Tag: سیلاب

  • روزگار کی محرومی سے موسمیاتی نقل مکانی: ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے متاثرین دیہاڑی دار مزدور کیوں؟

    روزگار کی محرومی سے موسمیاتی نقل مکانی: ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے متاثرین دیہاڑی دار مزدور کیوں؟

    2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان میں لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، لیکن ہر متاثرہ شخص کی کہانی ایک جیسی نہیں تھی۔ کسی نے اپنی فصل کھوئی، کسی کا گھر بہہ گیا، مگر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے سب سے پہلے اپنی روزی روٹی کھوئی۔ جب روزگار ختم ہوا تو گھر چھوڑنا اس کی مجبوری بن گیا۔

    ایک بین الاقوامی تحقیق نے اس حقیقت کو اعداد و شمار اور زمینی شواہد کی بنیاد پر واضح کیا ہے کہ موسمیاتی آفات کا سب سے بڑا بوجھ دیہاڑی دار مزدوروں، کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں، ریڑھی بانوں، چھوٹے دکانداروں اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ محنت کشوں پر پڑتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی روزانہ کی کمائی سے چلتی ہے۔ اگر ایک دن کام نہ ملے تو چولہا نہیں جلتا، اور جب کئی ہفتوں یا مہینوں تک روزگار ختم ہو جائے تو نقل مکانی ہی آخری راستہ رہ جاتا ہے۔

    انٹرنیشنل جرنل آف سوشل کوالٹی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کو فاریہ ہشمت، ٹونی بریڈلی، ڈاکٹر احمد نواز اور اسد غالب نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ محققین نے سندھ کے ضلع مٹیاری کی تحصیل سعید آباد میں 2022 کے سیلاب سے متاثر ہونے والے 121 خاندانوں کا تفصیلی سروے کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کچھ خاندان اپنے گھروں میں کیوں رہ سکے جبکہ دوسرے نقل مکانی پر کیوں مجبور ہوئے۔

    تحقیق کے مطابق سیلاب کے بعد سب سے زیادہ مشکلات ان افراد کو پیش آئیں جن کا روزگار غیر رسمی معیشت سے وابستہ تھا۔ دیہاڑی دار مزدور، زرعی مزدور، ریڑھی بان، چھوٹے دکاندار اور معمولی کاروبار کرنے والے افراد روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ جب سیلاب آیا تو سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، بازار بند ہوگئے، کھیت تباہ ہوگئے، نقل و حمل رک گئی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں محنت کشوں کی آمدنی ایک ہی دن میں ختم ہو گئی۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان خاندانوں کے پاس نہ تو کوئی قابل ذکر بچت موجود تھی، نہ زمین یا جائیداد جیسا اثاثہ، اور نہ ہی کوئی دوسرا ذریعہ معاش تھا جس سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتے۔ کئی خاندانوں نے چند ہفتے رشتہ داروں یا پڑوسیوں کے سہارے گزارے، لیکن جب یہ سہارا بھی ختم ہونے لگا تو انہیں اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر دوسرے شہروں یا دیہات کا رخ کرنا پڑا۔

    محققین فاریہ ہشمت کہنا ہے کہ ایسے خاندان صرف مالی طور پر ہی کمزور نہیں تھے بلکہ ان کے سماجی اور سیاسی روابط بھی محدود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سرکاری امداد، بحالی کے منصوبوں اور دیگر سہولتوں تک بروقت رسائی حاصل نہ کر سکے۔ امدادی سامان کی تقسیم ہو یا مالی معاونت، کمزور سماجی حیثیت رکھنے والے خاندان اکثر اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔

    اس کے برعکس، جن خاندانوں کے پاس زمین، مویشی، کچھ بچت یا مقامی سطح پر مضبوط سماجی روابط موجود تھے، وہ بحران سے نسبتاً بہتر انداز میں نمٹنے میں کامیاب رہے۔ ایسے خاندانوں کو رشتہ داروں، برادری، مقامی رہنماؤں اور سماجی نیٹ ورک سے مدد ملی، جس کے باعث وہ اپنے گھروں میں رہ سکے یا جلد بحالی کی طرف لوٹ آئے۔

    تحقیق میں شامل 121 خاندانوں میں سے 95 خاندان سیلاب کے بعد اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے، جبکہ صرف 26 خاندان اپنے علاقوں میں رہنے میں کامیاب رہے۔ محققین نے اگست 2023 میں ان خاندانوں کا سروے کیا اور ان کی معاشی، سماجی اور ذاتی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022 کے سیلاب نے تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد کو متاثر کیا جبکہ قریب 80 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ اس قدرتی آفت میں 1700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں ایک تہائی بچے تھے۔ سندھ اس تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ثابت ہوا، جہاں کئی اضلاع میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2022 کے سیلاب سے پاکستان کو تقریباً 14.9 ارب امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا جبکہ معاشی نقصانات کا تخمینہ 15.2 ارب ڈالر لگایا گیا۔ بحالی اور تعمیر نو کے لیے کم از کم 16.3 ارب ڈالر درکار تھے، تاہم ہر خاندان کو یکساں نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی سب کی بحالی کی ضروریات ایک جیسی تھیں۔

    محققین نے اس تحقیق میں ایک اہم نکتہ سامنے رکھا ہے کہ صرف پیسہ ہی کسی خاندان کو محفوظ نہیں بناتا۔ بعض اوقات مضبوط سماجی تعلقات، برادری کا تعاون، پڑوسیوں کی مدد، مقامی قیادت سے روابط اور بروقت معلومات مالی وسائل سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوتے ہیں۔ جن خاندانوں کے سماجی روابط مضبوط تھے، ان کے بے گھر ہونے کے امکانات نمایاں طور پر کم رہے۔

    محقق فاریہ نے بتایا کہ تحقیق کے دوران خاندانوں کو ان کی صلاحیتوں کی بنیاد پر چار مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروہ ان انتہائی کمزور خاندانوں پر مشتمل تھا جو محدود وسائل کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ دوسرا گروہ ان خاندانوں کا تھا جو کم وسائل کے باوجود اپنے علاقوں میں رہنے میں کامیاب رہے۔ تیسرے گروہ میں وہ خاندان شامل تھے جنہوں نے بہتر وسائل کی بدولت حالات سے مطابقت پیدا کر لی، جبکہ چوتھے گروہ میں ایسے نسبتاً باوسائل خاندان تھے جنہوں نے مستقبل میں بہتر زندگی کے امکانات کے لیے رضاکارانہ طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق 49 خاندان انتہائی کمزور ثابت ہوئے اور بے گھر ہوگئے۔ 11 خاندان محدود وسائل کے باوجود اپنے گھروں میں قائم رہے۔ 15 خاندان بہتر وسائل کی بدولت اپنے علاقوں میں محفوظ رہے، جبکہ 46 خاندانوں نے اپنی مرضی سے نقل مکانی کی۔

    تحقیق میں ایسے باوسائل خاندانوں کو "گیٹ کیپر خاندان” کا نام دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ وہ خاندان ہیں جن کے مقامی سیاسی، سماجی اور انتظامی حلقوں سے مضبوط روابط ہوتے ہیں۔ یہی روابط انہیں بحران کے دوران بہتر فیصلے کرنے، وسائل تک رسائی حاصل کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت ایسے خاندانوں کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی کا حصہ بنائے تاکہ وہ کمزور خاندانوں تک امداد، معلومات اور سرکاری سہولتوں کی فراہمی میں پل کا کردار ادا کر سکیں۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ عمر کے سربراہان والے خاندان نسبتاً زیادہ بے گھر ہوئے، جبکہ تعلیم یافتہ افراد کے خاندان بحران کا بہتر مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اسی طرح بڑے خاندان زیادہ معاشی دباؤ کا شکار ہوئے کیونکہ ان کی ضروریات بھی زیادہ تھیں۔ کسان خاندان اپنی زمین سے وابستگی کی وجہ سے مزدور خاندانوں کے مقابلے میں کم نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ زمین سے محروم محنت کش سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف امدادی رقوم تقسیم کرنا کافی نہیں۔ اگر مقامی برادریوں کو پہلے سے منظم کیا جائے، دیہات میں سماجی تعاون کو فروغ دیا جائے، مقامی تنظیموں کو مضبوط بنایا جائے، لوگوں کو تربیت دی جائے اور معلومات تک ان کی رسائی بہتر بنائی جائے تو مستقبل میں قدرتی آفات کے نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

    تحقیق میں حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں اور مقامی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی میں مقامی کمیونٹی کو مرکزی حیثیت دیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ روزگار، غربت، سماجی انصاف اور انسانی بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ جب سیلاب آتا ہے تو صرف دریا ہی نہیں بہتے، بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی، عزت اور مستقبل بھی اس کی زد میں آ جاتا ہے۔ اسی لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی ہر پالیسی میں سب سے پہلے ان لوگوں کو سامنے رکھنا ہوگا جن کے پاس کھونے کے لیے صرف اپنا روزگار ہوتا ہے۔

  • ماحولیاتی تبدیلی: شدید سیلابوں کے باعث پاکستان میں 2010 سے اب تک تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر: این ڈی ایم اے

    ماحولیاتی تبدیلی: شدید سیلابوں کے باعث پاکستان میں 2010 سے اب تک تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر: این ڈی ایم اے

    ملک میں قدرتی اور انسانی ساختہ آفات کی تیاری، بچاؤ، امدادی کارروائیوں اور بحالی کے اقدامات کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار پاکستان کے وفاقی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حالیہ رپورٹ کے مطابق 2010  سے اب تک پاکستان میں آنے والے بڑے سیلابوں سے تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر یا بے گھر ہو چکے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان میں جاری کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2010 کے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 2 کروڑ افراد متاثر یا بے گھر ہوئے۔ اس کے بعد 2011، 2012، 2014 اور 2015 کے سیلابوں سے مجموعی طور پر مزید ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ 2022 کے تاریخی سیلاب نے اکیلے ہی تقریباً تین کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ان تمام بڑے سیلابوں کو ملا کر 2010 سے اب تک تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر یا بے گھر ہو چکے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ میں قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی آبادی کے لحاظ سے ایک غیر معمولی تعداد ہے۔

     یہ اعداد و شمار ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں درپیش بڑھتے ہوئے خطرات اور مؤثر سیلابی تحفظ، آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی موافقت کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں مون سون کی بارشیں زرعی معیشت، آبی وسائل اور روزمرہ زندگی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ہر سال جون سے ستمبر کے دوران ہونے والی بارشیں دریاؤں، ڈیموں اور زیرزمین پانی کے ذخائر کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم جب یہ بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہو جائیں تو یہی نعمت ایک بڑے قدرتی بحران میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

     گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں مون سون کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ اسی بڑے پیمانے پر ہونے والی اس نقل مکانی کو ‘مون سون سیلابی نقل مکانی’ کہا جاتا ہے۔

    پاکستان میں دریائے سندھ کا وسیع آبی نظام شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا ہے، جس میں متعدد معاون دریا شامل ہیں۔ شدید مون سون بارشوں کے دوران جب ان دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے تو نشیبی علاقے زیر آب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    اس صورتحال میں نہ صرف زرعی زمینیں تباہ ہوتی ہیں بلکہ ہزاروں دیہات اور بستیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    سن 2010 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ غیر معمولی مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں شدید طغیانی آئی، جس سے خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے وسیع علاقے زیر آب آ گئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سیلاب سے تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً دو ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    لاکھوں گھر تباہ ہوئے اور کروڑوں ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچا۔

    سن 2022 میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر تاریخ کے شدید ترین مون سون سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال ملک میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

    سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد اس آفت سے متاثر ہوئے، سولہ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً اسی لاکھ افراد عارضی طور پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں مکانات، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں، سینکڑوں پل، تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

    شدید سیلاب کے دوران سب سے زیادہ نقصان دیہی آبادی کو پہنچتا ہے۔ جب پانی دیہات، فصلوں اور گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تو لوگ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات، سرکاری پناہ گاہوں یا شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ بہت سے خاندان مہینوں تک عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور رہتے ہیں کیونکہ ان کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہوتے ہیں۔

    سیلاب صرف گھروں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ زرعی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ کپاس، چاول، گندم، سبزیاں اور دیگر فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، جبکہ مویشیوں کی بڑی تعداد بھی ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں کسان اپنی آمدنی سے محروم ہو جاتے ہیں اور انہیں روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    سیلاب کے بعد صحت کے مسائل بھی شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ آلودہ پانی کے باعث ہیضہ، اسہال، ملیریا، ڈینگی اور جلدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور غذائی قلت متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے، جبکہ خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے مون سون بارشوں کے انداز کو مزید غیر متوازن بنا دیا ہے۔ عالمی حدت کے باعث فضا میں نمی کی مقدار بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختصر وقت میں انتہائی شدید بارشیں ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

    مون سون کے باعث ہونے والی نقل مکانی صرف ایک عارضی انسانی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے طویل المدتی سماجی اور معاشی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنے آبائی علاقوں میں واپس نہیں جا پاتے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور شہری علاقوں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    اس طرح ایک قدرتی آفت آہستہ آہستہ معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

    اقوام متحدہ، عالمی بینک اور پاکستان کے قومی اداروں کے مطابق سن 2022 کے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچا۔ مختلف جائزوں کے مطابق لاکھوں افراد کئی ماہ تک بے گھر رہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی میں کئی سال لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی آفات سے بچنے کے لیے سیلاب سے قبل مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط حفاظتی بند، بہتر نکاسی آب، جدید موسمی پیش گوئی، دریا کے قدرتی بہاؤ کا تحفظ، ماحول دوست ترقیاتی منصوبے اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندانوں کی بروقت بحالی، محفوظ رہائش، روزگار کی فراہمی اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی قومی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔

    مون سون کی تباہ کن سیلابی آفات کے باعث ہونے والی نقل مکانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ انسانی زندگی، معیشت، خوراک، تعلیم اور سماجی استحکام کو بھی براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔

    پاکستان میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی اختیار کرنا نہ صرف لاکھوں شہریوں کے تحفظ بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