قراردادوں سے تحریکِ التوا تک: پیپلز پارٹی تاریخ کے کٹہرے میں

تاریخ

سندھ کی سیاست میں کبھی کبھی الفاظ چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن ان الفاظ کے پیچھے چھپے سیاسی معنی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ ‘قرارداد’، ‘تحریکِ التوا’، ‘بحث’، ‘انتظامی یونٹ’ اور ‘نیا صوبہ’ بظاہر یہ پارلیمانی اصطلاحات ہیں، لیکن سندھ کی تاریخ، ثقافت، سیاسی حساسیت اور موجودہ حالات کے پس منظر میں ہر لفظ اپنے اندر ایک بڑا سوال لیے کھڑا ہے۔

دو دن قبل جب سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے نثار احمد کھوڑو کی پیش کردہ تحریکِ التوا اکثریتی ووٹ سے منظور کی اور 31 اگست کو دو گھنٹے بحث کا فیصلہ کیا، تو سوال پیدا ہوا تھا کہ آخر سندھ کی انتظامی اور تاریخی وحدت کو دوبارہ بحث کا موضوع بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟

اب یہ سوال صرف ‘کیوں’ تک محدود نہیں رہا۔ اب جب یہ معاملہ سندھ اسمبلی کے ایجنڈے پر آ چکا ہے، نیا سوال یہ ہے: بحث کے بعد کیا ہوگا؟

کیا ایوان صرف تقاریر سن کر معاملہ ختم کر دے گا؟ کیا نئے صوبوں کے حامی اپنا مؤقف ریکارڈ پر لائیں گے اور پھر واپس چلے جائیں گے؟ یا پیپلز پارٹی واقعی اپنے اعلان کے مطابق ایک واضح اور دوٹوک قرارداد کے ذریعے سندھ کی وحدت کے بارے میں اپنا پارلیمانی مؤقف دوبارہ ریکارڈ کرائے گی؟

کیوں کہ اب معاملہ صرف تحریکِ التوا کا نہیں۔ اب معاملہ سیاسی اعتبار کا ہے۔

نثار احمد کھوڑو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ تحریکِ التوا پر بحث کے دوران یہ ریکارڈ پر لایا جائے گا کہ سندھ کو تقسیم کرنے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بات کرنے والے کون ہیں، اور بحث کے بعد ایوان کی اکثریتی رائے کی بنیاد پر قرارداد منظور کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے نمائندے کشمور سے کراچی تک سندھ کی تقسیم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر نتیجہ آخرکار سندھ کی وحدت کے حق میں قرارداد ہی ہے تو پھر شروعات قرارداد سے کیوں نہیں کی گئی؟

سندھ اسمبلی پہلے ہی کئی مرتبہ سندھ کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ خود سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایوان نئے صوبوں کی مخالفت میں چھ مرتبہ قراردادیں منظور کر چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ بھی قرارداد منظور کرے گا۔

لیکن سندھ کا عوام اب صرف بیان نہیں چاہتا، نتیجہ بھی چاہتا ہے۔ فائدہ صفر، نقصان دگنا، آخر یہ کیسی دانش مندی ہے؟ نثار کھوڑو کے اس قدم کا سیاسی فائدہ آخر کس کو ہوگا؟

اگر مقصد سندھ کی وحدت کا دفاع ہے تو دفاع کے لیے سب سے مضبوط ہتھیار ایک واضح قرارداد ہے۔ لیکن اگر بحث کے دوران ایم کیو ایم پاکستان یا کسی دوسری جماعت کو سندھ کی تقسیم، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے حوالے سے اپنا مؤقف سندھ اسمبلی کے فلور پر تفصیل سے بیان کرنے کا موقع ملا ہے، یہ مؤقف محض سیاسی جلسے یا پریس کانفرنس تک محدود نہیں رہے گا۔

یہ سندھ کے سرکاری پارلیمانی ریکارڈ کا حصہ بن جائے گا۔ میڈیا اسے نشر کرے گا۔ سوشل میڈیا اس کے ٹکرز چلائے گا۔ ووٹرز تک دلائل پہنچیں گے۔ اور اس طرح ایک پرانا سیاسی مطالبہ دوبارہ ایک آئینی ایوان کی بحث کا حصہ بن جائے گا۔

شاید اسی لیے سندھ کے عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو کام مخالف قوتیں برسوں سے ایوان کے باہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، کیا بحث کی صورت میں انہیں ایوان کے اندر ایک اور بڑا پلیٹ فارم فراہم نہیں کیا جا رہا؟

یہ سوال بہرحال سیاسی تجزیے کا سوال ہے، الزام کا نہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان طویل عرصے سے سندھ میں مزید انتظامی یونٹس اور بالخصوص کراچی کے حوالے سے اپنے سیاسی مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اب اگر یہ مؤقف سندھ اسمبلی کے فلور پر تفصیل سے پیش ہوتا ہے تو اس کے سیاسی اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔

فریقین اپنے دلائل دیں گے، جوابی دلائل سامنے آئیں گے، میڈیا بحث کو تقویت دے گا۔

تو کیا سندھ کی وحدت کا دفاع صرف جوابی تقاریر سے ہوگا یا اس کا حتمی جواب قرارداد کی صورت میں بھی آئے گا؟

موجودہ اجلاس  کی صورت حال میں نثار کھوڑو کا یہ اعلان کہ بحث کے بعد قرارداد لائی جائے گی، بحث کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے قوم پر آخر یہ کیسی مہربانی ہے؟

اب پیپلز پارٹی خود کو اپنے ہی اعلان کی پابند تو کر چکی ہے، ساتھ ہی سندھ کے ساتھ غداری کا سوال بھی پیدا کر چکی ہے۔

سندھ اسمبلی کی بحث کا سب سے بڑا امتحان پیپلز پارٹی کا ہے۔ کیوں کہ پیپلز پارٹی کا سندھ کے ساتھ سیاسی تعلق صرف موجودہ حکومت تک محدود نہیں۔ اس کی سیاسی تاریخ میں صوبائی خودمختاری، 18ویں ترمیم اور سندھ کے حقوق کا حوالہ بھی موجود ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سندھ کی تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور سندھ اسمبلی کا مؤقف اس معاملے پر واضح ہے۔ نثار کھوڑو بھی اب کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور بحث کے بعد قرارداد منظور کرائی جائے گی۔

تو اب سوال سادہ ہے: یہ قرارداد کتنی صاف اور دوٹوک ہوگی؟

کیا اس میں سندھ کی موجودہ جغرافیائی اور آئینی وحدت میں کسی بھی ممکنہ ردوبدل کو واضح طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا جائے گا؟ کیا نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ نئے انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی جغرافیائی وحدت تبدیل کرنے کو بھی ہمیشہ کے لیے مسترد کیا جائے گا؟ کیا سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں سے اس قرارداد کی حمایت حاصل کی جائے گی؟

اور کیا ایوان سے یہ واضح پیغام جائے گا کہ انتظامی مسائل کا حل انتظامی اصلاحات ہیں، صوبائی تقسیم نہیں؟

اگر کراچی کے مسائل ہیں تو ان کا حل کراچی میں بہتر بلدیاتی حکومت کے قیام میں تلاش نہیں کیا جانا چاہیے؟ اگر حیدرآباد کے مسائل ہیں تو اسے اختیارات دیے جائیں۔ اگر سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، نواب شاہ یا دیگر شہروں کے مسائل ہیں تو انہیں انتظامی وسائل، بہتر بلدیاتی نظام اور مؤثر اداروں کے ذریعے حل کیا جائے۔

مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔ پانی، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے مسائل حل کیے جائیں۔ نقشہ نہ توڑو، نظام درست کرو۔ یہ بات سندھ کی وحدت کی حمایت بھی ہے اور بہتر حکمرانی کا مطالبہ بھی۔

