پرتگال میں نیا ’برقعہ قانون‘: عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی، جرمانہ تین ہزار یورو تک

پرتگال میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے سے متعلق نیا قانون نافذ ہوگیا ہے، جسے مقامی ذرائع ابلاغ نے ’برقعہ قانون‘ کا نام دیا ہے۔ پرتگال کے صدر انتونیو جوزے سیگورو نے 18 اگست 2026 کو پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کی توثیق کردی۔ یہ قانون کسی مخصوص مذہب کا نام لیے بغیر ایسے لباس یا اشیا کے ذریعے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے سے روکتا ہے جن کا مقصد چہرے کو ڈھانپنا یا کسی شخص کی شناخت مشکل بنانا ہو۔

یہ قانون پرتگالی پارلیمنٹ نے 17 جولائی 2026 کو حتمی ووٹنگ میں منظور کیا تھا۔ اس کے حق میں حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، انتہائی دائیں بازو کی چیگا، انیشی ایٹو فار لبرل انیشی ایٹو اور ڈیموکریٹک اینڈ سوشل سینٹر نے ووٹ دیا، جبکہ سوشلسٹ پارٹی، لیفٹ بلاک، پرتگالی کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں نے مخالفت کی۔ پین جماعت نے ووٹنگ میں غیر جانب داری اختیار کی۔

اس قانون کا پس منظر بھی اہم ہے۔ اس کی ابتدائی تجویز انتہائی دائیں بازو کی جماعت چیگا کے ارکان پارلیمنٹ نے جون 2025 میں پیش کی تھی۔ اس تجویز کا مقصد عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے والے لباس پر پابندی عائد کرنا تھا۔ بعد میں پارلیمانی کارروائی کے دوران قانون کے متن میں تبدیلیاں کی گئیں اور حتمی قانون میں مذہب کا براہ راست حوالہ ختم کردیا گیا۔ اس کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اس کا سب سے زیادہ اثر ان مسلمان خواتین پر پڑ سکتا ہے جو نقاب یا ایسا لباس استعمال کرتی ہیں جس سے پورا چہرہ ڈھک جاتا ہے۔

قانون کے تحت عوامی مقامات پر ایسے کپڑے یا دیگر اشیا استعمال کرنے کی ممانعت ہے جن کا مقصد چہرہ چھپانا یا چہرے کی شناخت میں رکاوٹ ڈالنا ہو۔ تاہم قانون صرف چہرہ چھپانے تک محدود نہیں۔ اس میں کسی شخص کو جنس، مذہب، عمر یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر اپنا چہرہ چھپانے پر مجبور کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ شق قانون کے حتمی متن میں شامل کی گئی اور ابتدائی مسودے میں موجود نہیں تھی۔

قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے کی دو سطحیں مقرر کی گئی ہیں۔ غفلت کی صورت میں 150 سے 750 یورو تک جرمانہ ہوسکتا ہے، جبکہ جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ 400 سے 3 ہزار یورو تک ہوسکتا ہے۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ جرمانہ تقریباً 3 ہزار یورو بنتا ہے۔

قانون میں کئی اہم استثنیٰ بھی موجود ہیں۔ صحت سے متعلق ضرورت، پیشہ ورانہ کام، فنون لطیفہ، تفریح یا تشہیر کی وجوہات کی بنا پر چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح موسمی حالات یا حفاظتی ضرورت کی صورت میں بھی پابندی لاگو نہیں ہوگی۔ ہوائی جہازوں، سفارتی اور قونصلر عمارتوں، عبادت گاہوں اور دیگر مقدس مقامات کو بھی قانون کے دائرے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

صدر انتونیو جوزے سیگورو نے قانون کی منظوری دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ یہ ایک انتہائی حساس سماجی اور ثقافتی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں مختلف حقوق اور ذمہ داریوں کے درمیان متوازن حد مقرر کرنا آسان نہیں۔ تاہم انہوں نے سماجی انضمام، صنفی عدم امتیاز اور عوامی سلامتی سے متعلق دلائل اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے سابقہ فیصلوں کو قانون کی منظوری کی بنیاد قرار دیا۔

صدر کے مطابق چہرہ انسانی شناخت اور باہمی رابطے کا ایک مرکزی عنصر ہے۔ قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ عوامی مقامات پر چہرے کی شناخت ممکن ہونا سماجی اعتماد، باہمی رابطے اور بعض حالات میں سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے نزدیک یہ قانون کسی خاص مذہب کے خلاف نہیں بلکہ عوامی مقامات پر شناخت سے متعلق ایک عمومی اصول قائم کرتا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قانون کی شدید مخالفت کی ہے۔ تنظیم نے جولائی 2026 میں کہا کہ اگرچہ حتمی قانون میں اسلام کا براہ راست حوالہ ختم کردیا گیا ہے، لیکن اس کا عملی اثر خاص طور پر ان مسلمان خواتین پر پڑے گا جو اپنی مرضی سے مکمل چہرے کا نقاب استعمال کرتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کی پابندی مذہبی آزادی اور اظہار رائے کے حقوق کو متاثر کرسکتی ہے اور ایسی خواتین کے لیے تعلیم، روزگار، سرکاری خدمات اور عوامی زندگی تک رسائی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔

اس بحث میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ پرتگال میں مکمل چہرہ ڈھانپنے والے لباس کا استعمال پہلے ہی بہت محدود ہے۔ اس لیے قانون کے ناقدین کا سوال یہ ہے کہ اگر ایسے لباس پہننے والوں کی تعداد کم ہے تو اس پابندی کی عملی ضرورت کتنی ہے، جبکہ قانون کے حامی اسے ایک وسیع تر اصول کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا تعلق شناخت اور عوامی مقامات پر چہرے کی نمائش سے ہے۔

پرتگال کا فیصلہ یورپ میں چہرہ ڈھانپنے والے لباس کے بارے میں جاری ایک وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔ فرانس، بیلجیم، ڈنمارک اور آسٹریا سمیت کئی یورپی ممالک پہلے ہی عوامی مقامات پر مکمل یا جزوی طور پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ تاہم ہر ملک کے قانون کی حدود، استثنیٰ اور جرمانے مختلف ہیں۔

پرتگال کے معاملے میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ حتمی قانون میں کسی مذہبی لباس کا نام نہیں لیا گیا۔ قانونی طور پر پابندی چہرہ چھپانے کے عمل پر ہے، نہ کہ برقعہ یا نقاب کے نام پر۔ لیکن چونکہ مکمل چہرہ ڈھانپنے والا لباس بعض مسلمان خواتین کے مذہبی یا ثقافتی لباس کا حصہ ہے، اس لیے قانون کی منظوری کے ساتھ ہی مذہبی آزادی اور خواتین کے لباس کے انتخاب کا سوال بھی مرکزی بحث بن گیا ہے۔

یہ تنازع بنیادی طور پر دو مختلف تصورات کے درمیان توازن کا سوال بن چکا ہے۔ ایک طرف ریاست کا مؤقف ہے کہ عوامی مقامات پر شناخت، سماجی رابطے، صنفی مساوات اور سلامتی کو یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کسی بالغ فرد کو اپنے لباس کے انتخاب سے روکنا شخصی، مذہبی اور ثقافتی آزادی میں مداخلت ہوسکتا ہے۔

یوں پرتگال کا نیا قانون صرف چہرہ ڈھانپنے کے لباس سے متعلق قانون نہیں رہا بلکہ اس نے یورپ میں مذہبی آزادی، خواتین کے لباس، ریاستی اختیار، شخصی آزادی اور عوامی سلامتی کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس قانون کی اصل آزمائش اب اس کے عملی نفاذ میں ہوگی کہ ریاست چہرے کی شناخت اور عوامی سلامتی کے مقصد کو کس طرح یقینی بناتی ہے اور ساتھ ہی ان شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیسے کرتی ہے جو مذہبی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے لباس کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں: