Tag: سیلاب

  • نیپال میں شدید سیلاب، غیر ملکی شہریوں سمیت تقریباً 1500 افراد لاپتہ، 165 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

    نیپال میں شدید سیلاب، غیر ملکی شہریوں سمیت تقریباً 1500 افراد لاپتہ، 165 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

    نیپال اور چین کے زیر انتظام تبت کے سرحدی علاقوں میں بدھ کے روز آنے والے شدید سیلاب کے بعد امدادی کارکن سیکڑوں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    حکام کے مطابق نیپال اور تبت میں مجموعی طور پر تقریباً 1500 افراد لاپتہ ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ نیپالی پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق پہاڑ سے مٹی، چٹانوں، برف اور برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ دریائے لہندے میں جا گرا۔ اس کے نتیجے میں دریا میں اچانک انتہائی تیز پانی اور ملبے کا ریلا آیا، جس نے راستے میں آنے والی آبادیوں، سڑکوں، پلوں، گاڑیوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔

    یہ علاقہ چین کے تبت اور نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو ملانے والے اہم راستے پر واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں سیاح، کوہ پیما اور مذہبی زائرین آتے ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیپال میں 826 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن میں تقریباً 600 غیر ملکی ہیں۔ لاپتہ افراد میں بھارت کے 177، امریکا کے 63، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 25 شہری شامل ہیں۔ چین کے تبت خطے کے گیریونگ کاؤنٹی میں مزید 558 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ بدھ کے روز معمول کے کاموں، سیاحت یا مذہبی سفر پر تھے۔

    کئی افراد کیلاش مانسروور کی یاترا کے لیے اس علاقے سے گزر رہے تھے۔ کیلاش پہاڑ اور مانسروور جھیل ہندوؤں اور بدھ مت کے پیروکاروں سمیت کئی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں۔

    دریائے سندھ کا ماخذ بھی یہی مانسروور جھیل ہے۔

    نیپالی فوج اور پولیس نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کر دی ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے اور لاشیں نکالنے کے کام میں مصروف ہیں۔

    دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور تباہ شدہ سڑکوں کے باعث زمینی امداد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچا رہے ہیں۔ یہ امدادی سامان پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے بھی فراہم کیا گیا ہے۔ کئی ایسے علاقوں تک زمینی راستے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جہاں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے۔

    سیلاب سے بچ جانے والے افراد نے تباہی کی ہولناک داستانیں بیان کی ہیں۔ 68 سالہ کیشَو پرساد بارال نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے مٹی اور پانی کا ایک بہت بڑا ریلا اپنی طرف آتے دیکھا۔ جب ملبہ ان کے گھر میں داخل ہوا تو انہوں نے اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چھت پر لے جانے کی کوشش کی، لیکن ان کی اہلیہ سیلابی ملبے میں بہہ گئیں۔ بارال کو تقریباً چار گھنٹے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر پہنچایا گیا، تاہم ان کی اہلیہ تاحال لاپتہ ہیں۔

    ایک اور شخص نے اپنی جان آم کے ایک درخت سے چمٹ کر بچائی۔ اس نے دیکھا کہ جس گھر میں وہ کام کر رہا تھا وہ سیلابی پانی اور ملبے میں مکمل طور پر بہہ گیا۔ متاثرہ علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز میں گھروں، گاڑیوں اور پلوں کو سیلاب کے تیز بہاؤ میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی مقامات پر کئی میٹر موٹی مٹی نے گھروں، درختوں اور گاڑیوں کو ڈھانپ لیا ہے۔

    ابتدائی طور پر حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید علاقے میں آنے والے زلزلے نے برفانی تودے کو گرا کر سیلاب پیدا کیا۔ تاہم امریکی جیولوجیکل سروے نے بعد میں واضح کیا کہ جس زلزلے کی شدت ابتدائی طور پر 4.4 بتائی گئی تھی، دراصل وہ برف، چٹان اور برفانی حصے کے اچانک گرنے سے پیدا ہونے والی زلزلہ نما توانائی تھی۔ اس کے بعد ملبے کا ایک بڑا ریلا دریا میں داخل ہوا اور سیلاب کی صورت اختیار کر گیا۔

    چین کی جانب سے یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ گیریونگ کے بالائی علاقے میں پانی سے بھری ایک جھیل اب بھی مٹی اور ملبے کی رکاوٹ کے باعث بند ہے۔ اگر یہ رکاوٹ ٹوٹتی ہے تو مزید سیلاب آ سکتا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

    قدرتی آفت کے بعد بین الاقوامی امداد بھی شروع ہو گئی ہے۔ امریکا نے 5 لاکھ ڈالر کی امداد دینے اور ایک ڈیزاسٹر رسپانس مشیر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی متاثرہ نیپالی آبادیوں کے لیے امدادی سامان اور عملہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے بھی اپنے شہریوں کی صورتحال پر نظر رکھنے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔

    نیپال کے متاثرہ علاقوں میں صورتحال بدستور انتہائی سنگین ہے۔ رائٹرز کے مطابق سیلاب سے کئی بستیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں موجود لوگوں کے عزیز اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی معلومات کے لیے فوجی مراکز کے باہر جمع ہو رہے ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ہے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک صحت کارکن، تولا بہادر بی کے، نے رائٹرز کو بتایا کہ دریا کے کنارے آبادیاں مکمل طور پر بہہ گئی ہیں اور ان کے اپنے پانچ رشتہ دار بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق جہاں پہلے گھر اور بستیاں موجود تھیں، وہاں اب بڑے پیمانے پر تباہی نظر آ رہی ہے۔

    امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام کی سب سے بڑی ترجیح لاپتہ افراد کو تلاش کرنا، زندہ بچ جانے والوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا اور متاثرہ لوگوں کو خوراک، پانی اور پناہ فراہم کرنا ہے۔ تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقہ، تباہ شدہ سڑکیں اور مزید سیلاب کے خدشات امدادی کاموں کے لیے مسلسل بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

  • روزگار کی محرومی سے موسمیاتی نقل مکانی: ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے متاثرین دیہاڑی دار مزدور کیوں؟

    روزگار کی محرومی سے موسمیاتی نقل مکانی: ماحولیاتی تبدیلی کے سب سے بڑے متاثرین دیہاڑی دار مزدور کیوں؟

    2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان میں لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، لیکن ہر متاثرہ شخص کی کہانی ایک جیسی نہیں تھی۔ کسی نے اپنی فصل کھوئی، کسی کا گھر بہہ گیا، مگر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے سب سے پہلے اپنی روزی روٹی کھوئی۔ جب روزگار ختم ہوا تو گھر چھوڑنا اس کی مجبوری بن گیا۔

    ایک بین الاقوامی تحقیق نے اس حقیقت کو اعداد و شمار اور زمینی شواہد کی بنیاد پر واضح کیا ہے کہ موسمیاتی آفات کا سب سے بڑا بوجھ دیہاڑی دار مزدوروں، کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں، ریڑھی بانوں، چھوٹے دکانداروں اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ محنت کشوں پر پڑتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی روزانہ کی کمائی سے چلتی ہے۔ اگر ایک دن کام نہ ملے تو چولہا نہیں جلتا، اور جب کئی ہفتوں یا مہینوں تک روزگار ختم ہو جائے تو نقل مکانی ہی آخری راستہ رہ جاتا ہے۔

    انٹرنیشنل جرنل آف سوشل کوالٹی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کو فاریہ ہشمت، ٹونی بریڈلی، ڈاکٹر احمد نواز اور اسد غالب نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ محققین نے سندھ کے ضلع مٹیاری کی تحصیل سعید آباد میں 2022 کے سیلاب سے متاثر ہونے والے 121 خاندانوں کا تفصیلی سروے کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کچھ خاندان اپنے گھروں میں کیوں رہ سکے جبکہ دوسرے نقل مکانی پر کیوں مجبور ہوئے۔

    تحقیق کے مطابق سیلاب کے بعد سب سے زیادہ مشکلات ان افراد کو پیش آئیں جن کا روزگار غیر رسمی معیشت سے وابستہ تھا۔ دیہاڑی دار مزدور، زرعی مزدور، ریڑھی بان، چھوٹے دکاندار اور معمولی کاروبار کرنے والے افراد روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ جب سیلاب آیا تو سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، بازار بند ہوگئے، کھیت تباہ ہوگئے، نقل و حمل رک گئی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں محنت کشوں کی آمدنی ایک ہی دن میں ختم ہو گئی۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان خاندانوں کے پاس نہ تو کوئی قابل ذکر بچت موجود تھی، نہ زمین یا جائیداد جیسا اثاثہ، اور نہ ہی کوئی دوسرا ذریعہ معاش تھا جس سے وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتے۔ کئی خاندانوں نے چند ہفتے رشتہ داروں یا پڑوسیوں کے سہارے گزارے، لیکن جب یہ سہارا بھی ختم ہونے لگا تو انہیں اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر دوسرے شہروں یا دیہات کا رخ کرنا پڑا۔

    محققین فاریہ ہشمت کہنا ہے کہ ایسے خاندان صرف مالی طور پر ہی کمزور نہیں تھے بلکہ ان کے سماجی اور سیاسی روابط بھی محدود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سرکاری امداد، بحالی کے منصوبوں اور دیگر سہولتوں تک بروقت رسائی حاصل نہ کر سکے۔ امدادی سامان کی تقسیم ہو یا مالی معاونت، کمزور سماجی حیثیت رکھنے والے خاندان اکثر اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔

    اس کے برعکس، جن خاندانوں کے پاس زمین، مویشی، کچھ بچت یا مقامی سطح پر مضبوط سماجی روابط موجود تھے، وہ بحران سے نسبتاً بہتر انداز میں نمٹنے میں کامیاب رہے۔ ایسے خاندانوں کو رشتہ داروں، برادری، مقامی رہنماؤں اور سماجی نیٹ ورک سے مدد ملی، جس کے باعث وہ اپنے گھروں میں رہ سکے یا جلد بحالی کی طرف لوٹ آئے۔

    تحقیق میں شامل 121 خاندانوں میں سے 95 خاندان سیلاب کے بعد اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے، جبکہ صرف 26 خاندان اپنے علاقوں میں رہنے میں کامیاب رہے۔ محققین نے اگست 2023 میں ان خاندانوں کا سروے کیا اور ان کی معاشی، سماجی اور ذاتی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022 کے سیلاب نے تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد کو متاثر کیا جبکہ قریب 80 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ اس قدرتی آفت میں 1700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں ایک تہائی بچے تھے۔ سندھ اس تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ثابت ہوا، جہاں کئی اضلاع میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2022 کے سیلاب سے پاکستان کو تقریباً 14.9 ارب امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا جبکہ معاشی نقصانات کا تخمینہ 15.2 ارب ڈالر لگایا گیا۔ بحالی اور تعمیر نو کے لیے کم از کم 16.3 ارب ڈالر درکار تھے، تاہم ہر خاندان کو یکساں نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی سب کی بحالی کی ضروریات ایک جیسی تھیں۔

    محققین نے اس تحقیق میں ایک اہم نکتہ سامنے رکھا ہے کہ صرف پیسہ ہی کسی خاندان کو محفوظ نہیں بناتا۔ بعض اوقات مضبوط سماجی تعلقات، برادری کا تعاون، پڑوسیوں کی مدد، مقامی قیادت سے روابط اور بروقت معلومات مالی وسائل سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوتے ہیں۔ جن خاندانوں کے سماجی روابط مضبوط تھے، ان کے بے گھر ہونے کے امکانات نمایاں طور پر کم رہے۔

    محقق فاریہ نے بتایا کہ تحقیق کے دوران خاندانوں کو ان کی صلاحیتوں کی بنیاد پر چار مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروہ ان انتہائی کمزور خاندانوں پر مشتمل تھا جو محدود وسائل کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ دوسرا گروہ ان خاندانوں کا تھا جو کم وسائل کے باوجود اپنے علاقوں میں رہنے میں کامیاب رہے۔ تیسرے گروہ میں وہ خاندان شامل تھے جنہوں نے بہتر وسائل کی بدولت حالات سے مطابقت پیدا کر لی، جبکہ چوتھے گروہ میں ایسے نسبتاً باوسائل خاندان تھے جنہوں نے مستقبل میں بہتر زندگی کے امکانات کے لیے رضاکارانہ طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق 49 خاندان انتہائی کمزور ثابت ہوئے اور بے گھر ہوگئے۔ 11 خاندان محدود وسائل کے باوجود اپنے گھروں میں قائم رہے۔ 15 خاندان بہتر وسائل کی بدولت اپنے علاقوں میں محفوظ رہے، جبکہ 46 خاندانوں نے اپنی مرضی سے نقل مکانی کی۔

    تحقیق میں ایسے باوسائل خاندانوں کو "گیٹ کیپر خاندان” کا نام دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ وہ خاندان ہیں جن کے مقامی سیاسی، سماجی اور انتظامی حلقوں سے مضبوط روابط ہوتے ہیں۔ یہی روابط انہیں بحران کے دوران بہتر فیصلے کرنے، وسائل تک رسائی حاصل کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت ایسے خاندانوں کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی کا حصہ بنائے تاکہ وہ کمزور خاندانوں تک امداد، معلومات اور سرکاری سہولتوں کی فراہمی میں پل کا کردار ادا کر سکیں۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ زیادہ عمر کے سربراہان والے خاندان نسبتاً زیادہ بے گھر ہوئے، جبکہ تعلیم یافتہ افراد کے خاندان بحران کا بہتر مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اسی طرح بڑے خاندان زیادہ معاشی دباؤ کا شکار ہوئے کیونکہ ان کی ضروریات بھی زیادہ تھیں۔ کسان خاندان اپنی زمین سے وابستگی کی وجہ سے مزدور خاندانوں کے مقابلے میں کم نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ زمین سے محروم محنت کش سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف امدادی رقوم تقسیم کرنا کافی نہیں۔ اگر مقامی برادریوں کو پہلے سے منظم کیا جائے، دیہات میں سماجی تعاون کو فروغ دیا جائے، مقامی تنظیموں کو مضبوط بنایا جائے، لوگوں کو تربیت دی جائے اور معلومات تک ان کی رسائی بہتر بنائی جائے تو مستقبل میں قدرتی آفات کے نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

    تحقیق میں حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں اور مقامی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی میں مقامی کمیونٹی کو مرکزی حیثیت دیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ روزگار، غربت، سماجی انصاف اور انسانی بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ جب سیلاب آتا ہے تو صرف دریا ہی نہیں بہتے، بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی، عزت اور مستقبل بھی اس کی زد میں آ جاتا ہے۔ اسی لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی ہر پالیسی میں سب سے پہلے ان لوگوں کو سامنے رکھنا ہوگا جن کے پاس کھونے کے لیے صرف اپنا روزگار ہوتا ہے۔

  • ماحولیاتی تبدیلی: شدید سیلابوں کے باعث پاکستان میں 2010 سے اب تک تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر: این ڈی ایم اے

    ماحولیاتی تبدیلی: شدید سیلابوں کے باعث پاکستان میں 2010 سے اب تک تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر: این ڈی ایم اے

    ملک میں قدرتی اور انسانی ساختہ آفات کی تیاری، بچاؤ، امدادی کارروائیوں اور بحالی کے اقدامات کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار پاکستان کے وفاقی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حالیہ رپورٹ کے مطابق 2010  سے اب تک پاکستان میں آنے والے بڑے سیلابوں سے تقریباً چھ کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر یا بے گھر ہو چکے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان میں جاری کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2010 کے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 2 کروڑ افراد متاثر یا بے گھر ہوئے۔ اس کے بعد 2011، 2012، 2014 اور 2015 کے سیلابوں سے مجموعی طور پر مزید ایک کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ 2022 کے تاریخی سیلاب نے اکیلے ہی تقریباً تین کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ان تمام بڑے سیلابوں کو ملا کر 2010 سے اب تک تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر یا بے گھر ہو چکے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ میں قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی آبادی کے لحاظ سے ایک غیر معمولی تعداد ہے۔

     یہ اعداد و شمار ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں درپیش بڑھتے ہوئے خطرات اور مؤثر سیلابی تحفظ، آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی موافقت کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں مون سون کی بارشیں زرعی معیشت، آبی وسائل اور روزمرہ زندگی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ہر سال جون سے ستمبر کے دوران ہونے والی بارشیں دریاؤں، ڈیموں اور زیرزمین پانی کے ذخائر کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم جب یہ بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہو جائیں تو یہی نعمت ایک بڑے قدرتی بحران میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

     گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں مون سون کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ اسی بڑے پیمانے پر ہونے والی اس نقل مکانی کو ‘مون سون سیلابی نقل مکانی’ کہا جاتا ہے۔

    پاکستان میں دریائے سندھ کا وسیع آبی نظام شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا ہے، جس میں متعدد معاون دریا شامل ہیں۔ شدید مون سون بارشوں کے دوران جب ان دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے تو نشیبی علاقے زیر آب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    اس صورتحال میں نہ صرف زرعی زمینیں تباہ ہوتی ہیں بلکہ ہزاروں دیہات اور بستیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

    سن 2010 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ غیر معمولی مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں شدید طغیانی آئی، جس سے خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے وسیع علاقے زیر آب آ گئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سیلاب سے تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً دو ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    لاکھوں گھر تباہ ہوئے اور کروڑوں ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچا۔

    سن 2022 میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر تاریخ کے شدید ترین مون سون سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال ملک میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

    سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد اس آفت سے متاثر ہوئے، سولہ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور تقریباً اسی لاکھ افراد عارضی طور پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں مکانات، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں، سینکڑوں پل، تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

    شدید سیلاب کے دوران سب سے زیادہ نقصان دیہی آبادی کو پہنچتا ہے۔ جب پانی دیہات، فصلوں اور گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تو لوگ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات، سرکاری پناہ گاہوں یا شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ بہت سے خاندان مہینوں تک عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور رہتے ہیں کیونکہ ان کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہوتے ہیں۔

    سیلاب صرف گھروں کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ زرعی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ کپاس، چاول، گندم، سبزیاں اور دیگر فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، جبکہ مویشیوں کی بڑی تعداد بھی ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں کسان اپنی آمدنی سے محروم ہو جاتے ہیں اور انہیں روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    سیلاب کے بعد صحت کے مسائل بھی شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ آلودہ پانی کے باعث ہیضہ، اسہال، ملیریا، ڈینگی اور جلدی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور غذائی قلت متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے، جبکہ خواتین، بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے مون سون بارشوں کے انداز کو مزید غیر متوازن بنا دیا ہے۔ عالمی حدت کے باعث فضا میں نمی کی مقدار بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں مختصر وقت میں انتہائی شدید بارشیں ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

    مون سون کے باعث ہونے والی نقل مکانی صرف ایک عارضی انسانی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے طویل المدتی سماجی اور معاشی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنے آبائی علاقوں میں واپس نہیں جا پاتے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، غربت میں اضافہ ہوتا ہے اور شہری علاقوں پر آبادی کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    اس طرح ایک قدرتی آفت آہستہ آہستہ معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

    اقوام متحدہ، عالمی بینک اور پاکستان کے قومی اداروں کے مطابق سن 2022 کے سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچا۔ مختلف جائزوں کے مطابق لاکھوں افراد کئی ماہ تک بے گھر رہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی میں کئی سال لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی آفات سے بچنے کے لیے سیلاب سے قبل مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط حفاظتی بند، بہتر نکاسی آب، جدید موسمی پیش گوئی، دریا کے قدرتی بہاؤ کا تحفظ، ماحول دوست ترقیاتی منصوبے اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندانوں کی بروقت بحالی، محفوظ رہائش، روزگار کی فراہمی اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی قومی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔

    مون سون کی تباہ کن سیلابی آفات کے باعث ہونے والی نقل مکانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ انسانی زندگی، معیشت، خوراک، تعلیم اور سماجی استحکام کو بھی براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔

    پاکستان میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی اختیار کرنا نہ صرف لاکھوں شہریوں کے تحفظ بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