سندھ مہاجروں کے خلاف نہیں

سندھ کا مؤقف کسی بھی زبان بولنے والے انسان کے خلاف نہیں رہا۔ سندھ کسی مہاجر کے خلاف نہیں۔ سندھ کسی اردو بولنے والے کے خلاف نہیں۔ سندھ کسی پنجابی، پختون، سرائیکی، بلوچ یا کسی دوسری زبان بولنے والے انسان کے خلاف نہیں۔

سندھ تاریخی طور پر آنے والوں کو جگہ دینے والی دھرتی رہی ہے۔

1947 کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کے لیے سندھ کے شہروں کے دروازے کھلے۔ اس دور میں سندھ کے شہری معاشرے میں آبادی اور معیشت کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی آئی، جبکہ تقسیم سے قبل سندھ میں رہنے والی ہندو آبادی کے بڑے حصے کی ہجرت کے باعث شہروں کے معاشی، تعلیمی اور سماجی ڈھانچے میں بھی ایک بڑا خلا پیدا ہوا۔

سندھ نے مہاجروں کو صرف پناہ نہیں دی۔ شہر دیے۔ روزگار کے مواقع دیے۔ کاروبار کے مواقع دیے۔ تعلیم کے دروازے کھولے۔ اور بہت سے خاندانوں کو نئی زندگی شروع کرنے کے لیے جگہ دی۔

وقت کے ساتھ بہت سے خاندانوں کی اگلی نسلیں سندھ میں پیدا ہوئیں، یہاں تعلیم حاصل کی، یہاں روزگار کیا اور سندھ کی سماجی، ادبی، صحافتی، تعلیمی، کاروباری اور سیاسی زندگی کا حصہ بنیں۔

لہٰذا سوال نفرت کا نہیں، تعلق کا ہے۔

اگر کسی دھرتی پر نسلوں تک زندگی گزاری جائے تو پھر اس دھرتی کے ساتھ رشتہ بھی اتنا ہی مضبوط ہونا چاہیے۔ مستقل اجنبیت اگر سیاسی تصور بن جائے تو پھر سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ‘دھرتی ماں ہے’ 25  اگست کو بلاول بھٹو زرداری نے سندھی زبان میں ایک مختصر جملہ لکھا: ‘دھرتی ماں ہے۔’

الفاظ چھوٹے تھے، لیکن مطلب بڑا تھا۔

اگر دھرتی ماں ہے تو پھر سوال بلاول بھٹو زرداری سے بھی پوچھا جا سکتا ہے: ماں کی وحدت کے بارے میں مؤقف بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے یا نہیں؟

ماں کی عزت ہوتی ہے۔ ماں سے تعلق ہوتا ہے۔ ماں کی حفاظت کا جذبہ ہوتا ہے۔

اور اگر سندھ دھرتی ماں ہے تو پھر سندھ کی وحدت پر کوئی بھی مبہم سیاسی اشارہ سندھ کے لوگوں کے لیے اطمینان بخش نہیں ہوگا۔ اسی لیے آج کی بحث کے بعد سندھ بلاول بھٹو، مراد علی شاہ اور نثار کھوڑو سے صرف تقاریر نہیں، واضح پارلیمانی مؤقف دیکھنا چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی پر ‘سندھ کارڈ’ استعمال کرنے کا الزام نیا نہیں۔ یہ شک جب یقین میں بدلنے لگے تو پھر؟

سندھ کا سوال کسی سیاسی جماعت کا کارڈ نہیں ہونا چاہیے۔ سندھ کسی پارٹی کی جاگیر نہیں۔ سندھ کسی خاندان کی ملکیت نہیں۔ سندھ کسی فرد کے ذاتی سیاسی سرمائے کا نام نہیں۔

سندھ ایک تاریخی، ثقافتی، سماجی اور آئینی وجود ہے۔

لہٰذا اگر پیپلز پارٹی سندھ کی وحدت کا دفاع کرتی ہے تو یہ سندھ کا حق ہے۔ اور اگر کوئی دوسری جماعت بھی سندھ کی وحدت کے بارے میں بات کرتی ہے تو اسے بھی سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر بات کرنی چاہیے۔

سندھ کی وحدت کی حمایت میں کراچی میں ایک بڑی ریلی اور احتجاج بھی سامنے آیا ہے۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کی اپیل پر ریگل چوک سے کراچی پریس کلب تک ‘وحدت سندھ مارچ’ کیا گیا، جس میں سیاسی کارکنوں، وکلا، ادیبوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور سندھ کو تقسیم کرنے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی مخالفت کی۔

شرکا نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ کی وحدت کا سوال کسی ایک زبان یا برادری کے خلاف سوال نہیں ہے۔

سندھ کی وحدت کا دفاع اگر نفرت کی زبان کے بجائے برابری، آئینی حقوق اور مشترکہ شہریت کی زبان میں کیا جائے گا تو اس کا اخلاقی وزن زیادہ ہوگا۔

سندھ کو توڑنے کی مخالفت کا مطلب کسی انسان یا فریق کو توڑنا نہیں ہے۔ سندھ کو مضبوط کرنے کا مطلب سندھ میں رہنے والے ہر انسان کو برابر حقوق دینا ہونا چاہیے۔ سیاسی اثرات کا تجزیہ کرنا صحافت کا حق بھی ہے اور فرض بھی۔ پارلیمانی طریقہ کار کو بھی سمجھنا ہوگا۔ قرارداد اور تحریکِ التوا ایک جیسے پارلیمانی معاملات نہیں ہیں۔

تحریکِ التوا کے ذریعے کسی اہم عوامی معاملے کو معمول کی کارروائی روک کر بحث کے لیے لایا جاتا ہے۔ قرارداد کے ذریعے ایوان کسی معاملے پر اپنا مؤقف زیادہ واضح انداز میں ریکارڈ کرا سکتا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تحریکِ التوا منظور ہونے سے سندھ تقسیم کرنے کی منظوری مل گئی۔ ایسے قانونی معنی اخذ کرنا درست نہیں۔

لیکن سیاسی معنی ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ جس موضوع کو ایوان میں بحث کے لیے لایا جاتا ہے، وہ سیاسی طور پر اہمیت حاصل کرتا ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ اب اصل اہمیت بحث سے زیادہ بحث کے بعد کے نتائج کو حاصل ہوگئی ہے۔

اب اگر یہ قرارداد آتی ہے اور اس میں سندھ کی موجودہ آئینی، جغرافیائی اور تاریخی وحدت کے بارے میں صاف اور غیر مبہم مؤقف اختیار کیا جاتا ہے تو پیپلز پارٹی اپنے سیاسی نقصان کو کافی حد تک سیاسی فائدے میں تبدیل کر سکتی ہے۔

لیکن اگر بحث ہوئی، تقاریر ہوئیں، مخالفین نے اپنے مؤقف پیش کیے، میڈیا کوریج ہوئی اور پھر معاملہ خاموشی میں دب گیا تو سندھ کا سوال مزید سخت ہوگا: آخر تحریکِ التوا کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یہ سوال پھر صرف قوم پرستوں کا نہیں ہوگا۔ عام سندھی ووٹر کا بھی ہوگا۔

سندھ اسمبلی نے 1943 میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے ذریعے پاکستان کے سیاسی سفر میں تاریخی کردار ادا کیا۔ سندھ پاکستان کے قیام کی تاریخ میں تماشائی نہیں تھا۔ سندھ ایک بنیادی سیاسی فریق تھا۔

آج جب پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور نئے صوبوں کے حوالے سے بحث جاری ہے تو سندھ کا سوال صرف سندھ کا سوال نہیں رہتا۔ یہ پاکستان کے وفاقی مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔

چھوٹے صوبے بنانے سے انتظامی مسائل حل ہوں گے یا نئے سیاسی تنازعات جنم لیں گے؟

سندھ ہزاروں سال سے مختلف قوموں اور تہذیبوں کی آمدورفت دیکھتا آیا ہے اور بہت سوں کو اپنے سماجی وجود میں ضم کرتا رہا ہے۔ جس سندھ نے سب کو جگہ دی، اس سندھ کے وجود کو تقسیم کرنے کا مطالبہ آخر کیوں؟

اسی بارے میں: