[rank_math_breadcrumb]

ریسکیو 1122: سندھ میں ہنگامی خدمات کا نیا نظام کام کیسے کرتا ہے؟

ایک حادثہ، ایک زخمی اور زندگی اور موت کے درمیان صرف چند لمحے۔ ایسے وقت میں ایک ایمبولینس صرف گاڑی نہیں ہوتی، بلکہ زخمی شخص کو بروقت طبی امداد اور ہسپتال تک پہنچانے کا راستہ ہوتی ہے۔

2021 میں اپنے آغاز سے اب تک سندھ ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروس، ریسکیو 1122، سوا لاکھ سے زیادہ سڑک حادثات کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر چکی ہے، جبکہ لاکھوں مریضوں کو گھروں سے ہسپتال پہنچایا جا چکا ہے۔ کشمور سے کراچی اور لاڑکانہ سے مٹھی تک، یہ سروس سندھ میں ہنگامی طبی امداد کے ایک اہم نظام کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ریسکیو 1122 کو اب مزید وسعت دینے اور جدید بنانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ اس میں ایمبولینس کے رسپانس ٹائم کو کم کرنا، تحصیلوں اور دیہی علاقوں تک سروس کو توسیع دینا اور انڈس ہائی وے، نیشنل ہائی وے اور موٹرویز پر ریسکیو اسٹیشنز اور ٹراما سینٹرز قائم کرنا شامل ہے۔

بڑے شہروں کی تنگ گلیوں اور ایسے علاقوں جہاں ایمبولینس کی فوری رسائی مشکل ہوتی ہے، وہاں بروقت طبی امداد پہنچانے کے لیے بائیک ریسکیو سروس بھی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ہنگامی صورتحال میں ابتدائی طبی امداد کے وقت کو کم کرنا اور مریض تک امداد جلد پہنچانا ہے۔

اس کے ساتھ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ سمیت سندھ کے تمام ڈویژنوں میں جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ ایمرجنسی کال سے لے کر ریسکیو ٹیم کی روانگی اور جائے وقوعہ تک رسائی کے پورے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

ریسکیو اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مستقل ریسکیو اکیڈمی کا قیام بھی اس توسیعی منصوبے کا حصہ ہے۔ خواتین کو بھی ریسکیو سروس کا حصہ بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ اس شعبے میں خواتین کی شمولیت کو بڑھایا جا سکے۔

سندھ جیسے وسیع صوبے میں، جہاں آبادی مختلف شہروں، قصبوں اور دور دراز دیہی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، ہنگامی سروس کے لیے سب سے بڑا چیلنج بروقت رسپانس ہے۔ ایک حادثے میں چند منٹ کی تاخیر بھی زخمی کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ریسکیو 1122 کی توسیع صرف ایمبولینسوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے ایمرجنسی رسپانس نظام کو زیادہ تیز، مربوط اور جدید بنانے کی کوشش ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ سندھ میں ریسکیو 1122 کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا نئے ریسکیو اسٹیشنز، بائیک ریسکیو، جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور بہتر تربیت سندھ کے شہریوں کو مزید تیز اور مؤثر ہنگامی خدمات فراہم کر سکیں گے؟ اور ایک ایسے صوبے میں جہاں فاصلے بہت زیادہ ہیں، ہر شہری تک بروقت ایمرجنسی سروس کیسے پہنچائی جائے گی؟

ان تمام سوالات کے جواب سندھ ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروس، ریسکیو 1122 کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لطف علی منگریو کے انٹرویو سے جانتے ہیں۔

اسی بارے میں: