نیپال میں ایک مرتبہ پھر پہاڑی تودہ گرنے کے باعث دریا کا راستہ بند ہونے اور پھر اچانک سیلاب آنے سے کئی مکانات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کے بعد دو خواتین اور تین مرد لاپتا ہیں، جبکہ فوری طور پر کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ وسطی نیپال کے ضلع گورکھا کے گاؤں چمنوبری میں پیش آیا، جہاں پہاڑی تودہ گرنے سے بدھی گنڈکی دریا کا بہاؤ رک گیا۔ اس کے نتیجے میں دریا کے نچلے علاقوں میں پانی جمع ہونے لگا اور بعد میں اچانک سیلابی ریلہ آگے بڑھ گیا۔
حکام کے مطابق بدھی گنڈکی دریا کھٹمنڈو سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ یہ دریا آگے چل کر دریائے تریشولی میں شامل ہوتا ہے۔ سیلابی پانی اپنے ساتھ مٹی اور گارا بھی بہا کر لایا، جس سے دریا کے آس پاس کی آبادیوں اور تعمیراتی منصوبوں کو نقصان پہنچا۔
ضلع گورکھا کے اعلیٰ انتظامی افسر دھرمندر کمار مشرا نے بتایا کہ دریا کے کنارے آباد لوگوں کو نشیبی علاقوں سے نکلنے اور محفوظ مقامات پر جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پانی کی سطح میں اضافے کے پیش نظر لوگوں کو بروقت منتقل کرنا ضروری ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
قومی ادارے برائے آفات سے نمٹنے کے مطابق سیلابی پانی تقریباً ایک درجن مکانات اور دو معلق پل بہا لے گیا۔ اس کے علاوہ پن بجلی کے ایک منصوبے کے تعمیراتی کیمپ کو بھی نقصان پہنچا اور وہاں موجود کچھ بھاری مشینری پانی میں بہہ گئی۔
ادارے کے سربراہ دھرم راج اپریتی نے بتایا کہ سیلاب نے گورکھا اور اس کے پڑوسی ضلع دھادنگ کو ملانے والا شاہراہ کا پل بھی بہا دیا۔
نیپالی فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ فوج کے مطابق 49 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جن میں ایک غیر ملکی شہری بھی شامل ہے۔ تاہم حکام نے اس شہری کی قومیت ظاہر نہیں کی۔ فوج اور پولیس کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی صورت حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
قومی ادارے برائے آفات سے نمٹنے نے گورکھا کے علاوہ تنہون، چتوان، مشرقی نوال پراسی اور مغربی نوال پراسی اضلاع میں دریا کے کنارے آباد لوگوں کو خبردار کیا ہے۔ حکام نے متعلقہ اداروں اور مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ خطرے سے دوچار آبادیوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں تعاون کریں اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد دیں۔
انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ دریا میں پانی اور مٹی کے تیز بہاؤ سے مزید نقصان ہو سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں سڑکوں اور پلوں کی تباہی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی لیے حکام صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب نیپال ابھی اگست میں آنے والے ایک تباہ کن سیلاب کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے پہلے دریائے تریشولی کے نظام سے منسلک ایک دوسرے دریا میں برفانی تودہ گرنے کے بعد شدید سیلاب آیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اس تباہی میں 1,457 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ہزاروں افراد لاپتا تھے۔
برفانی علاقوں اور پہاڑی دریاؤں میں اچانک آنے والے سیلاب مقامی آبادیوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ پہاڑی تودے گرنے سے جب دریا کا راستہ بند ہو جاتا ہے تو پانی عارضی طور پر جمع ہونے لگتا ہے۔ اگر یہ رکاوٹ ٹوٹ جائے تو پانی اچانک تیزی سے نیچے کی جانب بہتا ہے اور راستے میں آنے والی آبادیوں، پلوں اور تعمیراتی منصوبوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت سب سے اہم ترجیح لوگوں کو خطرے والے علاقوں سے نکالنا، لاپتا افراد کا سراغ لگانا اور متاثرہ مقامات تک امدادی ٹیموں کی رسائی یقینی بنانا ہے۔











