Tag: نیپال

  • بھکتاپور: نیپال کا تاریخی شہر جہاں صدیوں پرانی تہذیب آج بھی زندہ ہے

    بھکتاپور: نیپال کا تاریخی شہر جہاں صدیوں پرانی تہذیب آج بھی زندہ ہے

    نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے تقریباً 13 کلومیٹر مشرق میں واقع بھکتاپور اپنی قدیم تہذیب، اینٹوں سے بنی عمارتوں، لکڑی کی نفیس نقش کاری، مندروں اور تاریخی چوکوں کے باعث نیپال کے اہم ترین ثقافتی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر کھٹمنڈو وادی کے ان تاریخی مراکز میں شامل ہے جنہوں نے نیپال کی نیواری تہذیب، فن تعمیر اور مذہبی روایات کو صدیوں تک محفوظ رکھا۔

    بھکتاپور کا تاریخی وجود کم از کم قرون وسطیٰ تک پہنچتا ہے اور یہ شہر خاص طور پر ملا دور میں ایک اہم سیاسی اور ثقافتی مرکز کے طور پر ابھرا۔ شہر کا تاریخی مرکز آج بھی قدیم طرز تعمیر کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں اینٹ اور لکڑی سے بنی عمارتیں، نقش دار کھڑکیاں، مندر اور روایتی رہائشی ڈھانچے ایک منفرد شہری منظر پیش کرتے ہیں۔

    بھکتاپور کا سب سے مشہور مقام دربار اسکوائر ہے، جہاں کبھی شاہی محل اور اہم مذہبی عمارتیں موجود تھیں۔ یہ علاقہ کھٹمنڈو وادی کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ کھٹمنڈو وادی کو 1979 میں عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا تھا اور اس کے سات تاریخی یادگاری علاقوں میں بھکتاپور دربار اسکوائر بھی شامل ہے۔

    بھکتاپور آنے والے سیاحوں کے لیے نیاتاپولا مندر، دربار اسکوائر، تاؤمادھی چوک، گولڈن گیٹ، پچپن جھالی والا محل اور دتاتریہ اسکوائر خاص کشش رکھتے ہیں۔ شہر کی گلیوں میں روایتی نیواری طرز کے گھر، لکڑی کی نقش کاری اور مقامی دستکاری بھی سیاحوں کو ماضی کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔

    بھکتاپور کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب 25 اپریل 2015 کو آنے والا تباہ کن زلزلہ تھا۔ اس زلزلے نے کھٹمنڈو وادی کے تاریخی ورثے کو شدید نقصان پہنچایا۔ بھکتاپور دربار اسکوائر بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوا اور متعدد تاریخی عمارتوں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد نیپال کے محکمہ آثار قدیمہ، مقامی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں نے تاریخی عمارتوں کی بحالی کا کام شروع کیا۔ کئی عمارتوں اور یادگاروں کو روایتی مواد اور تعمیراتی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ بحال کیا گیا۔ تاریخی عمارتوں کی بحالی کا مقصد صرف تباہ شدہ ڈھانچوں کو دوبارہ تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ بھکتاپور کی اصل ثقافتی اور معماری شناخت کو بھی محفوظ رکھنا تھا۔

    زلزلے کے بعد بھی بھکتاپور نے سیاحت کا سفر جاری رکھا۔ تاریخی مقامات کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ دوبارہ سیاحوں کے لیے کھولا گیا اور بحالی کا عمل شہر کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کا اہم حصہ بن گیا۔

    آج بھکتاپور صرف قدیم مندروں اور شاہی محلات کا شہر نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی ورثہ ہے، جہاں تہوار، مذہبی رسومات، روایتی دستکاریاں اور نیواری طرز زندگی تاریخی عمارتوں کے درمیان آج بھی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھکتاپور نیپال آنے والے سیاحوں کے لیے ماضی، فن تعمیر اور زندہ ثقافت کو ایک ساتھ دیکھنے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔

  • نیپال میں شدید سیلاب، غیر ملکی شہریوں سمیت تقریباً 1500 افراد لاپتہ، 165 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

    نیپال میں شدید سیلاب، غیر ملکی شہریوں سمیت تقریباً 1500 افراد لاپتہ، 165 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

    نیپال اور چین کے زیر انتظام تبت کے سرحدی علاقوں میں بدھ کے روز آنے والے شدید سیلاب کے بعد امدادی کارکن سیکڑوں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    حکام کے مطابق نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر تقریباً 1500 افراد لاپتہ ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ نیپالی پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق پہاڑ سے مٹی، چٹانوں، برف اور برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ دریائے لہندے میں جا گرا۔ اس کے نتیجے میں دریا میں اچانک انتہائی تیز پانی اور ملبے کا ریلا آیا، جس نے راستے میں آنے والی آبادیوں، سڑکوں، پلوں، گاڑیوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔

    یہ علاقہ چین کے تبت اور نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو ملانے والے اہم راستے پر واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں سیاح، کوہ پیما اور مذہبی زائرین آتے ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیپال میں 826 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن میں تقریباً 600 غیر ملکی ہیں۔ لاپتہ افراد میں بھارت کے 177، امریکا کے 63، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 25 شہری شامل ہیں۔ چین کے تبت خطے کے گیریونگ کاؤنٹی میں مزید 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ بدھ کے روز معمول کے کاموں، سیاحت یا مذہبی سفر پر تھے۔

    کئی افراد کیلاش مانسروور کی یاترا کے لیے اس علاقے سے گزر رہے تھے۔ کیلاش پہاڑ اور مانسروور جھیل ہندوؤں اور بدھ مت کے پیروکاروں سمیت کئی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں۔

    دریائے سندھ کا ماخذ بھی یہی مانسروور جھیل ہے۔

    نیپالی فوج اور پولیس نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کر دی ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے اور لاشیں نکالنے کے کام میں مصروف ہیں۔

    دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور تباہ شدہ سڑکوں کے باعث زمینی امداد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچا رہے ہیں۔ یہ امدادی سامان پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے بھی فراہم کیا گیا ہے۔ کئی ایسے علاقوں تک زمینی راستے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جہاں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے۔

    سیلاب سے بچ جانے والے افراد نے تباہی کی ہولناک داستانیں بیان کی ہیں۔ 68 سالہ کیشَو پرساد بارال نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے مٹی اور پانی کا ایک بہت بڑا ریلا اپنی طرف آتے دیکھا۔ جب ملبہ ان کے گھر میں داخل ہوا تو انہوں نے اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چھت پر لے جانے کی کوشش کی، لیکن ان کی اہلیہ سیلابی ملبے میں بہہ گئیں۔ بارال کو تقریباً چار گھنٹے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر پہنچایا گیا، تاہم ان کی اہلیہ تاحال لاپتہ ہیں۔

    ایک اور شخص نے اپنی جان آم کے ایک درخت سے چمٹ کر بچائی۔ اس نے دیکھا کہ جس گھر میں وہ کام کر رہا تھا وہ سیلابی پانی اور ملبے میں مکمل طور پر بہہ گیا۔ متاثرہ علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز میں گھروں، گاڑیوں اور پلوں کو سیلاب کے تیز بہاؤ میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی مقامات پر کئی میٹر موٹی مٹی نے گھروں، درختوں اور گاڑیوں کو ڈھانپ لیا ہے۔

    ابتدائی طور پر حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید علاقے میں آنے والے زلزلے نے برفانی تودے کو گرا کر سیلاب پیدا کیا۔ تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں واضح کیا کہ جس زلزلے کی شدت ابتدائی طور پر 4.4 بتائی گئی تھی، دراصل وہ برف، چٹان اور برفانی حصے کے اچانک گرنے سے پیدا ہونے والی زلزلہ نما توانائی تھی۔ اس کے بعد ملبے کا ایک بڑا ریلا دریا میں داخل ہوا اور سیلاب کی صورت اختیار کر گیا۔

    چین کی جانب سے یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ گیریونگ کے بالائی علاقے میں پانی سے بھری ایک جھیل اب بھی مٹی اور ملبے کی رکاوٹ کے باعث بند ہے۔ اگر یہ رکاوٹ ٹوٹتی ہے تو مزید سیلاب آ سکتا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

    قدرتی آفت کے بعد بین الاقوامی امداد بھی شروع ہو گئی ہے۔ امریکا نے 5 لاکھ ڈالر کی امداد دینے اور ایک ڈیزاسٹر رسپانس مشیر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی متاثرہ نیپالی آبادیوں کے لیے امدادی سامان اور عملہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے بھی اپنے شہریوں کی صورتحال پر نظر رکھنے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔

    نیپال کے متاثرہ علاقوں میں صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے۔ رائٹرز کے مطابق سیلاب سے کئی بستیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں موجود لوگوں کے عزیز اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی معلومات کے لیے فوجی مراکز کے باہر جمع ہو رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ہے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک صحت کارکن، تولا بہادر بی کے، نے رائٹرز کو بتایا کہ دریا کے کنارے آبادیاں مکمل طور پر بہہ گئی ہیں اور ان کے اپنے پانچ رشتہ دار بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق جہاں پہلے گھر اور بستیاں موجود تھیں، وہاں اب بڑے پیمانے پر تباہی نظر آ رہی ہے۔

    امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام کی سب سے بڑی ترجیح لاپتہ افراد کو تلاش کرنا، زندہ بچ جانے والوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور متاثرہ لوگوں کو خوراک، پانی اور پناہ فراہم کرنا ہے۔ تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقہ، تباہ شدہ سڑکیں اور مزید سیلاب کے خدشات امدادی کاموں کے لیے مسلسل بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

  • نیپال کی نئی حکومت: ریپر سے وزیر اعظم تک، پروٹوکول کے خاتمے سمیت 100 دن کا انقلابی ایکشن پلان

    نیپال کی نئی حکومت: ریپر سے وزیر اعظم تک، پروٹوکول کے خاتمے سمیت 100 دن کا انقلابی ایکشن پلان

