Tag: نیپال

  • نیپال کی نئی حکومت: ریپر سے وزیر اعظم تک، پروٹوکول کے خاتمے سمیت 100 دن کا انقلابی ایکشن پلان

    نیپال کی نئی حکومت: ریپر سے وزیر اعظم تک، پروٹوکول کے خاتمے سمیت 100 دن کا انقلابی ایکشن پلان

    بالی ووڈ کی کوئی مووی نہیں، یہ حقیقی دنیا ہے اور یہ ہے نیپال۔ یہاں وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اب پولیس کسی وزیر کی گاڑی کو بھی روک کر تلاشی لے سکتی ہے۔ اسکولوں کی فیسیں کم کر دی گئی ہیں۔ کرپٹ مافیا پر ہاتھ ڈالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم اور تمام وزرا کا پروٹوکول ختم ہو چکا ہے۔

    یہ سب کچھ ایک ریپر نے کر دکھایا ہے۔ جین زی انقلاب کے بعد نیپال میں ایک ریپر نے الیکشن جیت کر جین زی حکومت قائم کی۔ بالین شاھ، جو ایک مشہور ریپر ہیں، نے 2022 میں سیاست میں قدم رکھا اور کھٹمنڈو کے مئیر منتخب ہوئے۔ 2025 میں ملک بھر میں کرپشن کے خلاف احتجاجی تحریک میں ان کی قیادت نمایاں رہی۔ چار سال کے اندر ایک شہر کے مئیر سے وزیر اعظم بننے کا یہ سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔

    ریپر بالین شاہ کی حکومت نے 100 دن کا ایکشن پلان جاری کیا ہے، جس سے نیپال کا نقشہ ہی بدلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اب کسی بھی سرکاری شخصیت کو بزنس کلاس میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا واضح حکم ہے کہ ان کی تصویر کسی سرکاری دفتر میں نہیں لگائی جائے گی۔

    یہ صرف شروعات ہے۔ 1990 سے لے کر آج تک جتنے بھی وزرا رہے ہیں، سب کو اپنے اثاثے ڈیکلیئر کرنے ہوں گے۔ پاسپورٹ، لائسنس، شناختی کارڈ – سب کچھ 100 فیصد ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ نجی اسپتالوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے 10 فیصد بستر غریب مریضوں کے لیے مختص کریں۔

    یہ سب کچھ 100 دن کے ایکشن پلان کا حصہ ہے، جسے آن لائن بھی جاری کر دیا گیا ہے تاکہ ہر شہری خود دیکھ سکے کہ کیا کام ہو چکا ہے اور کیا باقی ہے۔ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

  • بھکتاپور: اینٹوں میں بندھا وقت، زلزلے کے بعد شناخت کی بحالی

    بھکتاپور: اینٹوں میں بندھا وقت، زلزلے کے بعد شناخت کی بحالی

    یہ بھکتاپور ہے۔
    نیپال کا تقریباً بارہ سو سال قدیم شہر، جہاں وقت گھڑی میں نہیں، اینٹوں میں بندھا ہوا ہے۔

    یہاں گلیاں سیدھی نہیں ملتیں۔
    یوں لگتا ہے جیسے شہر جان بوجھ کر چلنے کی رفتار کم کر دیتا ہو۔

    ہر موڑ پر لکڑی کا ایک دروازہ۔
    ایک کھڑکی۔
    ایک چہرہ۔
    جو صدیوں سے یہی کہہ رہا ہے کہ جلدی مت کرو۔

    سن 2015 میں نیپال کے تباہ کن زلزلے نے بھکتاپور کو بھی ہلا دیا۔
    مندر گرے۔
    گھروں میں دراڑیں آئیں۔
    اور کئی نشان مٹتے مٹتے بچے۔

    مگر اس کے بعد شہر نے ایک فیصلہ کیا۔
    صرف دوبارہ تعمیر کا نہیں۔
    بلکہ شناخت بچانے کا۔

    آج بھکتاپور کے تاریخی علاقوں میں ضابطہ ہے کہ نئی تعمیر پرانی نیوار طرزِ تعمیر میں ہی کی جائے۔
    سرخ اینٹیں۔
    لکڑی کی کھڑکیاں۔
    روایتی چھجے۔
    اور وہی تناسب جو صدیوں پہلے اختیار کیا جاتا تھا۔

    نیا مضبوط مادہ اندر استعمال ہوتا ہے۔
    مگر شہر کا چہرہ وہی پرانا رکھا جاتا ہے۔

    بھکتاپور کبھی بادشاہوں کا شہر تھا۔
    آج کاریگروں کا شہر ہے۔

    یہاں ہاتھ آج بھی وہی کام کرتے ہیں جو نسلوں پہلے سیکھے گئے تھے۔
    مٹی کے برتن۔
    لکڑی کی نقش نگاری۔
    اور وہ راستے جن پر تاریخ نے خود قدموں کے نشان چھوڑے ہیں۔

    یہ شہر خاموش ہے۔
    مگر خالی نہیں۔

    صبح دودھ فروشوں کی آوازیں۔
    دوپہر میں مندروں کی گھنٹیاں۔
    اور شام کو چوک میں بیٹھے بزرگ، جو تاریخ سناتے نہیں، جیتے ہیں۔

    یہاں عمارتیں زلزلے سہہ گئیں۔
    اور لوگوں نے وقت۔

    اسی لیے بھکتاپور یہ نہیں بتاتا کہ ماضی کیا تھا۔
    بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ ماضی کو حال میں کیسے سنبھالا جاتا ہے۔

    یہ بھکتاپور ہے۔
    جہاں تاریخ دیواروں پر لکھی نہیں۔
    آج بھی زندہ کھڑی ہے۔