کھارادر سے خیرآباد تک: کراچی کے ایرانی کیفے، بہائی ہجرت اور ایک مٹتے ہوئے کلچر کی داستان

بین الاقوامی تعلقات اور جیو پولیٹکس کے طالب علم جب بھی ہجرت کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ان کی نظریں اکثر بڑی جنگوں اور سیاسی نقشوں کی تبدیلی پر ٹک جاتی ہیں۔

لیکن تاریخ کا ایک تلخ سچ یہ بھی ہے کہ نظریاتی، مذہبی اور نسلی تعصبات نے ہمیشہ امن پسند برادریوں کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے نتیجے میں ایسے ثقافتی گلدستے جنم لے جو صدیوں تک نئے شہروں کی پہچان بنے رہے۔ برصغیر پاک و ہند، اور خاص طور پر روشنیوں کا شہر کراچی، ایسی ہی کئی ہجرتوں کا امین رہا ہے۔

پارسیوں، گوا کے عیسائیوں اور اینگلو انڈینز کی طرح، کراچی کی تاریخ کا ایک انتہائی خوبصورت اور اب مٹتا ہوا باب ‘ایرانی اور بہائی برادری’ کی داستان ہے، جن کے چائے خانوں، بیکریوں اور ہوٹلوں نے ایک دور میں کراچی کے قلب صدر کو رونق بخشی تھی۔



آج جب ہم شاہین کمپلیکس، کینٹ اسٹیشن یا صدر کی سڑکوں سے گزرتے ہیں، تو چند آخری بچ جانے والے ایرانی ہوٹل جیسے ‘خیرآباد’ یا ‘کیفے جارج’ ہمیں اس شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں جو رفتہ رفتہ وقت کی دھول میں گم ہو رہا ہے۔

قاجار سلطنت کا جبر اور بمبئی و کراچی کی طرف ہجرت

اس داستان کا آغاز انیسویں صدی کے وسط میں ایران فارس سے ہوتا ہے۔ قاجار سلطنت کے دور میں جب بابیت اور بعد ازاں بہائی تحریک نے جنم لیا، تو ایرانی مقتدرہ اور روایتی حلقوں کی طرف سے ان کے خلاف ایک خونی کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ اس جبر کا عروج 1852 میں ایران کی مشہور شاعرہ، عالمہ اور بہائی رہنما قرت العین طاہرہ کا بہیمانہ قتل تھا۔

طاہرہ کے قتل کے بعد قاجاریوں نے بابیوں اور بہائیوں کا بڑے پیمانے پر قتال شروع کر دیا۔ جان بچانے کے لیے ان مظلوم ایرانیوں نے سمندر کا رخ کیا اور برصغیر ہند کے ساحلی شہروں بمبئی، کلکتہ اور کراچی میں پناہ لی۔

یہ لوگ اپنے ساتھ کوئی دولت یا اسلحہ لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ ان کے پاس صرف ان کی محنت، نفاست اور ایرانی ثقافت تھی۔ بمبئی اور بعد ازاں کراچی پہنچ کر ان لوگوں نے برصغیر کے چائے پینے کے کلچر کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

انہوں نے شہر کے اہم ترین چوراہوں پر گراؤنڈ فلور کی دکانیں خریدیں اور ‘ایرانی کیفے، ہوٹل اور بیکریوں’ کا دھندہ شروع کیا۔ ان کے دیکھا دیکھی، ایران کے دوسرے شہروں جیسے یزد، اصفہان اور شیراز سے بھی کئی مسلمان شیعہ خاندان تجارت کی غرض سے کراچی منتقل ہونا شروع ہوئے۔ بیگم نصرت بھٹو بھی ایک شیعہ اصفہانی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

کراچی میں آمد اور صدر کا ‘بہائی کلچر’

کراچی میں ان ایرانیوں کی اولین رہائش گاہ کھارادر اور میٹھادر کے قدیم علاقے بنے، لیکن جیسے جیسے انگریزوں کے دور میں ‘صدر’ اور ‘کینٹ’ کا علاقہ جدید کاروباری مرکز کے طور پر ابھرا، یہ برادری صدر منتقل ہو گئی۔

صدر کی وسیع سڑکیں، اونچی چھتوں والی عمارتیں اور روشن ماحول ان کے کیفے کلچر کے لیے بہترین تھا۔ مزار قائد سے ملحقہ ایک سڑک پر قائم ان کا ‘بہائی ہال’ اس دور میں شہر کی ایک بڑی مشہور اور فعال جگہ تھی، جہاں علمی، ادبی اور مذہبی گفتگو ہوا کرتی تھی۔



یہ ایرانی ہوٹل صرف چائے پینے کی جگہ نہیں تھے، بلکہ یہ کراچی کے فکری اور سماجی ملاپ کے مراکز تھے۔ یہاں کی مشہور کڑک ایرانی چائے، مکھن مسکا، بن کباب، ابلے ہوئے انڈے اور کیک اسکول کے بچوں سے لے کر صحافیوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی پسندیدہ خوراک تھے۔ ان ہوٹلوں کی خاص بات ان کے بڑے آئینے، لکڑی کی گول میزیں، جھکنے والی کرسیاں اور دیواروں پر لگے وہ بورڈ تھے جن پر جلی حروف میں لکھا ہوتا تھا: ‘سیاسی گفتگو کرنا منع ہے’ یا ‘ادھار بند ہے’۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر شاعر، ادیب اور سیاست دان یہاں آکر بیٹھا کرتے اور گفتگو کرتے تھے۔

تقسیم ہند اور یورپ و امریکہ کی طرف پہلا سفر

1947 میں پاکستان بننے کے بعد، کراچی ملکی سیاست اور معیشت کا مرکز بن گیا۔ ایرانی ہوٹلوں کا کاروبار اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ تاہم، ایک اقلیتی برادری ہونے کے ناطے، بہائیوں کے اندر ایک تزویراتی عدم تحفظ موجود تھا۔ 50 اور 60 کی دہائی میں، جب پاکستان نے مغرب کی طرف جھکاؤ اختیار کیا اور ملک میں آہستہ آہستہ مذہبی شدت پسندی کے ابتدائی آثار نظر آنے لگے، تو اس برادری کے کئی کھاتے پیتے اور تعلیم یافتہ خاندانوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے یورپ، کینیڈا اور امریکہ منتقل ہونا شروع کر دیا۔

یہ اس برادری کے کراچی سے انخلا کا پہلا مرحلہ تھا، لیکن اصل دھچکا ابھی آنا باقی تھا۔

1979 کا خمینی انقلاب اور ‘خوف کا سایہ’

ایران میں 1979 کا اسلامی انقلاب نہ صرف تہران کے لیے بلکہ کراچی کے صدر میں بیٹھے ان ایرانیوں کے لیے بھی ایک زلزلہ ثابت ہوا۔ امام خمینی کے انقلاب کے بعد ایران میں بہائیوں کے خلاف دوبارہ سختیاں شروع ہوئیں۔ کراچی میں موجود بہائی ہوٹل مالکان میں ایک شدید خوف کی لہر دوڑ گئی کہ کہیں پاکستان میں موجود سخت گیر مذہبی عناصر یا ایرانی اثر و رسوخ رکھنے والے گروہ انہیں نشانہ نہ بنائیں۔


اس خوف کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ ان لوگوں نے اپنے ہوٹلوں کی دیواروں اور کاؤنٹرز سے تمام روایتی بہائی نشانات اور مذہبی علامات کو مٹا دیا۔ اپنی جان اور مال کے تحفظ کے لیے، انہوں نے مجبوراً اپنے ہوٹلوں کے مرکزی کاؤنٹرز پر امام خمینی اور ایرانی انقلاب کے رہنماؤں کی بڑی تصاویر لگا دیں، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ وہ موجودہ ایرانی حکومت کے وفادار یا ہمدرد ہیں۔

اس دوران، کراچی میں پہلے سے موجود شیعہ ایرانیوں، یا ایران سے آنے والے نئے تاجروں نے ان بہائیوں سے ان کے چلتے ہوئے ہوٹل اور جائیدادیں سستے داموں خریدنا شروع کر دیں، کیونکہ بہائی یہاں سے ہر قیمت پر نکلنا چاہتے تھے۔

70 کا عشرہ اور زوال کی داستان

سن 70 کی دہائی کے بعد، پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات تیزی سے بدلے۔ بھٹو دور کی نیشنلائزیشن، کراچی کے لسانی فسادات، اور بعد ازاں ضیاء الحق کے دور کی اسلامائزیشن نے کراچی کے اس پرامن، لبرل اور کثیر الثقافتی چہرے کو بری طرح مسخ کر دیا جس کے تحت یہ اقلیتیں یہاں پھل پھول رہی تھیں۔

رفتہ رفتہ، ان بچے کچھے ایرانیوں نے بھی اپنا کاروبار بیچنا اور خاندانوں کو ملک سے باہر منتقل کرنا شروع کر دیا۔

آج کراچی کا وہ روایتی ایرانی کیفے کلچر تقریباً دم توڑ چکا ہے۔ صدر کے کثیر منزلہ کمرشل پلازوں، فاسٹ فوڈ چینز اور چائے کے پٹھان ہوٹلوں، ڈھابوں، جن میں صفائی نام کی کوئی چیز نہیں ملتی، نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

لیکن اس مٹتی ہوئی تاریخ کے بیچ، شاہین کمپلیکس اور کینٹ اسٹیشن کے پاس واقع ‘خیرآباد ہوٹل’ آج بھی اپنی پرانی لکڑی کی میزوں، ایرانی چائے کی خوشبو اور مخصوص طرز تعمیر کے ساتھ اس عظیم برادری کی آخری نشانی کے طور پر کھڑا ہے۔


خلاصہ کلام یہ کہ کراچی کے ایرانی اور بہائی کیفے کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ریاستیں اپنے اندرونی گھر کو نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہونے دیتی ہیں، تو سب سے پہلا نقصان ان پرامن اقلیتوں کا ہوتا ہے جو اس شہر کا حسن ہوتی ہیں۔ پارسیوں کی طرح، ایرانی بہائیوں کا کراچی سے جانا اس شہر کے ثقافتی اور معاشی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔ خیرآباد ہوٹل کی دیواریں آج بھی ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اگر ہم نے اپنے داخلی محاذ پر رواداری، امن اور آئینی تحفظ کو یقینی نہ بنایا، تو تاریخ کے یہ خوبصورت رنگ ہمیشہ کے لیے ہجرت کر جائیں گے اور شہر صرف کنکریٹ کا بے جان جنگل بن کر رہ جائے گا۔

اسی بارے میں: