کراچی کی تاریخی معنویت، 1947 سے قبل کی قدیم بستیوں کے باسیوں کے خدشات، تنازعات کا حل، بلدیاتی خودمختاری اور اصلاحات کی تجاویز

کراچی

کراچی کا قدیم پس منظر

موہن جو دڑو کے دور سے ‘مائی باپ’ شہر کا سفر، کراچی صرف پاکستان اور سندھ کا معاشی و مالیاتی دارالحکومت ہی نہیں، بلکہ بحر ہند کے خطے میں ایک عمیق اور تاریخی تسلسل کا حامل قدیم بندرگاہی مرکز ہے۔

تاریخی و آثار قدیمہ کے شواہد کی روشنی میں کراچی کا جغرافیائی پس منظر موہنجو دڑو اور وادی سندھ کی قدیم ترین بحری و تجارتی ثقافت سے جڑا ہوا ہے۔

قدیم یونانی و عرب تاریخی ماخذ میں یہ ساحلی خطہ ‘کرکولا’ اور ‘دیبل’ کے قریبی بحری راستوں سے موسوم رہا، جس کا محور و مرکز کراچی چینل، اس سے ملحقہ جزائر کیماڑی، موڑہ بابا، بھٹ، شمس پیر وغیرہ کے کچھی، سندھی اور بلوچ ملاحوں کی آبادیاں اور منوڑہ کی قلعہ نما بحری چوکی تھی، جو آنے جانے والی سمندری ٹریفک پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی جمع کرتی تھی۔

اس کے خشکی کے حصے، موجودہ کھارادر اور مٹھادر کی اونچی ٹیکری پر، باقاعدہ ریکارڈ کے مطابق اٹھارہویں صدی عیسوی میں سونمیانی کی کھارک بندر کی تباہی کے بعد وہاں سے آنے والے لاسی اور سندھی ماہی گیروں کی بستی ‘کروچے جو گوٹھ’ کے طور پر ابھرے۔

یہ شہر روز اول سے تاریخی طور پر ایک ‘مائی باپ’ یعنی پناہ دینے والی بستی رہا ہے، جس نے ہر دور اور ہزاریے میں یہاں آنے والے تاجروں، مسافروں، محنت کشوں اور پناہ گزینوں کو اپنی آغوش میں سمویا اور انہیں ایک نئی زندگی اور شناخت بخشی۔

استعماری تسلط، جغرافیائی بساط اور انفراسٹرکچر کی بنیاد

انگریزوں کے سندھ پر قبضے کے بعد 1843 میں بمبئی پریزیڈنسی کے تحت کراچی کی جغرافیائی و استعماری اہمیت کو ایک نیا موڑ دیا گیا۔ برطانوی سامراج نے اس بندرگاہی شہر کی تزویراتی اہمیت کو بھانپتے ہوئے اسے برطانوی ہند، مشرق وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے بحری و فوجی مواصلاتی نظام کا مرکز بنانے کا منصوبہ بنایا۔

1878 میں کراچی پورٹ ٹرسٹ اور بمبئی کی طرز پر کراچی میونسپل کارپوریشن کے قوانین نافذ کیے گئے۔ کراچی کو بری، بحری اور فضائی افواج کا ایسا دفاعی و لاجسٹک مرکز بنایا گیا جہاں سے سلطنت برطانیہ پورے خطے پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکتی تھی۔

اسی دور میں قائم ہونے والے اداروں اور جدید مواصلاتی ڈھانچے نے اس شہر کو ایشیا اور یورپ کے خوبصورت ترین، شائستہ اور جدید صفائی و نظم کے حامل شہروں میں شامل کر دیا۔

دوسری جنگ عظیم 1939 سے 1945 کے اختتام پر برطانوی سامراج کے عالمی زوال کے بعد امریکہ نے خطے میں نوآبادیاتی تسلط کی جگہ لے لی اور یہ خطہ نئی بین الاقوامی سرد جنگ کے تزویراتی زون میں تبدیل ہو گیا۔

تقسیم ہند 1947، دباؤ، ہجرت اور پرانے انفراسٹرکچر کا انہدام

اگست 1947 میں برطانوی ہند کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کے بعد کراچی کو نوزائیدہ ریاست پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اس وقت شہر کی آبادی محض چار سے پانچ لاکھ کے درمیان تھی اور تمام تر بلدیاتی سہولیات و شہری منصوبہ بندی اسی تناسب سے ترتیب دی گئی تھی۔

تقسیم کے نتیجے میں برصغیر کے مختلف حصوں سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کی آمد اور مقامی ہندو آبادی کی بڑی تعداد میں بھارت منتقلی نے شہر کی آبادیاتی اور سماجی ترکیب کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ شہر کی آبادی میں فطری اور نامیاتی اضافے کے بجائے غیر متوقع اور غیر معمولی ہجرت کے سبب 1947 سے قبل کا جدید مگر محدود بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو کر مفلوج ہونے لگا۔

بلدیاتی ادارے جو پہلے محدود اور منظم آبادی کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے، اس نئی ابھرتی ہوئی گنجان آبادی کو پانی، سیوریج، صحت اور نقل و حمل فراہم کرنے میں ناکام رہنے لگے، جس کے نتیجے میں کراچی کا تاریخی شہری حسن رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوتا گیا۔

انتظامی و قانونی تجربات اور معاشی محرومی

1947 سے لے کر آج تک کراچی پر مسلسل ناکام بلدیاتی اور انتظامی تجربات کیے گئے۔ 1950 کی دہائی میں وفاقی دارالحکومت کا درجہ، پھر 1961 میں دارالحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے بعد کراچی کے اختیارات کی صوبے کو منتقلی، 1979 کا سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس، 2001 کا ‘مشرفی’ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ماڈل اور بعد ازاں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 اور 2021 کے متنازع قوانین، یہ تمام تجربات مسلسل سیاسی کھینچا تانی اور اختیارات کی غیر مرکزیت کے فقدان کی نذر ہوتے رہے۔

دائرہ اختیار کا تنازع

کراچی کے سب سے بڑے انتظامی بحران کی بنیادی وجہ ‘کثیر القوانین و متعدد اداروں کی حکمرانی’ ہے۔ آج دو کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں 16 سے زائد وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی ادارے اپنی علیحدہ زمین اور متوازی قوانین چلاتے ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ، چھ کینٹونمنٹ بورڈز، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ریلوے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے درمیان اختیار اور حدود کا شدید تضاد قائم ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کی روح کے مطابق بلدیاتی اداروں کو سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات کی جو منتقلی حاصل ہونی چاہیے تھی، وہ وفاقی اور صوبائی بیوروکریسی اور متوازی اداروں کی کشمکش کی وجہ سے شدید ناکامی سے دوچار ہے۔

قدیم بستیوں کی پسماندگی اور جغرافیائی و آبادیاتی حقیقت

اس تمام تر سیاسی و بلدیاتی بحران میں سب سے زیادہ نقصان کراچی کی ان قدیم بستیوں اور مقامی آبادی کو پہنچا ہے جو 1947 سے قبل بھی یہاں آباد تھیں۔

موجودہ کراچی کے کل زمینی رقبے کا تقریباً 70 فیصد حصہ مضافاتی دیہی علاقوں، ساحلی پٹی، جزائر اور قدیم بستیوں، مثلاً لیاری، ماڑی پور، منوڑہ، کیماڑی، ابراہیم حیدری، گوٹھ، گڈاپ، ملیر اور حب ندی سے متصل علاقوں، پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں کی آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً نصف بنتی ہے، اور ان کے آباؤ اجداد صدیوں سے اس شہر، بندرگاہ اور سمندری تجارت کو سنبھالتے آ رہے ہیں۔

اکیسویں صدی میں بھی 70 فیصد رقبے پر پھیلی یہ قدیم آبادی پینے کے صاف پانی، باقاعدہ ڈرینیج، سڑکوں کے نیٹ ورک، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسی بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہے۔

دوسری جانب 1947 کے بعد آباد ہونے والی مرکزی شہری بستیاں، جو کل رقبے کے تقریباً 30 فیصد پر محیط ہیں اور باقی نصف آبادی کو سموئے ہوئے ہیں، وہاں بھی بلدیاتی خدمات شدید ابتری کا شکار ہیں۔

انتظامی و جغرافیائی زون، رقبے کا تناسب، آبادی کا تناسب، تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال

قدیم ساحلی و مضافاتی بستی ڈویژن، مجوزہ: 70 فیصد رقبہ، تقریباً 50 فیصد آبادی۔ 1947 سے قبل کی قدیم بستیاں، ساحلی اور دیہی زون، بنیادی سہولیات کی شدید قلت۔

مرکزی و جدید شہری ڈویژن، مجوزہ: 30 فیصد رقبہ، تقریباً 50 فیصد آبادی۔ 1947 کے بعد آباد ہونے والے مرکزی زونز، تجارتی و گنجان آباد علاقے، انفراسٹرکچر میں عدم توازن۔

دو ڈویژنز اور دوہری میئر شپ فارمولا: مستقل حل کی قانونی تجویز

کراچی کے اس سنگین اور بظاہر لاحاصل بحران کا واحد قانونی، منصفانہ اور قابل عمل حل یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سندھ اسمبلی کے ذریعے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرکے، کراچی کو دو واضح انتظامی ڈویژنز اور بلدیاتی باڈیز میں تقسیم کریں۔

دو ڈویژنز کی تشکیل

کراچی کے 70 فیصد وسیع رقبے پر محیط قدیم، مضافاتی اور ساحلی علاقوں کو ایک الگ ڈویژن، جبکہ مرکزی گنجان بستیوں کے 30 فیصد رقبے کو دوسرا ڈویژن قرار دیا جائے۔ دونوں ڈویژنز کی آبادی کا توازن تقریباً مساوی، یعنی نصف نصف، رہے گا۔

دو میئرز اور خودمختار بلدیاتی نظام

دونوں انتظامی ڈویژنز کے لیے الگ الگ منتخب میئرز کا آئینی و قانونی قیام عمل میں لایا جائے۔ ہر ڈویژن کے میئر کو اپنے متعلقہ علاقے کے ٹاؤنز اور یونین کونسلز تک براہ راست اختیارات منتقل کرنے کی آئینی ضمانت دی جائے۔

ٹیکسز کی منصفانہ واپسی اور آرٹیکل 140 اے کے تحت مالیاتی خودمختاری

آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کی حقیقی تعبیر یہی ہے کہ مقامی سطح پر جمع ہونے والے ٹیکسز کا ایک مقررہ اور شفاف حصہ انہی علاقوں کی ترقی اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہو۔ نئی مجوزہ تقسیم کے تحت ہر ڈویژن اور اس کے ٹاؤنز کو ان کے اپنے جغرافیائی اور معاشی زون سے حاصل ہونے والے مقامی و بلدیاتی ٹیکسز، پراپرٹی اور سروسز ٹیکس کے تناسب سے ترقیاتی فنڈز براہ راست جاری کیے جائیں۔

یہ ماڈل نہ صرف تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ کرے گا بلکہ کراچی کے قدیم اور جدید دونوں دھاروں کے شہریوں کو اپنے اپنے جغرافیائی اور سیاسی نمائندوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کا خود اختیار فراہم کرے گا۔

وفاق اور حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ 16 متوازی اداروں کے دائرہ کار کو محدود کرکے کے ایم سی اور مجوزہ بلدیاتی کارپوریشنز کے زیر اثر لائیں تاکہ کراچی کا کھویا ہوا بین الاقوامی شہری حسن اور معاشی تابندگی دوبارہ بحال ہو سکے۔

کراچی کو نچلی سطح تک بااختیار بنائے بغیر پاکستان کی معاشی بقا ممکن نہیں۔ دو ڈویژنز، دو میئرز اور ٹیکسز کی منصفانہ مقامی واپسی ہی اس تاریخی بندرگاہی شہر کی مستحکم بحالی کی واحد آئینی اور قانونی راہ ہے۔

نوٹ: تجویز کنندہ کراچی کی ایک قدیم برادری، ہنگورا جماعت، کے 1980 کی دہائی سے 2024 تک تین بار صدر رہے ہیں۔ وہ 1990 کی دہائی میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں اور وہاں کی قدیم کمیونٹیز کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ‘مقامی ساحلی تحریک’ کے جنرل سیکریٹری اور 1947 سے قبل کراچی کی قدیم برادریوں کے مختلف فورمز کے سرگرم رکن بھی رہے ہیں۔

اسی بارے میں: