کراچی کے ہنگامہ خیز اور گنجان آباد شہر میں یونیورسٹی روڈ پر واقع سفاری پارک محض تفریح کا مقام نہیں بلکہ اپنے اندر ایک دلچسپ شہری آبی مسکن بھی رکھتا ہے۔
سفاری پارک میں موجود سوان لیک، جسے ہنسوں کی جھیل بھی کہا جاتا ہے، کئی دہائیوں سے مختلف آبی پرندوں کے لیے ایک اہم مقام رہی ہے۔ یہ جھیل اپنی موجودہ شکل میں کسی قدرتی دریا یا جھیل کا حصہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمی کے نتیجے میں وجود میں آنے والا ایسا آبی ذخیرہ ہے جس نے وقت کے ساتھ ماحولیاتی اہمیت حاصل کرلی۔
سفاری پارک 1970 میں قائم کیا گیا تھا اور یونیورسٹی روڈ پر پھیلا یہ وسیع عوامی پارک طویل عرصے سے کراچی کے اہم تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ پارک میں جانوروں اور سبزہ زاروں کے علاوہ سفاری ایریا، چیئر لفٹ اور مختلف جھیلیں بھی موجود ہیں۔
ہنسوں کی جھیل کی موجودہ شکل 1970 کی دہائی میں سامنے آئی۔ دستیاب تحقیقی معلومات کے مطابق اس علاقے میں خام مال نکالنے کے لیے کھدائی کی گئی تھی۔ کھدائی کے نتیجے میں بننے والے گہرے حصے میں بعد ازاں میٹھا پانی جمع ہوگیا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ جگہ ایک شہری ویٹ لینڈ یعنی آبی مسکن میں تبدیل ہوگئی۔
ایک تحقیقی مطالعے میں اس ویٹ لینڈ کا رقبہ تقریباً 3 ایکڑ اور زیادہ سے زیادہ گہرائی تقریباً 25 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح کراچی کے ایک مصروف شہری علاقے میں انسانی مداخلت سے بننے والا یہ پانی کا ذخیرہ رفتہ رفتہ مختلف پرندوں اور دیگر آبی حیات کے لیے موزوں ماحول بن گیا۔
تحقیقی مشاہدات میں سفاری پارک کے اس آبی مسکن میں پیلیکن، بگلے، بطخیں اور ہنس سمیت مختلف اقسام کے آبی پرندے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ایک تحقیق میں سفاری پارک کے جنگلی ماحول میں مجموعی طور پر 32 پرندوں کی انواع کی موجودگی بھی ریکارڈ کی گئی۔
سردیوں کے موسم میں اس جھیل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ بعض ہجرت کرنے والے آبی پرندے بھی یہاں پہنچتے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کچھ مہمان پرندے اکتوبر یا نومبر میں اس علاقے میں آتے اور مارچ تک یہاں قیام کرتے تھے۔
جھیل صرف پرندوں کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ سفاری پارک آنے والے شہریوں کے لیے بھی ایک نمایاں تفریحی مقام بن چکی ہے۔ 2019 میں سندھ حکومت نے جھیل کے قریب کشمیر پوائنٹ کے نام سے ایک تفریحی مقام تعمیر کیا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 4 ایکڑ پر پھیلی جھیل کے کنارے ایک بلند مصنوعی پہاڑی بنائی گئی، جس سے آبشار گرنے کا انتظام کیا گیا۔
کشمیر پوائنٹ کے تصور میں مقبوضہ کشمیر کی مشہور ڈل جھیل سے مشابہت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ یہاں کشتی رانی کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ جھیل کے وسط میں موجود ایک چھوٹا سا جزیرہ بھی اس مقام کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔
دور سے دیکھنے پر یہ جزیرہ جھیل کے منظر کو منفرد بناتا ہے۔ جزیرے پر پگوڈا طرز کا ایک چھوٹا سا بیٹھنے کا مقام تعمیر کیا گیا ہے، جس کے اردگرد درخت اور سبزہ موجود ہے۔
یوں سفاری پارک کی سوان لیک کراچی کے شہری منظرنامے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں تفریح، انسانی مداخلت اور شہری ماحول کے ساتھ قدرتی نظام بھی ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔
جس پانی کے ذخیرے نے کئی دہائیاں قبل انسانی سرگرمی کے نتیجے میں جنم لیا، وہ وقت کے ساتھ آبی پرندوں کے لیے مسکن بن گیا اور آج سفاری پارک کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔
کراچی میں روزمرہ کی مصروف زندگی کے درمیان موجود یہ جھیل اس بات کی بھی مثال ہے کہ شہری علاقوں میں بننے والے بعض مصنوعی یا غیر فطری آبی ذخیرے وقت کے ساتھ ماحولیاتی اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔
