نیپال میں شدید سیلاب، غیر ملکی شہریوں سمیت تقریباً 1500 افراد لاپتہ، 165 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

سیلاب

نیپال اور چین کے زیر انتظام تبت کے سرحدی علاقوں میں بدھ کے روز آنے والے شدید سیلاب کے بعد امدادی کارکن سیکڑوں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر تقریباً 1500 افراد لاپتہ ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ نیپالی پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق پہاڑ سے مٹی، چٹانوں، برف اور برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ دریائے لہندے میں جا گرا۔ اس کے نتیجے میں دریا میں اچانک انتہائی تیز پانی اور ملبے کا ریلا آیا، جس نے راستے میں آنے والی آبادیوں، سڑکوں، پلوں، گاڑیوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔

یہ علاقہ چین کے تبت اور نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو ملانے والے اہم راستے پر واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں سیاح، کوہ پیما اور مذہبی زائرین آتے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیپال میں 826 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن میں تقریباً 600 غیر ملکی ہیں۔ لاپتہ افراد میں بھارت کے 177، امریکا کے 63، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 25 شہری شامل ہیں۔ چین کے تبت خطے کے گیریونگ کاؤنٹی میں مزید 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

حکام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ بدھ کے روز معمول کے کاموں، سیاحت یا مذہبی سفر پر تھے۔

کئی افراد کیلاش مانسروور کی یاترا کے لیے اس علاقے سے گزر رہے تھے۔ کیلاش پہاڑ اور مانسروور جھیل ہندوؤں اور بدھ مت کے پیروکاروں سمیت کئی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں۔

دریائے سندھ کا ماخذ بھی یہی مانسروور جھیل ہے۔

نیپالی فوج اور پولیس نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کر دی ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے اور لاشیں نکالنے کے کام میں مصروف ہیں۔

دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور تباہ شدہ سڑکوں کے باعث زمینی امداد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچا رہے ہیں۔ یہ امدادی سامان پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے بھی فراہم کیا گیا ہے۔ کئی ایسے علاقوں تک زمینی راستے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جہاں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے۔

سیلاب سے بچ جانے والے افراد نے تباہی کی ہولناک داستانیں بیان کی ہیں۔ 68 سالہ کیشَو پرساد بارال نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے مٹی اور پانی کا ایک بہت بڑا ریلا اپنی طرف آتے دیکھا۔ جب ملبہ ان کے گھر میں داخل ہوا تو انہوں نے اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چھت پر لے جانے کی کوشش کی، لیکن ان کی اہلیہ سیلابی ملبے میں بہہ گئیں۔ بارال کو تقریباً چار گھنٹے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر پہنچایا گیا، تاہم ان کی اہلیہ تاحال لاپتہ ہیں۔

ایک اور شخص نے اپنی جان آم کے ایک درخت سے چمٹ کر بچائی۔ اس نے دیکھا کہ جس گھر میں وہ کام کر رہا تھا وہ سیلابی پانی اور ملبے میں مکمل طور پر بہہ گیا۔ متاثرہ علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز میں گھروں، گاڑیوں اور پلوں کو سیلاب کے تیز بہاؤ میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی مقامات پر کئی میٹر موٹی مٹی نے گھروں، درختوں اور گاڑیوں کو ڈھانپ لیا ہے۔

ابتدائی طور پر حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید علاقے میں آنے والے زلزلے نے برفانی تودے کو گرا کر سیلاب پیدا کیا۔ تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں واضح کیا کہ جس زلزلے کی شدت ابتدائی طور پر 4.4 بتائی گئی تھی، دراصل وہ برف، چٹان اور برفانی حصے کے اچانک گرنے سے پیدا ہونے والی زلزلہ نما توانائی تھی۔ اس کے بعد ملبے کا ایک بڑا ریلا دریا میں داخل ہوا اور سیلاب کی صورت اختیار کر گیا۔

چین کی جانب سے یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ گیریونگ کے بالائی علاقے میں پانی سے بھری ایک جھیل اب بھی مٹی اور ملبے کی رکاوٹ کے باعث بند ہے۔ اگر یہ رکاوٹ ٹوٹتی ہے تو مزید سیلاب آ سکتا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

قدرتی آفت کے بعد بین الاقوامی امداد بھی شروع ہو گئی ہے۔ امریکا نے 5 لاکھ ڈالر کی امداد دینے اور ایک ڈیزاسٹر رسپانس مشیر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی متاثرہ نیپالی آبادیوں کے لیے امدادی سامان اور عملہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے بھی اپنے شہریوں کی صورتحال پر نظر رکھنے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔

نیپال کے متاثرہ علاقوں میں صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے۔ رائٹرز کے مطابق سیلاب سے کئی بستیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں موجود لوگوں کے عزیز اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی معلومات کے لیے فوجی مراکز کے باہر جمع ہو رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ہے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک صحت کارکن، تولا بہادر بی کے، نے رائٹرز کو بتایا کہ دریا کے کنارے آبادیاں مکمل طور پر بہہ گئی ہیں اور ان کے اپنے پانچ رشتہ دار بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق جہاں پہلے گھر اور بستیاں موجود تھیں، وہاں اب بڑے پیمانے پر تباہی نظر آ رہی ہے۔

امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام کی سب سے بڑی ترجیح لاپتہ افراد کو تلاش کرنا، زندہ بچ جانے والوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور متاثرہ لوگوں کو خوراک، پانی اور پناہ فراہم کرنا ہے۔ تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقہ، تباہ شدہ سڑکیں اور مزید سیلاب کے خدشات امدادی کاموں کے لیے مسلسل بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں: