[rank_math_breadcrumb]

حیدرآباد میں آنکھوں کے امراض کا جدید سرکاری ادارہ، جہاں سالانہ ڈھائی لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے

حیدرآباد میں قائم سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز (ایس آئی او وی ایس) آنکھوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ بن چکا ہے، جہاں عام معائنے سے لے کر پیچیدہ اور جدید سرجریوں تک تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہیں۔

اس ادارے میں سالانہ 15 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

حیدرآباد کی جرنلسٹس کالونی میں سینٹرل جیل سے متصل واقع یہ ادارہ آنکھوں کے معمولی معائنے سے لے کر پیچیدہ سرجری تک مختلف طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

اس ادارے کی بنیاد 1963 میں آئی اسپتال حیدرآباد کے نام سے رکھی گئی تھی۔ 1967 میں اسے لیاقت میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم سے منسلک کیا گیا، جس کے بعد مریضوں کے علاج کے ساتھ میڈیکل طلبہ اور آنکھوں کے ڈاکٹروں کی تربیت کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ 1990 میں اسپتال کی گنجائش بڑھا کر 100 بستروں تک کردی گئی۔

ادارے کی حیثیت میں بڑی تبدیلی 2013 میں آئی، جب سندھ اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے لیاقت یونیورسٹی آئی اسپتال کو اپ گریڈ کرکے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف آفتھلمولوجی اینڈ ویژول سائنسز قائم کیا گیا۔

حالیہ برسوں میں سندھ حکومت کی جانب سے مزید اپ گریڈیشن کے بعد ادارے میں علاج کے ساتھ تعلیم، تربیت اور تحقیق کی سہولیات بھی وسعت اختیار کرچکی ہیں۔

ایس آئی او وی ایس میں آنکھوں کے مختلف امراض کے لیے خصوصی شعبے قائم ہیں۔ قرنیہ کے شعبے میں پیچیدہ بیماریوں کا علاج، قرنیہ کی پیوند کاری اور مختلف اقسام کی کیراٹوپلاسٹی کی سہولت موجود ہے۔

گلوکوما کے مریضوں کے لیے جدید تشخیصی سہولیات کے ساتھ لیزر اور جراحی علاج کیا جاتا ہے۔ ادارے میں ہمفری وژول فیلڈ، او سی ٹی اور الٹراساؤنڈ بایومائیکروسکوپی سمیت مختلف جدید تشخیصی ٹیکنالوجیز استعمال ہوتی ہیں، جبکہ پیچیدہ مریضوں کے لیے جدید گلوکوما سرجری بھی کی جاتی ہے۔

مائیکرو ان ویسیو گلوکوما سرجری، ایم آئی جی ایس، کی تربیت اور عملی سرجیکل ڈیمونسٹریشن بھی یہاں ہوچکی ہے۔

ریٹینا کے مریضوں کے لیے بھی خصوصی شعبہ موجود ہے، جہاں ذیابیطس سے ہونے والی ریٹینوپیتھی، میکیولا کو پہنچنے والا نقصان، ریٹینل ڈیٹیچمنٹ اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان مریضوں کے لیے لیزر ٹریٹمنٹ، اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز اور وٹریکٹومی جیسی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔

ادارے کی ایک نمایاں خصوصیت بچوں کی آنکھوں کے علاج کا شعبہ ہے، جہاں پیدائشی موتیا، گلوکوما، بھینگا پن، سست آنکھ، ریٹینا کی بیماریوں اور دیگر پیچیدہ پیدائشی مسائل کا علاج کیا جاتا ہے۔

ریٹینوبلاسٹوما، بچوں میں ہونے والے خطرناک آنکھ کے سرطان، کے مریض بھی یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایس آئی او وی ایس سندھ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی، یعنی آر او پی، کی اسکریننگ میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

ادارے میں کانٹیکٹ لینز اور مختلف خصوصی لینز کی سہولت کے علاوہ آنکھوں کی تشخیص کے لیے متعدد جدید مشینیں بھی موجود ہیں۔

ایس آئی او وی ایس کا آپریشن تھیٹر کمپلیکس بھی اس کی اہم سہولیات میں شامل ہے، جہاں 4 آپریٹنگ رومز میں جنرل آفتھلمولوجی، پیڈیاٹرک آفتھلمولوجی، وٹریکو ریٹینا اور آکولوپالسٹک سرجریز کی جاتی ہیں۔

ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد اقبال تالپور کے مطابق ایس آئی او وی ایس پاکستان کا آنکھوں کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے، جہاں ہر سال مختلف شہروں سے آنے والے تقریباً 250,000 مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ تقریباً 15,000 آپریشن کیے جاتے ہیں۔