سندھ طاس معاہدہ: پاکستان کی ’اصولی اور اخلاقی فتح‘، انڈیا کے لیے فیصلے پر عملدرآمد بڑا سوال

انڈیا

پانی کے ماہر اور مصنف نصیر میمن نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو پاکستان کے لیے ایک بڑی اخلاقی اور اصولی کامیابی قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی ثالثی عدالت ایک تسلیم شدہ طریقہ کار ہے، اس لیے اس کا فیصلہ عالمی اور سفارتی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کرے گا۔

نصیر میمن کے مطابق اس فیصلے کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ ایک بین الاقوامی فورم نے سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعے کے حل کے عمل کو تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک ’بڑی اخلاقی فتح اور اصولی کامیابی‘ ہے، کیونکہ بین الاقوامی ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کا تسلیم شدہ ادارہ ہے۔ ان کے بقول اس فیصلے سے عالمی اور سفارتی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو زیادہ طاقت ملے گی۔

تاہم نصیر میمن نے اس سوال کی طرف بھی توجہ دلائی کہ آیا انڈیا اس فیصلے پر عمل کرے گا یا نہیں۔ ان کے مطابق انڈیا اب کسی بھی بین الاقوامی ادارے کی ثالثی یا فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے فیصلے کے عملی اثرات دیکھنا ابھی باقی ہے، لیکن اصولی طور پر یہ پاکستان کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا ایک اہم معاہدہ ہے، جو 1960 میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں عالمی بینک نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں: سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کے حقوق کو تسلیم کیا گیا، جبکہ تین مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانی انڈیا کے لیے مختص کیے گئے۔ تاہم معاہدے میں دونوں ممالک کو بعض مخصوص مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے حصے کے دریاؤں پر محدود استعمال کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

یہ معاہدہ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کئی جنگوں، کشیدگی اور سیاسی تنازعات کے باوجود یہ کئی دہائیوں تک قائم رہا۔

پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ ملک کی زراعت، معیشت اور خوراک کی پیداوار کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے۔

تنازعہ کیا ہے؟

انڈیا اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر تازہ کشیدگی اپریل 2025 میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد شروع ہوئی۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پہلگام میں ایک حملے کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی۔

اس حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان میں موجود جماعت الدعوۃ کے مریدکے ہیڈکوارٹر پر بمباری اور ڈرون سے حملہ کیا۔ پاکستان نے جواب میں انڈیا کے متعدد طیارے مار گرائے۔ مگر جلد ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوگئی۔

مگر اس دوران انڈیا نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ ایک غیر معمولی قدم تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کے باوجود اس معاہدے پر کئی دہائیوں تک عمل ہوتا رہا تھا۔

انڈیا کے اس فیصلے کے بعد پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد نے یہ بھی واضح کیا کہ پانی کے معاملے کو بین الاقوامی معاہدے کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو مغربی دریاؤں پر بعض شرائط کے ساتھ پن بجلی کے منصوبے بنانے کی اجازت ہے۔ تاہم پاکستان کو خدشہ ہے کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے دریاؤں کے بہاؤ پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ان ہی تنازعات میں مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر بننے والا رتلے پن بجلی منصوبہ بھی شامل ہے۔

پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ بعض انڈیا کے منصوبے سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق نہیں ہیں۔ انڈیا اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے منصوبے معاہدے کے تحت جائز ہیں۔

ہیگ کی عدالت کا فیصلہ اور انڈیا کی ہٹ دھرمی

حالیہ فیصلے میں ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کے بارے میں اہم فیصلہ دیا ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی نافذ العمل ہے اور انڈیا اسے اپنی طرف سے معطل نہیں کر سکتا۔ عدالت نے انڈیا کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کیا۔

عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے کے حوالے سے بھی بعض اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق منصوبے کے کچھ اہم حصوں پر کام اس وقت تک روکنا ہوگا جب تک ایک غیر جانب دار ماہر بعض معاملات کا جائزہ نہیں لیتا۔

اس عمل میں عالمی بینک کے ذریعے مقرر کیے گئے غیر جانب دار ماہر کا کردار اہم ہوگا، جبکہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ 2027 میں متوقع ہے۔

تاہم اس فیصلے کے بعد سب سے بڑا سوال اس پر عملدرآمد کا ہے۔ انڈیا نے ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ نئی دہلی نے ثالثی کے طریقہ کار اور عدالت کی تشکیل پر بھی اعتراض کیا ہے۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت ’زیر التوا‘ یا معطل حالت میں ہے اور وہ ثالثی عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔

یہ صورتحال اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ ایک طرف بین الاقوامی ثالثی عدالت معاہدے کو نافذ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف انڈیا اس عمل اور فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اس فیصلے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ ایک بین الاقوامی قانونی فورم نے اس کے بنیادی مؤقف کو تقویت دی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی موجود ہے اور اس کے تحت تنازعات کو طے کرنے کے لیے مقررہ طریقہ کار استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے سے پاکستان کو سفارتی سطح پر یہ مؤقف پیش کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ پانی کا تنازعہ یک طرفہ فیصلوں کے بجائے بین الاقوامی معاہدے اور اس میں موجود قانونی طریقہ کار کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

نصیر میمن بھی اسی پہلو کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق فیصلے کی عملی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس کا اصولی اور اخلاقی پہلو بہت اہم ہے۔

ماہرین کے لیے اب اصل سوال یہ ہے کہ انڈیا اس فیصلے کو کس حد تک تسلیم کرتا ہے اور کیا اس کے نتیجے میں اپنے اقدامات میں کوئی تبدیلی لاتا ہے۔

اگر انڈیا فیصلے پر عمل نہیں کرتا تو پاکستان کے لیے اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانا ایک اہم سفارتی راستہ ہوگا۔ دوسری جانب اگر دونوں ممالک کسی مرحلے پر مذاکرات کی طرف واپس آتے ہیں تو سندھ طاس معاہدہ دوبارہ پانی کے تنازعے کو منظم کرنے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی نے اس معاہدے کے مستقبل کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

ہیگ کی ثالثی عدالت کا حالیہ فیصلہ اس تنازعے میں پاکستان کے لیے ایک اہم قانونی اور سفارتی پیش رفت ضرور ہے، لیکن اس فیصلے کا حقیقی اثر اس وقت سامنے آئے گا جب یہ دیکھا جائے گا کہ انڈیا اسے تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔

نصیر میمن کے الفاظ میں، یہ پاکستان کے لیے ’اصولی کامیابی‘ ہے۔ اب اس اصولی کامیابی کو عملی اور سفارتی کامیابی میں تبدیل کرنا پاکستان کے لیے اگلا بڑا چیلنج ہوگا۔

اسی بارے میں: