں لباس، خوراک اور قبائلی ساخت میں مماثلت رہی۔

رزمیہ تاریخ

دودو سومرو، جام ابڑو اور پناہ گزینوں کی حرمت کا تقدس

سندھ اور کَچھ کی مشترکہ تاریخ کا سب سے درخشاں اور جذباتی باب دودو سومرو اور سمہ جام ابڑو کا واقعہ ہے، جو سچائی، خودداری اور پناہ گزینوں کی حفاظت کی تاریخی روایت کا مظہر ہے۔

سیاسی بحران اور علاؤالدین خلجی کا حملہ

چودھویں صدی کے اوائل میں سومرا سلطنت کے دارالحکومت روپا ماڑی میں تخت نشینی کے تنازع پر دودو سومرو ثانی اور اس کے بڑے بھائی چنیسر کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ چنیسر نے دہلی کے سلطان علاؤالدین خلجی سے مدد مانگی، جس کے نتیجے میں خلجی لشکر نے سندھ پر حملہ کر دیا۔ دودو سومرو نے غیرتِ قومی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر جھکانے سے انکار کر دیا اور میدانِ جنگ میں شجاعت سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا۔

جام ابڑو کی پناہ اور تاریخی معرکہ

سومرا اقتدار کے خاتمے کے بعد سومرا خاندان کی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا سنگین مسئلہ درپیش ہوا۔ سندھی اور کَچھی روایات کے مطابق، ان خواتین کو تحفظ کے لیے کَچھ کے سمہ سردار جام ابڑو کے پاس بھیجا گیا۔

‘سام’ کا تقدس

سندھ اور کَچھ کے معاشرتی ضابطے میں ‘سام’ یعنی پناہ مانگنے والے کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنا اعلیٰ ترین اخلاقی فریضہ تھا۔ جام ابڑو نے خلجی فوج کے مطالبات کو رد کرتے ہوئے سومرا خواتین کو اپنے محل میں پناہ دی۔

جام ابڑو کی شہادت

خلجی کے لشکر اور جام ابڑو کی فوج کے درمیان کَچھ کی سرزمین پر خونریز جنگ ہوئی۔ جام ابڑو اور ان کے بیٹے جام ننگر نے اپنے قبیلے کے ہمراہ پناہ گزینوں کی حرمت پر جانیں نثار کر دیں۔ مقامی لوک روایت کے مطابق، جب سومرا خواتین نے اپنے محافظوں کو شہید ہوتے دیکھا تو انہوں نے دعا مانگی اور زمین شق ہونے سے وہ اس میں سما گئیں، جس سے ان کی عزتیں محفوظ رہیں۔ یہ خواتین بعد ازاں ‘ستیاں’ اور ‘دادیاں’ کہلائیں۔

کَچھ میں موجود یادگاریں اور ثقافتی اثرات

یہ واقعہ محض داستان نہیں بلکہ کَچھ کی زمینی حقیقت کا حصہ ہے۔

ابڑاسا: کَچھ کا ایک زرخیز انتظامی تعلقہ آج بھی ‘ابڑاسا’ کہلاتا ہے، جو جام ابڑو کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

سومریں جو استھان: کَچھ کے ابڑاسا خطے میں وہ مقامات جہاں سومرا خواتین نے پناہ لی تھی، آج بھی ‘سومریں جو استھان’ یعنی سومرا عورتوں کے مقدس آستانے کے نام سے معروف ہیں اور مقامی آبادی میں محترم سمجھے جاتے ہیں۔

پالیہ: جنگ میں شہید ہونے والے جام ابڑو اور ان کے سمہ جنگجوؤں کی یادگار کے طور پر تراشے گئے پتھر آج بھی کَچھ میں موجود ہیں۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام: سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے رسالے، ‘سر بلاول’ میں جام ابڑو کی سخاوت اور ان کی ‘سام’ کی پاسداری کی تعریف میں لازوال ابیات کہے ہیں۔

