سندھ کے حکمرانوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ: پنجاب نے جلال پور کینال میں آزمائشی طور پر پانی چھوڑ دیا

پنجاب

پنجاب حکومت نے جلال پور کینال میں آزمائشی طور پر پانی چھوڑنے کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ سندھ میں خریف کی فصل کے لیے پانی نایاب ہے۔ پانی کی شدید قلت کے باعث سندھ کے آبادگاروں اور کسانوں کی کاشت کی گئی دھان کی نرسریاں سوکھ رہی ہیں۔ دوسری جانب سندھ کے حکمران بے پرواہ بنے ہوئے ہیں، گویا نیند میں سو رہے ہوں۔

جلال پور کینال کے بارے میں پنجاب کے محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ پنجاب کی آبپاشی کی تاریخ میں جلال پور کینال ایک نیا اور تاریخی باب رقم کرے گا۔ رسول ہیڈ ورکس سے نکلنے والی نیو جلال پور کینال کا کامیاب آزمائشی بہاؤ نہ صرف انجینئرنگ کا ایک شاندار شاہکار ہے بلکہ یہ صوبے کی زرعی خوشحالی اور معاشی خود کفالت کی جانب ایک بڑا قدم بھی ہے۔

جلال پور کینال، جسے سرکاری طور پر جلال پور آبپاشی منصوبہ کہا جاتا ہے، کا تصور دراصل نوآبادیاتی دور میں پیش کیا گیا تھا، لیکن مالی اور فنی وسائل کی کمی کے باعث یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک صرف کاغذوں تک محدود رہا۔ 2010 کی دہائی میں اس منصوبے کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس کے لیے پنجاب حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے 2017 میں نیسپاک (NESPAK) کے ذریعے جامع فزیبلٹی اور انجینئرنگ جائزے کرائے۔ دسمبر 2019 میں وزیر اعظم عمران خان نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا، جس کے بعد وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے دور میں اس منصوبے پر تعمیراتی کام تیزی سے شروع کیا گیا۔

یہ منصوبہ ایک وسیع اور پیچیدہ بنیادی ڈھانچے پر مشتمل ہے، جس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

اس منصوبے کی مرکزی نہر 117 کلومیٹر طویل ہے۔ اس میں 23 تقسیمی نہریں (Distributaries)، 10 چھوٹی نہریں اور 16 فلڈ کیریئر چینلز شامل ہیں، جو پہاڑوں سے آنے والے سیلابی پانی کو منظم کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں۔

بجٹ: اس منصوبے پر تقریباً 50 ارب روپے لاگت آئی ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد ضلع پنڈ دادن خان اور خوشاب کے ان بارانی علاقوں کو فائدہ پہنچانا ہے، جو برسوں سے پانی کی کمی کا شکار تھے۔

1۔ غیر آباد زمینوں کی آبادکاری: یہ منصوبہ ایک لاکھ 70 ہزار ایکڑ غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت اور زرخیز زمین میں تبدیل کرے گا، جس سے پنجاب کی غذائی تحفظ  میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

2۔ زیرِ زمین پانی پر انحصار میں کمی: علاقے کے وہ کسان جو مہنگے ٹیوب ویلوں کے پانی پر انحصار کرتے تھے، انہیں نہری پانی کی فراہمی سے پیداواری اخراجات میں کمی آئے گی۔

3۔ پینے کے پانی کی فراہمی: یہ منصوبہ صرف زرعی مقاصد کے لیے ہی نہیں بلکہ متعدد دیہی علاقوں کو پینے کا صاف پانی بھی فراہم کرے گا۔

جلال پور کینال صرف پانی کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک معاشی محرک بھی ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں اضافے سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی، جس سے مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ نظام جدید زرعی طریقوں کو اپنانے کی راہ ہموار کرے گا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار ورثہ ثابت ہوگا۔

دریائے جہلم پنجاب کی تہذیب کی شہ رگ رہا ہے، لیکن نیو جلال پور کینال نے اس دریا کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ یہ منصوبہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب حکومتی عزم، جدید انجینئرنگ اور درست منصوبہ بندی یکجا ہو جائیں تو مشکل ترین چیلنجز کو بھی مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں: