Tag: ایمبولینس سروس

  • میرپورخاص میں مفت 1122 ایمبولینس سروس، حادثات اور طبی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کے لیے اہم سہارا

    میرپورخاص میں مفت 1122 ایمبولینس سروس، حادثات اور طبی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کے لیے اہم سہارا

    میرپورخاص میں کسی حادثے، اچانک طبی ہنگامی صورتحال یا شدید بیمار مریض کو فوری طبی امداد اور ہسپتال منتقل کرنے کے لیے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ سرکاری ایمرجنسی سروس کے تحت شہریوں کو ہنگامی حالات میں مفت ایمبولینس اور ابتدائی طبی امداد کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    میرپورخاص میں یہ سروس 2023 سے فعال ہے اور ضلع میں 16 ایمبولینسیں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن ہنگامی خدمات کے لیے دستیاب ہیں۔ ایمبولینسیں میرپورخاص شہر کے علاوہ ضلع کے مختلف علاقوں اور اہم شاہراہوں پر پیش آنے والے حادثات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں خدمات انجام دیتی ہیں۔

    سروس کے مطابق میرپورخاص میں 1122 کے عملے کی تعداد 77 ہے، جن میں 13 خواتین بھی شامل ہیں۔ خواتین اہلکاروں میں ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز بھی شامل ہیں، جو ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والی ٹیم کا حصہ ہوتی ہیں۔

    میرپورخاص کی جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر ایمبولینسوں کی تعیناتی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ شہر سے حیدرآباد، میرواہ، مٹھی، ڈگری، عمرکوٹ، سانگھڑ اور ٹنڈو آدم کی جانب جانے والی شاہراہوں پر ٹریفک کی آمدورفت رہتی ہے اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

    1122 کی خدمات صرف مریض کو جائے حادثہ سے ہسپتال منتقل کرنے تک محدود نہیں۔ ایمبولینسوں میں موجود تربیت یافتہ طبی عملہ دوران سفر مریض کی حالت کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ابتدائی طبی امداد فراہم کرتا ہے۔ سروس کے مطابق بعض ایمبولینسوں میں وینٹی لیٹر سمیت زندگی بچانے والے طبی آلات موجود ہیں، جبکہ نومولود اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی منتقلی کے لیے بعض ایمبولینسوں میں انکیوبیٹر کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

    میرپورخاص جیسے ضلع میں ہسپتالوں میں دستیاب طبی سہولیات کی نوعیت مختلف ہونے کے باعث بعض پیچیدہ کیسز کو مزید بہتر علاج کے لیے دوسرے شہروں کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مریضوں کی ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال تک مفت منتقلی بھی 1122 کی اہم خدمات میں شامل ہے۔

    سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز 1122 کے مطابق صوبے کے 30 اضلاع میں 627 سے زائد ایمبولینسیں 24 گھنٹے ہنگامی خدمات فراہم کر رہی ہیں، جن میں میرپورخاص بھی شامل ہے۔

    1122 میرپورخاص کے انچارج احمد علی کے مطابق ضلع میں موصول ہونے والی ہنگامی کالز میں سڑکوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات اور مریضوں کی ہسپتال سے ہسپتال منتقلی کے کیسز نمایاں ہیں۔ ان کے مطابق نجی ایمبولینس کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے خاندانوں کے لیے 1122 کی مفت سروس خاص طور پر اہم سہولت ہے۔

    میرپورخاص میں 1122 کا یہ نظام ایسے وقت میں شہریوں کو فوری طبی رسائی فراہم کرتا ہے جب چند منٹوں کی تاخیر بھی مریض کی حالت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایمبولینس، تربیت یافتہ عملے اور دوران سفر ابتدائی طبی امداد کی سہولت کے باعث یہ سروس ضلع کے ہنگامی طبی نظام کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

  • ارم جٹ، سندھ کی ان خواتین میں شامل جو ایمبولینس چلا کر ہنگامی خدمات فراہم کر رہی ہیں

    ارم جٹ، سندھ کی ان خواتین میں شامل جو ایمبولینس چلا کر ہنگامی خدمات فراہم کر رہی ہیں

    سندھ کے دور دراز علاقوں میں کسی مریض کو بروقت اسپتال پہنچانا کئی خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، خصوصاً حادثے یا اچانک طبی ہنگامی صورتحال میں، جب چند منٹ بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔

    ایسے حالات میں سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز، یعنی ایس آئی ای ایچ ایس، کی 1122 ایمبولینس سروس اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی سروس سے وابستہ ارم جٹ سندھ کی ان خواتین میں شامل ہیں جو ایمبولینس چلا کر ہنگامی طبی خدمات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ارم جٹ ایس آئی ای ایچ ایس کی 1122 ایمبولینس سروس کے عمرکوٹ مرکز میں بطور ایمبولینس ڈرائیور خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ سروس سندھ حکومت کی معاونت سے کام کرنے والا غیر منافع بخش ادارہ ہے، جو صوبے کے تمام 30 اضلاع میں 24 گھنٹے مفت ہنگامی ایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے۔

    سندھ کے کئی دور دراز علاقوں میں اسپتال تک رسائی کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ حادثات، اچانک بیماری یا کسی دوسری طبی ہنگامی صورتحال میں یہ فاصلہ مریض اور اس کے اہل خانہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ایمبولینس سروس کا بروقت پہنچنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

    ایس آئی ای ایچ ایس کے مطابق 1122 ایمبولینسوں میں تربیت یافتہ طبی عملہ اور ہنگامی طبی آلات موجود ہوتے ہیں، جن کی مدد سے مریض کو اسپتال پہنچانے سے پہلے ابتدائی طبی امداد اور ضروری ہنگامی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔

    اس سروس کا ایک اہم پہلو خواتین کی شمولیت بھی ہے۔ ارم جٹ ان ہی خواتین میں شامل ہیں جو عمرکوٹ کے دیہی اور دشوار گزار علاقوں میں ایمبولینس چلا کر ضرورت مند مریضوں تک ہنگامی طبی مدد پہنچانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔

    ایمبولینس ڈرائیور کی ذمہ داری صرف گاڑی چلانے تک محدود نہیں ہوتی۔ ہنگامی صورتحال میں مریض تک بروقت پہنچنا، اسے محفوظ طریقے سے طبی مرکز منتقل کرنا اور راستے میں طبی عملے کے ساتھ تعاون کرنا اس ذمہ داری کا حصہ ہے۔

    بطور خاتون ایمبولینس ڈرائیور ارم جٹ کو مقامی لوگوں کی جانب سے ملنے والے ردعمل پر بھی خوشی ہے۔ ان کا کام اس بات کی مثال ہے کہ خواتین ہنگامی طبی خدمات جیسے شعبے میں بھی اہم ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں اور مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کر سکتی ہیں۔

    سندھ جیسے صوبے میں، جہاں شہری مراکز سے دور علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی ایک اہم مسئلہ ہے، مفت اور 24 گھنٹے دستیاب ایمبولینس سروس کئی خاندانوں کے لیے بروقت طبی مدد کا ذریعہ بنتی ہے۔

    ارم جٹ اسی نظام کا حصہ ہیں اور عمرکوٹ میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ان لوگوں تک پہنچ رہی ہیں جنہیں ہنگامی صورتحال میں فوری طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • ریسکیو 1122: سندھ میں ہنگامی خدمات کا نیا نظام کام کیسے کرتا ہے؟

    ریسکیو 1122: سندھ میں ہنگامی خدمات کا نیا نظام کام کیسے کرتا ہے؟

    ایک حادثہ، ایک زخمی اور زندگی اور موت کے درمیان صرف چند لمحے۔ ایسے وقت میں ایک ایمبولینس صرف گاڑی نہیں ہوتی، بلکہ زخمی شخص کو بروقت طبی امداد اور ہسپتال تک پہنچانے کا راستہ ہوتی ہے۔

    2021 میں اپنے آغاز سے اب تک سندھ ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروس، ریسکیو 1122، سوا لاکھ سے زیادہ سڑک حادثات کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر چکی ہے، جبکہ لاکھوں مریضوں کو گھروں سے ہسپتال پہنچایا جا چکا ہے۔ کشمور سے کراچی اور لاڑکانہ سے مٹھی تک، یہ سروس سندھ میں ہنگامی طبی امداد کے ایک اہم نظام کے طور پر سامنے آئی ہے۔

    ریسکیو 1122 کو اب مزید وسعت دینے اور جدید بنانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ اس میں ایمبولینس کے رسپانس ٹائم کو کم کرنا، تحصیلوں اور دیہی علاقوں تک سروس کو توسیع دینا اور انڈس ہائی وے، نیشنل ہائی وے اور موٹرویز پر ریسکیو اسٹیشنز اور ٹراما سینٹرز قائم کرنا شامل ہے۔

    بڑے شہروں کی تنگ گلیوں اور ایسے علاقوں جہاں ایمبولینس کی فوری رسائی مشکل ہوتی ہے، وہاں بروقت طبی امداد پہنچانے کے لیے بائیک ریسکیو سروس بھی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ہنگامی صورتحال میں ابتدائی طبی امداد کے وقت کو کم کرنا اور مریض تک امداد جلد پہنچانا ہے۔

    اس کے ساتھ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ سمیت سندھ کے تمام ڈویژنوں میں جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ ایمرجنسی کال سے لے کر ریسکیو ٹیم کی روانگی اور جائے وقوعہ تک رسائی کے پورے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

    ریسکیو اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مستقل ریسکیو اکیڈمی کا قیام بھی اس توسیعی منصوبے کا حصہ ہے۔ خواتین کو بھی ریسکیو سروس کا حصہ بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ اس شعبے میں خواتین کی شمولیت کو بڑھایا جا سکے۔

    سندھ جیسے وسیع صوبے میں، جہاں آبادی مختلف شہروں، قصبوں اور دور دراز دیہی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، ہنگامی سروس کے لیے سب سے بڑا چیلنج بروقت رسپانس ہے۔ ایک حادثے میں چند منٹ کی تاخیر بھی زخمی کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ریسکیو 1122 کی توسیع صرف ایمبولینسوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے ایمرجنسی رسپانس نظام کو زیادہ تیز، مربوط اور جدید بنانے کی کوشش ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ سندھ میں ریسکیو 1122 کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا نئے ریسکیو اسٹیشنز، بائیک ریسکیو، جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور بہتر تربیت سندھ کے شہریوں کو مزید تیز اور مؤثر ہنگامی خدمات فراہم کر سکیں گے؟ اور ایک ایسے صوبے میں جہاں فاصلے بہت زیادہ ہیں، ہر شہری تک بروقت ایمرجنسی سروس کیسے پہنچائی جائے گی؟

    ان تمام سوالات کے جواب سندھ ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروس، ریسکیو 1122 کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لطف علی منگریو کے انٹرویو سے جانتے ہیں۔