    بالی ووڈ کی کوئی مووی نہیں، یہ حقیقی دنیا ہے اور یہ ہے نیپال۔ یہاں وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اب پولیس کسی وزیر کی گاڑی کو بھی روک کر تلاشی لے سکتی ہے۔ اسکولوں کی فیسیں کم کر دی گئی ہیں۔ کرپٹ مافیا پر ہاتھ ڈالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم اور تمام وزرا کا پروٹوکول ختم ہو چکا ہے۔

    یہ سب کچھ ایک ریپر نے کر دکھایا ہے۔ جین زی انقلاب کے بعد نیپال میں ایک ریپر نے الیکشن جیت کر جین زی حکومت قائم کی۔ بالین شاھ، جو ایک مشہور ریپر ہیں، نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا اور کھٹمنڈو کے مئیر منتخب ہوئے۔ 2025 میں ملک بھر میں کرپشن کے خلاف احتجاجی تحریک میں ان کی قیادت نمایاں رہی۔ چار سال کے اندر ایک شہر کے مئیر سے وزیر اعظم بننے کا یہ سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔

    ریپر بالین شاہ کی حکومت نے 100 دن کا ایکشن پلان جاری کیا ہے، جس سے نیپال کا نقشہ ہی بدلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اب کسی بھی سرکاری شخصیت کو بزنس کلاس میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا واضح حکم ہے کہ ان کی تصویر کسی سرکاری دفتر میں نہیں لگائی جائے گی۔

    یہ صرف شروعات ہے۔ 1990 سے لے کر آج تک جتنے بھی وزرا رہے ہیں، سب کو اپنے اثاثے ڈیکلیئر کرنے ہوں گے۔ پاسپورٹ، لائسنس، شناختی کارڈ – سب کچھ 100 فیصد ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ نجی اسپتالوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے 10 فیصد بستر غریب مریضوں کے لیے مختص کریں۔

    یہ سب کچھ 100 دن کے ایکشن پلان کا حصہ ہے، جسے آن لائن بھی جاری کر دیا گیا ہے تاکہ ہر شہری خود دیکھ سکے کہ کیا کام ہو چکا ہے اور کیا باقی ہے۔ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

  • بھکتاپور: اینٹوں میں بندھا وقت، زلزلے کے بعد شناخت کی بحالی

    بھکتاپور: اینٹوں میں بندھا وقت، زلزلے کے بعد شناخت کی بحالی

    یہ بھکتاپور ہے۔
    نیپال کا تقریباً بارہ سو سال قدیم شہر، جہاں وقت گھڑی میں نہیں، اینٹوں میں بندھا ہوا ہے۔

    یہاں گلیاں سیدھی نہیں ملتیں۔
    یوں لگتا ہے جیسے شہر جان بوجھ کر چلنے کی رفتار کم کر دیتا ہو۔

    ہر موڑ پر لکڑی کا ایک دروازہ۔
    ایک کھڑکی۔
    ایک چہرہ۔
    جو صدیوں سے یہی کہہ رہا ہے کہ جلدی مت کرو۔

    سن 2015 میں نیپال کے تباہ کن زلزلے نے بھکتاپور کو بھی ہلا دیا۔
    مندر گرے۔
    گھروں میں دراڑیں آئیں۔
    اور کئی نشان مٹتے مٹتے بچے۔

    مگر اس کے بعد شہر نے ایک فیصلہ کیا۔
    صرف دوبارہ تعمیر کا نہیں۔
    بلکہ شناخت بچانے کا۔

    آج بھکتاپور کے تاریخی علاقوں میں ضابطہ ہے کہ نئی تعمیر پرانی نیوار طرزِ تعمیر میں ہی کی جائے۔
    سرخ اینٹیں۔
    لکڑی کی کھڑکیاں۔
    روایتی چھجے۔
    اور وہی تناسب جو صدیوں پہلے اختیار کیا جاتا تھا۔

    نیا مضبوط مادہ اندر استعمال ہوتا ہے۔
    مگر شہر کا چہرہ وہی پرانا رکھا جاتا ہے۔

    بھکتاپور کبھی بادشاہوں کا شہر تھا۔
    آج کاریگروں کا شہر ہے۔

    یہاں ہاتھ آج بھی وہی کام کرتے ہیں جو نسلوں پہلے سیکھے گئے تھے۔
    مٹی کے برتن۔
    لکڑی کی نقش نگاری۔
    اور وہ راستے جن پر تاریخ نے خود قدموں کے نشان چھوڑے ہیں۔

    یہ شہر خاموش ہے۔
    مگر خالی نہیں۔

    صبح دودھ فروشوں کی آوازیں۔
    دوپہر میں مندروں کی گھنٹیاں۔
    اور شام کو چوک میں بیٹھے بزرگ، جو تاریخ سناتے نہیں، جیتے ہیں۔

    یہاں عمارتیں زلزلے سہہ گئیں۔
    اور لوگوں نے وقت۔

    اسی لیے بھکتاپور یہ نہیں بتاتا کہ ماضی کیا تھا۔
    بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ ماضی کو حال میں کیسے سنبھالا جاتا ہے۔

    یہ بھکتاپور ہے۔
    جہاں تاریخ دیواروں پر لکھی نہیں۔
    آج بھی زندہ کھڑی ہے۔