برطانوی استعمار اور 1843 کے انتظامی و سیاسی تجربات

انیسویں صدی میں انگریزوں کی آمد کے بعد سندھ اور کَچھ کے تعلقات میں ایک پیچیدہ انتظامی موڑ آیا۔

کَچھ اور سندھ پر برطانوی قبضہ

1818 میں مرہٹہ سلطنت کے زوال کے بعد برطانوی حکومت نے ریاستِ کَچھ کے جاڑیجہ حکمرانوں، یعنی راؤ آف کَچھ، کے ساتھ معاہدوں کے تحت اسے اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا اور وہاں ایک برطانوی ‘پولیٹیکل ایجنٹ’ مقرر کیا۔ جبکہ اس کے برعکس، 1843 میں سر چارلس نیپئر نے تالپوروں کو شکست دے کر سندھ پر براہِ راست فوجی قبضہ کر لیا۔

نیپئر بمقابلہ ایلنبرو: کَچھ کو سندھ میں ضم کرنے کی بحث

سندھ پر قبضے کے فوراً بعد فاتحِ سندھ سر چارلس نیپئر نے کَچھ کو سیاسی اور انتظامی طور پر سندھ میں شامل کرنے کی شدید وکالت کی۔ نیپئر کے بھائی سر ولیم نیپیئر کی تحریروں میں چارلس نیپئر کے درج ذیل اہم دلائل ملتے ہیں۔

تزویراتی و دفاعی ضرورت

نیپئر کا ماننا تھا کہ سندھ نیا فتح شدہ علاقہ ہے اور اگر لاڑ یا تھر میں کوئی بغاوت ہوتی ہے تو کَچھ میں موجود برطانوی چھاؤنی سے فوری انتظامی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

جغرافیائی و معاشی اتصال

نیپئر کا کہنا تھا کہ کَچھ کا بمبئی یا گجرات سے کوئی قدرتی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ جغرافیائی طور پر سندھ کی خلیج کا ہی حصہ ہے۔ نیز کَچھ کے تاجر اور کسان سندھ میں زمینوں اور تجارت سے وابستہ ہیں۔

جرائم کا کنٹرول

ان کا موقف تھا کہ سرحدی ڈاکوؤں کو بمبئی کے بجائے حیدرآباد، سندھ، سے زیادہ بہتر طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ایلنبرو اور بمبئی کی ‘سیکرٹ کمیٹی’ نے نیپئر کی ان تجاویز کو رد کر دیا اور کَچھ کو بمبئی پریزیڈنسی کی سیاسی نگرانی میں ہی برقرار رکھا۔

تھرپارکر کے تعلقوں کی کَچھ انتظامیہ کو منتقلی، 1843 تا 1854

اگرچہ کَچھ کو سندھ میں ضم نہیں کیا گیا، لیکن ایک منفرد انتظامی تجربے کے تحت سر چارلس نیپئر نے تھر کے تین سرحدی تعلقے، میٹھی، نگرپارکر اور ڈیپلو، کَچھ کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ایس این رائکس کے کنٹرول میں دے دیے۔

انتظامی وجہ

انگریزوں اور کَچھ کے راؤ کو یہ شکایت تھی کہ پارکر کے سوڈھا اور کھوسہ قبائل کَچھ میں چھاپے مار کر تھر کے صحرا میں پناہ لے لیتے ہیں۔ نیپئر کا خیال تھا کہ اگر سرحد کے دونوں اطراف ایک ہی ایجنٹ کا کنٹرول ہوگا تو ان حملوں کی ناکہ بندی کی جا سکے گی۔

اسی دورانیے میں ایس این رائکس نے تھر کا احوال قلم بند کیا اور اپنی تاریخی کتاب ‘میموئر آن تھر اینڈ پارکر’ لکھی، جو برطانوی دور میں تھر کے جغرافیہ اور قبائل پر ایک اہم تفصیلی گزیٹیئر شمار ہوتی ہے۔

ایسٹرن سندھ فرنٹیئر ڈسٹرکٹ کی تشکیل، 1854

1854 میں برطانوی حکومت نے محسوس کیا کہ یہ انتظام غیر معقول ہے، چنانچہ تھر کے یہ تینوں تعلقے کَچھ کے ایجنٹ سے واپس لے کر دوبارہ سندھ کی انتظامیہ کے سپرد کر دیے گئے۔ ان تمام علاقوں کو ملا کر ‘ایسٹرن سندھ فرنٹیئر ڈسٹرکٹ’ کی بنیاد رکھی گئی، جس کا ہیڈکوارٹر پہلے عمرکوٹ اور بعد میں میرپورخاص منتقل کیا گیا۔

1859 کی نگرپارکر بغاوت

1859 میں نگرپارکر کے سوڈھا راجپوتوں نے انگریزی تسلط، نئے ٹیکسوں اور اپنی روایتی خودمختاری میں مداخلت کے خلاف ایک خونریز بغاوت کی۔ برطانوی حکام نے اپنے خطوط اور کتابوں میں آزادی کے ان متوالوں کو ‘دھاڑیل’ اور ‘ڈاکو’ قرار دیا، جیسا کہ وہ ہر اس گروہ کو لکھتے تھے جو ان کے تسلط کے خلاف برسرِ پیکار ہوتا تھا، مثلاً سندھ کے حر۔ تاہم، جدید مؤرخین اسے استعمار کے خلاف مقامی مزاحمت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تقسیمِ ہند اور حتمی سرحدی تعیین، 1947 تا 1968

سندھ اور کَچھ کی صدیوں پرانی وحدت کا حتمی سیاسی خاتمہ اگست 1947 میں ہوا۔

تقسیم کے اثرات

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ریاستِ کَچھ کے مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، جبکہ سندھ نے اپنی اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ یوں صدیوں پرانا مشترکہ خطہ دو بین الاقوامی ریاستوں کے درمیان تقسیم ہو گیا۔

رَن کَچھ کا تنازع اور 1968 کا فیصلہ

تقسیم کے بعد رَن کَچھ کے نمکین صحرا میں سرحد کی واضح نشان دہی نہ ہونے کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع قائم رہا، جو اپریل 1965 میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ایک محدود جنگ کا باعث بنا۔

بالآخر، اس تنازع کو ستمبر 1965 کی بڑی جنگ کے بعد ایک بین الاقوامی ثالثی ٹربیونل، ‘انڈو پاکستان ویسٹرن باؤنڈری کیس ٹربیونل’، کے سپرد کیا گیا۔ ٹربیونل نے 1968 میں اپنا حتمی فیصلہ سنایا، جس کے تحت رَن کَچھ کا تقریباً 10 فیصد حصہ، تقریباً 350 مربع میل، پاکستان، یعنی سندھ، کو ملا اور باقی 90 فیصد حصہ بھارت، یعنی کَچھ، کی تحویل میں دے دیا گیا۔

یوں سندھ اور کَچھ کے مابین موجودہ بین الاقوامی سرحد کو حتمی شکل دی گئی۔

سندھ اور کَچھ کی تاریخ کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ سیاسی سرحدیں اور استعماری نقشے چاہے جتنے بھی تبدیل ہوئے ہوں، دونوں خطوں کی روح ایک ہی رہی ہے۔ ڈھولا ویرا  اور موہن جو دڑو کے قدیم تہذیبی روابط، سومرا اور سمہ ادوار کی نسلی و لسانی یکجہتی، جام ابڑو اور دودو سومرو کی رزمیہ قربانی، اور برطانوی دور کے انتظامی تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ سندھ اور کَچھ کی تاریخ جغرافیائی حدود سے ماورا، انسانی اخلاقیات اور مشترکہ تہذیب کی ایک لازوال داستان ہے۔

اسی بارے میں: